Skip to content
Qr







باب 7 آیئے تخلیق کیجیے


Screenshot 2025-10-21 at 10-12-23 dubu107.pdf

کیا آپ نے کبھی چھڑی کے سہارے کسی بوڑھے شخص کی طرح چلنے کی کوشش کی ہے؟ یا پھر کبھی اپنی ماں کی طرح ایک ہینڈ بیگ تھامے کھڑے ہونے یا بیٹھنے کی کوشش کی ہے۔ آپ نے کسی جانور کی نقل بھی کی ہو گی جیسے اُس کا چلنا، کو دنا یا سونگھنا۔ کیا کسی اور کی نقل کرنا مزے دار نہیں لگتا؟ کیا آپ کو معلوم ہے کہ تھیٹر میں یہ بہت ہی اہم ہنر ہے! اسی کو نقل کرنا کہتے ہیں۔

تھیٹر میں نقالی (Imitation) ایک بنیادی تکنیک ہے جس میں ادا کار دوسروں کے انداز، آواز یا چہرے کے تاثرات کو غور سے دیکھ کر اُن کی نقل کرتے ہیں تا کہ قابل یقین کردار تخلیق کیے جاسکیں۔ اس میں اصل زندگی کے انسانوں، جانوروں حتی کہ چیزوں کا گہرا مشاہدہ کرنا ہوتا ہے، تا کہ ان کی خاص باتوں کو اسٹیج پر دکھایا جا سکے۔ آئیے ایک آسان سا کھیل کھیلتے ہیں تا کہ جان سکیں کہ کسی کی نقل اتارنا کیسا لگتا ہے۔ سنجیدگی کے ساتھ !

Screenshot 2025-10-21 at 10-12-29 dubu107.pdf

سرگرمی 7.1

آئینے کی مشق

fig_image_15_19641fig_image_13_25037 اس کھیل کا سب سے دل چسپ حصہ یہ ہے کہ اس میں اصل آئینے نہیں ہوتے! بلکہ آپ خود آئینے بنیں گے اور ویسا ہی برتاؤ کریں گے! آپ سب کو جوڑوں میں آمنے سامنے کھڑا ہونا ہو گا۔ ایک بچہ آئینے کا کردار ادا کرے گا اور دوسرا انسان کا۔ جو حرکت انسان کرے گا، آئینہ اُس کی نقل کرے گا۔ کچھ دیر بعد دونوں اپنے کردار آپس میں تبدیل کر لیں گے۔

بنیادی

ہدایات کے مطابق ایک جگہ سیدھے کھڑے ہو جائیں۔ انسان کا کردار ادا کرنے والا بچہ اپنے ہاتھ اور پاؤں کو حرکت دے سکتا ہے اور بیٹھنے یا کھڑے ہونے کا عمل کر سکتا ہے۔ کچھ دیر بعد کردار تبدیل کر لیں۔ آئینہ مسلسل انسان کی نقل اتارتا ہے۔

استاد کے لیے نوٹ

نقالی بچوں کی فطرت میں شامل ہوتی ہے۔ تھیٹر ایک منظم طریقہ فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے بچے مشاہدہ اور نقل کر کے تخلیقی انداز میں اظہار کرنا سیکھتے ہیں۔ ان ان صلاحیتوں کو نکھار کر ہم بچوں میں ہمدردی اور اعتماد پیدا کرنے میں مدد کریں گے۔


Screenshot 2025-10-21 at 10-12-41 dubu107.pdf
یاد رکھیں!
آپ ایک دوسرے کو چھو نہیں سکتے۔ تمام عمل ایک بازو کے فاصلے پر رہ کر انجام دینے ہوں گے۔

Screenshot 2025-10-21 at 10-12-49 dubu107.pdf/> اگر آپ غور کریں تو آپ میں سے کچھ (جو آئینہ کا کردار ادا کر رہے تھے ) شاید غلطی کر بیٹھے ہوں کہ جب انسان نے اپنا دایاں ہاتھ اٹھایا تو آپ نے بھی دایاں ہاتھ ہی اٹھا لیا۔ حالانکہ آپ نقل تو درست کر رہے تھے لیکن آئینہ ہمیشہ الٹا عکس دکھاتا ہے۔ جو آپ کے بائیں طرف ہوتا ہے وہ آئینے کی دائیں طرف دکھائی دیتا ہے۔ اس تصور کو توازن یا ہم آہنگی (Symmetry) کہا جاتا ہے۔ توازن تب پیدا ہوتا ہے جب کسی چیز کے دونوں طرف درمیان میں ایک لکیر کھینچنے لکیر کھینچنے پر وہ ایک جیسے نظر آئیں۔
Screenshot 2025-10-21 at 10-13-06 dubu107.pdf

اعلیٰ

Screenshot 2025-10-21 at 10-13-01 dubu107.pdf


ہدایات کے مطابق ایک جگہ سیدھے کھڑے ہو جائیں۔ اب انسان مختلف چہرے کے تاثرات اور جسمانی حرکات استعمال کر سکتا ہے۔اگر ممکن ہو تو کچھ سادہ چیزوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر دانتوں کی صفائی کرنا، اسکول بیگ تیار کرنا، وغیرہ کاموں کی نقل کی جا سکتی ہے۔

Screenshot 2025-10-21 at 10-13-19 dubu107.pdf

پنچ تنتر کی مشق

یاد ہے جب خرگوش شیر کو کنویں کے پاس لے جاتا ہے اور شیر کو یقین دلاتا ہے کہ پانی میں جو عکس نظر آرہا ہے وہ کسی اور شیر کا ہے ؟ اب ہم اسی بات کو آئینے والی مشق سے جوڑ کر ایک نیا منظر ادا کریں گے۔ آپ شیر کے ساتھ خرگوش کو بھی منظر میں شامل کر سکتے ہیں۔ چوں کہ پوری گفتگو عکس کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے بینظر ایسے پیش کریں کہ آئینہ آپ کے عکس کا کردار ادا کرے۔

Screenshot 2025-10-21 at 10-13-12 dubu107.pdf
  • آئینہ بننے کا تجربہ کیسا رہا؟
  • کیا اس سرگرمی کے دوران اپنی ہنسی پر قابو پانا آسان تھا؟
  • تمھیں کون سا کر دار زیادہ مزے دار لگا ؟
  • آئینہ بننے کا یا انسان کا ؟
آئینہ والے کھیل کی تمام صورتیں کھیلنے کے بعد آپ کو یقیناً یہ اندازہ ہو گیا ہو گا کہ اگر نقالی درست کرنی ہو تو اچھا مشاہدہ کتنا ضروری ہوتا ہے۔ تھیٹر میں نقالی محض نقل اتارنا نہیں ہوتی بلکہ ) یہ مشاہدے کو ایک تخلیقی انداز کے ساتھ ادا کاری میں ڈھالنے کا فن ہے۔ Screenshot 2025-10-21 at 10-13-26 dubu107.pdf

سرگرمی 7.2

کردار کی ادائیگی نئے چیلنجز

تھیٹر میں کردار کی ادائیگی ایک ایسا عمل ہے جس میں کسی خاص کردار کو اپنایا جاتا ہے، صورت حال کو سمجھا جاتا ہے، ممکنات کا تصور کیا جاتا ہے اور پھر اس کردار کو ادا کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ عام طور پر کہانیاں سنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے عمل کے ذریعے سیکھنے یا مسائل حل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

Screenshot 2025-10-21 at 10-13-33 dubu107.pdf

تھئیٹر سرگرمی - یاد دہانی (گریڈ (3)

گزشته سال آپ کو سادہ کردار دیے گئے تھے جیسے کہ پولیس اور چور یا بادشاہ اور وزیر آپ کو ان کرداروں کے درمیان ایک مکالمہ تیار کرنے کو کہا گیا تھا۔ اس کی منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے آپ کو کچھ وقت دیا گیا تھا۔ آپ نے یہ سرگرمی شاید تینالی رام کی کہانیوں کے ساتھ بھی آزمائی ہو۔

چیلنج 1 : تعاملی سرگرمی

اب ہم ان کردار کی ادائیگی شروع کریں گے جس سے آپ پہلے سے واقف ہیں۔ آپ میں سے دو طلبا کردار ادا کرنے کے لیے رضا کارانہ طور پر سامنے آتے ہیں۔ کردار استاد کی طرف سے دیے جاتے ہیں جیسے کہ ڈاکٹر اور مریض۔ دونوں کردار طرف سے دیے جاتے ہیں جیسے کہ ڈاکٹر اور مر ہیں۔ ڈاکٹر اور مریض آپس میں بات چیت شروع کرتے ہیں کہ مریض ڈاکٹر کے پاس کیوں آرہا ہے۔ جب انھوں نے 4 سے 5 جملے میں بات کر لی تو استاد کہتے ہیں دھم جاؤ۔

اب یہ سامعین ( کلاس کے باقی طلبا) پر منحصر ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ دونوں اداکاروں کو جو بھی کہا جائے گا انھیں اسی کے مطابق عمل کرنا ہو گا۔ سامعین سے منتخب کر سکتے ہیں:

  • ایک نیا سامان شامل کریں
  • ایک نیا کردار شامل کریں
  • کہانی کی سمت بدل کر نئی پریشانی شامل کریں
Screenshot 2025-10-21 at 10-13-41 dubu107.pdf

فرض کریں کہ سامعین کہتے ہیں کہ مریض اچانک ڈاکٹر کے کمرے میں ایک بلی دیکھتا ہے۔ اب چاہے پہلے کوئی بھی بات چیت ہو رہی ہو انھیں کمرے میں موجود بلی پر رد عمل دینا ہو گا۔ ان کے پاس تیاری کا وقت نہیں ہے۔ انھیں فوری طور پر رد عمل دینا ہو گا۔ جیسے ہی پینظر تھوڑا آگے بڑھے گا استاد پھر سے تھے لے گا استاد پھر سے تھم جاؤ کا حکم دیں گے۔

اب طلبا کچھ نیا پیش کرتے ہیں۔ ( دھیان دیں کہ ان کے پاس تیاری کا وقت نہیں ہوتا۔ انھیں چوکنا اور تیار رہنا پڑے گا)۔ فرض کریں کہ طلبا کہتے ہیں۔

ایک اور مریض داخل ہوتا ہے جس کا نام پہلے مریض کے جیسا ہی ہے۔ معلوم کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ پہلا مریض دراصل ایک پولیس والا تھا۔ “ اب منظر میں ایک نیا ادا کار شامل کیا جاتا ہے۔ پولیس والا کیوں آتا ہے اور کیا ہوتا ہے یہ ادا کاروں کو فوراً طے کرنا ہوتا ہے۔

یہ سلسلہ اس طرح چلتا رہ سکتا ہے یہاں تک کہ استاد ادا کاروں اور صورت حال کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کریں۔

اگر کلاس کے تمام طلبا نے پینج مکمل کر لیا ہے، تو اگلے چیلنج کے لیے تیار ہو جائیں۔

چینج 2: کردار تبدیل کرنا

کردار ادا کرنے کی سرگرمی معمول کے مطابق شروع ہوتی ہے جس میں دو طلبا استاد کی طرف سے دیے گئے کردار اپناتے ہیں۔ آیئے ہم ڈاکٹر اور مریض کی اس مثال کو لیتے ہیں۔

Screenshot 2025-10-21 at 10-13-54 dubu107.pdf

جب دونوں کے درمیان بات چیت جاری ہو اور استاد محسوس کریں کہ کہ وہ اپنے کردار میں محو ہو گئے ہیں تو ایک اہم لمحے پر استاد ” تبدیل کرو“ کا حکم دیتے ہیں۔ اب جو بچہ ڈاکٹر کا کردار ادا کر رہا تھا وہ مریض بن جائے گا اور جو بچہ مریض کا کردار ادا کر رہا تھا وہ ڈاکٹر بن جائے گا۔ بات چیت جاری رہتی ہے۔ ان کے پاس یہ سوچنے کا وقت نہیں ہوتا کہ کیا کہنا ہے، یہ رد عمل فوری ہونا چاہیے۔

اعلیٰ

چیلنج کا اگلا مرحلہ تین یا چار کرداروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ جب استاد ” تبدیل کرو“ کا حکم دیتا۔ کم دیتا ہے، جیسا کہ دی گئی مثال میں، ڈاکٹر مریض 1 بن جاتا ہے، مریض دو 1 مریض 2 بن جاتا ہے، اور مریض 2 ڈاکٹر بن جاتا ہے۔ جب دوسرا تبدیل کرو“ کہتا ہے، تو وہ تیسرے کردار میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

اس طرح، ہر بچہ تینوں کردار ادا کرتا ہے۔ اس مشکل سطح کو مزید بڑھایا جاسکتا ہے جب منظر میں چار ادا کار شامل ہوں۔

Screenshot 2025-10-21 at 10-14-00 dubu107.pdf

استاد کے لیے نوٹ

طلبا کو دیے جانے والے کردار جانے پہچانے بھی ہو سکتے ہیں اور انوکھے بھی۔ کچھ کردار ان کی روزمرہ کی زندگی سے لیے جاسکتے ہیں (جیسے پہلے دی گئی ڈاکٹر کی مثال) کچھ کردار مکمل طور پر خیالی بھی ہو سکتے ہیں جیسے خلا سے آئی ہوئی ایک اجنبی مخلوق (ایلین) یا شمالی قطب سے اُڑ کر آیا ہوا بولنے والا پرندہ۔ اس طرح بچے اپنی ذاتی زندگی کے تجربات سے سیکھتے ہیں اور فوری طور پر تخیل کو بروئے کار لا کر کردار تخلیق کرتے ہیں جو ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیتا ہے۔

Screenshot 2025-10-21 at 10-14-25 dubu107.pdf

  • کون سا چیلنج زیادہ دل چسپ تھا اور کیوں؟
  • اگر آپ کو کوئی نیا چیلنج شامل کرنا ہو تو آپ کیا شامل کریں گے؟
  • کیا آپ کو کردار ادا کرنے کی مشق چیلنج کے ساتھ پسند ہے یا بغیر چلینج کے؟ کیوں؟

پنچ تنتر کی مشق

دونوں چیلنج پنچ تنتر کی کہانی کے ساتھ بھی آزمائے جا سکتے ہیں۔

چیلنج 1 : تعالی سرگرمی - کہانی کا کوئی بھی حصہ منتخب کریں اور دو کردار طے کریں۔

مثال : ایک ہرن اور بندر شیر کے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تماشائی تجاویز دیتے ہیں، جیسے کہ کوئی نیا کردار یا سامان شامل کیا جائے تا کہ ادا کار اپنی اداکاری جاری رکھ سکیں۔

مثال: اگر شیر کی جگہ مگر مچھ ہوتا تو کیا ہوتا ؟

چینج 2: کردار تبدیل کرنا

اسی مثال کے ساتھ، جب استاد تبدیل“ کا حکم دیتے ہیں تو ہرن دو بندر بن جاتا ہے اور بند رہرن کی طرح بات کرتا ہے۔ منظر میں خرگوش کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے تا کہ وہ مسئلے کا کوئی حل نکالے۔

Screenshot 2025-10-21 at 10-14-16 dubu107.pdf

جائزہ باب 7 : آئیے تخلیق کیجیے
لیاقتیں
سی- 3.1 ڈرامائی آرٹ میں استعمال ہونے والے مواد، اوزار اور طریقوں کے ساتھ کام
سی 3.2: ڈراماتیار کرتے وقت انفرادی او راشترا کی طور پر منصوبہ بندی، عمل در آمد اور پیش کش کے مراحل کی مشق کرنا۔
سی جی لیاقتیں آموزشی ما حصل استاد طالب علم
3 3.1 حرکات و سکنات میں امکانات کو دریافت کرنا۔
3.1 نقل یا عکس پیش کرتے وقت چھوٹی چھوٹی باریکیوں پر توجہ دینا۔
3.1 عکس پیش کرنے میں اشیاء چہرے کے تاثرات اور ہلکی پھلکی حرکات کا استعمال کرنا۔
3.1 ,3.2 بلا جھجھک نئے چیلنجز قبول کرنا۔
3.2 منظر کا مشاہدہ بطور سامع کرنا اور تخلیقی تجاویز پیش کرنا۔
3.2 منظر کو حقیقت کے قریب بنانے کے لیے فوری طور پر اشیا، آواز وغیرہ کا استعمال کرنا۔
کلاس میں مجموعی طور پر شرکت

طالب علم کے اوصاف کے بارے میں استاد کے تاثرات



طالب علم کی کمیوں کے بارے میں استاد کے تاثرات



کوئی اور مشاہدہ