Skip to content

آؤٹ

چھُٹّی کا دن تھا۔

ارشد اور نازیہ صبح سے کھیل رہے تھے۔

انھوںنے کئی سارے کھیل کھیلے

دونوں نے رسّی کوٗ دی۔

پھر چھپن چھپائی کھیلی۔

اس کے بعد گلی ڈنڈا کھیلا۔

نازیہ نے کرکٹ کھیلنے کے لیے کہا۔

ارشد گیند پھینکنے کے لیے تیار ہو گیا۔

ارشد نے گیند پھینکی۔

نازیہ نے زور سے بلاّ گھمایا۔

گیند موہت کے آنگن میں چلی گئی۔

موہت کے گھر تالا لگا ہوا تھا۔

ارشد اور نازیہ کا کھیل رک گیا۔

نازیہ بولی کہ اسے گیند بنانی آتی ہے۔

اس نے ارشد سے کپڑے،کاغذ اور پنّی لانے کو کہا۔

وہ خود بھی یہ سب ڈھونڈنے لگی۔

دونوں نے خوب ساری کترنیں اور پنیاں اکٹھی کرلیں۔

نازیہ سُتلی کا ٹکڑا بھی لے آئی۔

نازیہ نے ان سب کو ملا کر ایک گولابنایا۔

گولے کو سُتلی سے کس دیا۔

دونوں کی پسند کی گیندبن گئی۔

کھیل پھر سے شروع ہو گیا۔

اس بار نازیہ نے گینداٹھائی۔

ارشد نے بلاّ اٹھایا ۔

نازیہ نے گیندپھینکی۔

ارشد نے روز سے بلاّ گھمایا۔

گیند کھل کر ہوا میں پھیل گئی۔ کپڑے،پنّی اور کاغذ ہوا میں بکھر گئے۔

نازیہ نے اچھل کر ایک کپڑا پکڑلیا۔

نازیہ اچھل اچھل کر آؤٹ آؤٹ چلاّنے لگی۔

وہ ہاتھ میں کپڑا لے کر آؤٹ آؤٹ کہتے ہوئے دوڑی۔

(ہندی سے ترجمہ)

( صرف پڑھنے کے لیے )