بھلائی

رامو گنگا کے کنارے ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ وہ بہت غریب تھا، لیکن آدمی ایمان دار تھا۔ رامو کے پاس ایک گائے تھی۔ ایک سال ایسا سخت قحط پڑا کہ گائے کے لیے کھانے کا چارہ بھی ملنا مشکل ہو گیا۔ رامو کو بہت فکر ہوئی کہ گائے مر گئی تو زندگی کیسے گذرے گی۔ بچوں کے لیے اتنا سہارا بھی نہیں رہے گا کہ وہ دودھ پی کر زندہ رہیں۔ کچھ دیر تک رامو سوچتا رہا۔آخر اِس کے سِوا کوئی صورت نظر نہیں آئی کہ کہیں سے چارہ چُرا کر لائے۔ رات کے اندھیرے میں گاؤں سے باہر گیا اور ایک کھیت میں جا کر چارہ چُرا نے لگا۔ جب رامو چوری کر رہا تھا، تو اس کے دل میں خیال آیا کہ ایمان داری بڑی چیز ہے۔ افسوس! ایسا برا وقت آن پڑا ہے کہ اگر گائے کو دیکھتا ہوں تو ایمان جاتا ہےاور اگر ایمان کو دیکھتا ہوں تو گائے ہاتھ سے جاتی ہے۔ یہ سوچ کر کچھ دیر کے لیے جِھجکا اور چارہ جہاں سے چُرا یا تھا، وہیں رکھ دیا۔ اس نے دل میں کہا: ایمان داری بڑی چیز ہے۔

اس کھیت کا مالک ایک جگہ چھپا ہوا رامو کو دیکھ رہا تھا۔جب رامو واپس لوٹا تو کھیت کا مالک چپکے چپکے اس کے پیچھے چلا۔ رامو اپنے گھر چلا گیا تو کھیت والے نے آس پاس کے لوگوں سے اس کے بارے میں پوچھ تاچھ کی تو پتا چلا کہ رامو محنتی اور ایمان دارآدمی ہے۔کھیت کے مالک کو اس پر رحم آگیا، وہ شرمندہ ہوا کہ ایک ہی گاؤں میں رہتے ہوئے بھی ہم ایک دوسرے کا حال نہیں جانتے۔

اگلے دن صبح سویرے کھیت کا مالک چارے کا گٹّھا سر پر رکھے رامو کے گھر پر پہنچا۔ رامو اسے دیکھ کر بہت حیران ہوا۔کھیت والے نے کہا:
” حیرانی کی کوئی بات نہیں۔ رات کو میں کھیت پر تھا اور تمھیں دیکھ رہا تھا۔ تمھاری ایمان داری سے بڑی خوشی ہوئی۔یہ لو، چارہ گائے کو کھلاؤ تاکہ تمھارے بچّوں کو بھی دودھ ملتا رہے۔ “
(لوک کہانی)
مشق
پڑھیے اور سمجھیے
پڑھیے اور سمجھیے
گنگا ایک دریا کا نام
ایمان دار اچھی نیت والا
قحط سوکھا
فکر سوچ، پریشانی
سہارا مدد

سو چیے اور بتائیے
1. رامو کیسا آدمی تھا؟
.....................................................
2. رامو نے چوری کا ارادہ کیوں کیا؟
.....................................................
3. کھیت میں رامو نے کیا آواز سنی؟
.....................................................
4. کھیت کا مالک کیوں شرمندہ ہوا؟
.....................................................
5. کھیت کے مالک نے رامو کے ساتھ جو برتاؤ کیا، وہ آپ کو کیسا لگا۔ اگر آپ کھیت کے مالک کی جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟
........................................................................
اس سبق میں لفظ ’ایمان دار‘ آیا ہے۔ نیچے لکھے لفظوں کے آخر میں لفظ ’دار‘ جوڑ کر الفاظ بنائیے
مال + ............... = .............................
زمین + ............... = .............................
رشتے + ............... = .............................
دم + ............... = .............................
نوک + ............... = .............................
خالی جگہوں میں مناسب لفظ چن کر لکھیے
1. رامو کے پاس ایک ......................... تھی۔
2. حیرانی کی کوئی ............................. نہیں ۔
3. تمھاری ................. سے مجھے بڑی خوشی ہوئی۔
4. ............. کے دنوں ہر چیز کا ملنا مشکل ہوتا ہے۔
5. تمھارےبچوں کو ...................... ملتا رہے۔
گائے چارہ کھاتی ہے۔ سو چیے اورلکھیے کہ اور کون کون سے جانور چارا کھاتے ہیں؟
..................... .....................
..................... .....................
پڑھیے، سمجھیے اور غور کیجیے
1. رامو گنگا کے کنارے ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ وہ بہت غریب تھا۔
2. اس کے دل میں خیال آیاکہ ایمان داری بڑی چیز ہے۔
3. کھیت کے مالک نے رامو سے کہا” رات کو میں کھیت پر تھا اور تمھیں دیکھ رہا تھا۔“
پہلے جملے میں لفظ ‘وہ’ رامو کی جگہ بولا گیا ہے۔
دوسرے جملے میں لفظ ‘اس’ رامو کی جگہ ہے۔
تیسرے جملے میں ‘میں’ کھیت کے مالک کے لیے اور ‘تمھیں’ رامو کے لیے ہے۔
نیچے دیے گئے جملوں میں ’ضمیر‘ تلاش کرکے لکھیے
1. کھیت کے مالک کو اس پر رحم آگیا۔ وہ شرمندہ ہوا۔
2. ایک گاؤں میں رہتے ہوئے بھی ہم ایک دوسرے کا حال نہیں جانتے۔
3. استاد نے کہا : مجھے رامو کی ایمان داری سے خوشی ہوئی۔
4. بچّوں نے کہا : ہمیں بھی ہرحال میں ایمان داری کی زندگی گزارنی چاہیے۔
5. والدہ نے بچے سے کہا: تجھے کیوں فکر ہے میری۔
یہ وہ لفظ ہیں جو اسم کی جگہ استعمال ہوئے۔ ایسے لفظوں کو ’ضمیر‘ کہتے ہیں۔
ان جانوروں اور پرندں کے سامنے ان کے رہنے کی جگہوں کے نام لکھیے

1. .................... میں رہتی ہے۔

2. .................... میں رہتا ہے۔

3. .................... میں رہتاہے۔

4. .................... میں رہتا ہے۔

5. .................... میں رہتی ہے۔
لطیفہ/ چٹکلہ
پہیلی
رنگ بھریے

