کشمیر
میں نےہندوستان کے پہاڑی مقامات دیکھے۔شِملہ، نینی تال اور رانی کھیت کی بھی سیر کی۔ ہم مہابلیشور تین دن جا کر رہے، لیکن سب سے زیادہ سیر میں نے کشمیر کی کی ہے۔سری نگر اور آس پاس کے علاقے تو چھان ہی ڈالے۔اس کے علاوہ پام پور ، سون مرگ ، مانس بن جھیل جس کے چاروں طرف کنول کے پھولوں کے تختے اسے عجیب حسن بخشتے ہیں۔

یوں تو کشمیر کا چپّہ چپّہ جنّتِ ارضی معلوم ہوتا ہے، لیکن مجھے پہلگام سب سے زیادہ پسند ہے۔ اس کی سیر سے جی کبھی نہیں بھرتا۔ پہلگام سے اوپر اونچی پہاڑیوں پر شان دار اور خوب صورت مناظر ملتے ہیں۔ اونچی اونچی برف پوش چوٹیاں اور گہری سرسبزوادیاں ایک طرف نظروں کو اسیر کر لیتی ہیں تو دوسری طرف گھوڑوں کے پھِسل جانے کے ڈر سے خوف بھی معلوم ہوتا ہے۔ چندن واڑی پہنچ کر دور تک چشمے پر جمی ہوئی برف سڑک کے مانند دیکھی۔ اس پر چلے، برف توڑ کر کھائی اور سردی سے جم جم سے گئے ۔

گل مرگ کئی بار گئے۔ اس سے تین میل نیچے ٹنگ مرگ کی وادی ہے، جس کا چشمہ دریا کے برابر چوڑا ہے ۔گُل مرگ سے تین میل پتلی پگڈنڈیوں پر پیدل یا ٹٹو پرسوار ہوکرکھِلن مرگ جاتے ہیں۔ یہاں برف جمی ملتی ہے۔ یہاں کی ہوا ہلکی ہے ۔میرا سانس رکتا محسوس ہوتا تھا مگر اس وقت ان باتوں کی پرواہ کِسے تھی۔

— صالحہ عابدحسین
مشق
پڑھیے اور سمجھیے
پڑھیے اور سمجھیے
مقامات جگہیں

سوچیے اور بتائیے
نیچے دیے گئے الفاظ کا پہلا حرف ہٹا کر نیا لفظ بنائیے
کالم ’ الف‘ اور‘ ب’ کو مثال کے مطابق ملایئے
درست املا والے لفظ پر صحیح (✓) کا نشان لگایئے
نیچےدیےگئےجملوں پرغورکیجیے
نیچےدی ہوئی تصویروں پر دو دو جملے لکھیے

نیچےدیے گئے الفاظ کے آخری حرف کوہٹا کر نیا لفظ بنایئے اور بلند آواز سے پڑھیے
ذیل میں دیے گئے لفظوں کے حروف مثال کے مطابق الگ الگ کر کے لکھیے
بلند آواز سے پڑھیے اور خوش خط لکھیے
کشمیر
اس پیراگراف کی روشنی میں نیچے دیے ہوئے نکات پر بچوں سے گفتگو کیجیے
کیجیے
آپ نے کسی دل چسپ مقام کی سیر کی ہے تو نیچے دی گئی جگہ میں اپنی سیر کے بارے میں لکھیے
...........................................................................
...............................................................................
...............................................................................
...............................................................................


رنگ بھریے