بارش اور پراٹھے
‘‘نیلے آسمان پر آج کالے بادل آگئے ہیں۔ لگتا ہے، بارش ہوگی۔’’ پرویز تایا نے کہا۔
ثنانے بوتل میز پررکھ دی۔پلکیںاٹھاکر آسمان کی طرف دیکھااوربولی،‘‘جی تایا،
میں امّی سے کہتی ہوں،آلو کے پراٹھے بنالیں،مزہ آئے گا۔’’
‘‘ٹماٹر کی چٹنی اور آم کا اچار بھی۔’’ ثوبیہ بولی۔
‘‘پچھلی بارش میں ہم نے کاغذ کی ناؤ بنائی تھی نا۔’’
ثنا نے کہا۔
‘‘ہاں!ٹب میں پانی بھر کر وہ ناؤ چلائی بھی تھی۔’’ ثوبیہ نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے جواب دیا۔
‘‘لو، تمھارے ابّو بھی آگئے ہیں۔ اب اور مزہ آئے گا’’ ۔تایا نے ابّو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
ابّو کے ہاتھ میں تربوز، پپیتا اور ٹماٹرتھے۔
اتنے میں ہلکی ہلکی بوندیں پڑنے لگیں۔ذرا سی دیر میں موسم خوش گوار ہو گیا۔سب باہر نکل آئے۔موسم کی پہلی بارش کے سب نے خوب مزے لیے۔
اساتذہ کے لیے ہدایات:
• اس کہانی کی مدد سے ہمیں بچّوں کو 9حروف سکھانے ہیں۔
ا ب پ ت ٹ ث ن ی ے
• آپ بچّوں سے سوال کریں کہ اس کہانی کو سن کر ایسے الفاظ بتائیں جن کے شروع میں ‘بَ’ کی آواز ہے۔
بچے بارش، بوتل بادل وغیرہ کے نام بتائیں گے۔
• ان کے بتائے ہوئے ناموں کی روشنی میں استاد تختۂ سیاہ پر ‘ب’لکھ کر بتائیں کہ یہ تینوں چیزیں اردو کے حرف ‘ب’ سے شروع ہوئی ہیں۔
• اسی طرح باقی آٹھ حروف سے شروع ہونے والی چیزوں کے بھی نام پوچھ کر سبھی حروف سے بچّوں کو
متعارف کرائيں۔
• پھر ان حروف کی ذیلی (ٹوٹی) شکلیں بتائیں۔ جیسے:‘ب’ گروپ کی ذیلی شکلیں ہیں:
• یہاں یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ ‘ ن ی ے’ کی ذیلی شکلیں ‘ب’ گروپ کی ذیلی شکلوں کی طرح ہی ہوتی ہیں جیسے اور ۔
پھر ان حروف کو جوڑ کر بنائے جانے والے آسان الفاظ تختۂ سیاہ پر لکھیں۔ جیسے:
ب + ا = با ن + ا = نا
با سے بابا اور نا سے نانا بنانا سکھائیں۔
• بچّوں کو بتایا جائےکہ اردو میں نقطوں کی بڑی اہمیت ہے۔ نقطہ ایک ڈاٹ (.) ہوتاہے۔ کئی حروف ایسے ہیں جن کی شکل ایک جیسی ہے۔ان میں نقطوں کی تعداد یا ان کے لگائے جانے کی جگہ کی وجہ سے نئے حروف بن جاتے ہیں۔
• بچّوں سے پہلے آسان (دوحرفی، سہ حرفی) لفظوں کے لکھنے کی ابتدا کرائی جائے۔ انھیں یہ بھی بتایا جائےکہ اردو میں لفظ لکھتے ہوئے آخری حرف کی پوری شکل لکھی جاتی ہے۔جیسے بات، ٹاٹ اور ٹب میں۔
• انھیںبتائیں کہ الف کی آواز ‘ا’کی ہوتی ہے۔اسے‘ ب’،‘پ ’یا‘ن’کے ساتھ ملانے سے ‘ با’ ‘ پا’ اور ‘ نا’کی آوازیںبن جاتی ہیں۔
• بچّوں کو بتایا جائے کہ چھوٹی ‘یَ’کی آواز ‘ای’ کی ہوتی ہے۔ اسے‘ ب’،‘پ ’یا‘ن’کے ساتھ ملانے سے یہ ‘بی’ ‘پی’ اور ‘نی’کی آوازیں بن جاتی ہیں۔
• اسی طرح بڑی ‘ے’ کی دو آوازیں ہیں۔ اِے اور اَے۔ انھیں ‘ب’،‘پ’یا ‘ن’ کے ساتھ ملانے سے بالترتیب بِے،پِے، نِے اور بَے، پَے اور نَے کی آوازیں بن جاتی ہیں۔ مثلاً پیڑ، سیب اور پَیر غَیر۔
مشق
1. حروف کو ملوائیے
= ا ب = اب
ت ب = تب
ب ا = با
ت ا ب = تاب
ن ا = نا
ت ا = تا
ت ا ی ا = تایا
ٖپ ا ی ا = پایا
ٹ ا ٹ ا = ٹاٹا
پ ا پ ا = پاپا
ت ا پ = تاپ
ب ا ت = بات
ٹ ا ٹ = ٹاٹ
ای بی پی تی ٹی نی
ا ی = ای
ب ی = بی
پ ی = پی
ت ی = تی
ٹ ی = ٹی
ن ی = نی
ن ا ن ی = نانی
پ ا ن ی = پانی
اے بے پے تے ٹے نے
ا ے = اے
ب ے = بے
پ ے = پے
ت ے = تے
ٹ ے = ٹے
ن ے = نے
پ ا ن ے= پانے
ن ا ٹ ے = ناٹے
.2 حروف کو ملاکر لفظ بنوائیے
پ ا ن = .............................
ب ا ت = ____________
ن ا ن ا = ____________
ب ا ب ا =____________
.3 دیے گئے لفظوں کے حروف الگ الگ لکھوائیے
ٹب = ....... .......
پاٹ = ....... ....... ......
ٹاٹا = ....... ....... ....... ...........
پانی = ....... ....... ....... ...........
ثابت = ....... ....... ....... ...........