Skip to content

1

ساری دُنیا کے مالک

اے ساری دُنیا کے مالک

راجا اور پرجا کے مالک

سب سے انوکھے، سب سے نِرالے

آنکھ سے اوجھل، دِل کے اُجالے

ناؤ جگت کی کھینے والے

دُکھ میں سہارا دینے والے

جوت ہے تیری جل اور تھل میں

باس ہے تیری پھول اور پھل میں

ہر دل میں ہے تیرا بسیرا

تو پاس اور گھر دور ہے تیرا

تو ہے اکیلوں کا رکھوالا

تو ہے اندھیرے گھر کا اُجالا

ہلتے ہیں پتّے تیرے ہِلائے

کِھلتی ہیں کلیاں تیرے کِھلائے

تو ہی ڈُبوئے، تو ہی تِرائے

تو ہی بیڑا پار لگائے

̶ الطاف حسین حالی


مشق

پڑھیے اور سمجھیے

پرجا عام لوگ، رعایا

اوجھل غائب

جگت دنیا،سنسار

جوت روشنی، اُجالا، چمک

جل پانی

تھل خشک زمین

باس مہک، بو

تِرائے اُبھارے

بیڑاپارلگانا کام بنانا


اساتذہ کے لیے ہدایات:

  • تصویروں کے ذریعے بچّوں سے نظم کے بارے میں بات چیت کریں۔
  • بچّوں کو بلند آواز سے نظم پڑھنے کا موقع دیں۔


سوچیےاور بتائیے

1. ساری دنیا کے مالک کسے کہا گیا ہے؟

2. جوت ہے تیری جل اور تھل میں اس مصرعے سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

3. ‘تو ہے اکیلوں کا رکھوالاسےآپ کیا سمجھتے ہیں؟

4. بیڑا پار لگانے کا کیا مطلب ہے؟

5. اس نظم میں دنیا کے مالک کی کیا کیا خوبیاں بتائی گئی ہیں؟

خالی جگہوںمیںمناسب لفظ لکھیے

رکھوالا پار دنیا جوت  کِھلائے

1. اے ساری..........کے مالک

2. ..........ہے تیری جل اور تھل میں

3. تو ہے اکیلوں کا..............

4. کِھلتی ہیں کلیاںتیرے..........

5. توہی بیڑا .......... لگائے

حصہ‘الف’ اور ‘ب’ کے صحیح جوڑ ملائیے

ہم آواز لفظوں کی جوڑی بنائیے

1. نرالے پھل

2. کھینے کھلائے

3. ہلائے دینے

4. تھل اجالے

5. بسیرا تیرا

مثال کے مطابق خانوں میں دیے گئے حروف کی مدد سے پانچ الفاظ لکھیے

1.1

مثال : جگت

1. ...................

2. ...................

3. ...................

4. ...................

5. ...................

مثال کے مطابق بے جوڑ لفظ کو پہچان کر سامنے لکھیے

پھول پھل ناؤ پودا = ناؤ

آنکھ کان ناک کتاب = ..........

گھر چاند چھت کمرہ = ..........

رات نیند پتھر بستر = ..........

مالک آقا حاکم نوکر = ..........

اپنی پسند کا کوئی پھول بنائیے اور رنگ بھریے