Skip to content


سب کا پیارا


Screenshot 2024-07-12 163759

آنسوؤں سے منہ دھوتے آئے ایک دن لالو روتے آئے 

کیوں روتے ہو کس نے مارا ابّا نے آکر چُمکارا

”آئے مار کہاں سے کھاکر“ بھائی جان نے پوچھا آکر

لَٹھیا کُھٹ کُھٹ کرتی آئیں دادی گِرتی پڑتی آئیں

پوچھا ”بیٹا کس نے مارا لالو کو جو روتے دیکھا

میرا بنَّا، میرا راجا“ آجا میری گود میں آجا

روٹی اور مٹھائی لائیں امّاں آئیں ، آپا آئیں

پیار کیا ، چھاتی سے لگایا لالو کو گودی میں اُٹھایا

روٹی اور مٹھائی کھاؤ“ آپا بولیں ”چُپ ہوجاؤ

گیت سُنا کر دِل بہلایا پھر بھابی نے اُن کو بلایا

اچّھے اچّھے کھانے کھلائے نہلا کر کپڑے پہنائے

لالو ہیں اِن سب کے پیارے

ہیں وہ سب کی آنکھ کے تارے

—     برکت علی فراق

(صرف پڑھنے کے لیے)
Screenshot 2024-07-12 163823