حمد

اَے دو جہاں کے والی اَے گلشنوں کے مالی
اَے دو جہاں کے والی اَے گلشنوں کے مالی
ہر چیز سے ہے ظاہر حکمت تری نرالی
تیرے ہی فیض سے ہے سرسبز ڈالی ڈالی
پتّوں میں تیری رنگت پھولوں میں تیری لالی
تو نے ہمیں بنایا اور سوچنا سکھایا
ہر شے میں ہم نے دیکھا تیرے کرم کا سایا
جس راستے میں ڈھونڈا تیرا نشان پایا
خالق ہے تو خدایا مالک ہے تو خدایا
سارا ہے کام تیرا
پیارا ہے نام تیرا
— حفیظ جالندھری

مشق
پڑھیے اور سمجھیے
حمد خدا کی تعریف، خدا کی تعریف میں کہی جانے والی نظم
جہاں دنیا
والی مالک
گلشن باغ
حکمت دانائی، عقل مندی، انداز
فیض فائدہ، بھلائی
سر سبز ہرا بھرا
شے چیز
کرم مہربانی
خالق بنانے والا
سوچیے اور بتائیے
1. دونوں جہان کا والی کون ہے؟
.....................................................
2. خدا نے ہمیں کیا سکھایا ہے؟
.....................................................
3. اس نظم میں خدا کے لیے کون کون سے الفاظ آئے ہیں؟
.....................................................
4. کن کن چیزوں میں آپ نے خدا کی نشانی دیکھی یا محسوس کی ہے؟
.....................................................
5. آپ اپنی زبان میں خدا کے لیے کون کون سے الفاظ استعمال کرتے ہیں؟
.....................................................
مصرعے مکمل کیجیے
ہرچیزسےہےظاہر ................................
تیرے ہی فیض سے ہے .......................
....................... اور سوچنا سکھایا
جس راستے میں ڈھونڈا .......................
....................... پیارا ہے نام تیرا
دیےہوئےالفاظ کوالٹ کرمثال کےمطابق نیا لفظ بنایئے
مثال : سر = رس
نام = ..........
اے = ..........
ہر = ..........
مالک = ..........
دیے گئے الفاظ کےآخری حرف کوہٹا کر نیا لفظ بنائیے اور بلند آواز سے پڑھیے
حکمت = حکم
رنگت = ..............
سبز = ..............
تیری = ..............
پیارا = ..............
بلند آواز سے پڑھیے اور خوش خط لکھیے
فَیض ......... ......... ......... ......... .........
خالق ......... ......... ......... ......... .........
نشان ......... ......... ......... ......... .........
پھولوں ......... ......... ......... ......... .........
گلشنوں ......... ......... ......... ......... .........
ہم آواز لفظوں کے جوڑ ملایئے
خدایا ڈالی
لالی پیارا
سارا نام
کام سکھایا
دیے گئےلفظوں کے حروف مثال کے مطابق الگ الگ کر کے لکھیے مثال : حکمت = ح ک م ت
فیض = ..... .... ....
نشان = ..... .... ....
خالق = ..... .... ....
گلشنوں = ..... .... ....
کیجیے
خدا نے ہمیں بےشمارنعمتیں عطا کی ہیں۔ ان میں سے چند نعمتوں کو لکھیے۔
..........................................................................
...............................................................................
...............................................................................
...............................................................................
اساتذہ کے لیے ہدایات
حمد کو مناسب لب و لہجہ اور آہنگ کے ساتھ سنایا جائے۔
بچوں کو بلند آواز سے نظم پڑھنے کا مو قع دیجیے۔
رنگ بھریے

لطیفہ /چٹکلہ
باپ (بیٹے سے): بیٹا! تم نے نانا کے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟
بیٹا: ابّو ! آپ نے ہی تو کہا تھا کہ بڑوں کو جواب نہیں دیا کرتے۔
