ستاروں سے آگے
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہریانہ کے ضلع کرنال کے چھوٹے سے قصبے میں حنا نام کی ایک چھوٹی سی لڑکی رہتی تھی۔ وہ ہر وقت اپنے خیالوں میں آسمانوں کی سیر کرتی رہتی۔ ایک دن اُس کی ٹیچر مسز شرما نے اعلان کیا کہ ”آج ہم ایک مشہور خاتون کے بارے میں پڑھیں گے۔ ایک ایسی خاتون جس نے خلا کی طرف اُڑان بھری ۔“مسز شرما نے خلا کا سفر کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون کلپنا چاولہ کی کہانی سنانی شروع کی تو سبھی بچوں میں جوش بھر گیا۔حنا تو جیسے خود بھی آسمانوں کے سفر پر نکل پڑی تھی۔

مسز شرما نے پوچھا: ”کیا آپ جانتے ہیں کہ کلپنا چاولہ یہیں کرنال میں پیدا ہوئی تھیں۔ بالکل آپ کی طرح! وہ آپ کی طرح اسکول جاتی تھیں اور اپنے والد کے ساتھ ہوائی جہاز دیکھنا پسند کرتی تھیں۔“
بچوں کی سرگوشیوں کے درمیان حنا نے ہاتھ اٹھایا۔ ”میڈم! کیا وہ واقعی خلا ئی سفر پر گئی تھیں؟“
“جی ہاں” مسز شرما نے جواب دیا: ” 7991 میں کلپنا نے اسپیس شٹل کولمبیا پر اڑان بھری اور خلا میں جانے والی پہلی ہندوستانی خاتون بن گئیں۔ انھوں نے زمین سے پینسٹھ لاکھ میل کی بلندی پر 376 گھنٹے اور 34 منٹ گزارے۔“حنا اور اس کی سہیلیاں مسز شرما کی باتیں دھیان سے
سنتی رہیں۔

وہ کلپنا کی کامیابیوں اور کرنال سے خلاباز بننے تک کا سفر بیان کرتی رہیں۔
کلاس کے بعد حنا اور اس کی سہیلیاں اسکول کے صحن میں پرانے برگد کے نیچے بیٹھی کلپنا چاولہ کی حیرت انگیز مہم کے بارے میں باتیں کرتی رہیں۔”خلائی سفر پر جانے اور وہاں سے زمین کو دیکھنے کے بارے میں سوچ کر میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔‘‘ شالو نے کہا :”شاید ایک دن ہم میں سے بھی کوئی خلائی سفر پر جا سکتا ہے۔“حنا مسکراتے ہوئے بولی۔اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔
سال گزرتے گئے۔ لیکن بچے کلپنا چاولہ کی باتیں کرتے رہے۔ پہلی فروری 3002 کو کلپنا کا اِسپیس شٹل کولمبیا حادثے کا شکار ہوگیا اور اس میں موجود ساتوں خلابازوں کی موت ہوگئی۔ پورا کرنال غم میں ڈوب گیا۔ حنا اور اس کی سہیلیوں کو یہ جان کر گہرا صدمہ ہوا۔وہ بوڑھے برگد کے نیچے جمع ہوئیں، موم بتیاں روشن کیں اور کلپنا کے بارے میں باتیں کیں۔”بے شک وہ ہمارے ساتھ نہ ہوں، لیکن ان کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔“ حنا نے کہا۔اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ شالو نے بھرّائی ہوئی آواز میں بتایا کہ کلپنا چاولہ کہا کرتی تھیں ”میں خلائی مِشن کے لیے بنی ہوں اور اسی کے لیے مروں گی۔“ انھوں نے اپنی بات کو سچ کر دکھایا۔ سب کا دعویٰ تھا کہ ان کی عظیم قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
اس کے بعد کے سالوں میں، حکومتوں اور یونیورسٹیوں میں یہاں تک کہ امریکہ کے خلائی تحقیق کے ادارے ’ناسا‘ نے بھی کلپنا چاولہ کو مختلف انعام دیے۔ان کے نام پر سڑکوں، یونیورسٹیوں اور اداروں کے نام رکھے گئے۔ ایک دن حنا نے حیرت اورخوشی کے ساتھ چِلّا کر بتایا، ”ارے! کیا آپ کو معلوم ہے کہ 2202 میں کلپنا چاولہ کے نام پر ایک سیٹلائٹ بھی لانچ ہوا تھا؟ واقعی اب وہ آسمان پر ایک ستارے کی طرح ہیں۔“

بچے بڑے ہوتے گئے اور ان کے دل میں کلپنا چاولہ کی محبت بڑھتی گئی۔ ان کی محنت اور سفر سے متاثر ہوکر، انھوں نے بڑے بڑے خواب دیکھے اور اپنے شہر کے ہیرو کی طرح ستاروں تک پہنچ گئے۔اب حنا بھی خلائی مشن کے لیے تیار ہے۔ اس طرح کرنال میں کلپنا چاولہ کی کہانی نے بچوں کے ذہنوں پر اثر چھوڑا۔ ایک بار پھر ثابت ہوا کہ خواب چاہے کتنی چھوٹی آنکھوں کے ہوں، آپ کو ستاروں سے آگے بھی لے جا سکتے ہیں۔
مشق
پڑھیے اور سمجھیے
پڑھیے اور سمجھیے

سوچیے اور بتائیے
درج ذیل صحیح بیان پر (✓)اور غلط بیان پر( ✕) کا نشان لگایئے
ذیل میں دیے گئے مؤنث الفاظ کا مذکر لکھیے
مثال کے مطابق واحد کی جمع بنائیے
کالم ’الف‘ اور کالم ’ب‘ میں دی گئی معلومات کا جوڑ بنائیے
| الف |
ب |
| کلپنا نے اسپیس شٹل کولمبیا پر اڑان بھری | 376 گھنٹے، 34 منٹ |
| کلپنا چاولہ کے نام پر ایک سیٹلائٹ لانچ ہوا | 2003 |
| کلپنا کا اِسپیس شٹل کولمبیا حادثے کا شکار ہوگیا | 1997 |
| انھوں نے زمین سے پینسٹھ لاکھ میل کی بلندی پر گزارے | 2022 |
یہ بات کس نے کہی؟ اس کا نام لکھیے
اساتذہ کے لیے ہدایات
پہیلی
مریم کو خلا تک پہنچانے میں مدد کیجیے

