اکائی 3
صحت اور تندرستی
اکائی کے بارے میں
اس اکائی میں صحت مند زندگی کے لیے متوازن غذا، ورزش اور آرام کے اہم رول پر بات چیت کی گئی ہے۔
سبھی صحت مند اور خوش رہنا چاہتے ہیں۔ یہ اکائی طلبا کا تعارف مختلف قسم کی ایسی غذا سے کراتی ہے، جو جسمانی نشو و نما میں معاون ہوتی ہے ، توانائی فراہم کراتی ہے اور بیماریوں سے بچاتی ہے۔ یہ اکائی چھ اہم ذائقوں یعنی شد رس سے بھی مثالوں کے ساتھ متعارف کراتی ہے اور متوازن غذا اور صاف پانی کی ضرورت کے بارے میں بھی طلبا کی رہنمائی کرتی ہے۔
یہ اکائی سمجھ داری کے ساتھ کھانے، روزانہ ورزش، مناسب آرام اور تمام وسائل کے لیے ممنونیت کی ضرورت پر بھی توجہ مرکوز کرتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہر ایک دانے کو پیدا کرنے میں کتنے عناصر ، لوگوں اور جانوروں کی سخت محنت کار فرما رہی ہے۔ یہ اکائی طلبا کو ہر ایک دانے کی قدر کرنے اور کبھی بھی غذا کو بر باد نہ کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔ یہ صحت کی مناسب نگہداشت کے لیے ورزشوں اور کھیلوں کی مثالیں بھی دیتی ہے اور ہر ایک کے لیے آرام کی ضرورت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ یہ اکائی ایسی مختلف برادریوں کی مثال بھی پیش کرتی ہے جو اپنی فصلوں کی دیکھ بھال اور تمام متعلقین کے تعاون کا احترام کرتی ہیں۔
ٹیچر کے لیے ہدایت
یہ اکائی باپ 5 صحت کے لیے غذا اور باب 6 خوش رہیں اور صحت مند رہیں، پر مشتمل ہے۔ ان ابواب میں جن کلیدی تصورات کا احاطہ کیا گیا ہے، انھیں ذیل میں پیش کیا گیا ہے۔
باب 5
- اسکول میں غذائی میلے (Food Festival) کا اہتمام کر کے طلبا الگ الگ طرح کے کھانوں کی دریافت کر سکیں گے اور متوازن غذا کے بارے میں تفہیم پیدا کر سکیں گے۔ طلبا اپنی خوراک میں توانائی سے بھر پور ، جسمانی نشو و نما کے لیے ضروری اور بیماریوں سے روک تھام کرنے والی غذائی اشیا کو شامل کرنے کی ضرورت کو جان سکیں گے۔
- اس باب میں ہمارے ملک میں بہت سی اقسام کے روایتی کھانوں کے بارے میں بھی بات کی گئی ہے جو ہر خاندان کے سبھی لوگوں کی اچھی صحت برقرار رکھنے کے لیے اہم ہیں۔
باب 6
- اس باب میں صحت و تندرستی کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ اس میں اناج کے سفر کو دکھایا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح، اس سفر میں بہت سے قدرتی عناصر ، لوگ اور جانور تعاون کرتے ہیں۔ اس سے طلبا ہر ایک کی کوششوں کا احترام کرنا سیکھیں گے اور ہر ایک کے تعاون کے لیے اس کے شکر گزار ہوں گے۔ یہ عمل انھیں یاد دہانی کراتا ہے کہ وہ کھانے کو ضائع نہ کریں۔
- یہ باب طلبا کو احتیاط کے ساتھ کھانا کھانے، روزانہ ورزش کرنے، اچھی طرح آرام کرنے اور تمام وسائل کے لیے شکر گزار رہنے کے سلسلے میں رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں ہر ایک کے لیے محفوظ ماحول کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
ٹیچر مدد کریں
- ٹیچر، چارٹ فلیش کارڈ، غذائی گروپوں سے متعلق مختصر ویڈیو، کھانا بنانے کے طریقے اور متوازن خوراک اور عمر کے لحاظ سے چارٹ اور فلیش کارڈ کا بندوبست کریں گے۔ وہ طلبا کو ان کے مشاہدات درج کرنے میں رہنمائی کریں گے۔
- ایک غذائی میلے کا اہتمام کیجیے جس میں طلبا گھروں میں بنا کھانا لائیں، علاقائی کھانوں کی تھالی کی نمائش کیجیے اور الگ الگ طرح کے کھانوں کے بارے میں بات چیت کیجیے۔ طلبا کو غذائی کولاژ تیار کرنے اور احتیاط سے کھانے کی مشق میں مدد کیجیے۔
- احتیاط سے کھانے“ کی سرگرمی کا انعقاد کیجیے تا کہ طلبا غذا کی قدر کرنا سیکھیں، خوراک کو ضائع کرنے سے بچیں، احتیاط سے کھانے کی مشق کریں، باقاعدگی سے ورزش کریں اور جسم کو آرام دیں۔
- بچوں کو کھانے کی چیزوں کے لیبل کو غور سے پڑھنے، کھانا بنانے کے طریقوں کو سمجھنے اور ذائقہ چکھنے کی حوصلہ افزائی کیجیے۔ گھر پر انجام دینے والی سرگرمی کے لیے کہیے، جیسے غذا سے متعلق روز نامچہ تیار کرنا اور متوازن کھانے کی پلیٹ تیار کرنا وغیرہ۔
- خوراک کے کسی ماہر یا مقامی کسان کو مدعو کیجیے تاکہ صحت مند غذا اور غذائی وسائل پر بات چیت کی جاسکے۔ خوراک کی پیداوار اور اس کو ذخیرہ کرنے کے طریقوں کو جاننے کے لیے کسی عوامی باورچی خانے یا مقامی کھیت کا دورہ کرنے کا اہتمام کیجیے۔
5 صحت کے لیے غذا
آخر کار غذائی میلے کا دن آپہنچا! طالب علم اور ان کے والدین میلے کے لیے کھانے پینے کی مختلف چیزیں لے کر آئے۔
اسٹالوں پر تازہ پھل، سبزیاں، اکھوے والے اناج، ڈھوکلہ، لٹی- چوکھا، دال-باٹی-چورما، باجرے کی کھچڑی، چھینا - پوڑا ، کڑھی پکوڑا، کیر سنگری ، سدو، بھنے ہوئے مکئی کے دانے، چٹپٹی چٹنی لذیذ ڈوسا، کرارا وڈہ، جوار ایما، راگی لڈو اور دیگر بہت سی چیزیں رکھی گئی تھیں۔
غور کیجیے اور تحریر کیجیے
اگر آپ کو اپنے اسکول میں کسی غذائی میلے کا انتظام کرنا ہو تا تو آپ اس میں کون کون سی غذائی اشیا شامل کرتے ؟ ان کی فہرست بنائیے۔
بچے کھانے پینے کی مختلف اشیا کا ذائقہ محسوس کرنے کے لیے بے تاب تھے۔ وہ ایک ایک کر کے اسٹالوں پر گئے۔
مسٹری مسالا
نمکین بھی مکیش اور اس کے دوست ایک منفر د پکو ان کا ذائقہ چکھنے کے لیے دمسٹری مسالا نامی رنگ برنگے اسٹال پر لائن میں لگے ہوئے تھے۔ یہ پکوان کچھ میٹھا ذائقہ والا تھا۔ تھوڑا نمکیر تھا اور کسی قدر کھتا بھی تھا۔ اس پکو ان کے اجزا کے بارے میں قیاس آرائی کرنے کے سلسلے میں اس اسٹال پر قہقہے اور تجسس کا ماحول تھا۔
انھوں نے تجسس سے پوچھا ”ہم میں سے ہر ایک کو اس کا ذائقہ اتنا الگ الگ کیوں محسوس ہو رہا ہے ؟“ اسٹال کے بچے مسکرائے اور انھوں نے بتایا کہ ” یہ اُگاڑی پچھاڑی ہے جو کہ آندھرا پردیش، کرناٹک اور تلنگانہ کا ایک روایتی پکوان ہے۔ اسے چھ مختلف ذائقوں کے اجزا سے تیار کیا جاتا ہے۔ ان میں میٹھا، کھٹا، نمکین، تیکھا، کڑوا اور کسیلا شامل ہیں۔ ہر ایک ذائقہ اس پکوان کو خصوصی بناتا ہے ۔ جب ان تمام اجزا کو درست مقدار میں ملایا جاتا ہے، تو یہ اور زیادہ ذائقہ دار ہو جاتا ہے۔
تحریر کیجیے
کیا آپ ایسے کم از کم پانچ اجزا یا غذائی اشیا بتا سکتے ہیں جن میں ذیل میں دیے گئے ذائقے موجود ہوں ؟ انھیں خالی جگہوں میں تحریر کیجیے۔ ذیل میں دی گئی مثال کو دیکھیے:
| ذائقہ | میٹھا | کھتا | نمکین | تیکھا | کڑوا | کسیلا |
|---|---|---|---|---|---|---|
| اجزا | گڑ | املی | نمک | ہری مرچ | نیم | کچا آم |
بات چیت کیجیے
چھوٹے گروپ بنا کر بات چیت کیجیے اور ایسی غذائی اشیا کی شناخت کیجیے جن میں کم سے کم تین مختلف ذائقے ہوں۔
کیا آپ جانتے ہیں ؟
میٹھا، کھٹا، نمکین، تیکھا، کڑوا اور کسیلا جیسے چھ ذائقوں کو آیور وید میں 'شڈرس کہا جاتا ہے۔ آیوروید کے مطابق شدرس اجزا والی متوازن غذا کا استعمال صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے۔
سپر فوڈ کا اسٹال
سر بھی اور اس کے دوستوں نے جوار باجرہ سے تیار غذائی اشیا کے اسٹال پر جانے کا فیصلہ کیا۔ کھانے کا مینو دیکھتے ہوئے، سر بھی کو یاد آیا کہ اس کی دادی سردیوں میں جوار اور باجرہ کی روٹی اور گرمیوں میں جو کی روٹی کھایا کرتی تھیں۔ جوار باجرہ تغذیہ کے بہترین وسائل ہیں۔ بچوں نے خوشی خوشی جوار اپما منگوایا اور جوار باجرہ سے بنی غذائی اشیا کھائی۔
معلومات حاصل کیجیے
ان غذائی اشیا کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیجیے جو جوار باجرہ سے آپ کے گھر میں تیار کی جاتی ہیں۔
غذائی اشیا کس طرح سے ہماری مدد کرتی ہیں ؟
ایک بینر نے بچوں کی توجہ اپنی جانب کھینچی جس پر تحریر تھا۔ ” پلیٹ میں متنوع غذائی اشیاء زندگی میں تندرستی کی ضمانت“۔
بات چیت کیجیے
ہمیں مختلف طرح کی غذائی چیزیں کھانے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے ؟
ہمارے جسم کو صحت مند ، توانا اور مضبوط رکھنے کے لیے متنوع غذائی اشیا کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے جسم کے متوازن نشو و نما کے لیے خوراک بہت ضروری ہے۔ چونکہ کوئی بھی واحد : غذا ان تمام طرح کی تغذیہ کی حامل نہیں ہوتی جن کی ضرورت ہمارے جسم کو ہوتی ہے ، اس لیے مختلف طرح کی غذائی اشیا کھانا اہم ہے۔
غذا کے گروپ
چاول، آلو، گیہوں ، مکئی ، کیلا ، سیب ، شکر قند ، شہد ، جوار، باجرہ وغیرہ جیسی غذائی اشیا توانائی سے بھر پور ہوتی ہیں۔ مکھن، گھی، تیل وغیرہ بھی ہمارے جسم کو توانائی دیتے ہیں۔
دالیں، پھلیاں، سویابین، مٹر، مونگ پھلی، توفو، پیٹھی، دودھ، چیز، پھلیوں کے بیج، بادام، اخروٹ، انڈے، گوشت، مچھلی وغیرہ جیسی غذائی اشیا، ہماری نشو و نما میں مدد کرتی ہیں، ہمارے عضلات کو تقویت دیتی ہیں اور ہمیں مضبوط بناتی ہیں۔
اسی طرح گاجر، سنگترا، لیمو، پپیتا، پالک، گوبھی، امرود، آملہ ، ٹماٹر وغیرہ جیسے پھل اور سبزیاں ہمیں بیماریوں سے لڑنے اور ان سے محفوظ رہنے میں ہماری مدد کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غذا کی ان اشیا کو تحفظاتی اشیا کہا جاتا ہے۔
بات چیت کیجیے
اگر ہم ہر روز غذا کے ایک ہی گروپ سے کھانا کھاتے ہیں تو کیا ہوتا ہے۔
جنک فوڈ کو کہیے نا؟
کچھ ایسی غذائی اشیا ہیں جو صحت کے لیے اچھی نہیں ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود ہم انھیں مسلسل اور زیادہ مقدار میں استعمال کرتے رہتے ہیں۔ چونکہ ان میں بہت زیادہ مقدار میں تیل، نمک، چینی، وغیرہ ہوتے ہیں، اس لیے انھیں جنک فوڈ کہا جاتا ہے۔ سافٹ ڈرنکس، چیپس ، بریڈ پکوڑا، برگر، پیزا اور ضرورت سے زیادہ پکے ہوئے اور ڈبہ بند کھانے، جنک فوڈ کی چند مثالیں ہیں۔ گھر کا تازہ پکا ہوا کھا نا زیادہ پکے ہوئے یا ڈبہ بند کھانے سے بہتر ہوتا ہے۔
تحریر کیجیے
- کیا آپ چند مزید جنک فوڈ اشیا کے نام بتا سکتے ہیں ؟
- آپ ایسا کیوں سوچتے ہیں کہ ہمیں جنک فوڈ کھانے سے بچنا چاہیے ؟
- ان جنک فوڈ اشیا کی فہرست بنائیے جنھیں آپ کھانے سے گریز کریں گے ؟
سرگرمی 1
ایک غذائی ڈائری تیار کیجیے۔
- ایک ہفتہ کے لیے اپنے روز مرہ کے معمولات کی ایک غذائی ڈائری بنائیے۔ اس میں تحریر کیجیے کہ آپ نے ایک دن میں ناشتے ، دو پہر کے کھانے اور رات کے کھانے میں کیا کیا کھایا۔ ان کی ایک مثال دی گئی ہے۔ جدول کو توسیع دے کر ایک ہفتہ کے لیے بنائیے۔
- ان غذائی اشیا پر دائرہ بنائیے جو صحت کے لیے اچھی ہیں اور ان غذائی اشیا پر کا نشان لگائیے جو صحت کے لیے اچھی نہیں ہیں۔
- اپنے روز مرہ کے معمول میں غیر موجود غذائی گروپوں کی شناخت کیجیے۔ اپنے والدین سے اس کے بارے میں بات کیجیے کہ ان اشیا کو روزمرہ کے معمول میں کیسے شامل کیا جا سکتا ہے۔
| دن | وقت | غذائی اشیا |
|---|---|---|
| پہلا دن | ناشته | اڈلی، سانبھر، چٹنی |
| دو پہر کا کھانا | ||
| رات کا کھانا | ||
| دوسرادن | ناشته | |
| دو پہر کا کھانا | ||
| رات کا کھانا |
متوازن غذا کی پلیٹ
ایک متوازن پلیٹ میں تمام تین گروپوں سے درست مقدار میں غذائی اشیا شامل ہوتی ہیں۔ ان میں تحفظاتی غذائی اشیا پھل اور سبزیاں) سب سے زیادہ، اس کے بعد جسمانی نشوونما میں مدد کرنے والی غذائی اشیا اور توانائی فراہم کرنے والی کچھ غذائی اشیا شامل ہیں جو ہمیں صحت مند ، چست اور خوش رہنے میں مدد کرتی ہیں۔
ٹیچر کے لیے ہدایت
تمام طرح کی صحت بخش اشیا کھانے کے لیے طالب علموں کی حوصلہ افزائی کیجیے۔
ہندوستان کے ، ہر علاقے میں ایک مخصوص تھالی ہوتی ہے جس میں کئی طرح کے ذائقوں اور صحت کے لیے فائدے مند اجزا کے ساتھ مختلف طرح کی غذائی اشیا شامل ہوتی ہیں۔ اٹل اور اس کے دوست تھالی کی غذائی اشیا کو چکھنے کے لیے بے تاب تھے !
معلومات حاصل کیجیے
اپنے علاقے کی غذائی تھالی کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے اور اس میں شامل غذائی اشیا کی فہرست بنائیے۔
صحت کے لیے پانی
پانی بھی ہماری خوراک کا ایک اہم حصہ ہے۔ پانی غذا کو ہضم کرنے میں مدد کرتا ہے اور ہماری جلد اور جسم کو صحت مند رکھتا ہے۔ پانی، پیشاب، پسینہ اور فضلہ کے ذریعہ ہمارے جسم سے گندگی کو باہر نکالنے میں مدد دیتا ہے۔ اس اس کے علاوہ، تربوز اور خربوزہ جیسے پانی سے لبریز پھلوں کو کھانے سے ہمارے جسم میں پانی کی مقدار بر قرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ مناسب مقدار میں پانی پینا ہماری صحت مند عادتوں کا ایک ضروری حصہ ہونا چاہیے۔
پکانے کے مختلف طریقے
شر بھی اور اس کے دوستوں نے غدائی میلے میں مختلف کھانوں کا مزہ لیا۔ وہ حیران تھے کہ یہ کیسے پکائے جاتے ہیں۔
تحریر کیجیے
ذیل میں دیے گئے کھانوں کو پکانے کے مختلف طریقوں کی نشان دہی کیجیے۔ آپ کے لیے ایک مثال دی گئی ہے۔ آپ اپنے گھر کے افراد سے مدد لے سکتے ہیں اور اس فہرست میں مزید اشیا کا اضافہ کر سکتے ہیں۔
اڈلی دوسا چاول سانبھر
كهير پیڑا سموسہ گلاب جامن
| پکانے کے طریقے | کھانا |
|---|---|
| بھاپ کے ذریعے | ادى يَيْم |
کھانے کی کچھ اشیا ایسی بھی ہوتی ہیں جنھیں پکانے کی ضرورت نہیں ہوتی، مثال کے طور پر پھلوں کی چاٹ، سبزیوں کی سلاد وغیرہ۔
کیا آپ جانتے ہیں ؟
شیف (خانساماں) ایک پیشہ ور باورچی ہوتا ہے جو کھانا پکانے کے مختلف طریقوں میں مہارت رکھتا ہے۔
بات چیت کیجیے
- کیا آپ گھر میں کھانا پکانے میں مدد کرتے ہیں ؟
- کیا آپ سمجھتے ہیں کہ گھر کے سبھی افراد کو کھانا پکانا آنا چاہیے ؟ کیوں؟
کیا آپ جانتے ہیں ؟
ہم ایک گیس کے چولہے یا بجلی سے پیدا کردہ گرمی کے بجائے سورج کی روشنی کا استعمال کرتے ہوئے سولر کو کر میں کھانا پکا سکتے ہیں۔ یہ کسی بھی طرح کا دھواں یا راکھ پیدا کر کے ماحول کو آلودہ نہیں کرتا ہے۔
اپنی رائے کا اظہار کیجیے
1 عملی سرگرمی - غذائی کولاژ
سامان: پرانے رسالے، اخبار ، قینچی، گوند اور سادہ کاغذ
غذائی اشیا کی تصویریں کاٹیے اور تین زمروں میں کولاژ تیار کیجیے: توانائی دینے والی غذا، جسم کو مضبوط بنانے والی غذا اور حفاظت کرنے والی غذا۔
2. لیبل کی جانچ کیجیے
- گھر پر ، اپنے باورچی خانے سے کھانے کا کوئی ڈبہ بند سامان لیجیے۔ اس کے لیبل کی جانچ کیجیے اور اس کو استعمال کرنے کی آخری تاریخ اور اس کے دو بنیادی اجزا نوٹ کیجیے۔
- ڈبہ بند غذائی اشیا کو خرید نے یا کھانے سے پہلے لیبل کی جانچ کرنا کیوں ضروری ہے ؟
شهد
پوری طرح قدرتی
چینی کی ملاوٹ نہیں
خالص اور خوش ذائقہ
کل وزن : 400 گرام
ڈبہ بندی کی تاریخ : 08.03.2025
استعمال کرنے کی
آخری تاریخ : 07.03.2026
3 ایک غذائی میلے کا اہتمام کیجیے
طلبا گھر کا بنا ہوا کھانا لا سکتے ہیں اور اسکول میں ایک غذائی میلے کا اہتمام کر سکتے ہیں۔ والدین کو بھی دعوت دی جا سکتی ہے کہ وہ بھی غذائی میلے میں شرکت کریں۔
4. تلاش کیجیے اور دائرہ بنائیے
ذیل میں دیے گئے خانوں میں غذائی اشیا سے متعلق الفاظ پر دائرہ بنائیے، اس کی مثال نیچے دی گئی ہے۔