Skip to content
Qr







باب 8 اپنے آس پاس دیکھیے


1

آپ ہمیشہ اپنے آس پاس موجود چیزوں سے بہت سارے خیالات اور ترغیب حاصل کر سکتے ہیں۔ آغاز سب سے پہلے اپنے آس پاس کے لوگوں سے کریں مختلف قسم کے حالات اور کرداروں سے آپ کو کئی دل چسپ کہانیاں تخلیق کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

آگے چل کر آپ جانوروں پر غور کر سکتے ہیں۔ ان کا رویہ اور حرکات کہانیوں اور اداکاری میں استعمال کرنے کے لیے بہت دل چسپ ہوتی ہیں۔ جیسا کہ آپ نے پہلے باب 5 میں کوشش کی تھی۔ کیا ایسا کوئی جانور ہے جس سے آپ کو بہت لگاؤ محسوس ہوتا ہو؟ آپ اس جانور کی کون کارگران سی خصوصیات پسند کرتے ہیں؟ اگر آپ کو اس پر کہانی تخلیق کرنی ہو تو آپ اسے کس طرح بنائیں گے؟

2

اب، آئیے انسانوں اور جانوروں سے آگے دیکھیں۔ ہمارے پاس کیا ہے؟ خوب صورت قدرتی مناظر ! درخت، دریا، پہاڑ، ہوائیں ... کیا آپ کو ان سے خوشی اور سکون کا احساس نہیں ہوتا؟

3

کیا آپ جانتے ہیں؟

پرانے زمانوں میں 2600 سال سے بھی زیادہ عرصہ پہلے جب آڈیٹوریم نہیں بنے تھے۔ ڈرامے کھلے آسمان کے نیچے درختوں اور پہاڑوں کے بیچ پیش کیے جاتے تھے۔ کیا آپ درختوں کے بیچ بیٹھ کر ڈراما دیکھنا پسند کریں گے؟ یا آپ کو آج کے اے سی والے آڈیٹوریم بہتر لگتے ہیں؟

4

ہم سب دریا میں کھیلنے یا سبز گھاس پر چلنے کا لطف اٹھاتے ہیں۔ آئیے اب ایک دل چسپ سرگرمی کرتے ہیں جہاں ہم ان خوب صورت چیزوں کو یہاں کلاس میں ہی تیار کریں گے۔ یہ ہے تھئیٹر کا جادو۔

ہدایات

آپ کو 4 یا 5 طلبا کے گروپوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہر گروپ کو استاد کی طرف سے دیے گئے موضوع کے مطابق ایک کہانی تخلیق کرنی ہوگی۔ یہ موضوعات قدرتی ماحول سے تعلق ہوں گے۔

یہ قدرتی ماحول سے جڑی ہوئی صورت حال ہو سکتی ہیں۔ جیسے طوفان، سرسبز وادی، خشکی، دریا وغیرہ۔ کہانی میں آپ پرندے، مچھلیاں، کیڑے یا جانوروں کو کردار کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔

5

دیے گئے موضوع پر ٹیم ایک سادہ سی کہانی تیار کرے اور اس منظر کو ادا کرے۔

مثال کے طور پر اگر دیا گیا موضوع طوفان ہے تو کہانی کچھ یوں ہو سکتی ہے کہ کئی دنوں سے زوردار بارش ہو رہی ہے اور ایک چھوٹا سا کتا بارش میں پھنس گیا ہے۔ تین بچے بارش کی پرواہ کیے بغیر ہمت کرتے ہیں اس کتے کو بچاتے ہیں اور اپنے گھر لے آتے ہیں۔

یاد رکھیں

گروپ کو زور دار بارش اور تیز ہوا چلنے کی آواز میں خود بنانی ہوں گی۔ آپ میز ، کرسیاں یا اپنے جسم سے آوازیں نکالنے کی تکنیک استعمال کر سکتے ہیں۔ اپنی آواز کو بدل کر کتے کے بچے کی طرح بولنے کی کوشش کریں۔ اسے " آواز کی تبدیلی (Voice modulation) کہا جاتا ہے۔


کیا یہی نظر پہنچ تنتر کی کہانی کے لیے ایک بہترین پس منظر نہیں لگتا؟ آئیے ، آپ بھی ایک کہانی بنانے کی کوشش کریں۔ اس کتاب کی شروعات میں جو کہانی آپ نے پڑھی ہے، اس کے بعد تو آپ یقینا ایک اچھی کہانی بنا سکتے ہیں عظیم پنڈت و شنو شرما کی دعائیں اور نیک خواہشات آپ کے ساتھ ہوں گی۔


6

اس کے بعد پوری کلاس ہر گروپ کی کار کردگی پر رائے دے سکتی ہے۔ جن نکات پر غور کیا جاسکتا ہے وہ یہ ہیں:

کیا دیا گیا موضوع کہانی میں اچھی طرح شامل کیا گیا ہے؟

(کیا موضوع کہانی کا مرکزی خیال تھا یا بس معمولی ساحصہ ؟)

کیا ہر کردار کہانی کے لیے ضروری تھا؟

(کیا ہر کردار نے کہانی میں کچھ اضافہ کیا یا کچھ کردار بغیر حصہ لیے صرف یوں ہی موجود تھے؟)

ٹیم نے قدرتی موضوع کو کس انداز میں پیش کیا؟

(موضوع کا اثر دکھانے کے لیے کیا آوازوں اور چیزوں کا تخلیقی طور پر استعمال کیا گیا ؟)

کیا مجموعی طور پر پیش کش صاف اور منتظم تھی ؟

(کیا تمام اداکاروں کی آمد و رفت اور کہانی کی روانی میں کوئی الجھن یار کاوٹ تھی؟)

7
  • کیا ہم اپنی کہانیوں اور کرداروں کے ذریعے قدرت کے حسن کو دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں؟
  • کیا ان کہانیوں کے ذریعے قدرت کے بارے میں بیداری بھی پیدا کی جاسکتی ہے؟
  • کیا آپ کو لگتا ہے کہ اگر قدرت بول سکتی تو یہ ایک خوبصورت بات ہوتی؟ اگر ایسا ہوتا، تو آپ اس سے کیا پوچھتے؟

ملک بھر میں دیکھیے

ہم نے اس باب کا آغاز اس بات سے کیا تھا کہ لوگ، جانور اور قدرت سب آرٹ تخلیق کرنے کے لیے بڑی محرک ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قدرت یا جانوروں پر مبنی بہت سی آرٹ کی صورتیں ہوں گی۔ آئیے معلوم کرتے ہیں۔

ہولی ویشا/ پیلی ویشا

یہ ایک ڈرامائی پیش کش ہے جو چیتا اور اس کی حرکتوں پر مبنی ہے۔ اداکار کے جسم کو پیلا اور سیاہ رنگ دیا جاتا ہے تا کہ چیتا دھاریوں جیسا دکھائی دے اور چہرے پر چیتے کا ماسک لگایا جاتا ہے۔ پوری پیش کش کو تیز ڈھول کی آواز اور ہم آہنگ قدموں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں انفرادی اور گروپ پر پیش کش دونوں شامل ہوتی ہیں۔

یہ پیش کش در گاما تا کو خراج تحسین پیش کرنے کے طور پر بھی کی جاتی ہے، کیوں کہ انھیں ہمیشہ چیتا پر سوار دکھایا جاتا ہے۔ اداکار چیتا کی توانائی ، جارحانہ فطرت اور طاقت کو پیش کرتا ہے۔ یہ واقعی دیکھنے کے لیے ایک شاندار منظر ہوتا ہے۔ یہ زیادہ تر کرناٹکا اور آندھرا پردیش جیسی ریاستوں میں مقبول ہے۔

8

پسونرتیہ ایشو نکھ

اسے ” جانور کے مکھوٹے کا رقص “ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عموماً کسی خاص موقعے پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں دو ادا کار ہوتے ہیں جو ڈرامائی لباس میں رقص کرتے ہیں۔ یہ جانور کی ایک بڑی سجاوٹی شکل ہوتی ہے جو عموماً بہت رنگین ہوتی ہے اور توانائی سے بھر پور موسیقی کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔ جانور کا سائز عموماً اصل جانور سے بہت بڑا ہوتا ہے۔ اس شکل میں مختلف جانوروں کی نمائندگی کی جاتی ہے۔ اسے جنگل کی مقامی دیوی کے لیے بھی خراج تحسین کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ اوڈیشہ کی ایک مقبول لوک آرٹ کی شکل ہے۔

9
تھئیٹر کی دل چسپ معلومات - اولمپکس میں آرٹ
1912 سے 1948 تک فن کاروں نے اولمپکس میں حصہ لیا۔ اس میں فن تعمیر، ادب، موسیقی مصوری اور مجسمه سازی کے مقابلے شامل تھے۔ جدید اولمپکس کے بانی بیرن پیئر دی کو برٹن کا ماننا تھا کہ کھیلوں سے متاثر ہر فن کو اولمپکس میں شامل ہونے کا حق حاصل ہے۔ یہ مکمل طور پر میڈل جیتنے والے مقابلے تھے، اور 150 سے زائد تمغے نوازے گئے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا یہ روایت دوبارہ شروع ہونی چاہیے؟ 10

جائزہ باب 8 : اپنے آس پاس دیکھیے
لیاقتیں
ی-4.1: قدرت میں موجود ڈرامائی عناصر اور حرکات کو پہچاننا اور ان کی فنی خصوصیات کو بیان کرنا۔
ی 4.2 مقامی آرٹ کی اصناف اور ثقافت کے حوالے سے تجس کا مظاہرہ کرنا۔
سی جی لیاقتیں آموزشی ما حصل استاد طالب علم
4 4.1 قدرتی مناظر یا اشیا کی باریک بینی سے نقل کرنا۔
4.1 تخیل کے ذریعے خود کو کسی نا معلوم صورت حال سے کردار کے طور پر جوڑنا۔
4.1 دوسروں کی پیش کش پر مواد اور تکنیک کی بنیاد پر رائے دینا۔
4.2 جانوروں کو لوک آرٹ کے مرکزی خیال کے طور پر سمجھنا۔
4.2 لوک کہانی سے تعلق قائم کرنا اور سوالات کرنا۔
4.2 جانوروں سے متعلق دیگر فنون کی مثالیں پیش کرنا یا خود مثال بنانے کی کوشش کرنا۔
کلاس میں مجموعی طور پر شرکت

طالب علم کے اوصاف کے بارے میں استاد کے تاثرات



طالب علم کی کمیوں کے بارے میں استاد کے تاثرات



کوئی اور مشاہدہ



تھیٹر کا مجموعی جائزہ

سرگرمی برائے جائزہ (مثال کے طور پر ) جائزہ کے معیارات
انفرادی
  • بچے سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے پسندیدہ جانور کا انتخاب کرے۔
  • جانور سے متعلق ایک کہانی تیار کرے اور سنائے۔
  • کہانی میں جانور کا کردار ادا کرے ( کچھ جملے جذبات اور حرکات کے ساتھ ادا کرے۔)
  • اعتماد، تخلیقیت
  • فطری بین ابرجستگی
  • تصور کو سمجھنا
  • مواصلات ( زبانی اور عملی)
اجتماعی
  • ہر گروپ کو ایک شے اور ایک صورت حال دی جائے ( ہر گروپ کے لیے مختلف اشیا اور حالات دیے جائیں۔)
  • گروپ اُس شے کو مرکز بنا کر ایک منظر پیش کرے۔
  • اضافی ساز و سامان یا آواز کا تخلیقی استعمال
  • داخلہ اور اخراج، سامعین کی طرف رخ کرنا
  • کہانی کے ذریعے بات چیت

11

... اس طرح ہم نئے گیم کھیلنے، نئے ہنر سیکھنے اور نئے تصورات سمجھنے کا ایک اور سال مکمل کرتے ہیں۔ واہ! یہ سال اس سے کہیں زیادہ خوش گوار اور پر لطف رہا جتنا میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ اس کی وجہ ہیں۔ آپ ! میرے خیال میں آپ نے ہر سرگرمی کو پُر لطف بنایا ہے۔ مجھے چند الفاظ میں بتائیں کہ آپ اس سال کی تھئیٹر سرگرمیوں کے بارے میں کیا سو چتے ہیں؟

............................................

............................................

اپنی تعطیلات کے دوران بھی یہ سرگرمیاں جاری رکھنا اور یہ گیم کھیلنا یا د رکھیں۔ اس سے آپ کو گریڈ 5 میں اگلی سطح تک جانے میں مدد ملے گی۔ بنیادی بات یہ ہے کہ آپ کا آموزشی سفر پر لطف ہو۔

اگلے سال دوبارہ ملیں گے، ننھے ستارے، جب تک کے لیے الوداع !

12