لومڑی اور کوّا
ایک لومڑی دو دن سے بھوکی تھی۔ اسے کہیں بھی کھانے کو کچھ نہ ملا تھا۔ وہ شہر کے قریب آگئی۔

اچانک کیا دیکھتی ہے کہ ایک درخت پر ایک کوّا بیٹھا ہے۔ اس کوّے کے منہ میں ایک ثابت روٹی ہے۔ لومڑی کے منہ میں پانی بھر آیا۔ اس نے ایک ترکیب سوچی ۔

وہ کوّے کی تعریف کرنے لگی۔
بھائی کوّے! تم کتنے خوبصورت ہو۔ تمھارے پر کتنے خوبصورت ہیں۔ تم چاہے راوی میں نہاؤ یا جہلم میں، تمھارا رنگ ایک جیسا ہی رہتا ہے۔ سچ مچ تم پرندوں کے راجا ہو۔

تمھارا گانا بہت میٹھا ہے۔ بانسری سے بھی میٹھا۔ دل تمھارا گانا سننے کو ترس رہا ہے۔ ذرا گانا گاکر سناؤ۔

کوّے نے اپنی اتنی تعریف سنی۔ وہ پھول کر کُپاّ ہو گیا۔ اس نے گانا گانے کے لیے چونچ کھولی۔

چونچ کھلتے ہی روٹی نیچے آگری۔

لو مڑی بڑے چاؤ سے اسے کھانے لگی۔ کوّ ا منہ دیکھتا رہ گیا۔


(صرف پڑھنے کے لیے)
