باب 2
میلے کی سیر

میلے کی تیاری
میلہ آخر کار شہر میں آ ہی گیا۔ نیتا اور رادھا جوش و خروش سے میلے میں جانے کی تیاری کر رہی ہیں اور اس کے لیے بے حد خوش ہیں۔ میلہ گھر سے کچھ دوری پر لگا ہے۔اس لیے انھیں بس لینی ہوگی۔

’’کیا ہو رہا ہے؟ لگتا ہے تم سب بہت مصروف دکھائی دے رہی ہو؟‘‘ دادی نے پوچھا۔
دادی جی ہم میلہ میں جا رہے ہیں۔’’ مہربانی کرکے ہمارے ساتھ میلے میں چلیں،‘‘ نیتا اور رادھا نے درخواست کی۔
’’میلہ! ارے ہاں! تمھاری ماں نے مجھے بھی ساتھ آنے کو کہا ہے۔ لیکن، تم جانتے ہو میری ٹانگوں میں درد ہے۔‘‘ دادی جی نے کہا۔
نیتا کے والد بھی اس گفتگو میں شامل ہوئے۔ ’’ہمارے ساتھ بہت سارے لوگ ہیں، ہمارے پڑوسی،اسنیہا اور روہت ا ور ساتھ ہی موہن چاچا اور ان کا خاندان ہے۔ وہ آج ٹرین سے یہاں پہنچ رہے ہیں۔ ہم سب آپ کی دیکھ بھال کریں گے، فکر نہ کریں۔‘‘
دادی جی نے مسکرا کر جواب دیا۔ ’’ٹھیک ہے، میں چلوں گی۔ کیا تم نے پانی کی بوتلیں بھر لی ہیں؟‘‘

نیتانے کہا’’ہاں دادی جی! ہمارا پکنک کا بستہ بھی تیار ہے،‘‘ بچے خوشی سے اچھل پڑے۔ہر ایک خوش ہوگیا کہ دادی جی بھی ہمارے ساتھ چلنے کو تیار ہوگئیں۔
نیتا کے والد نے پڑوسیوں کو وقت پر تیار ہونے کے لیے کہا۔

اسی دوران، موہن چاچا نے فون کرکے بتایا کہ وہ براہ راست میلے میں شامل ہوں گے۔ میلے کے میدان تک پہنچنے کے لیے وہ سٹی بس اور پھر آٹو لیں گے۔
ارے واہ! ہم بہت سارے لوگ ہیں۔ کتنا مزہ آئے گا! رادھا نے خوش ہوکر کہا۔

بات چیت
آپ کے خیال میں نیتا اور رادھا کے خاندان کے پاس پکنک کے بستےمیں کیا تھا؟
آپ خود کو سفر کے لیے کیسے تیار کرتے ہیں؟
میلے کا راستہ

اسنیہا اور روہت نیتا کے دوست ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے پڑوسی بھی ہیں۔ وہ بھی میلے میں جانے کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔
اسنیہا اور روہت نہ صرف نیتا کے پڑوسی ہیں بلکہ اس کے گہرے دوست بھی ہیں۔
”ا سنیہا، جلدی سے تیار ہو جاؤ، ماں نے کہا۔ نیتا کا خاندان جلد ہی پہنچ جائے گا۔“
اسنیہانے کہا: ”میں تقریباً تیار ہوں ماں۔ بس یہ دیکھ رہی ہوں کہ سب کچھ ساتھ میں رکھ لیا ہے یا نہیں۔اب نکلنے کا وقت آگیا ہے۔“

اس کے والد نے اعلان کیا: ”اب ہمیں چلنا چاہیے نیتا کا خاندان یہاں آچکا ہے۔“
اس کے فوراً بعد، وہ سبھی میلے کے لیے روانہ ہو گئے۔ نیتا نے دادی کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا اور انھیں آہستہ آہستہ بس اسٹاپ کی طرف لے گئے۔ وہ دھیان سے سڑک کی دونوں جانب سے آنے والی گاڑیوں کودیکھتے ہوئے چل رہے تھے۔

بس نمبر401 آکر رک گئی۔ کنڈکٹر اور نیتا کے والد نے دادی کو بس میں سوار ہونے میں مدد کی۔ بوڑھے لوگوں کے لیے خاص طور پر ایک سیٹ تھی۔ دادی آرام سے اس پر بیٹھ گئیں۔
سب لوگ بس میں سوار ہوئے اور دادی کے ارد گرد بیٹھ گئے۔ روہت کے والد نے سب کے لیے ٹکٹ خریدنے کو کہا۔ انھوں نے کنڈکٹر سے کہا،’’ براہ مہربانی پانچ پورے اور چار آدھے ٹکٹ دیجیے۔‘‘ انھوں نے بچوں سے کہا کہ وہ اپنی سیٹوں پر بیٹھیں اور اچھل کود نہ کریں۔ انھوں نے ان سے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے کھڑکی سے اپنے ہاتھ یا سر باہر نہ نکالیں۔ بس شہر سے گزرتی ہوئی ،آ خر اس بڑے میدان میں پہنچ گئی جہاں میلہ لگاہوا تھا۔
بات چیت کیجیے
آپ اپنے شہر/قصبے/ گاؤں میں سفر کرنے کے لیے کس ذریعۂ نقل و حمل کا استعمال کرتے ہیں؟
بس یا کار سے سفر کرتے وقت یا سائیکل چلاتے وقت حفاظتی اقدامات پر عمل کیوں کیا جانا چاہیے؟
لکھیے
کسی بھی ایسے سفر کی مختصر وضاحت کریں جو آپ نے اپنے دوستوں، پڑوسیوں یا خاندان کے ساتھ کیا ہے۔



میلے میں
دونوں خاندان بڑے پریڈ گراؤنڈ پہنچے جہاں میلہ لگا ہو ا تھا۔ موہن چاچا اور ان کا خاندان سبھی آٹو رکشہ سے اتر گئے۔
داخلی دروازے پر میلے کے میدان کا ایک نقشہ تھا جس میں مختلف اسٹال اور ان کے مقامات کو دکھایا گیا تھا۔ ایک ایمبولینس، پولیس جیپ اور ایک فائر انجن(یعنی دَمکل) اس کے بغل میں کھڑے تھے۔ رضاکاروں کے ساتھ ایک ’گمشدہ اشیا ‘ کا بوتھ تھا۔ موہن چاچا اور روہت دادی کے لیے وہیل چیئر لینے دوڑ پڑے۔

اندر داخل ہوتے ہی انھوں نے کھیلوں، کھلونوں، مٹھائیوں اور بہت سی دل چسپ چیزوں کے اسٹال دیکھے۔ بچے بہت خوش ہوئے۔ وہ کھلونے کی دکان پر گئے جہاں انھوں نے لٹو، کٹھ پتلیاں، پھرکیاں اور گڑیا خریدیں۔ اس کے بعد بچے بڑے سے پہیہ نما جھولے اورمیری-گو-راؤنڈ پر سوار ہوئے۔ اسنیہا اور رادھا نے چوڑیاں اور چھلّے وغیرہ خریدیں ۔

’’چلو اب جا کر جادو کا تماشا دیکھتے ہیں،‘‘ نیتا نے کہا۔ انھوں نے جادوئی تماشے کو بھی دل چسپ پایا!

موہن چاچا نے بچوں کو پکارا، ’’تم لوگوں نے خوب مزے کرلیے، اب چلو ہم کچھ کھا پی لیتے ہیں۔ لیکن کھانے سے پہلے تمھیں اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح دھونا پڑے گا۔‘‘ بچے اپنے ہاتھ دھونے کے لیے پانی والی جگہ پر گئے۔اور اپنے ہاتھ دھوئے۔ ان سبھی نے گول گپے، چاٹ، چھولے، کلچے ، ربڑی اور گرم جلیبیاں، قلفی اور بہت سی دیگر لذیذ چیزوں سے لطف اٹھایا۔ کھانے کے بعد، انھوں نے سارا کوڑا کوڑے دان میں ڈال دیا۔

جب وہ میلے سے نکل رہے تھے تو دادی جی نے کہا، ’’دیکھو بچو! اس خاتون پولیس کے ساتھ کون ہے؟‘‘
سبھی بچوں نےایک ساتھ جواب دیا، ’’ہمیں معلوم ہے دادی جی۔ یہ پولیس کا ایک جاسوس کتا ہے!‘‘

کیا آپ جانتے ہیں
کمبھ میلہ دنیا کا سب سے بڑا تہوار ہے۔ یہاں دنیا میں کسی بھی انسانی اجتماع سے سب سے زیادہ لوگ موجود ہوتےہیں۔یہ میلہ گنگا، جمنا، گوداوری، اور شپرا کے کنارے لگتا ہے۔یہ ہر 12 سال میں ایک بار ہری دوار، پریاگ راج، ناسک اور اجین میں منعقد ہوتا ہے۔
لکھیے
‘گم شدہ اشیا’ کے بوتھ کا کیا مقصد ہوتا ہے؟
_____________________________________________________________
پولیس کے جاسوس کتے کس کام کے لیے استعمال ہوتے ہیں؟
_____________________________________________________________
کیا آپ کبھی میلے میں گئے ہیں؟میلے میں آپ کو کون سی چیز سب سے زیادہ پسند آئی؟
_____________________________________________________________
بات چیت کیجیے
اپنے تجربات سے دوسروں کو واقف کرائیے
آپ نیتا، رادھا، اسنیہا اور روہت کی جگہ پر خود کو تصّور کیجیے۔ کلاس کو اپنے الفاظ میں ان
دل چسپ کام کے بارے میں بتائیے جو آپ نے میلے میں کیے۔

• اپنے گھر میں بڑوں سے بات کیجیے اور پتہ لگائیے کہ جب وہ اسکو ل میں تھے تو میلے کیسے مختلف ہوتے تھے؟
سرگرمی 1
خاکے کو پڑھیے

خاکے کا مطالعہ کیجیے اور جواب دیجیے
خاکے پر روہت اور اسنیہا کے گھر کو تلاش کیجیے اور اس پر دائرہ بنائیے ۔
خاکے پر نیتا اور رادھا کے گھر کو تلاش کیجیے اور اس پر دائرہ بنائیے ۔
پریڈ گراؤنڈ کے قریب کس کا گھر ہے؟
اگر آپ کو پولیس اسٹیشن سے پریڈ گراؤنڈ جانا ہو تو آپ کن مقامات سے گزریں گے؟
دی گئی جگہ میں اپنے گھر سے اسکول جانے کے راستے کا خاکہ بنائیے
بنائیے
آپ نیتا، رادھا، اسنیہا اور روہت کی جگہ پر خود کو تصّور کیجیے۔ کلاس کو اپنے الفاظ میں ان

اپنی رائے کا اظہار کیجیے
A. کلاس میں تبادلۂ خیال کیجیے
1.ہم اپنے بزرگوں کی دیکھ بھال کیسے کر سکتے ہیں؟
2. ہم اپنے ارد گرد کس طرح کی گاڑیاں دیکھتے ہیں؟
3.ہم سفر کے دوران حفاظت کو کیسے یقینی بنا سکتے ہیں؟
B. تصاویر کو الفاظ کے ساتھ ملائیے
فہرست میں سے مناسب لفظ کا انتخاب کیجیے اور دی گئی مثال کے مطابق اس لفظ کو تصویر کے نیچے لکھیے۔

C. اپنی نوٹ بک میں ڈرائنگ بنائیے
چار گاڑی کی تصویر بنائیے جو آپ اپنے اسکول اور گھر کے آس پاس دیکھتے ہیں ، اور اس کے نام بھی لکھیے۔
D. رول پلے: ایک فرضی میلے کا انعقاد کیجیے
اپنے استاد کی مدد سے، اپنی کلاس میں ایک فرضی میلے کا انعقاد کیجیے۔ میلے میں حصہ لینے والے مختلف کرداروں، اسٹال اور کھیلوں پر تبادلۂ خیال کیجیے اور منصوبہ بندی کیجیے۔اسٹال لگانے، سامان فروخت کرنے والوں اور خریداروں کا کردار ادا کرنے کے لیے کلاس روم میں یا مقامی طور پر دستیاب تدریسی مواد کا استعمال کیجیے جیسے کھلونے، کٹھ پتلیاں، کھیل والے پیسے، منی ایچر، مٹی کے ماڈل وغیرہ ۔

