Skip to content


ستاروں سے آگے


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہریانہ کے ضلع کرنال کے چھوٹے سے قصبے میں حنا نام کی ایک چھوٹی سی لڑکی رہتی تھی۔ وہ ہر وقت اپنے خیالوں میں آسمانوں کی سیر کرتی رہتی۔ ایک دن اُس کی ٹیچر مسز شرما نے اعلان کیا کہ ”آج ہم ایک مشہور خاتون کے بارے میں پڑھیں گے۔ ایک ایسی خاتون جس نے خلا کی طرف اُڑان بھری ۔“مسز شرما نے خلا کا سفر کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون کلپنا چاولہ کی کہانی سنانی شروع کی تو سبھی بچوں میں جوش بھر گیا۔حنا تو جیسے خود بھی آسمانوں کے سفر پر نکل پڑی تھی۔   

Screenshot 2024-07-10 163732

مسز شرما نے پوچھا: ”کیا آپ جانتے ہیں کہ کلپنا چاولہ یہیں کرنال میں پیدا ہوئی تھیں۔ بالکل آپ کی طرح! وہ آپ کی طرح اسکول جاتی تھیں اور اپنے والد کے ساتھ ہوائی جہاز دیکھنا پسند کرتی تھیں۔“

بچوں کی سرگوشیوں کے درمیان حنا نے ہاتھ اٹھایا۔ ”میڈم! کیا وہ واقعی خلا ئی سفر پر گئی تھیں؟“

“جی ہاں” مسز شرما نے جواب دیا:  ” 7991 میں کلپنا نے اسپیس شٹل کولمبیا پر اڑان بھری اور خلا میں جانے والی پہلی ہندوستانی خاتون بن گئیں۔ انھوں نے زمین سے پینسٹھ لاکھ میل کی بلندی پر 376 گھنٹے اور 34 منٹ گزارے۔“حنا اور اس کی سہیلیاں مسز شرما کی باتیں دھیان سے 

سنتی رہیں۔  

Screenshot 2024-07-10 163747

وہ کلپنا کی کامیابیوں اور کرنال سے خلاباز بننے تک کا سفر بیان کرتی رہیں۔

کلاس کے بعد حنا اور اس کی سہیلیاں اسکول کے صحن میں پرانے برگد کے نیچے بیٹھی کلپنا چاولہ کی حیرت انگیز مہم کے بارے میں باتیں کرتی رہیں۔”خلائی سفر پر جانے اور وہاں سے زمین کو دیکھنے کے بارے میں سوچ کر میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔‘‘ شالو نے کہا  :”شاید ایک دن ہم میں سے بھی کوئی خلائی سفر پر جا سکتا ہے۔“حنا مسکراتے ہوئے بولی۔اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔  

سال گزرتے گئے۔ لیکن بچے کلپنا چاولہ کی باتیں کرتے رہے۔ پہلی فروری  3002 کو کلپنا کا اِسپیس شٹل کولمبیا حادثے کا شکار ہوگیا اور اس میں موجود ساتوں خلابازوں کی موت ہوگئی۔ پورا کرنال غم میں ڈوب گیا۔ حنا اور اس کی سہیلیوں کو یہ جان کر گہرا صدمہ ہوا۔وہ بوڑھے برگد کے نیچے جمع ہوئیں، موم بتیاں روشن کیں اور کلپنا کے بارے میں باتیں کیں۔”بے شک وہ ہمارے ساتھ نہ ہوں، لیکن ان کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔“ حنا نے کہا۔اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ شالو نے بھرّائی ہوئی آواز میں بتایا کہ کلپنا چاولہ کہا کرتی تھیں ”میں خلائی مِشن کے لیے بنی ہوں اور اسی کے لیے مروں گی۔“ انھوں نے اپنی بات کو سچ کر دکھایا۔ سب کا دعویٰ تھا کہ ان کی عظیم قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔  

اس کے بعد کے سالوں میں، حکومتوں اور یونیورسٹیوں میں یہاں تک کہ امریکہ کے خلائی تحقیق کے ادارے ’ناسا‘ نے بھی کلپنا چاولہ کو مختلف انعام دیے۔ان کے نام پر سڑکوں، یونیورسٹیوں اور اداروں کے نام رکھے گئے۔ ایک دن حنا نے حیرت اورخوشی کے ساتھ چِلّا کر بتایا، ”ارے! کیا آپ کو معلوم ہے کہ 2202 میں کلپنا چاولہ کے نام پر ایک سیٹلائٹ بھی لانچ ہوا تھا؟ واقعی اب وہ آسمان پر ایک ستارے کی طرح ہیں۔“ 

Screenshot 2024-07-10 163813

بچے بڑے ہوتے گئے اور ان کے دل میں کلپنا چاولہ کی محبت بڑھتی گئی۔ ان کی محنت اور سفر سے متاثر ہوکر، انھوں نے بڑے بڑے خواب دیکھے اور اپنے شہر کے ہیرو کی طرح ستاروں تک پہنچ گئے۔اب حنا بھی خلائی مشن کے لیے تیار ہے۔ اس طرح کرنال میں کلپنا چاولہ کی کہانی نے بچوں کے ذہنوں پر اثر چھوڑا۔ ایک بار پھر ثابت ہوا کہ خواب چاہے کتنی چھوٹی آنکھوں کے ہوں، آپ کو ستاروں سے آگے بھی لے جا سکتے ہیں۔


مشق

Screenshot 2024-07-10 115409 پڑھیے اور سمجھیے

 پڑھیے اور سمجھیے

خلا زمین اور آسمان کے بیچ کا وہ علاقہ جہاں ہوا، پانی، روشنی اورآواز، وغیرہ کچھ بھی نہیں ہے۔
سرگوشی چپکے چپکے باتیں کرنا، کانا پھوسی 
واقعی سچ مچ، حقیقت میں
بلندی اونچائی
خلاباز خلا میں سفر کرنے والا
حیرت انگیز حیرت میں ڈالنے والا
مہم بہت مشکل کام
صدمہ غم، افسوس
مِشن خاص مقصد
دعویٰ یقین کے ساتھ کوئی بات کہنا
متاثر اثر قبول کرنے والا

Screenshot 2024-07-10 163833

Screenshot 2024-07-10 115419سوچیے اور بتائیے   

1. حنا آسمانوں کے سفر پر کیوں نکل پڑی؟
.....................................................
2. کلپنا چاولہ کہاں پیدا ہوئیں اور انھیں کیا پسند تھا؟
.....................................................
3. 7991میں کلپنا نے زمین سے کتنی بلندی پر کتنا وقت گزارا تھا؟
.....................................................
4. کلپنا چاولہ کی موت پر بچوں نے کیا دعویٰ کیا؟
.....................................................
5. یہ کیسے ثابت ہوا کہ خواب چاہے کتنی چھوٹی آنکھوں کے ہوں، آپ کو ستاروں سے آگے بھی لے جا سکتے ہیں؟


2درج ذیل صحیح  بیان پر ()اور غلط بیان پر( ✕) کا نشان لگایئے

کلپنا چاولہ یہیں کرنال میں پیدا ہوئی تھیں۔  ........
کلپنا چاولہ نے کہا تھا ”میں خلائی مِشن کے لیے بنی ہوں اور اسی کے لیے مروں گی ۔ “................
1202 میں کلپنا چاولہ کے نام پر ایک سیٹلائٹ بھی لانچ ہوا تھا۔.................
 کرنال میں کلپنا چاولہ کی کہانی نے بچوں کے ذہنوں پر اثر چھوڑا۔    ................
خواب چاہے کتنی چھوٹی آنکھوں کے ہوں، آپ کو ستاروں سے آگے بھی لے جا سکتے ہیں۔ ..............

  boy standinذیل میں دیے گئے مؤنث الفاظ کا مذکر لکھیے

مؤنث چھوٹی کرتی بیٹھی گہری
مذکر ........ ........ ........ ........
Screenshot 2024-07-10 163857

Screenshot 2024-07-10 115432مثال کے مطابق واحد کی جمع بنائیے

 سرگوشی سرگوشیاں سرگوشیوں
 سہیلی ..................... .....................
 بلندی ..................... .....................
 موم بتی ..................... .....................
 قربانی ..................... .....................


boy standinکالم ’الف‘ اور کالم ’ب‘  میں دی گئی  معلومات کا جوڑ بنائیے

الف
کلپنا نے اسپیس شٹل کولمبیا پر اڑان بھری


الف
ب
کلپنا نے اسپیس شٹل کولمبیا پر اڑان بھری 376 گھنٹے، 34 منٹ
کلپنا چاولہ کے نام پر ایک سیٹلائٹ لانچ ہوا 2003
کلپنا کا اِسپیس شٹل کولمبیا حادثے کا شکار ہوگیا 1997
انھوں نے زمین سے پینسٹھ لاکھ میل کی بلندی پر گزارے 2022

4یہ بات کس نے کہی؟ اس کا نام لکھیے

1. آج ہم ایک مشہور خاتون کے بارے میں پڑھیں گے۔ 
.....................................................
2. شاید ایک دن ہم میں سے بھی کوئی خلائی سفر پر جا سکتا ہے۔  
.....................................................
3. وہاں سے زمین کو دیکھنے کے بارے میں سوچ کر میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔    
.....................................................................
4. کلپنا چاولہ کہا کرتی تھیں ”میں خلائی مشن کے لیے بنی ہوں اور اسی کے لیے مروں گی ۔ “
.....................................................................

اساتذہ کے لیے ہدایات

کلپنا چاولہ کے متعلق طلبا سے گروپ میں مباحثہ  کروایا جاسکتا ہے۔
آڈیو / ویڈیو میں کلپنا چاولہ کی کہانی کو سنوانے کے مواقع فراہم کروائے جاسکتے ہیں۔
طلبا سے اس سبق پر رول پلے کروایا جاسکتا ہے۔

پہیلی

ایک تھال موتیوں سے بھرا
سب کے سر پر اوندھا دھرا
چاروں اور وہ تھال پھرے
موتی اس سے اک نہ گرے

boy standinمریم کو خلا تک پہنچانے میں مدد کیجیے

Screenshot 2024-07-10 163915