باب 9
صحت مند اور خوش رہنا

ہم جانتے ہیں کہ ہمیں صحت مند رہنا چاہیے تاکہ ہماراجسم اور دماغ ٹھیک سے کام کرسکیں۔ یہاں کچھ آسان سی عادتیں بتائی گئی ہیں جن کو اپنا کر آپ اپنے جسم کو صاف اور بیماریوں سے پاک رکھ سکتے ہیں۔ یہ عادتیں ہمارے جسم اور دماغ کو صحت مند اور خوش رکھتی ہیں۔


صاف اور چمک دار
اپنے آپ سے یہ سوال کیجیے
کیا میں نے آج اپنے دانت صاف کیے؟
کیا آج میں نے نہایا؟
کیا میں نے آج اپنے بالوں میں کنگھی کی؟
کیا میں نے اپنے ہاتھ صابن سے دھوئے؟
کیا میرے ناخن کٹے ہوئے اور صاف ہیں؟

روزانہ کا معمول
لکھیے
وہ تمام سرگرمیاں لکھیے جو آپ صبح اٹھنے کے بعد سے رات کو سونے کے قت تک روزانہ انجام دیتے ہیں۔ نیچے دی گئی سرگرمیاں آپ کی فہرست میں ضرور ہونی چاہیے۔یاد رکھیے کہ ان میں سے کچھ چیزوں کو آپ دن میں ایک سے زیادہ بار کرتے ہیں:
• نہانا
• صابن سے ہاتھ دھونا
• دانت صاف کرنا
• 6-8 گلاس پانی پینا
• کھانا کھانا
• کم از کم آٹھ گھنٹے سونا
• باہر کھیلنا

دھیان دیجیے کہ کیا آپ کی فہرست میں یہ سرگرمیاں شامل ہیں:
• کیا آپ اپنے دانتوں کو دن میں دو بار صاف کرتے ہیں — ایک سوکر اٹھنے کے بعد اور دوسرے سونے سے پہلے؟
• ہر بار کھانا کھانے کے بعد کیا آپ اپنے منھ کو رگڑ کر صاف کرتے ہیں؟
• بیت الخلا سے آنے کے بعد اور باہر سے گھر لوٹ کر آپ اپنے ہاتھ صابن سے دھوتے ہیں؟
• اگر ان میں سے کسی سوال کا جواب ‘نا’ ہے تو سوچیے اور بتائیے کہ آپ اسے کس طرح اپنی عادت بناسکتے ہیں؟ کیا ایسی کوئی بات ہے جو اس معمول پر چلنے میں آپ کے لیے دشواری کا سبب ہو؟
ہم اپنے دانت کس طرح صاف کرتے ہیں؟
موئنا کے دادا اپنے دانت صاف کرنے کے لیے نیم یا ببول کے پیڑ کی مسواک استعمال کرتے ہیں۔ موئنا نے اُن سے پوچھا، دادا! آپ ہماری طرح ٹوتھ برش کیوں نہیں استعمال کرتے؟
دادا ہنسے اور بولے، ’’بیٹا! میں روزانہ قریب کے درختوں سے ایک تازہ مسواک توڑ لیتا ہوں۔ میں اسے برش جیسا بنانے کے لیے پہلے تھوڑا چباتا ہوں اور اپنے دانتوں کے بیچ پھنسے کھانے کے ذرّات کو نکال دیتا ہوں۔ اس سے میرے مسوڑھوں کی بھی مالش ہوجاتی ہے۔ تم بھی کبھی کبھی یہ کیا کرو!‘‘
موئنا کو نیم کی مسواک بہت کڑوی لگی لیکن ببول کی مسواک کا مزہ بہتر تھا۔
موئنا نے کہا، ”دادا! میں ببول کی مسواک استعمال کیا کروں گی۔‘‘

اپنے نانا نانی، دادا دادی یا پڑوس کے کسی بزرگ شخص سے پوچھیے کہ جب وہ جوان تھے تو اپنے بال، جسم اور کپڑے دھونے اور اپنے دانتوں کو صاف کرنے کے لیے کیا استعمال کرتے تھے؟ کیا وہ چیزیں اب بھی مل سکتی ہیں؟کیا آپ جانتے ہیں
دانتوں کو برش سے صاف کرنے کا جدید تصّور ہندوستان کی داتُن کے ذریعے صفائی کی روایت سے لیا گیا ہے جس میں ہم اپنے دانتوں کو صاف کرنے کے لیے نیم، کرنج، ببول وغیرہ سمیت کئی پیڑ پودوں کی مسواک کا استعمال کرتے تھے۔
سرگرمی 1
سنترے اور لیمو کے چھلکوں سے گھر کو صاف کرنے والا محلول بنانا
ہم گھر پر کئی قسم کی صفائی کے محلول استعمال کرتے ہیں تاکہ باورچی خانے کے سلیب، فرنیچر اورغسل خانے وغیرہ کی سطحوں پر آجانے والی گندگی اور جراثیم وغیرہ کو صاف کیا جاسکے۔ معلوم کیجیے آپ کے گھر میں صفائی کے لیے کون سے محلول استعمال ہوتے ہیں۔ آپ خود بھی ماحول دوست صفائی محلول بناسکتے ہیں! اس کے لیے وہ چیزیں دیکھیے جن کی آپ کو ضرورت پڑے گی۔
8-12 سنترے یا لیموں کے چھلکے جن سے آدھے لیٹر والا آرپار نظر آنے والا ڈبہ بھرسکے۔
دس ثابُت لونگ یا دو تین تیز پتّے
دو پیالے سفید سِرکا، جو چھلکوں یا اس سے ڈالے گئے مصالحوں کو ڈھک سکے۔

اب ان سب اشیا کو آدھے لیٹرکے آر پار دکھنے والے ڈبے میں ڈال کر ڈبّے کا منھ بند کردیجیے۔ اس ڈبّے کو تقریباً دو ہفتے کے لیے دھوپ میں رکھ دیجیے۔ کبھی کبھی اس محلول کو ہلا دیا کیجیے۔ دو ہفتے کے بعد اس محلول کو چھان لیجیے اور یہ آپ کا کثیر مقصدی صفائی محلول تیار ہے۔ آپ اس کا ایک پیالہ محلول کا ایک بالٹی میں ڈال کر فرش اور غسل خانے وغیرہ کو صاف کرسکتے ہیں۔

استاد کے لیے ہدایت
آپ بچوں کو بتاسکتے ہیں کہ ہمارے رہنے کی جگہ اور وسائل مثلاً پانی تک رسائی کے مطابق معمولات الگ الگ ہوسکتے ہیں۔
صفائی کے ہمارے کچھ روایتی طریقے ہیں۔ ان میں صفائی کی قدرتی اشیا جیسے بالوں کے لیے ریٹھا اور شکاکائی اور گھر کی صفائی کے لیے کچھ محفوظ اور اثردار طریقے شامل ہیں جن سے گھر پر تیار کرتے ہیں۔

جانوربھی خود کو صاف رکھنا پسند کرتے ہیں!
کیا آپ نے کبھی بندروں کو ایک دوسرے کے قریب بیٹھ کر ایک دوسرے کی صفائی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔یہ ایک طریقہ ہے جس سے وہ اپنے جسم کو کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ آپ نے پرندوں کو بھی دیکھا ہوگا وہ اپنی چونچ سے اپنے پروں کو صاف کرتے ہیں۔ اگلی بار ان طریقوں کا ضرور مشاہدہ کیجیے گا جن پر عمل کرکے آپ کے اردگرد موجود جانور اور پرندے اپنے آپ کو صاف رکھتے ہیں۔
کمروں کے اندر اور باہر میدانوں میں کھیلنا
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ کسی کھیل میں اپنے دوست کو پکڑنے کے لیے تیز دوڑنے کے بعد آپ کی سانسیں تیز اور گہری چلنے لگتی ہیں؟ ہوسکتا ہے کہ آپ کے گال لال ہوجاتے ہوں اور خود بھی تھوڑی بہت گرمی محسوس کرتے ہوں اور آپ کو پسینہ آنا شروع ہوجاتا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ورزش کی وجہ سے ہمارا دل تیز اور بہتر کام کرنے لگتا ہے۔ ورزش جسم کے لیے بہت اچھی ہوتی ہے۔ ورزش کرنے اور خود کو صحت مند رکھنے کے کئی طریقے ہیں۔
سرگرمی2
پھدکنا، کودنا، اُچھلنا
• ذرا ایسے بھی کر کے دیکھیے
• بطخ کی طرح چلیے۔
• مینڈک کی طرح پھدکیے۔
• بلّی کی طرح دوڑیے۔

کس طرح چلنے میں آپ کو سب سے زیادہ مزہ آیا؟
کودنے والی رسّی (اسکپنگ روپ) لیجیے اور ہر بار اپنے کودنے کو گنیے۔ اپنے دوستوں کے ساتھ بھی یہی کیجیے اور دیکھیے کہ کون سب سے زیادہ بارکود سکتا ہے۔
دس مرتبہ کودنے کے بعد یا اس چھوٹی سی نظم کو پڑھنے کے بعد اپنے دوست کو بلائیے جو مثال میں دی گئی ہے۔
مجھے روٹی پسند ہے
مجھے گھی پسند ہے
میں چاہتا ہوں
(کسی دوست کا نام )
میرے ساتھ کودے

کودنے والی رسّی کی مدد سے آپ اور کون سے کھیل کھیل سکتے ہیں۔ اپنے دوستوں سے سیکھیے اور سکھایئے۔
استاد کے لیے ہدایت
جسم کو عام طور پر تین طرح کی ورزش کی ضرورت ہوتی ہے — دل اور سانس لینے کے نظام کو مضبوط کرنا، پٹھوں اور ہڈیوں کو مضبوطی دینا اور جسم کی لچکداری کو برقرار رکھنا یا بڑھانا۔
ہرپریت کی دادی زیادہ چل پھر نہیں سکتی کیونکہ ان کے گھٹنوں میں درد ہے، لیکن اب بھی وہ گھر میں تھوڑا بہت چلتی ہیں اور انھیں ہرپریت کے ساتھ شطرنج کھیلنا پسند ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جسم اور دماغ دونوں کا سرگرم رہنا ضروری ہے۔

کھیل کا نام بتائیے
آپ کو اپنے گھر کے باہر کون سا کھیل کھیلنا پسند ہے۔

کھوجیے
کیا آپ اس میں چُھپے کھیلوں کے نام تلاش کرسکتے ہیں؟ کیا ان میں سے کوئی آپ کا پسندیدہ کھیل ہے؟ مثال کے لیےایک نام تلاش کردیا گیا ہے۔
ب ہ ح ل و ز م ڑ ٹ ب ک ل
ج ن ش گ گ ح ر ٹ ے ا ر م
د گ ک ق م ا ن ہ ن س ک ی
ق ج ر گ ف ل ا و ن ک ٹ ر
ج ف ز ج پ ٹ ا د س ٹ گ ڈ
ل م ٹ س ص ظ ر ب ژ ب ظ ے
م ظ ن ب ص ط ف ے ی ا ف ہ
ہ ض ج ا ا گ ق ڈ ڈ ل ش ڑ
ر ا ص ج س ل ا ر د گ ا ص
ص ن ک ا ا ٹ ح و ج چ ح ب
ص ٹ د ی و ش ک ج ض ک و ی
ل ب ب ک ب ڈ ڈ ی ش ح ن ڈ

احتیاط سے کھیلیے
تفریح کرتے ہوئے محفوظ رہنا بہت ضروری ہے۔ ان میں سے کن مقامات کو کھیلنے کی ایک محفوظ جگہ مانا جاتا ہے۔





عوامی مقامات پراجنبی بھی ہوسکتے ہیں۔ اجنبیوں سے بات مت کیجیے۔ ہاں! اگر آپ کے والدین یا کوئی بالغ جس پر آپ کو بھروسہ ہو، وہ ساتھ میں ہوں تبھی اجنبی سے ملیے۔
یہا ں آؤیہ میٹھا چکھ لو
نہیں،شکریہ ہمیں میٹھا نہیں چاہیے
تمہاری امی نے کہا ہےکہ میں تمھیں اسکول سے لے آؤں
نہیں میں آپ کو نہیں جانتا
آؤ! میں تمہیں گھر چھوڑ دیتا ہوں کار میں بیٹھو
نہیں مجھے اپنے گھر کا راستہ معلوم ہے۔

ہمیں کھیلتے ہوئے اپنے اردگرد کا خیال رکھنا چاہیے۔
استاد کے لیے ہدایت
آپ بچوں سے کہہ سکتے ہیں کہ جب وہ نئے لوگوں سے ملیں تو ہوشیار رہیں۔ والدین کو اگر بچوں کو واپس بلانے کے لیے کسی نئے شخص کو بھیجنا پڑے تو وہ پہلے سے ہی کوئی پاس ورڈ طے کرسکتے ہیں جسے بچہ جانتا ہو۔
اپنی رائے کا اظہار کیجیے
A. لکھیے
اپنی ہفتہ وار صحت کی جدول بنایئے۔
وہ کون سی چیزیں ہیں جن کے سبب ہم نیند، بھوک یا تھکن محسوس کرتے ہیں؟ احساسات ہمارےجسم کا یہ بتانے والاطریقہ ہیں کہ ہم میں کچھ کمی ہو رہی ہے۔ ہم سب کی ضروریات الگ الگ ہیں۔ ہمیں ہر اُس چیز کا علم ہونا چاہیے جو ہمارے جسم اور دماغ کے لیے اچھی ہے۔ اس کے لیے ایک ہفتے تک اپنی سرگرمیوں کی تفصیل نوٹ کیجیے اور دیکھیے کہ آپ کیسا محسوس کرتے ہیں۔
| دن | کیا میں نے آج دوبار اپنے دانت صاف کیے؟ | کیا میں آج صبح ٹوائلٹ گیا؟ | کیا میں نے آج نہایا؟ | میں کتنی دیر تک سویا؟ | میں نے ناشتہ میں کیا کھایا؟ | میں نے آج کتنی دیر ٹی-وی دیکھا یا فون پر گیم کھیلے؟ | میں نے گھر کے باہر کھیلنے میں کتنا وقت گزارا؟ | اس سے مجھے کیا احساس ہوا؟ (بہتر، اچھّا، بہت اچھا نہیں، برا) |
| پیر | ||||||||
| منگل | ||||||||
| بدھ | ||||||||
| جمعرات | ||||||||
| جمعہ | ||||||||
| ہفتہ | ||||||||
| اتوار |
B. بنائیے
اپنی کاپی میں ایک بڑا دائرہ بنایئے اور اس کے 24 حصّے کرلیجیے۔ مان لیجیے ہر حصّہ دن کا ایک گھنٹہ ہے۔ اب 24 گھنٹے کے ایک پورے دن میں اُن گھنٹوں کی تعداد کے مطابق اِن حصّوں میں رنگ بھریے جو آپ نے کسی سرگرمی کی انجام دہی میں گزارے ہوں۔
مثال کے طور پر موئنا نے 8 گھنٹے سونے میں، 2 گھنٹے کھانے میں، 2 گھنٹے اسکول میں یا گھر پر پڑھائی میں،2 گھنٹے باہر کھیلنے میں، 2گھنٹے گھر پر والدین کی مدد میں،2 گھنٹہ ٹی-وی دیکھنے یا فون پر کھیلنے میں،1 گھنٹہ ٹوائلٹ میں اور2 گھنٹے دیگر سرگرمیوں میں گزارے، موئنا کا دائرہ کچھ ایسا نظر آئے گا۔

C. بات چیت کیجیے
ایسی کوئی سرگرمی سوچیے جو آپ ایک ہفتے میں کم از کم دوبار کرنا چاہتے ہوں تاکہ آپ کی قوّت میں اضافہ ہوسکے۔ یہ دوڑنے، اچھلنے، سیڑھیاں چڑھنے کی یا کوئی اور سرگرمی ہوسکتی ہے۔ اپنے دوستوں سے اس پر بات کیجیے اور اس طرح کی سرگرمیاں مل کر انجام دینے کی کوشش کیجیے۔
استاد کے لیے ہدایت
آپ بچوں کو بتاسکتے ہیں کہ وہ اچھّی نیند، اچھی غذا اور اچھی کسرت اور بہتر احساس کے درمیان بننے والے رابطے اورتعلق کو تلاش کریں۔ بچوں سے یہ بھی معلوم کریں کہ کیا بچّوں کو کسی صحت مند سرگرمی پر مشتمل عمل کرنا دشوار لگتا ہے۔ اس جدول کی تکمیل اس باب کے جائزے کی ہی ایک قسم ہے۔
صفحہ 116 کے جوابات — باسکٹ بال، کرکٹ، فٹ بال، جمناسٹک، ہاکی، کبڈی اورٹینس۔
