باب 6
تصور کیجیے
تخیل ایک نہایت طاقت ور صلاحیت ہے۔ اگر آپ باریک بینی کے ساتھ تصور کر سکتے ہیں تو یہ گویا ایک سپر پاور کی موجودگی جیسا ہے۔ آپ نئے خیالات تخلیق کر سکتے ہیں، نئی کہانیاں سنا سکتے ہیں، حتی کہ مسائل کا حل بھی ڈھونڈ سکتے ہیں! کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ آئیے ارجن سے جڑی ایک دل چسپ کہانی سنیں۔
تقریبا پانچ سو سال پہلے، چتر پور نامی گاؤں میں مہا بھارت کی جنگ پر مبنی ایک شاندار ڈراما پیش کیا جا رہا تھا۔ پورے گاؤں کے لوگ اسے دیکھنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ ڈراما شروع ہوا۔۔۔ جیسے ہی کہانی کا سب سے دل چسپ حصہ آیا جس میں ارجن کو اسٹیج پر داخل ہونا تھا تو ارجن کا کردار ادا کرنے والا ادا کار اسٹیج کے پیچھے لڑکھڑا گیا۔ اس کا چمکتا ہو الباس ایک نوکیلی چیز سے پھٹ گیا۔ رنگ بر نگا کپڑا برباد ہو گیا۔ سب لوگ پریشان اور فکرمند ہو گئے۔ بغیر لباس کے بھلا ارجن اسٹیج پر کیسے آتا؟
جیسے ہی یہ واقعہ پیش آیا ایک نوجوان لڑکا جس کا نام بھی ارجن تھا ( جی ہاں، کیا زبر دست اتفاق ہے ! ) وہ اسٹیج کے پیچھے مدد کر رہا تھا فوراً ایک خیال کے ساتھ سامنے آیا۔ اُس نے کہا۔ ”ہم قدرتی حسن سے گھرے ہوئے ہیں!“ پھر اُس نے آنکھیں بند کیں اور بولا ” میرا خیال ہے کہ ہم پتے اور درختوں کی چھال سے نیا لباس بنا سکتے ہیں، ٹھیک اسی طرح جیسیارشی منیوں نے جنگلوں میں پہنا تھا۔ میں اسے اپنی آنکھوں کے سامنے صاف صاف دیکھ سکتا ہوں۔“
اس سے پہلے کہ کوئی کچھ کہہ پاتا وہ دوڑ کر گیا اور بڑے بڑے پتے، درختوں کی چھال کی پٹیاں اور بیلیں جمع کر لایا۔ اس نے پتوں کو آپس میں باندھا اور بیلوں سے ایک کپڑے کی پٹی اور بازو بند بنا لی۔ پھر ہلدی کا پاؤڈر اور راکھ ملا کر جنگی رنگ تیار کیا اور یوں نیا لباس مکمل ہوگا !
ادا کار اپنے بنائے ہوئے لباس میں اسٹیج پر آیا۔ لوگ حیرت اور خوشی سے تالیاں بجانے لگے۔ انھیں لگا کہ قدرت کے ذریعے ارجن کی طاقت دکھانے کا خیال بہت شاندار تھا۔ ڈراما کامیابی سے مکمل ہوا اور پھٹے ہوئے لباس کا قصہ سب بھول گئے۔ نوجوان ارجن اپنے بلند تخیل اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کی بدولت سب کا ہیرو بن گیا۔
منظر 2
اجتماعی کام میں انفرادی ہنرمندیاں
آپ نے دیکھا کہ کیسے ارجن ہیرو بن گیا۔ ہم اس کہانی سے دو باتیں سکھ سکتے ہیں۔ بہتر ین جیل کی صلاحیت مدد گار ثابت ہوتی ہے اور ٹیم میں منفرد صلاحیتوں کا ہونا بڑا فرق ڈال سکتا ہے۔ اگر چہ ٹیم میں سب ایک ہی مقصد کے لیے مل کر کام کر رہے ہوتے ہیں لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ ہر ممبر کے پاس کون سے ہنر ہیں اور ان کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ٹیم میں ہر فرد ایک ہی کام نہیں کر سکتا۔ ہر ایک کو اپنی صلاحیت کے مطابق اپنا کر دار ادا کرنا چاہیے۔
سرگرمی 6.1
پنچ تنتر کی مشق
اپنے آپ کو پانچ پانچ کے گروپوں میں تقسیم کریں۔ اپنے گروپ میں ہر فرد کو ایک جانور سمجھیں۔ ہر ممبر جانور ہونے کی حیثیت سے اپنی خاص خصوصیات کی ایک فہرست تیار کرے۔
اب ایک ٹیم کی حیثیت سے تصور کریں کہ آپ جنگل میں موجود ہیں اور شیر کے غصے سے بچنے کے لیے کوئی منصوبہ بنا رہے ہیں سوچیں کہ خرگوش نے جو ترکیب اپنائی تھی اس کے علاوہ کوئی نیا طریقہ کیا ہو سکتا ہے۔ تبادلۂ خیال کریں کہ ہر جانور کی صلاحیتوں کو کس طرح استعمال کر کے شیر سے بچا جا سکتا ہے۔
آپ کے گروپ کا نام
جنگل میں شیر کے مسئلے کا نیا حل
ٹیم کے ہر رکن کا کردار
سرگرمی 6.2
اشیا کی تدبیریں: گروپ
آئیے ایک تھیٹر کا کھیل کھیلتے ہیں تاکہ سمجھ سکیں کہ آپ کس طرح ٹیم میں رہتے ہوئے انفرادی طور پر کام کر سکتے ہیں۔ یاد ہے آپ نے گزشتہ سال اشیا کی تدبیریں“ کی مشق کی تھی؟ آپ نے اپنے آس پاس موجود چیزوں کو مختلف معنوں میں استعمال کیا تھا جیسے اپنے پنسل باکس کو خزانے کا صندوق یا لیپ ٹاپ تصور کیا تھا۔ آپ اس تدبیری مشق کو ایک مرتبہ کھیل سکتے ہیں تا کہ آپ کو پچھلی سرگرمی یاد آجائے۔ یہ اُن بچوں کے لیے بھی مدد گار ثابت ہو گا جنھوں نے پچھلی بار ہ کھیل نہیں کھیلا تھا۔
تھئیٹر کھیل - یاد کرنا (گریڈ (3)
استاد ایک ایک سامان کا انتخاب کرے گا۔ ہر طالب علم غور کرے گا کہ اس سامان کو اس کے اصل مقصد کے علاوہ کسی اور چیز کے طور پر کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ طلبا باری باری اس سامان کو اٹھائیں گے اور کوئی ایسا عمل کریں گے جس میں وہ سامان کسی اور سامان کی نمائندگی کرے گا۔ کسی بھی فکر یا خیال کو دہرایا نہیں جائے گا۔
اب ہم اس مشق کو ٹیم کی شکل میں آگے بڑھائیں گے۔ استاد پہلے کلاس میں موجود کسی سامان کا انتخاب کریں گے۔ فرض کریں کہ انھوں نے ایک پانی کی بوتل منتخب کی۔ اسے کئی طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے، مثلاً:
استاد کسی ایک بچے کو بلا سوچے سمجھے وہ سامان دے دیں گے۔ بچے کے عمل کو دیکھتے ہوئے استاد کسی دوسرے بچے کو بھی منظر میں شامل کریں گے۔ اب دونوں بچوں کو پانی کی بوتل پر مبنی خیالی سامان کے بارے میں آپس میں بات چیت کرنی ہوگی۔ جب بات چیت کچھ آگے بڑھ جائے تو استاد ایک اور بچے کو منظر میں شامل کریں گے۔ اب تینوں بچوں کو مل کر پانی کی بوتل پر مبنی خیالی چیز کے ارد گرد فوری طور پر ایک منظر تخلیق کرنا ہو گا۔
استاد کے لیے نوٹ
بچوں کو منظر میں شامل ہونے کے لیے صرف بھیجیں۔ بچے کو جو کردار ادا کرنا ہے اور جو بات کرنی ہے اس کا فیصلہ بچہ خود کرے گا۔ استاد کو بچوں کو کوئی مخصوص کردار نہیں دینا چاہیے۔ بچے منظر کی صورت حال کے مطابق خود بخود فیصلہ کریں گے۔
استاد کے لیے نوٹ
یقینی بنائیں کہ ہر طالب علم کو دونوں کردار ادا کرنے کا موقع ملے۔ پہلا بچہ دیے گئے سامان کی تشریح کرے گا اور دوسرا بچہ منظر میں اضافہ کرے گا۔ یہ دونوں عمل مختلف ہنر مندیوں کا تقاضا کرتے ہیں اور بچوں میں ان ہنر مندیوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔

- کس سامان کے لیے آپ سب سے زیادہ فی البدیہہ خیالات سوچ سکے؟
- آپ کو سب سے دل چسپ منظر کون سا لگا جب وہ تیار کیا گیا ؟
- اپنے گھر میں موجود پانچ چیزوں کے تین تین فی البدیہہ استعمال بتائیں۔
- کون سا منظر تیار کرنا سب سے مشکل رہا؟ کیوں؟
اب جب کہ آپ جان گئے ہیں کہ تخیل ایک زبر دست طاقت (Superpower) ہے جو ہر وقت آپ کے کام آتی ہے آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ تھیٹر میں کیسے مدد دیتی ہے۔ تھیٹر میں تخیل کا استعمال دو طریقوں سے ہوتا ہے :

- کسی خیال یا کہانی کے بارے میں تخلیقی انداز سے سوچنا اور یه طے کرنا کہ اسے بہتر کیسے بنایا جائے۔
- یه تصور کرنا کہ اسے دیکھنے والوں کے سامنے کیسے پیش کیا جائے تاکہ وہ عمدہ نظر آئے۔
پچھلی سرگرمی جس میں ایک سامان کے گرد کہانی بنائی گئی تھی۔ تخیل کی اُس پہلی قسم کی مثال ہے جس کا ذکر خانے میں کیا گیا ہے۔ یاد ہے ارجن نے اپنے تخیل سے نیا لباس بنا کر سب کی مشکل آسان کر دی تھی؟ یہ تخیل کی دوسری قسم ہے۔ جسے تصور آرائی (Visualisation) کہتے ہیں۔
تصور آرائی (Visualisation) سے مراد وہ ذہنی صلاحیت ہے جس کے ذریعے ہم کسی چیز کو پہلے سے دیکھے بغیر اپنے ذہن میں تصویریں، عکس یا مناظر تخلیق کر سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر آپ یہ سوچیں کہ آپ ایک سپر ہیرو ہیں تو یہ صرف ایک خیال ہے تصور آرائی نہیں۔ لیکن جب آپ اپنے آپ کو آسمان میں اُڑتے ہوئے، سمندر پار کرتے ہوئے، دشمنوں کو شکست دے کر کمزوروں کو دیکھتے ہیں تو یہ تصور آرائی کہلاتی ہے۔ اگر آپ اپنے ذہن میں یہ بھی دیکھ سکیں کہ آپ نے کیا پہنا ہے، آسمان میں اُڑتے وقت آپ کے ارد گرد کیا مناظر ہیں اور آپ دوسروں سے کیسے بات کر رہے ہیں۔ تو آپ کی تصور آرائی بہت شاندار ہے ! اب آئیے ایک دل چسپ سرگرمی کرتے ہیں تا کہ آپ اپنی تصور آرائی کو مزید بہتر بناسکیں۔
سرگرمی 6.3
گروپ میں منظر سازی کرنا
پچھلی سرگرمی میں آپ سب نے کسی ایک چیز کی بنیاد پر مناظر تیار کیے تھے۔ اس سرگرمی میں فرق یہ ہے کہ اب آپ کو خود منصوبہ بندی کرنی ہے، بات چیت کرنی ہے اور طے کرنا ہے کہ آپ کیا پیش کریں گے۔ آپ کو فوری طور پر ایک کہانی بنانی ہے۔ یہ سرگرمی آپ کو تصور آرامی کا و تصور آرائی کا موقع فراہم کرے گی۔ کہانی طے کرنے کے بعد آپ کو اس کے منظر کی تفصیلات ذہن میں بنانی ہوں گی۔ یہ چند نکات آپ کی مدد کریں گے تا کہ آپ بہتر طریقے سے منظر کا تصور کر سکیں۔
منظر کشی میں مدد دینے والے اہم نکات
- شروعات میں اسٹیج پر کیا ہو گا؟ (ایک میز اور کرسی، یا ایک اداکار جو بستے کے ساتھ کھڑا ہے وغیرہ)
- ادا کار (طلبا) کب اور کہاں سے داخل ہوں گے؟
- کہاں اور کس انداز میں وہ ایک دوسرے سے بات کریں گے؟
- منظر کا اختتام کیسے ہو گا او ر ادا کار کہاں سے اسٹیج سے باہر جائیں گے؟
اگر آپ کا گروپ ان تمام باتوں پر آپس میں گفتگو کر کے ان کا تصور کر سکتا ہے تو آپ پیش کش کے لیے تیار ہیں۔
بنیادی
ہر ٹیم کو استاد کی طرف سے موضوع کے طور پر ایک سامان دیا جاتا ہے۔ اسی سامان کی بنیاد پر کہانی تیار اور پیش کی جاتی ہے۔
اعلیٰ
سامان کی جگہ ایک وسیع موضوع دیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ تخلیقی صلاحیت اور سامان تخیل کو کہانی بنانے کے زیادہ مواقع فراہم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر خوف، غصہ، فطرت، اسکول، سفر وغیرہ۔
استاد کے لیے نوٹ
کلاس کو چار یا پانچ طلبا پرمشتمل ٹیموں میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہر ٹیم کو ایک سامان یا موضوع دیا جائے گا جس کی بنیاد پر انھیں ایک کہانی بنانی ہو گی۔ ہر ٹیم کو منصوبہ بندی اور بات چیت کے لیے 5 منٹ دیے جائیں گے۔ جب ایک ٹیم اپنی کہانی پیش کرے گی تو اس وقت باقی تمام طلبا کو اسے غور سے دیکھنا ہو گا اور نوٹس لینے ہوں گے۔ کہانی مکمل ہونے کے بعد تمام ٹیموں سے مختصر رائے لی جائے گی اور پھر اگلی ٹیم کی باری آئے گی۔
پنچ تنتر کی مشق
پہنچ تنتر کی کہانی کا کوئی ایک حصہ ٹیم منتخب کر سکتی ہے جسے وہ مختلف انداز سے ترتیب دے کر پیش کرے (یعنی اصل کہانی سے ہٹ کر کچھ نیا انداز اپنائے۔) منظر میں جانوروں کا انتخاب اور ان کے کردار ٹیم کی تخلیقی صلاحیت اور تخیل کے مطابق بدلے جاسکتے ہیں۔
| تاثرات پر گفتگو کرنے کے لیے نکات | سمجھ نہیں آیا | مزید بہتر ہو سکتا ہے | بہت اچھا |
|---|---|---|---|
| دیے گئے سامان یا موضوع پر کہانی کا ارتکاز | |||
| ادا کاروں کا اعتماد کے ساتھ اسٹیج پر آنا اور جانا | |||
| پیش کی جانے والی کہانی کے بارے میں وضاحت | |||
| سامان کا تخلیقی استعمال | |||
| تمام ٹیم ممبران کی بھر پور شرکت |
- جب کہانی کا مرکزی خیال کسی چیز یا موضوع پر مبنی ہوتا ہے، تو کیا اس سے کہانی پر کوئی خاص اثر پڑتا ہے؟
- سبھی کہانیوں کی ابتدا اور اختتام میں کوئی مماثلت نظر آئی؟
- کہانیوں میں بیک وقت موضوع اور سامان دونوں شامل کیے جاسکتے ہیں؟ فرصت کے وقت آزما کر دیکھیں۔
| جائزہ باب 5 : تصور کیجیے | ||||
|---|---|---|---|---|
|
لیاقتیں سی- 1. 2: روزمرہ کے واقعات کی بنیاد پر مختلف کرداروں، ان کی ذمہ داریوں، حالات، جگہوں اور بنیادی اشیا کو یک جاکر کے کلاس روم میں ڈراما تخلیق کرنا اور پیش کرنا۔ سی 2.2: ڈلاس روم میں بنائے گئے ڈراموں اور فن کے دیگر اظہار میں موضوعات اور اجزا کا موازنہ کرنا اور فرق واضح کرنا۔ |
||||
| سی جی | لیاقتیں | آموزشی ما حصل | استاد | طالب علم |
| 2 | 2.1 | گروپ میں اپنے ہنر کو ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھنا۔ | ||
| 2.1, 2.2 | دوسروں کی اداکاری کے دوران تفصیلات کا مشاہدہ کرنا اور اس میں اپنے کردار کا تصور قائم کرنا۔ | |||
| 2.1, 2.2 | سامان کے حوالے سے کردار اور جگہ کے باہمی تعلق کو سمجھنا۔ | |||
| 2.1 | منظر کی تشکیل میں صرف اپنے خیالات پر نہیں بلکہ سب کے ساتھ مل کر کام کرنا۔ | |||
| 2.2 | دیے گئے معیارات کے مطابق دوسروں کی کار کردگی پر رائے قائم کرنا۔ | |||
| 2.2 | کلاس میں مجموعی طور پر شرکت | |||
طالب علم کے اوصاف کے بارے میں استاد کے تاثرات
طالب علم کی کمیوں کے بارے میں استاد کے تاثرات
کوئی اور مشاہدہ