سمجھ داری
وقار دوسری جماعت میں پڑھتا تھا۔وہ پڑھنے میں بہت ہوشیار تھا۔ ایک دن اس نے اپنے والد سے پچاس روپیے مانگے۔ اُس کے والد نے پوچھا، ‘‘بیٹا! تم پچاس روپیوںکا کیا کروگے؟’’
وقار : ابّا مجھے اِن روپیوں کی ضرورت ہے۔ مجھے ایک کاپی، ایک پنسل، ایک ربر اور ایک پنسل تراش خریدنا ہے۔

والد : اچھا ٹھیک ہے۔ میں کل تمھیں یہ سب چیزیں خرید کر دے دوں گا۔
وقار : ابّا! مجھے تو اِن چیزوں کی ابھی ضرورت ہے۔ مجھے اسکول کا کام کرنا ہے۔
والد : لیکن بیٹا! کیا تم یہ سب چیزیں خود خرید لوگے؟ کیا تمھیں روپیوں کو جوڑنا اور گھٹانا آتا ہے؟
وقار : جی ہاں! مجھے روپیوں کو جوڑنا اور گھٹانا اچھی طرح آتا ہے۔
والد : (مسکرا کر) اچھا! ذرا یہ تو بتاؤ کہ ان روپیوں سے تم یہ چیزیں کِس کِس طرح خریدوگے؟

وقار : اِن پچاس روپیوں سے بیس روپیے کی ایک کاپی، پانچ روپیے کی پنسل، پانچ روپیے کا ربر اور پانچ روپیے کا پنسل تراش خریدوں گا۔
والد : بیٹا! اب جوڑکر بتاؤ کہ کُل کتنے روپیے ہوئے؟
وقار : (سوچ کر) بیس روپیے کی کاپی، پانچ روپیے کی پنسل۔ یہ ہوئے پچیس روپیے۔ اب اِن پچیس روپیوں میں پانچ روپیے ربر کے جوڑے تو ہو گئے تیس روپیے۔ اِن تیس روپیوں میں پانچروپیے پنسل تراش کے جوڑے تو کُل ہوئے پینتیس روپیے۔
والد : شاباش بیٹا!تم نے بالکل ٹھیک حساب لگایا ہے۔ اچھا تو یہ بتاؤ کہ پچاس روپیے میں سے تم نے پینتیس روپیے کا سامان خرید لیا۔ اب تمھارے پاس کتنے روپیے باقی بچے؟
وقار : (اُنگلیوں پر گنتے ہوئے) پچاس روپیے میں سے پینتیس روپیے گھٹائے تو پندرہ روپیے باقی بچے۔
والد : (خوش ہو کر) تمھیں تو جوڑنا اور گھٹانا خوب آتا ہے۔ یہ لو پچاس روپیے اور یہ سبھی چیزیں خرید کر لے آؤ۔

مشق
پڑھیے اور سمجھیے
ہوشیار : سمجھ دار
پنسل تراش : پنسل کو چھیلنے والا، شارپنر
سوچیے اور بتائیے
.1 وقار نے اپنے والد سے پچاس روپیے کیو ں مانگے؟
2. وقار کو کیا کیا چیزیں خریدنی تھیں؟
3. سب چیزیں خریدنے کے بعد وقار کے پاس
کتنے روپیے باقی بچے؟
4. بیٹے سے صحیح حساب سُن کر والد نے کیا کہا؟
نیچے دیے ہوئے سامانوں کی قیمت لکھیے
1. کاپی ...........
2. پنسل ...........
3. ربر ...........
4. پنسل تراش ...........
خالی جگہوںمیں مناسب لفظ لکھیے
خوب پچاس جماعت اسکول باقی
1. وقار دوسری..........میں پڑھتا تھا۔
2. اس نے اپنے والد سے..........روپیے مانگے۔
3. مجھے..........کا کام کرنا ہے۔
4. اب تمھارےپاس کتنے روپیے.........بچے۔
5. تمھیں تو جوڑنا اور گھٹانا..........آتا ہے۔
نیچے لکھی باتیں کس نے کہیں؟ لکھیے
‘‘بیٹا تم پچاس روپیوں کا کیا کروگے؟’’.................................
‘‘ابّا مجھے ان روپیوں کی ضرورت ہے۔’’.................................
‘‘میں کل تمھیں یہ سب چیزیں خرید کر دے دوں گا۔’’.................................
‘‘مجھے اسکول کا کام کرنا ہے۔’’.................................
‘‘اب جوڑ کر بتاؤ کُل کتنے روپیے ہوئے؟’’.................................
لفظوں کو ہندسوں سے ملائیے
لفظ ہندسہ
1. پچاس 100
2. دس 20
3. پانچ 50
4. سو 5
5. بیس 10
نیچے دیے ہوئے لفظوں کے حروف کی تعداد ان کے سامنے لکھیے
ایک ...............
حساب ...............
باقی ...............
ضرورت ...............
جماعت ...............
حصّہ‘الف’ اورحصّہ ‘ب’ کو ملا کر جملے مکمل کیجیے اور لکھیے
(الف) (ب)
وقار دوسری جماعت کام کرنا ہے
ابّا مجھے پچاس روپیوں گھٹانا خوب آتا ہے
مجھے اسکول کا میں پڑھتا تھا
تمھیں تو جوڑنا اور کتنے روپیے باقی بچے؟
اب تمھارے پاس کی ضرورت ہے
جملہ :
1.
2.
3.
4.
5.
اساتذہ کے لیے ہدایات:
- اساتذہ بچوّں سے جوڑنے اورگھٹانے کی سرگرمیاں کروائیں۔
- ان کے کسی چیز کے خریدنے کے تجربے کو جماعت میں سنوایا جائے۔
