باب 6
روز مرہ زندگی میں یوگ
(Yoga for Daily Life)
اکائی 3
یوگ
اکائی کے بارے میں
یوگ ہمیں ایک صحت مند جسم اور ذہن کی تشکیل میں مدد دیتا ہے ۔ اچھی صحت، مثبت رویہ اور ذہنی طاقت ہماری خوشی کے لیے بہت اہم ہے یہ خوبیاں صحت مند کھانے کی عادت، باقاعدہ ورزش، خود کو صاف ستھرا رکھنے کی عادت، مثبت سوچ اور دوسروں کے ساتھ رحم دلی کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہیں۔
اس اکائی میں ہم یوگ کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں سیکھیں گے۔ کس طرح ایک حساس شخص بنیں، کس طرح دوسروں کی دیکھ بھال کریں۔ کس طرح اپنے جسم کو مضبوط اور لچک دار بنائیں اور کس طرح ذہن کو پرسکون رکھیں۔
یوگ 1
خوش رہنا
ہم ہر روز بہت ساری سرگرمیاں کرتے ہیں جن میں کھیلنا، باغبانی کرنا، رنگ بھرنا اور گانا ہے جو ہمیں خوشی دیتی ہیں۔ ان تمام سرگرمیوں کو نشان زد کریں جو آپ کو پسند ہوں۔
- کیا آپ کوئی اور سرگرمی پسند کرتے ہیں؟ اگر ہاں تو اُنھیں نیچے لکھیں۔ ____________ ____________
- جماعت میں اپنے دوستوں کے ساتھ اپنے خوش گوار لمحات کے تجربات کا تبادلہ کریں۔
صحت مند رہنا
آپ کے خیال میں کون سی سرگرمیاں ہیں جو ہمیں مضبوط اور صحت مند رہنے میں مدد دیتی ہیں؟ انھیں نشان زد کیجیے۔
- جوڑے بنا کر اوپر دی گئی ہر سرگرمی کی اہمیت پر بحث کیجیے۔
- ورزش کرنے کے بعد آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟
- آپ روزانہ میدان میں کتنے گھنٹے کھیلتے ہیں؟
- آپ روزانہ کتنے گھنٹے سوتے ہیں؟
- آپ کو کس قسم کا کھانا پسند ہے؟
- _____________
- _____________
رحم دلی
دوسروں کے ساتھ رحم دلی کر کے ہم انھیں خوشی دیتے ہیں۔ تصویروں کو غور سے دیکھیے اور ان چیزوں پر نشان لگائیے جو آپ کرتے ہیں۔
- اپنے دوستوں کے ساتھ ایک چھوٹے گروپ میں تبادلۂ خیال کیجیے۔
- جب آپ اپنے دوستوں کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں تو آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے؟
- اگر آپ کا دوست گر جائے اور اس کو چوٹ لگ جائے تو آپ کیا کرتے ہیں؟
- جب آپ کسی بزرگ کو بھاری سامان کھینچتے ہوئے دیکھتے ہیں تو آپ کیا کرتے ہیں؟
- جب کوئی آپ کا شکریہ ادا کرے تب آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟
- آپ کیا چاہتے ہیں کہ آپ کے دوست اور دوسرے لوگ آپ سے کس طرح کا برتاؤ کریں؟ اپنی رائے کا کلاس کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں۔
ہر شخص ہمیشہ خوش رہنا چاہتا ہے۔ اب تو آپ کو یہ اندازہ ہو گیا ہو گا کہ کون سی سرگرمیاں آپ کو صحت مند اور خوش رکھتی ہیں۔
استاد کے لیے نوٹ
بچوں کی حوصلہ افزائی کیجیے کہ وہ خوش، صحت مند اور رحم دل بر قرار رہنے کے لیے اپنے تجربات کا تبادلۂ کریں۔
اشٹانگ یوگ
پیارے بچو! کیا آپ چانتے ہیں کہ ہمیں خوش ، صحت مند اور ایک اچھا انسان بنانے کا ایک حیرت انگیز طریقہ موجود ہے؟ اسے یوگ کہتے ہیں۔ اس میں آٹھ پہلو ہیں اور اسی لیے اس کو اشٹانگ یوگ کہا جاتا ہے۔ اگر ہم آٹھ پہلوؤں کی روزانہ مشق کریں تو ہماری زندگی خوشیوں سے بھر سکتی ہے تصویر میں دیے گئے ناموں کو یاد کرنے کی کوشش کریں ہم ان تمام مراحل کے بارے میں آئندہ کلاسوں میں مزید جانیں گے۔آئیے ہم اپنے یوگ کے سفر کو یم اور نیم یوگ سے شروع کرتے ہیں جو اشٹانگ یوگ کے پہلے دو مراحل ہیں۔
یوگ 2
یم (اچھا برتاؤ )
یم کا مطلب ہے دوستانہ اصول ، جیسے اپنے کھلونوں کو بانٹنا اور اپنے دوستوں کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا۔ یہ صحیح کام کرنے اور سب کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کے بارے میں ہے۔ یم کے پانچ اقسام ہیں۔ اہنسا، ستیہ , استیہ ,برہم چریہ اور اپری گره ۔ ہم ہر کلاس میں ایک یم کے بارے میں سیکھیں گے ۔ تیسری کلاس میں ہم اہنسا کے بارے میں سیکھیں گے۔
اہنسا کا مطلب ہے ہم جو کرتے ہیں یا کہتے ہیں یا جو سوچتے ہیں اس سے دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے۔ اس کا تعلق تمام انسانوں، جانوروں، پرندوں، پودوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے ہے۔ سدھارتھ کی درج ذیل کہانی اس طرح کی ایک مثال پیش کرتی ہے۔
سدھارتھ کی رحم دلی
ایک وقت کی بات ہے کہ کوسولہ دیشہ ریاست میں دو شہزادے رہتے تھے۔ شہزادہ سدھارتھ اپنی نرم مزاجی اور رحم دلی کے لیے مشہور تھا، جب کہ اس کا بھائی شہزادہ دیودت سخت اور بد مزاج تھا۔
ایک دن جب دونوں شہزادے اپنی کمانوں اور تیروں کے ساتھ کھیل رہے تھے تو دیودت نے ایک خوبصورت ہنس کو نشانہ بنایا جو ان کے اوپر اُڑ رہا تھا۔ سدھارتھ کے رد عمل سے پہلے ہی تیر ہنس کو جالگا، ہنس شدید زخمی ہو کر گر پڑا۔ فوراً سدھارتھ نے کچھ محافظوں کے ساتھ زخمی ہنس کی مدد کے لیے دوڑ لگائی اور انھوں نے اس کی چوٹوں کا بہت احتیاط سے علاج کیا۔
سدھارتھ نے کئی دنوں تک ہنس کی دیکھ بھال جاری رکھی یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو گیا۔ جب ہنس بالکل ٹھیک ہو گیا تب انھوں نے ہنس کو آزاد کر دیا تا کہ وہ اپنے خاندان کے پاس واپس جاسکے۔
سرگرمی
- اپنے دوستوں کے ساتھ چھوٹے گروپوں میں تبادلۂ خیال کیجیے:
- آپ کو کہانی میں کون سا کردار پسند آیا، شہزادہ سدھارتھ یا شہزادہ دیودت؟
- اگر آپ سدھارتھ کی جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟
- اپنے دوستوں کو بعض ایسے واقعات بتائیں جب آپ نے دوسروں کی مدد کی ہو۔
- کہانی کو اپنے گھر پر سنائیے اور درج ذیل باتوں پر تبادلۂ خیال کیجیے :
- جب کوئی ہمیں تکالیف پہنچائے تو ہمیں کیسا محسوس ہوتا ہے؟
- اگر ہم نے ماضی میں کسی کو تکلیف پہنچائی ہے تو ہمیں اب کیا کرنا چاہیے؟
- ہم اپنے ارد گرد کے لوگوں، جانوروں، پرندوں اور پودوں کے ساتھ کس طرح مہر بانی کا برتاؤ کر سکتے ہیں؟
جب لوگ ہمارے ساتھ مہر بانی اور شفقت سے پیش آتے ہیں تو ہمیں خوشی ہوتی ہے۔ یہی اہنسا ہے ! اسی طرح ہمیں بھی دوسروں کے ساتھ بشمول فطرت، جانوروں، پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں کے ساتھ مہر بان اور ہمدرد ہونا چاہیے۔
اُمید ہے کہ آپ سب نے سدھارتھ کی کہانی سے ارتھ کی کہانی سے لطف اٹھایا ہو گا۔ آئیے اب ایک کہانی کے ذریعے شوچ کے تصور کو سمجھتے ہیں۔
استاد کے لیے نوٹ
اہنسا کے بارے میں بچوں کو مقامی کہانیاں سنائیے۔ بچوں سے پوچھیے کہ کیا وہ جانوروں، پرندوں، کیڑوں مکوڑوں یا پودوں کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کے ایسے ہی تجربات سے گزرے ہیں۔
یوگ 4
نیم (اچھی عادتیں)
ہمیں اچھی عادتیں تشکیل دینے کے لیے روزانہ کچھ اچھے کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیم ہماری روزمرہ کی معمول کی سرگرمیاں ہیں، جیسے دانت صاف کرنا، ہوم ورک کرنا، روزانہ دعائیں پڑھنا وغیرہ۔ نیم کے پانچ اقسام ہیں۔ شوچ، سنتوش، تپس،سوادھیایا، ایشور پرانی دهان۔ ہم ہر کلاس میں ایک نیم کے بارے میں سیکھیں گے۔ تیسری جماعت میں ہم شوچ کے بارے میں سیکھیں گے۔
شوچ کا مطلب ہے اپنے جسم ، دماغ اور ارد گرد کے ماحول کو صاف رکھنا جسم کو صاف رکھنے کے لیے روزانہ نہانا، دانت صاف کرنا، ہاتھ دھونا وغیرہ ضروری ہے۔ ہمیں اپنے دماغ کو صاف رکھنے کے لیے غصہ نہیں کرنا چاہیے، نرم الفاظ استعمال کرنا اور سب کے ساتھ شائستگی سے پیش آنا چاہیے۔
میلے میں لڈو کہانی آپ کو صفائی کی اہمیت کو سمجھنے میں مدد دے گی۔ آئیے اس کو پڑھتے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
اچھی عادتیں ایک دریا کی طرح ہوتی ہیں جو پتھر پر نشان بنا دیتی ہیں ہمیں ان کی مشق کئی سالوں تک روزانہ کرنی ہوتی ہے۔ ایک بار جب عادت بن جائے تو وہ پوری زندگی ہمارے ساتھ رہتی ہے۔
میلے میں لڈو
آشا ایک چھوٹی سی لڑکی تھی جسے کھانے کا بہت زیادہ شوق تھا۔ اسے مٹھائیاں اور نمکین چیزیں بہت پسند تھیں۔ ایک دن آشا کی ماں اسے ایک گاؤں کے میلے میں لے گئی۔ وہاں بہت سی دکانیں تھیں جن میں مٹھائیاں اور کھلونے مل رہے تھے۔ آشا نے اپنے پسندیدہ لڈو دیکھے اور اپنی ماں سے ایک لڈو خریدنے کی درخواست کی۔
آشا کی ماں نے وہاں سے کچھ لڈو خریدے اور آشا سے کہا کہ وہ انھیں گھر جاکر کھائے۔ ”کھانے سے پہلے اپنے ہاتھوں کو دھونا نہ بھولنا کیوں کہ تم نے میلے میں بہت سی چیزوں کو ہاتھ سے چھوا ہے“، آشا کی ماں نے کہا۔
آشالڈو کھانے سے اپنے آپ کو روک نہ سکی؟ اس نے ایک لڈولیا اور کھا لیا جب اس کی ماں اپنی سہیلی سے بات کرنے میں مصروف تھی۔
استاد کے لیے نوٹ
شوچ (ذاتی صفائی اور حفظان صحت کے بارے میں کہانیاں سنائیں۔ گھر اور اسکول میں صفائی کی اہمیت پر زور دے کر بات کیجیے، خاص طور پر اس بات پر زور دیں کہ بچے اپنے آپ کو اور اپنے آس پاس کے ماحول کو صاف رکھنے کے لیے کیا کیا اقدامات کر سکتے ہیں۔
اگلے دن آشا کے پیٹ میں درد ہوا، تب اس کی ماں اس کو ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی اور اُسے دوا دلوائی۔
تب آشا کو اپنی ماں کے الفاظ یاد آئے۔ اسے گھر آ کر اپنے ہاتھ دھو کر ہی لڈو کھانا چاہیے تھا۔
سرگرمی
آپ اپنے ہاتھ کب دھوتے ہیں؟ نیچے دیے گئے جملوں میں سے متعلقہ جملوں پر نشان لگائیں:
- کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں۔
- مٹی میں کھیلنے کے بعد ۔
- بیت الخلا سے آنے کے بعد ۔
- اپنے پاؤں چھونے کے بعد ۔
اپنی ہتھیلی کا خاکہ بنائیے اور اس پر صفائی سے متعلق ایک نعرہ لکھیے، جیسے ”صاف ہاتھ محفوظ ہاتھ ہیں۔“
یوگ 5
ان سرگرمیوں پر نشان لگائیں جو آپ روزانہ کرتے ہیں۔
- صبح اور شام دانت صاف کرنا۔
- نہانا۔
- دوستوں کے ساتھ نرمی سے بات کرنا۔
- کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونا۔
- کہانیاں سننا۔
- بہن بھائیوں سے لڑائی نہ کرنا۔
- خوشی سے اپنی چیزوں کو دوسروں کے ساتھ بانٹنا۔
- طلوع آفتاب کا نظارہ کرنا۔
- کھانستے وقت ہاتھ سے منھ ڈھاپنا۔
- کوڑا کرکٹ صرف کوڑے دان میں ڈالنا۔
اچھی عادتیں