Skip to content


میوزیم کی سیر



Screenshot 2024-07-11 155850

اسکول میں آج بچے بہت خوش تھے۔ کچھ بچے تواتنے خو ش تھے کہ وہ کھانے کے وقفے میں بات بھی کررہے تھے ۔ آج اسکول میں شور بھی کم تھا جس کی وجہ سے ارشد اور مریم کی باتیں بالکل صاف صاف سنائی دے رہی تھیں۔  

ارشد: میم کہہ رہی تھیں کہ ہم لوگ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام میموریل گھومنے جائیں گے۔ 

مریم: (حیرت سے) ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کون تھے؟ 

ارشد: جب ہم کل میموریل جائیں گے تو میم سے پوچھیں گے کہ یہ کون تھے۔ 

Screenshot 2024-07-11 155906

 سارے بچے دوسرے دن تیار ہو کر وقت پرا سکول پہنچ گئےاور  بہت خوش تھے۔ وہ گھر سے اپنی پسند کے کھانے بھی ساتھ لائے تھے ۔تبھی بس آ گئی اور میم نے ان کو بس میں بٹھا دیا۔ کچھ ہی دیر میں بچے اے پی جے عبدالکلام میموریل پہنچ گئے۔ بچے بس سے اترے اور لائنوں میں میوزیم کے اندر داخل ہوئے۔ داخل ہوتے ہی انھیں ایک کشتی دکھائی دی۔  

Screenshot 2024-07-11 155922

مریم: میم! یہاں کشتی کیوں رکھی ہے، جبکہ رات میں میری والدہ نےاے پی جے عبدالکلام کے بارے میں بتایا کہ وہ بہت بڑے سائنس داں تھے اور ان کو لوگ میزائل مین بھی 

کہتے تھے۔  

میم: آپ کی والدہ نے بالکل صحیح بتایا، وہ ایک بہت بڑے سائنس داں تھے۔ کشتی جو یہاں رکھی ہوئی ہے یہ ان کے والد محترم زین العابدین کی ہے جسے وہ مچھلی پکڑنے والوں کو کرائے پر دیا کرتے تھے۔اسی نسبت سے یہ یہاں رکھی ہوئی ہے۔ڈاکٹراے پی جے عبدالکلام کا بچپن یہیں گزرا۔ ڈاکٹر اے پی جےعبدالکلام کی پیدائش 51 اکتوبر 1391 کوتمل نا ڈو کے ضلع رامیشورم کے ایک چھوٹے سے گاؤں دھنُش کوڈی میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم کے دوران  اے پی جے عبدالکلام اپنے  محلّے میں اخبار تقسیم کرتے تھے۔ 

Screenshot 2024-07-11 155936

بچے کچھ  آگے بڑھے تو انھوں نے مختلف قسم کے میزائل دیکھے۔ 

راہل: میم! انھوں نے سائنس میں کیسے د ل چسپی لینی شروع کی؟

 میم: ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اپنی ابتدائی تعلیم کے بعدجب مدراس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے خلائی سائنس میں گریجویشن کررہے تھے،اُس وقت اُن کی دل چسپی بڑھی۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن(ORSI)میں کام کرتے ہوئے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے سیٹلائٹ لانچ وہیکل (3-VLS) کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ بھارت کی خلائی کوششوں میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔

بچّو! ڈاکٹر اے پی جےعبدالکلام یہیں نہیں رکے بلکہ انھوں نے 4791میں بھارت کے پہلے ایٹم بم کا تجربہ کیا،جس کی وجہ سے انھیں پوری دنیا میں شہرت ملی۔ ان کے اسی شوق، محنت اور لگن کی وجہ سے میزائل ٹیکنالوجی کے میدان میں بھارت نے خود مختاری حاصل کی۔ اگنی، پرتھوی، آکاش، ناگ اور تِرشول جیسے میزائل ڈاکٹرکلام صاحب ہی کی قیادت میں بنائے گئے ۔ 

Screenshot 2024-07-11 160008

بچے  اور آگے بڑھے تو انھوں نے سِتار دیکھا۔ 

آمنہ: میم یہ سِتار یہاں کیوں رکھا ہے ؟ 

میم: اے پی جےعبدالکلام کو موسیقی سے بہت لگاؤ تھا۔ انھیں سِتار بجانا بہت پسندتھا۔ 

بچے بہت خوش تھے۔آ خر میں آصف نے میم سے پوچھا۔

آصف            : میم! میں نے سنا ہے کہ وہ ہمارےصدرِجمہوریہ بھی تھے ۔ 

میم     : جی ہاں! آپ نے صحیح سنا ہے۔ وہ 62 جولائی 2002 سے

 42 جولائی 7002 تک ہندوستان کے صدر جمہوریہ رہے ہیں۔ 

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام بچّوں سے بڑی محبت کرتے تھے۔ وہ بچّوں سے ملتے،  ان سے سوالات کرتے اور تاکید بھی کرتے کہ علم حاصل کرنے کے لیے سوالات کرنا ضروری ہے۔ وہ کہتے تھےکہ بچوں کو سوال کرنے دیں۔ ہر بچہ بہت سارے خواب لے کر پیدا ہوتا ہے۔ انھوں نے اسکول کے بچوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کتابوں اور عظیم انسانوں کو اپنا دوست بنائیں۔ وہ یہ بھی کہتے تھے کہ زندگی کا بنیادی مقصد خوش رہناہے۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا قول ہے کہ ہر چھوٹی مسکراہٹ کسی کے دل کو چھو سکتی ہے ۔بچّہ اپنی صلاحیت کو پروان چڑھا کر ملک کی ترقّی میں حصّہ لیتا ہے۔ خود بھی خوش ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی خوشی دیتا ہے۔ 

آج کا دن بچوں کی زندگی کا اہم دن تھا ۔میوزیم گھومنے کے بعد بچے خوش خوش اپنے گھر واپس آ گئے۔  

Screenshot 2024-07-11 160017



مشق

Screenshot 2024-07-10 115409 پڑھیے اور سمجھیے

 پڑھیے اور سمجھیے

وقفہ مُہلت
قول بات
کشتی ناؤ
سائنس داں سا ئنس کا علم  جاننے والا
نسبت تعلق
ابتدائی شروعاتی
شہرت نام وری، چرچہ
خود مختاری آزادی
قیادت رہبری، رہنمائی
صدرِ جمہوریہ کسی جمہوری ریاست کا سربراہ
تاکید زور دینا

Screenshot 2024-07-11 160028

Screenshot 2024-07-10 115419سوچیے اور بتائیے   

1. ارشد اور مریم آپس میں کیا بات کر رہے تھے ؟  
.....................................................
2. میموریل میں کشتی کے بارے میں میم نے کیا بتایا؟ 
.....................................................
3. ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے کن چیزوں پر تجربے کیے؟  
.....................................................
4. ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام بچوں کو کیا تاکید کرتے تھے؟  
.....................................................
5. ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے نزدیک زندگی کا بنیادی مقصدکیا تھا؟
.....................................................
6. آپ کس طرح خوش رہتے ہیں اورکس طرح  دوسروں کو خوشی فراہم کرسکتے ہیں؟ 
......................................................................

2 ان  جملوں کو صحیح لفظوں سے مکمل کیجیے 

1. اسکول میں آج بچے ..............تھے۔     (پریشان/خوش)
2. آج ..............بھی بہت کم تھا ۔     (شور/خاموشی)
3. میم نے انھیں..............میں بٹھا دیا ۔   ( کار/ بس)

4. ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ایک بہت بڑے.............. تھے ۔  (سائنس داں / تاریخ داں) 

5. ان کو لوگ..............بھی کہتے تھے۔ ( میزائل مین/ مکینک)


2ہر لفظ کے سامنے تین لفظ دیے ہوئےہیں، ان میں سےاس لفظ کےمتضاد کو خالی جگہ میں لکھیے 

پسند :   اچھا برا ناپسند ..............
رات : سورج دن صبح ..............
پیدائش : موت مرض صحت ..............
چھوٹا : لمبا بڑا موٹا ..............
گاؤں : گھر جھونپڑی شہر ..............


2پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے 

بچے کھانے کے وقفے میں بات کر رہے تھے۔   
بچے بس سے اُتر ے اور لائنوں میں میوزیم کے اندر داخل ہو ئے۔ 
ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام بچوں سے بڑی محبت کرتےتھے۔

ان جملوں میں ’کر رہے تھے‘،     ‘   اُترے’،  ‘  داخل ہوئے’   ،‘            کرتے تھے’یہ ایسے لفظ ہیں جن سے کسی کام کا کرنا یا ہونا معلوم ہوتاہے۔ایسے لفظوں کو ’فعل‘کہتے ہیں۔  آپ نیچے کے جملوں کو بریکٹ میں دیے گئے فعل کے مطابق مکمل کرکے لکھیے
میم نے بچوں سے ............................    (کہنا)
سبھی بچے اپنے ساتھ اپنی پسند کے  ............. (لانا)
کل آپ نے میوزیم میں کیا ................... (دیکھنا)
میوزیم کی سیر سے آپ نے کیا  ................ (سیکھنا)
میزائل ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی قیادت میں  ............. (بنانا)

وہ لفظ جس سے کسی کام کا ہونا یا کرنا معلوم ہو،اسے فعل کہتے ہیں۔

boy standinصحیح بیان پر (✓)اور غلط بیان پر(×) کا نشان لگایئے 

1. اے پی جے عبدالکلام ممبئی میں پیدا ہوئے۔ 
2. اے پی جےعبدالکلام اپنے محلے میں اخبار تقسیم کرتے تھے۔  
3. انھیں گٹار بجانا بہت پسند تھا ۔ 
4. اے پی جےعبدالکلام ہندوستان کےصدرِجمہوریہ بھی تھے۔

4 کیجیے 

سبق میں آپ نے ایک لفظ پڑھا ہے ’سائنس داں‘۔ اس کے معنی ہیں سائنس کا علم رکھنے والا۔ یہ لفظ دو لفظوں یعنی  سائنس + داں سے مل کر بنا ہے۔ اسی طرح آپ بھی نیچے دیے گئے لفظوں کےآگےدا ں لگا کر لکھیے۔ 

قانون + ..........                      = ................

نکتہ + ..........                           = ................
زبان + ..........                        = ................
قدر + ..........                          = ................
علم + ..........                          = ................

3  ان تصویروں پر دو دو جملے لکھیے

Screenshot 2024-07-11 160053
...................................................................
...................................................................
...................................................................
...................................................................
Screenshot 2024-07-11 160102
...................................................................
...................................................................
...................................................................
...................................................................
Screenshot 2024-07-11 160109
...................................................................
...................................................................
...................................................................
...................................................................
Screenshot 2024-07-11 160117
...................................................................
...................................................................
...................................................................
...................................................................

3نیچے دی گئی تصویروں کو دیکھ کر ان کے پیشوں کے نام لکھیے 

Screenshot 2024-07-11 160142..........................................................................
Screenshot 2024-07-11 160153.......................................................................
Screenshot 2024-07-11 160212.............................................................................

پہیلی

جاگو تو وہ پاس نہ آئے
سوجاؤ تو روپ دکھائے


اساتذہ کے لیے ہدایات

طلبا کو تصویروں کی مدد سے پڑھنے کے مواقع دیے جاسکتے ہیں۔
اے پی جے عبدالکلام کے میوزیم کو دکھایا جاسکتا ہے اور اس پر چند جملے لکھوائے جاسکتے ہیں۔