Skip to content


پھول کماری


Screenshot 2024-07-12 162220

ایک تھا راجا۔ ایک تھی رانی ۔ ان کی بیٹی تھی پھول کُماری۔جب  پھول کماری خوش ہوتی،  زور زور سے ہنسنے لگتی۔ 

ایک دن پھول کماری راجااور رانی کے ساتھ باغیچے میں بیٹھی تھی۔ تبھی وہ زور زور سے ہنسنے لگی۔ یہ دیکھ کر راجا نے کہا کہ”تم ایسے زور زور سے کیوں ہنستی ہو؟“

یہ سُن کر پھول کماری اُداس ہو گئی۔ اب وہ نہ تو ہنستی تھی، نہ کھیلتی تھی اور نہ ناچتی  گاتی تھی۔ وہ اداس رہنے لگی۔ 

اپنی بیٹی کو اُداس دیکھ کر رانی بہت اداس ہو گئی۔ بیٹی اور رانی کو اداس دیکھ کر راجا بھی اداس رہنے لگا۔ 

Screenshot 2024-07-12 162229

ایک دن راجا بہت اداس بیٹھا تھا ۔ اس کے پاس ایک آدمی آیا اور بولا،” مہاراج! سب پھول مرجھانے لگے ہیں۔ وہ اداس ہو گئے ہیں۔“

ایک اور آدمی آیا ۔وہ بولا،” مہاراج !سب چڑیاں اداس ہو گئی ہیں۔“

اس کے بعد ایک آدمی اور آیا ۔اس نے راجا سے کہا، ”مہاراج  - مہاراج !   سب بچے اداس ہو گئے ہیں۔“

یہ سن کر راجا سوچنے لگا”پھول کماری، پھول، چڑیاں اور بچے سبھی اداس ہو گئے ہیں۔“

راجااور رانی نے اپنی بیٹی سے کہا،” ہنسو بیٹی، ہنسو!“ لیکن پھول کماری نہیں ہنسی۔ وہ اب بھی اداس تھی۔  

Screenshot 2024-07-12 162240

راجا نے وزیر سے کہا ،”ہماری بیٹی بہت اداس رہتی ہے۔ جاؤ، سب سے کہہ دو ،جو پھول کماری کو ہنسا دے گا، ہم اسے بہت انعام دیں گے۔“

یہ سن کر بہت سے لوگ آئے ۔بھالو والا آیا۔اس نے بھالو کا ناچ دکھایا۔ بندر والا آیا۔ اس نے بندر کو نچایا۔ ناچ دیکھ کر سب لوگ ہنسے، پھول کماری نہیں ہنسی۔ 

تبھی ایک اور تماشے والا آیا ۔وہ ایک بکرے پر بیٹھا تھا ۔تماشے والا ناچنے لگا۔ اسے دیکھ کر بکرا ناچنے لگا۔  یہ دیکھ کر سب ہنسے،لیکن پھول کماری نہیں ہنسی۔ 

Screenshot 2024-07-12 162249

ناچتے ناچتے  تماشے والے کی ٹوپی گر گئی۔ اس نے ٹوپی اٹھائی تو داڑھی

 گر گئی۔ یہ دیکھ کر سب لوگ ہنس پڑے لیکن پھول کماری پھر بھی نہیں ہنسی۔ 

جب تماشے والے نے اپنی داڑھی اٹھائی، تو اس کا بڑا پیٹ گر پڑا ۔یہ دیکھتے ہی پھول کماری زور سے ہنس پڑی۔ 

پھول کماری کے ہنستے ہی پھول، چڑیاں اور بچّے بھی چہک اٹھے۔ راجانے تماشے والے کو بہت انعام دیا۔ 

(صرف پڑھنے کے لیے)