میوزیم کی سیر

اسکول میں آج بچے بہت خوش تھے۔ کچھ بچے تواتنے خو ش تھے کہ وہ کھانے کے وقفے میں بات بھی کررہے تھے ۔ آج اسکول میں شور بھی کم تھا جس کی وجہ سے ارشد اور مریم کی باتیں بالکل صاف صاف سنائی دے رہی تھیں۔
ارشد: میم کہہ رہی تھیں کہ ہم لوگ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام میموریل گھومنے جائیں گے۔
مریم: (حیرت سے) ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کون تھے؟
ارشد: جب ہم کل میموریل جائیں گے تو میم سے پوچھیں گے کہ یہ کون تھے۔

سارے بچے دوسرے دن تیار ہو کر وقت پرا سکول پہنچ گئےاور بہت خوش تھے۔ وہ گھر سے اپنی پسند کے کھانے بھی ساتھ لائے تھے ۔تبھی بس آ گئی اور میم نے ان کو بس میں بٹھا دیا۔ کچھ ہی دیر میں بچے اے پی جے عبدالکلام میموریل پہنچ گئے۔ بچے بس سے اترے اور لائنوں میں میوزیم کے اندر داخل ہوئے۔ داخل ہوتے ہی انھیں ایک کشتی دکھائی دی۔

مریم: میم! یہاں کشتی کیوں رکھی ہے، جبکہ رات میں میری والدہ نےاے پی جے عبدالکلام کے بارے میں بتایا کہ وہ بہت بڑے سائنس داں تھے اور ان کو لوگ میزائل مین بھی
کہتے تھے۔
میم: آپ کی والدہ نے بالکل صحیح بتایا، وہ ایک بہت بڑے سائنس داں تھے۔ کشتی جو یہاں رکھی ہوئی ہے یہ ان کے والد محترم زین العابدین کی ہے جسے وہ مچھلی پکڑنے والوں کو کرائے پر دیا کرتے تھے۔اسی نسبت سے یہ یہاں رکھی ہوئی ہے۔ڈاکٹراے پی جے عبدالکلام کا بچپن یہیں گزرا۔ ڈاکٹر اے پی جےعبدالکلام کی پیدائش 51 اکتوبر 1391 کوتمل نا ڈو کے ضلع رامیشورم کے ایک چھوٹے سے گاؤں دھنُش کوڈی میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم کے دوران اے پی جے عبدالکلام اپنے محلّے میں اخبار تقسیم کرتے تھے۔

بچے کچھ آگے بڑھے تو انھوں نے مختلف قسم کے میزائل دیکھے۔
راہل: میم! انھوں نے سائنس میں کیسے د ل چسپی لینی شروع کی؟
میم: ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اپنی ابتدائی تعلیم کے بعدجب مدراس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے خلائی سائنس میں گریجویشن کررہے تھے،اُس وقت اُن کی دل چسپی بڑھی۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن(ORSI)میں کام کرتے ہوئے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے سیٹلائٹ لانچ وہیکل (3-VLS) کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ بھارت کی خلائی کوششوں میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔
بچّو! ڈاکٹر اے پی جےعبدالکلام یہیں نہیں رکے بلکہ انھوں نے 4791میں بھارت کے پہلے ایٹم بم کا تجربہ کیا،جس کی وجہ سے انھیں پوری دنیا میں شہرت ملی۔ ان کے اسی شوق، محنت اور لگن کی وجہ سے میزائل ٹیکنالوجی کے میدان میں بھارت نے خود مختاری حاصل کی۔ اگنی، پرتھوی، آکاش، ناگ اور تِرشول جیسے میزائل ڈاکٹرکلام صاحب ہی کی قیادت میں بنائے گئے ۔

بچے اور آگے بڑھے تو انھوں نے سِتار دیکھا۔
آمنہ: میم یہ سِتار یہاں کیوں رکھا ہے ؟
میم: اے پی جےعبدالکلام کو موسیقی سے بہت لگاؤ تھا۔ انھیں سِتار بجانا بہت پسندتھا۔
بچے بہت خوش تھے۔آ خر میں آصف نے میم سے پوچھا۔
آصف : میم! میں نے سنا ہے کہ وہ ہمارےصدرِجمہوریہ بھی تھے ۔
میم : جی ہاں! آپ نے صحیح سنا ہے۔ وہ 62 جولائی 2002 سے
42 جولائی 7002 تک ہندوستان کے صدر جمہوریہ رہے ہیں۔
ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام بچّوں سے بڑی محبت کرتے تھے۔ وہ بچّوں سے ملتے، ان سے سوالات کرتے اور تاکید بھی کرتے کہ علم حاصل کرنے کے لیے سوالات کرنا ضروری ہے۔ وہ کہتے تھےکہ بچوں کو سوال کرنے دیں۔ ہر بچہ بہت سارے خواب لے کر پیدا ہوتا ہے۔ انھوں نے اسکول کے بچوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کتابوں اور عظیم انسانوں کو اپنا دوست بنائیں۔ وہ یہ بھی کہتے تھے کہ زندگی کا بنیادی مقصد خوش رہناہے۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا قول ہے کہ ہر چھوٹی مسکراہٹ کسی کے دل کو چھو سکتی ہے ۔بچّہ اپنی صلاحیت کو پروان چڑھا کر ملک کی ترقّی میں حصّہ لیتا ہے۔ خود بھی خوش ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی خوشی دیتا ہے۔
آج کا دن بچوں کی زندگی کا اہم دن تھا ۔میوزیم گھومنے کے بعد بچے خوش خوش اپنے گھر واپس آ گئے۔

مشق
پڑھیے اور سمجھیے
پڑھیے اور سمجھیے

سوچیے اور بتائیے
ان جملوں کو صحیح لفظوں سے مکمل کیجیے
4. ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ایک بہت بڑے.............. تھے ۔ (سائنس داں / تاریخ داں)
5. ان کو لوگ..............بھی کہتے تھے۔ ( میزائل مین/ مکینک)
ہر لفظ کے سامنے تین لفظ دیے ہوئےہیں، ان میں سےاس لفظ کےمتضاد کو خالی جگہ میں لکھیے
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
صحیح بیان پر (✓)اور غلط بیان پر(×) کا نشان لگایئے
کیجیے
قانون + .......... = ................
ان تصویروں پر دو دو جملے لکھیے




نیچے دی گئی تصویروں کو دیکھ کر ان کے پیشوں کے نام لکھیے
..........................................................................
.......................................................................
.............................................................................