باب 3
تہواروں کا جشن

پھولوں کا تہوار

میرا نام رِشی ہے ۔میں جموں سے ہوں۔ میں اپنے والدین کے ساتھ ہمالیہ جا رہا ہوں۔ ہم اب اپنے مامو جان (امی کے بھائی) اور ممانی (یعنی ماموں کی بیوی) کے گھر جا رہے ہیں۔ وہاں اپنے بھائی بہن، چیا اور نونیکا سے ملیں گے۔ وہ سب پہاڑوں کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے ہیں۔ ہم بس سے سفر کر رہے ہیں۔ مجھے بس کی سواری میں بہت مزہ آرہاہے۔ کھڑکی کے باہر کا منظر بہت خوش گوارہے۔ سڑکیں گھماؤ دار ہیں اور پہاڑیاں رنگ برنگے پھولوں سے ڈھکی ہوئی ہیں۔ یہ پھولوں کی وادی جیسا ہے۔ میں دور تک مختلف قسم کے اونچے درخت بھی دیکھ سکتا ہوں۔

بات چیت کیجیے
کیا آپ نے کبھی بس میں سفر کیا ہے؟ کلاس میں اپنا تجربہ بیان کیجیے۔
سفر کے دوران آپ نے کس قسم کے درخت اور پھول دیکھے ہیں؟
سفر کے دوران آپ کو کیا کیا حفاظتی اقدامات کرنے چاہیے؟
سائیکل چلاتے وقت یا سڑک پر چلتے وقت آپ کو کون سے حفاظتی اقدامات کرنے چاہیے؟
سرگرمی 1
کالم”الف“ میں دی گئیں علامتوں کو کالم “ب” میں دیئے گئے ان کے معنی کے ساتھ ملان
کالم الف کالم ب
پارکنگ کی اجازت نہیں
برائے مہربانی ہارن نہ بجائیں
ا سپیڈ بریکر
یو ٹرن نہ لیں
مزدور کام پر ہیں
آگے اسکول ہےبنائیے
آپ نے سڑک پر بہت سی علامات دیکھی ہوں گی۔ سڑک کی کسی بھی تین علامتوں کی ڈرائنگ بنایئے جو اوپر درج نہیں ہے ، اوراس کا عنوان بھی لکھیے۔


کچھ دیر بعد، ہم اپنے ماموں جان اور ممانی جان کے گاؤں کے قریبی بس اسٹاپ پر پہنچے۔ ہم نیچے اترے ۔ ماموں جان ہمارا استقبال کرنے کے لیے وہاں موجود تھے۔ ہم کنکریٹ کی ایک چوڑی سڑک سے ہوتے ہوئے چلے جو ان کے گھر کے قریب ایک تنگ کچی سڑک کی جانب ہمیں لےگئی۔
صدر دروازہ میں داخل ہوتے ہی، ہمیں ان کے باغ میں رنگ برنگے پھولوں کی کیاری نظر آئی۔ میں ان میں سے کچھ کو پہچانتا اور جانتا تھا۔ جیسے گلاب، گیندا، گُڑہل اور سورج مکھی۔ لیکن میں ان پھولوں کی خوب صورتی سے حیران تھا جو اس سے مختلف تھی جو میں نے پہلے دیکھے تھے۔
میں نے نونیکا سے پوچھا، ’’برائے مہربانی ،کیا تم مجھے ان پھولوں کے نام بتا سکتی ہو؟‘‘
پھول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نونیکا نے جواب دیا، ’’یہ پھول ٹیولپ ہے۔‘‘


ممانی جان نے بچوں کو دوپہر کے کھانے کے لیے آواز دی۔
سبھی لوگوں نے ابلے ہوئے چاول اور دہی کے ساتھ ایک کشمیری پکوان ’’ہاکھ‘‘ (ایک قسم کی پتوں والی سبزی) کھایا۔یہ واقعی لذیذ تھا!
’’کیا آپ جانتے ہیں کہ اس وقت ہمارے یہاں کشمیری ٹیولپ فیسٹیول چل رہا ہے؟‘‘ نونیکا نے دوپہر کے کھانے پر کہا۔
’’ہمارے یہاں بھی خوب صورت سرخ پھول ہوتے ہیں جو موسم بہار میں کھلتے ہیں۔ انھیں بُورانش (رھو ڈو ڈینڈران)کہا جاتا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
میں نے چیا اور نونیکا کو بتایا کہ ان کے گھر پر موسم بہار کی آمد کو بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس تہوار کے دوران، میں اور میرے دوست محلے کے گھروں کی دہلیز پر سرسوں اور بورانش کے پھول رکھتے ہیں جس کے بدلے میں ہمیں اپنے بزرگوں کی دعائیں، ٹافیاں اور مٹھائیاں بھی ملتی ہیں۔

چیا نے پرجوش انداز میں کہا، ’’میرا دوست اُنّی اس وقت ویشو نامی تہوار مناتا ہے۔ وہ لوگ بہت سارے پیلے امل تاس کے پھولوں، پھلوں، اور سبزیوں سے ویشو کانی* بناتے ہیں۔‘‘

ممانی جان نے گفتگو میں شامل ہوتے ہوئے کہا ، ’’موسم بہار قدرت کا ایک جشن ہےکیونکہ سخت سردیوں کے بعد، سورج نکلتا ہے، چاروں طرف پھول کھلتے ہیں، سبزہ بڑھتا ہے اور درختوں پر نئے پتے آتے ہیں۔‘‘

میں نے ، ممانی جان چیا اور نونیکا سے کہا ’’آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں۔چاروں طرف بہت سارے رنگ برنگے پھول دیکھ کر ہمیں خوشی ہوتی ہے۔‘‘
کچھ دن گزار کر ہم گھر روانہ ہوئے ۔یہ بہت شاندار چھٹیاں تھیں کہ ہم سب ایک دوسرے سے مل پائے۔
* ویشو کانی ایک مبارک رسم ہے جو ملیالی کے نئے سال کے پہلے دن منائی جاتی ہے۔ مانا جاتا ہے کہ طلوع آفتاب کے وقت اچھی چیزوں کے نظر آنے سے آنے والا سال خیر اور خوش حالی لاتا ہے۔
سرگرمی2
گائیے اور لطف اٹھائیے
آیا موسم بہار سہانا،
بچے سب جھوم رہے ہیں
درختوں پر نئے پتے آتے ہیں
پھول ہوا میں جھول رہے ہیں
آسمان میں سورج روشن ہے
گلہریاں اور پرندے سب اس جشن میں شریک ہیں
موسم بہار ہے، چلو نا چیں گائیں
ہم سب کو خوشی اور امید دلائیں۔


لکھیے
1. اپنے بڑوں سے پوچھیں کہ ذیل میں دیے گئے ہر موسم کے لیے آپ کے علاقے میں منائے جانے والے تہواروں کے نام کیا ہیں؟
2. ان تہواروں کے دوران تیار کیے جانے والے خصوصی پکوانوں کی فہرست بنائیے۔
| موسم | تہوار | خصوصی پکوان |
| بہار | ||
| گرمی | ||
| برسات | ||
| سردی |
3. آپ مختلف تہواروں کے دوران کس طرح کے کپڑے پہنتے ہیں؟
_______________________________________________________
_______________________________________________________
سرگرمی 3
ذیل میں دی گئی فہرست سے کھانے کے نام کو تہوار کے ساتھ ملائیے۔
بیہو چھٹ پوجا کرسمس عید الفطر
ہولی اونم اگادی
| تہواروں کے دوران تیار کیا جانے والا پکوان |
تہواروں کے نام | |
![]() |
ٹھیکوا | چھٹ پوجا |
![]() |
پیٹھا |
|
![]() |
پلم کیک |
|
![]() |
گجیا |
|
![]() |
ساڈیہ |
|
![]() |
ہولیگے |
|
![]() |
سویّاں |
• کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہر کوئی مختلف قسم کے خاص کھانے اور نئے کپڑوں کے ساتھ تہوار مناتا ہے؟
• آپ جہاں رہتے ہیں ، کیا وہاں کوئی پہاڑ، دریا یا چشمہ ہے؟ کیا آپ کبھی دور دراز رہنے والے رشتہ دار کے گھر پرگئے ہیں؟وہاں کیسا محسوس ہوتا ہے؟
اپنی رائے کا اظہار کیجیے
A. بات چیت کیجیے
1.سفر کے دوران استعمال ہونے والے نقل و حمل کے مختلف طریقے کیا ہیں؟
2. ہمیں سفر کے دوران حفاظت کو کیوں یقینی بنانا چاہیے؟ ہمیں اس کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
3.تہواروں کے دوران کون سے خاص پکوان تیار کیے جاتے ہیں؟
4.تہوار اور تقریبات ہمیں کس طرح جوڑتے ہیں؟
5.کیا آپ کسی قدرتی مقامات پر وقت گزارنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں؟ اس سے آپ کو کیسے خوشی ملتی ہے؟
B. لکھیے
1.کسی بھی دو رشتہ داروں کے نام بتائیے جن سے آپ نے حال ہی میں ملاقات کی ہے۔
2.آپ اپنے رشتوں کے بھائی بہنوں اوردوسرے رشتہ داروں کے ساتھ وقت کیسے گزارتے ہیں؟
خالی جگہوں کو پر کیجیے
1.چیا اور نونیکا کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے ہیں۔
2.بس سڑکوں سے گزری جہاں پہاڑیاں رنگ برنگے پھولوں سے ڈھکی ہوئی تھیں۔
3.رشی اور ان کی فیملی ایک تنگ راستے سے مامو جان کے گھر پہنچے ۔
4.موسم بہار میں کھلنے والے سرخ پھولوں کو کہا جاتا ہے۔
5. ایک قسم کی پتوں والی سبزی کو کہتے ہیں جسے ابلے ہوئے چاول کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔
C. بنائیے
ایک چارٹ پیپر لیجیے اور سڑکوں پرلگے مندرجہ ذیل سائن بورڈ کی ڈرائنگ بنائیے۔ آپ علامتیں بنانے کے لیے اپنی پسند کی کسی بھی تصویر اور رنگ کا استعمال کرسکتے ہیں۔ اپنی بنائی ہوئی علامتوں کی
وضاحت کیجیے۔
• اسکول کی لائبریری
• بیت الخلا
• اسمبلی
• پینے کے پانی کی جگہ
• میدان
• میرا کلاس روم
• سیڑھیاں
لطف اٹھائیے !
کیا آپ جانتے ہیں
ہندوستان کے شمال میں ایک عظیم پہاڑی سلسلہ ہے جسے ’ہمالیہ‘ کہا جاتا ہے۔ (جس کا مطلب برف کا گھر) دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ’ ماؤ نٹ ایوریسٹ ‘ ہے،یہ ہمارے پڑوسی ملک میں واقع ہے۔ماؤنٹ ایوریسٹ کی اونچائی تقریباً 8,848 میٹر ہے!
کیا آپ جانتے ہیں
’’سرہل‘‘ موسم بہار کا تہوار
سرہل تہوار بھی جھارکھنڈ میں موسم بہار میں منایا جاتا ہے۔ لوگ روایتی لباس پہنتے ہیں اور ساکھوا کے درخت کی جانب ایک قطار میں چلتے ہیں۔ وہ تازہ اناج اور ساکھواکے پھول لے کرآتے ہیں۔زمین اور سورج کو عقیدت کے طور پر نذرانہ پیش کیا جاتا ہے۔وہ سرہل کا جشن ڈھول پیٹ کر(ڈھول، نگاڑا وغیرہ) کے ساتھ مناتے ہیں۔ ساتھ ہی دوسرے موسیقی کے آلات کابھی استعمال کرتے ہیں۔







