نیم کا پیڑ
ایک دن راشد کلہاڑی لے کر جنگل گیا۔ نیم کے پیڑ کو کاٹنے لگا۔بھاری کلہاڑی چلاتے ہوئے جب وہ تھک گیا تو اسی نیم کے پیڑکے سائے تلے آرام سے بیٹھ گیا۔ جیسے ہی اُس کی آنکھ لگی، تو اس نے کسی کی کراہنے کی آواز سنی۔ اِدھر اُدھر دیکھا لیکن کوئی نظر نہیں آیا۔سوچنے لگا کون ہو سکتا ہے جوکراہ رہا ہے؟

یہ سوچتے ہوئے پھر کلہاڑی ہاتھ میں لی اور بڑبڑانے لگا ”ہوگا کوئی مجھے کیا؟“ جیسے ہی اس نے کلہاڑی کو درخت پر مارا۔ تو اس کے کانوں میں ایک آواز آئی۔ ٹھہرو!تم نہیں جانتے ہو؟ میں تمھارے کتنے کا م آسکتا ہوں۔میری پتّیاں سورج کی تیزدُھوپ کو زمین تک پہنچنے سے روک لیتی ہیں اور میری چھاؤں کی ٹھنڈی ہواؤں میں تھکے ہارے لوگ آرام کرتے ہیں جیسا کہ تم خودا بھی اپنی تھکان دُور کر رہے تھے۔میری پتّیاں اتنی آکسیجن بناتی ہیں کہ اگر آپ اتنی آکسیجن بازار سے خرید وگے تو کئی ہزار روپیوں میں بھی نہیں ملے گی۔

اے نادان! اپنے گھر کے کپڑوں کے صندوق کھول کر دیکھو اس میں تمھاری امی نے میری سوکھی پتیاں رکھی ہوئی ہوں گی کیونکہ میری سوکھی پتیوں سے کپڑوں میں کیڑا نہیں لگتا۔ میری سوکھی پتیاں کیڑوں سے اناج کی بھی حفاظت کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ میری سوکھی پتیوں کا دھواں کرنے سے مکّھی،مچّھر اور بہت سے کیڑوں سے بھی نجات ملتی ہے۔

میری چھال بھی بہت کام کی ہے۔اِس کو پیس کر دوائی بنائی جاتی ہے۔ جس کے کھانے سے خون صاف ہوتا ہے اور پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں۔ میری پتیوں کو اُبالنے کے بعد اس سے اگر نہایا جائے تو خارش، پھوڑے، پھنسی، کھجلی وغیرہ جیسے جِلدی امراض سےبھی نجات مل سکتی ہے۔میرے پھل کو’نِبولی‘ یا ‘نمکولی’ کہتے ہیں۔اس کی گٹھلی سے تیل نکالا جاتا ہے۔ اس تیل سے بنا ہوا صابن بھی پھوڑے اور پھنسیوں کے لیے بہت مفید ہے۔
کیا تم نے کبھی میری نرم نرم ٹہنی کی مسواک سے دانت صاف کیے ہیں؟ یہ کڑوی تو ضرور ہوتی ہے۔ لیکن دانتوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔اس سے نہ صرف دانت مضبوط ہوتے ہیں بلکہ ان میں کیڑے بھی نہیں لگتے اور دانتوں کا پیلاپن بھی دُور ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ اگر تمھیں کبھی بخار آجائے تو میری جڑیں اُبال کر پی لینا۔ بخار دوٗر ہو جائے گا۔
دیکھا نادان!میں تمھارے کتنے کام آسکتا ہوں۔توتم مجھے کاٹ کر کیا کرو گے؟

راشد حیرت بھری نگاہوں سے نیم کے پیڑ کو دیکھتا رہا۔وہ گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ پیڑ آدمی کی آواز میں بول نہیں سکتا۔پھر یہ کیا ماجر اہے؟ وہ یہی سوچتے ہوئے گھر جانے کے لیے مڑا تو دیکھا کہ ایک بُزرگ اس کے پیچھے کھڑے تھے اور کہنے لگے: بیٹا!یہ پیڑ بے زبان ہوتے ہیں۔ کچھ بول نہیں سکتے ہیں۔ لیکن پیڑ کی طرف سے میں نے تمھیں نیم کے فائدے بتا دیے ہیں۔ ہر پیڑ میں کچھ نہ کچھ خوبیاں ہوتی ہیں۔
یہ سننے کے بعد راشد نے عہد کیا کہ آج کے بعد کبھی کسی پیڑ کو کاٹنے کی کوشش نہیں کروں گااور نہ کسی کو کاٹنے دوں گا۔
مشق
پڑھیے اور سمجھیے
پڑھیے اور سمجھیے

سوچیے اور بتائیے
خالی جگہوں میں صحیح لفظ چن کر لکھیے
دیے گئے الفاظ کو بلند آواز میں پڑھیے او ر خوش خط لکھیے
دیےگئے جدول سے مندرجہ ذیل الفاظ تلاش کیجیے
کراہ زردی نہر ٹہنی بخار ادا جنگل
ج ن گ ل
ٹ ہ ن ی
ک ر ا ہ
ز ر د ی
ب خ ا ر


