3
خاندانی شجره
پہلا منظر
(ناشتے کی میز لگی ہے۔ ابو اور امی ناشتہ کر رہے ہیں۔ حنا اور اریب آتے ہیں اور کرسیوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔)
حنا : صبح بخیر ، امی ابو !
اریب : آداب امی ! آداب ابو!
(اممی اور ابو چائے کے گھونٹ پی رہے ہیں۔)
ابو : آؤ آؤ بچو ! جاگ گئے؟
امی : جیتے رہو میرے بچو! جیتے رہو!
(دادی امّاں مسکراتے ہوئے داخل ہوتی ہیں۔)
دادی امّاں : السّلام علیکم میرے پیارے بچو! ناشتے کی خوش بو میرے دل کو گرماتی ہے۔
ابو : السلام علیکم امّاں !
(دونوں بچے بھی سلام کرتے ہوئے دادی سے لپٹ جاتے ہیں۔)
دادی امّاں : جیتے رہو میرے بچو ! دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرو، خوش رہو۔
امی: رات کو آپ کی نیند کیسی رہی؟
دادی امّاں : (مسکرا کر اور خوشی کے لہجے میں الفاظ جما جما کر اور کھینچ کر بولتے ہوئے) بہت اچھی، بہت پیاری۔
(ابو ، دادی امّاں کو چائے دیتے ہیں۔ امی ٹوسٹ بڑھاتی ہیں۔)
دادی امّاں : (بچوں سے) آج آپ لوگوں کے ذہنوں میں کیا منصوبہ ہے؟
دونوں بچے : فیملی ٹری پروجیکٹ
دادی امّاں : (حیرت سے) فیملی ٹری پروجیکٹ !!! یہ کیا ہے؟
اریب : (خوش ہو کر ) دادی اماں! ہمیں یہ فیملی ٹری پروجیکٹ اسکول سے ملا ہے۔
حنا:اس میں ہم اپنے خاندان والوں کی تصویریں لگائیں گے۔ اپنی، آپ کی، امی کی، ابو کی، سب کی۔
اریب :ہاں ... اور دادا جان کی بھی تصویر لگائیں گے۔ کیا ہمیں دادا جان کی تصویر مل جائے گی؟
ابو :جی ، جی بیٹا! کیوں نہیں ملے گی۔ سب کی تصویریں مل جائیں گی۔ (دادی امّاں سے مسکرا کر) امّاں! یہ بچے ہمارا خاندانی شجرہ تیار کریں گے۔
دادی امّاں : اچھا! اب سمجھی، تو کیا شجرے میں تصویریں بھی لگتی ہیں۔
امی: جی امّاں- اب خاندانی شجروں میں تصویریں بھی لگاتے ہیں۔
دادی امّاں : واہ ! یہ تو بڑا دل چسپ لگ رہا ہے۔ مجھے بھی دکھانا بچو !
اریب : جی ! جی! کیوں نہیں !
حنا: لیکن یہ تو آپ ہی کو بنوانا ہو گا۔ آپ ہی تو بتائیں گی کہ پہلے کون، پھر کون وغیرہ وغیرہ۔ (امی ،ابو اور دادی اماں ہنستے ہیں۔ دادی حنا کو گلے لگا لیتی ہیں۔)
دادی امّاں : کیوں نہیں بیٹا۔ میں اپنے بچوں کو سب کچھ بتاؤں گی۔ چلیے اسے مل کر بنائیں گے۔
(سب لوگ دوسرے کمرے میں چلے جاتے ہیں)
دوسرا منظر
(سب لوگ بیٹھے ایک چارٹ پر فیملی ٹری بنا رہے ہیں۔ چند تصویریں سامنے پھیلی ہوئی ہیں۔ قینچی ، گوند ، چارٹ پیپر اور ٹیپ وغیرہ بھی رکھے ہیں سب لوگ باتیں کر رہے ہیں۔)
( تبھی دروازے کی گھنٹی بجتی ہے۔ سلیم چچا اور ناز چچی اندر داخل ہوتے ہیں۔)
حنا :سلیم چچا ، ناز چچی ! سر پرائز (ان کی طرف دوڑتی ہے۔ چچی حنا کو گود میں اٹھا لیتی ہیں اور اریب جاکے سلیم چچا سے لپٹ جاتا ہے۔ وہ پیار سے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہیں۔)
ابو : ہمیں نہیں معلوم تھا کہ آپ آرہے ہیں!
(پھر سب لوگ خوب خوش ہوتے اور آپس میں گلے ملتے ہیں۔)
سلیم چچا : بعض اوقات حیرت میں ڈالنا بہت اچھا لگتا ہے؟
ناز چچی : ہمیں آپ سب کی یاد آئی اور ہم آگئے۔ اتوار کی چھٹی کا بہترین استعمال!
(سب ہنستے ہیں۔ ناز چچی اپنے بیگ سے ایک کھلونا نکالتی ہیں۔ حنا جھپٹ کر کھلونا لے لیتی ہے۔)
حنا : یہ میرا ہے۔
اریب : نہیں، ایسا نہیں ہے۔
ناز چچی : ارے! دونوں مل کے کھیلیے، لڑتے نہیں ہیں۔
دادی امّاں : ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ ایک مضبوط خاندان کی بنیاد ہے۔
ابو : ایک دوسرے کے لیے ہماری محبت یہی چیز ہمیں مضبوط بناتی ہے۔
دادی امّاں : ان جذبات کی قدر کریں۔ یہ وہ دھاگے ہیں جو ہمیں ایک دوسرے سے باندھتے ہیں ۔
حنا : ٹھیک ہے بھائی ! آپ یہ کھلونا لے لو۔ میں اپنی گڑیا سے کھیل لوں گی۔
اریب : نہیں! نہیں ! ہم دونوں مل کے کھیلیں گے۔ ابو اور چچا جان کی طرح۔
(سب لوگ مسکراتے ہیں ۔ سلیم چچا اریب کو گلے لگا لیتے ہیں۔)
ناز چچی : (خاندانی شجرہ دیکھتے ہوئے) آپ لوگ یہ کیا کر رہے ہیں؟
حنا: ہم بنارہے ہیں . اپنی فیملی ٹری۔
اریب : یعنی خاندانی شجرہ۔ اس میں ہم سب کی تصویریں لگائیں گے۔ دادی امّاں ، ابو اور امی کی۔
حنا: اور دادا جان کی بھی۔
اریب : ہاں! اور میری اور تمھاری بھی۔
حنا: کیا ہم چچا جان اور چچی جان کی بھی تصویریں لگا سکتے ہیں؟
اریب : ( کندھے اچکاتے ہوئے) پتا نہیں۔ (ابو سے) کیا ہم چچا جان اور چچی جان کی تصویریں بھی لگا سکتے ہیں؟
ابو: ہاں ہاں! کیوں نہیں۔ آخر وہ بھی تو ہمارے خاندان کا حصہ ہیں۔
( سب لوگ ہنستے ہیں۔ چچا جان پھر سے اریب کو گلے لگاتے ہیں۔)
امی :ان بچوں نے ابھی تک شجرہ مکمل بھی نہیں کیا لیکن اس کی پیش کش پہلے تیار کر لی ہے۔ بہت ہی زبر دست پیش کش (مسکراتے ہوئے) سلیم چچا اور ناز چچی کو اپنی پیش کش دکھائیے۔
(حنا کھڑی ہوتی ہے۔ گلا صاف کرتی ہے۔ اور اسٹیج پر بولنے والے انداز میں بولتی ہے۔)
حنا : (جوش کے ساتھ ) یہ ہمارا خاندانی شجرہ ہے۔ ہر شاخ محبت ، لگاؤ اور عزت کی نشانی ہے۔
اریب : (فخر کے ساتھ ) ہمارا خاندان ایک مضبوط پیڑ کی طرح ہے جو ہر روز پھلتا پھولتا اور ہرا بھرا ہوتا جاتا ہے۔
ناز چچی : واه واه !!
حنا :کمال ہے کمال! ہمارا خاندان کمال ہے۔
اریب: سچ مچ ، ہمارا خاندان زبر دست اور لاجواب ہے۔
دادی امّاں : واہ! میرے بچو ! تم نے میرا دل خوش کر دیا۔ جیتے رہو۔
سلیم چچا : یہ واقعی شان دار پیش کش ہے۔
(سب لوگ خوش ہو کر تالیاں بجانے لگتے ہیں اور ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے ہیں۔ پردہ گرتا ہے۔)
مشق
پڑھیے اور سمجھیے
سوچیے اور بتائیے
- دادی اماں نے بچوں کے سلام کے جواب میں کیا کہا؟ ____________________
- فیملی ٹری کیا ہوتی ہے؟ ____________________
- فیملی ٹری پروجیکٹ کے بارے میں حنا نے دادی اتاں سے کیا کہا؟ ____________________
- دادی اماں نے مضبوط خاندان کی بنیاد کسے بتایا ؟ ____________________
- ڈرامے میں خاندانی شجرے کی اہمیت کو کیسے پیش کیا گیا ہے؟ ____________________
خالی جگہوں کو مناسب الفاظ سے پر کیجیے
- ہمیں یہ ___ پروجیکٹ اسکول سے ملا ہے۔
- اب خاندانی شجروں میں ____ بھی لگاتے ہیں۔
- ہمیں ایک دوسرے کا ___ رکھنا چاہیے۔
- ان بچوں نے ابھی تک شجرہ مکمل نہیں کیا لیکن اس کی ___پہلے تیار کر لی ہے۔
- یہ ہمارا خاندانی شجرہ ہے۔ ہر شاخ محبت ___ اور عزت کی نشانی ہے۔
- ہمارا ___ ایک مضبوط پیٹر کی طرح ہے۔
مثالوں کے مطابق درج ذیل الفاظ کے واحد لکھیے
| اوقات | احساسات | خیالات | جذبات | واقعات | حادثات |
| وقت | جذبہ |
کالم الف کو کالم 'ب' سے ملائیے
| الف | اور | ب |
| ہمیں آپ سب کی یاد آئی | کرسیوں پر بیٹھ جاتے ہیں | |
| سب لوگ خوب خوش ہوتے | عزت کی نشانی ہے | |
| حنا اور اریب آتے ہیں | ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے ہیں | |
| ہر شاخ محبت ، لگاؤ | آپس میں گلے ملتے ہیں | |
| تالیاں بجانے لگتے ہیں | ہم آگئے |
بولنے والے کے نام پر ✔ کا نشان لگائیے
- ہمیں دادا جان کی تصویر مل جائے گی۔
- اریب
- حنا
- دادی امّاں
- ارے! دونوں مل کر کھیلیے، لڑتے نہیں ہیں۔
- دادی امّاں
- ناز چچی
- سلیم چچا
- یہ بچے ہمارا خاندانی شجرہ تیار کریں گے۔
- امی
- ابو
- سلیم چچا
- یہ وہ دھاگے ہیں جو ہمیں ایک دوسرے سے باندھتے ہیں۔
- ابو
- سلیم چچا
- دادی امّاں
- ہمارا خاندان ایک مضبوط پیٹر کی طرح ہے۔
- حنا
- ابو
- اریب
درج ذیل الفاظ کی مونث لکھیے
| ابو | بھائی | دادا | نانا | چچا | ماموں |
| امی | |||||
| پھوپھا | خالو | بیٹا | پوتا | نواسا | بھتیجا |
درج ذیل جملوں کو درست کر کے لکھیے
- فیملی ٹری پروجیکٹ اسکول سے ملی ہے۔ فیملی ٹری پروجیکٹ اسکول سے ملا ہے۔
- ناشتے کی خوشبو میرے دل کو گرماتا ہے۔ _____
- ہماری خاندان ایک مضبوط پیڑ کی طرح ہے ___
- ابو اور امی ناشتہ کر رہی ہیں۔ _______
- ہر شاخ ... محبت ، لگاؤ اور عزت کی نشان ہے۔ ___
مثال کے مطابق دیے گئے الفاظ کو اپنے اپنے خانوں میں لکھیے
ابو ، استاد، دادی، درخت، مہمان خانہ ، لائبریری، پھل، اقی، پلنگ، کمرۂ جماعت، پودے ، چولھا، بھائی، پالتو جانور ، پھول ، طالب علم
| خاندان | دادی | ابو | امی | بھائی |
| گھر | ||||
| اسکول | ||||
| باغ |
پڑھیے ، سمجھیے اور لکھیے
●نیچے دیے گئے لفظوں سے پہلے خوش لگا کر الفاظ بنائیے
| حال | خط | قسمت | اخلاق | مزاج |
●لفظ نشان دار دو لفظوں سے مل کر بنا ہے۔ شان اور دار ۔ اس کا مطلب ہے شان والا۔ نیچے دیے گئے لفظوں کے بعد دار لگا کر الفاظ بنائیے۔
| جان | سمجھ | چمک | دکان | ایمان |
●ڈرامے میں صبح بخیر، آداب، السلام علیکم جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ کسی سے بات چیت شروع کرنے سے پہلے اس طرح کے الفاظ استعمال کرنا ایک اچھا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ آپ کسی سے بات چیت شروع کرنے سے پہلے کون سے الفاظ بولتے ہیں۔
●اردو میں بہت سی زبانوں کے الفاظ بولے جاتے ہیں۔ جیسے فارسی، عربی، ہندی ، پنجابی اور انگریزی وغیرہ۔ اس سبق میں بھی انگریزی کے کچھ الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ انھیں تلاش کر کے لکھیے۔
کیجیے
●اس ڈرامے کے جو کردار ہیں، ان میں کون سا کردار آپ کو اچھا لگا ، دو جملے لکھیے۔
________________________
●آپ کون کون سے کھلونوں سے کھیلتے ہیں ان کے بارے میں بات چیت کیجیے۔
●آپ نے کچھ کھلونے بنائے ہوں گے۔ ان کے بارے میں ہم جماعت سے گفتگو کیجیے-
●آپ اپنی پسند کا کوئی کھلونا بنائیے
لطیفہ / چٹکلہ
باپ (بیٹے سے): تم آج اسکول سے بھاگ کر آئے ہو؟
بیٹا (باپ سے ): نہیں ابو میں تو آہستہ آہستہ چل کے آیا ہوں۔
اساتذہ کے لیے ہدایات
- بچوں سے اُن کا خاندانی شجرہ بنوایا جا سکتا ہے۔
- بچوں سے مدر ڈے ، فادر ڈے اور گرانڈ پیرینٹ ڈے وغیرہ کے لیے گریٹنگ کارڈ بنوائے جاسکتے ہیں۔
- اسکول میں مدر ڈے ، فادر ڈے اور گرانڈ پیرینٹ ڈے وغیرہ منائے جاسکتے ہیں۔
صرف پڑھنے کے لیے
کرکٹ
اتوار کا دن تھا۔ عابد اور خالد صبح صبح ہی کرکٹ میچ کھیلنے چلے گئے۔ دوپہر کو دونوں بھائی کر کٹ کھیل کر واپس گھر آئے تو ابو نے پوچھا: ”بچو! میچ کیسا رہا؟“
بہت اچھا، بڑا مزہ آیا “ خالد نے جواب دیا۔
ابو نے پوچھا: ”جیت کے آرہے ہو یا ہار کر ؟“
ابو ! ہم جیتے بھی اور ہارے بھی۔“ عابد نے کہا۔
ابو نے حیرت سے دونوں کی طرف دیکھا اور کہا: ”ارے بھئی! ایک ساتھ دونوں باتیں کیسے؟ یا تو جیتے یا ہارے؟“
خالد نے ہنستے ہوئے کہا: ” ابو جان ! ہم نے دو میچ کھیلے تھے ۔ ایک میں ہماری ٹیم ہار گئی تھی ، دوسرے میں جیت گئی۔“
اچھا اچھا تو یہ بات ہے۔ چلو ، نہا دھو کر کپڑے بدل لو۔ ہم لوگ دو پہر کا کھانا ایک ساتھ کھائیں گے۔“
دوسرے دن صبح عابد اور خالد جب اسکول پہنچے ۔ کلاس میں داخل ہوتے ہی سورج اور روی نے ان سے پوچھا:” کیا حال ہے۔ کل کا میچ کیسا رہا؟ جیت کے آئے یا ؟“
عابد نے پھر وہی بات دوہرادی جو ابو سے کہی تھی۔ سورج اور روی حیران ہو کر بولے ”ایسا کیسے ممکن ہے؟“ خالد نے انھیں بتایا کہ دراصل ہم نے دو میچ کھیلے ۔ ایک میں جیت ملی اور ایک میں ہار کا سامنا کرنا پڑا۔
عابد اور خالد سے روی نے پوچھا کہ تم لوگوں نے کتنے اوور کا میچ کھیلا تھا؟ عابد نے بتایا کہ دس دس اوور کا میچ کھیلا تھا، اس لیے دو پہر تک دو میچ ہو گئے تھے۔ نیہا ان کی بات سن رہی تھی۔ اس نے پوچھا کہ یہ اوور کیا ہوتا ہے؟ سورج نے بتایا کہ کرکٹ میچ میں جب بالر چھ بار صحیح بال پھینک دے تو وہ ایک اوور ہو جاتا ہے لیکن اگر کوئی بال وائیڈ یا نو بال ہو گئی تو ایک اوور میں چھ سے زیادہ بار بھی بال پھینکی جاتی ہے۔ اسی دوران استاد کمرہ جماعت میں داخل ہوئے اور انھوں نے بچوں کا حال پوچھا اور کہا: ” لگتا ہے آج کرکٹ پر گفتگو ہو رہی ہے!“
سورج نے کہا: جی سر ! میں نیہا کو اوور کے بارے میں بتا رہا تھا۔ عابد اور خالد دس دس اوور کا کرکٹ میچ کھیل کر آئے ہیں۔“
استاد: "اچھا! آج اسمبلی میں بھی تو ایک سوال کرکٹ سے متعلق تھا کہ ون ڈے کرکٹ میں ہندوستان نے پہلی مرتبہ عالمی کپ کب جیتا تھا اور اُس وقت ہندوستان کی ٹیم کا کپتان کون تھا؟“
عابد نے جواب دیا: ”سر ! ہندوستان نے پہلی مرتبہ ون ڈے کرکٹ عالمی کپ 1983 میں جیتا تھا اور اُس وقت کپل دیو کپتان تھے۔“ استاد نے شاباشی دی۔
روہت : ( بیچ میں بول پڑا) ”سر !2011 میں ہندوستان نے ون ڈے کرکٹ عالمی کپ جیتا تھا۔ اُس وقت مہندرسنگھ دھونی ، ٹیم کے کپتان تھے۔“
پھر احمد نے پوچھا: ” یہ ون ڈے کرکٹ کیا ہوتا ہے؟“
نیلم نے بتایا کہ وہ کرکٹ میچ جو ایک دن میں پورا ہو جائے۔ اس میں ایک ٹیم کو پچاس اوور کی بیٹنگ کرنے کا موقع ملتا ہے۔
استاد : شاباش ! ہاں بچو! کرکٹ میچ پانچ دن کا بھی ہوتا ہے جس میں چار اننگس ہوتی ہیں۔ دونوں ٹیموں کو دو دو انگس کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ ایک دن میں 90 اوور پھینکے جاتے ہیں۔ اس میں دونوں ٹیمیں سفید ڈریس پہنتی ہیں۔ اس کو ٹیسٹ کرکٹ میچ کہتے ہیں۔
ہرش: ”سر ! لیکن میچ تو ایک دن میں بھی ختم ہو جاتا ہے؟“
مندیپ: صرف ایک دن ہی نہیں، اب تو آدھے دن میں بھی میچ ختم ہو جاتا ہے۔“
استاد: بچو ! اب کرکٹ کے تین فارمیٹ ہیں۔ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹونٹی-20۔
سر ! کیا ہندوستان نے کوئی اور عالمی کپ جیتا ہے؟“ آشا نے سوال کیا۔
سر ! میچ جو آدھے دن میں ختم ہو جاتا ہے، اس کے بارے میں بھی بتائیے۔ اقبال نے سوال کیا۔
استاد : ”جو میچ آدھے دن میں ختم ہو جاتا ہے اس کو ٹونٹی 20 کرکٹ میچ کہتے ہیں۔ اس میں ایک ٹیم کو 20 اوور کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔“
رادھا نے پوچھا: ”سر ! کیا اس میں بھی ہندوستان نے کوئی کرکٹ عالمی کپ جیتا ہے ؟“
استاد نے بتایا: ” کیوں نہیں 2007 میں کھیلا جانے والا پہلا، ٹونٹی 20 کرکٹ عالمی کپ ہندوستان نے ہی جیتا تھا۔ اس وقت بھی مہندر سنگھ دھونی ہی کپتان تھے۔ اس کے بعد 2024 میں روہت شرما کی کپتانی میں دوسری بار ٹونٹی 20 عالمی کپ ہندوستان نے جیتا۔“
سر ! کیا خواتین کے بھی کرکٹ میچ ہوتے ہیں؟“ رضیہ نے ایک دم سوال کیا۔
استاد: ” کیوں نہیں! جس طرح مرد کرکٹ کھیلتے ہیں اور ان کے بیچ ہوتے ہیں اسی طرح خواتین بھی کرکٹ کھیلتی ہیں اور ان کے درمیان بھی مقابلے ہوتے ہیں۔
ہمارے ہندوستان کی مشہور خواتین کرکٹ کھلاڑیوں میں متھالی راج، ہرمن پریت کور، اسمرتی مندھانا، دپتی شرما، جھولن گوسوامی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔“
بچوں نے کرکٹ کے بارے میں اچھی خاصی معلومات حاصل کر لیں۔
استاد: "بچو! خیال رہے کہ کھیل ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔ ہمیں کھیل کے ذریعے اپنے جسم کو چست ، درست اور تندرست رکھنا چاہیے تا کہ ہم پڑھائی پر زیادہ توجہ دے سکیں۔“