6
مشروم
اسکول میں کھانے کے وقفے کے دوران بچوں کا غل غپاڑا جاری تھا۔ اکثر بھاگ دوڑ اور کھیل کو د میں مگن تھے لیکن کچھ بچے باتوں میں مصروف تھے۔ جب کہ کچھ بچے کھانے کا مزہ لے رہے تھے۔ اسکول میں مل جل کر کھانے والے بچوں کے خوب مزے ہوتے ہیں۔ روزانہ کئی قسم کے ذائقے چکھتے ہیں۔ کبھی کبھار نئی نئی چیزیں کھانے کوملتی ہیں۔
آج بھی ایسا ہی دن تھا۔ کیرتی مشروم بریانی لائی تھی۔ سبھی دوستوں نے خوب مزے لے کر کھائی۔ ثنا نے باقی بچی بریانی پہ قبضہ کر لیا۔ ساچی ڈبہ چھیننے اس کے پیچھے دوڑی۔ کھانے کا وقفہ ختم ہو چکا تھا اور اشوک سر کمرۂ جماعت میں داخل ہو گئے۔ سب بچے ادب کے ساتھ کھڑے ہو گئے لیکن اس چھینا جھپٹی میں شنا اور ساچی استاد کو نہیں دیکھ سکیں ۔ سبھی بچے ہنسنے لگے۔
اشوک سر نے پوچھا: کیا بات ہے؟
آصف نے سارا ماجر ابتایا اور کہا کہ یہ دونوں مشروم بریانی کے لیے لڑ رہی ہیں۔“ استاد محترم نے ہنستے ہوئے پوچھا: ” شنا! ساچی ! بتائیے کہ مشروم کیا ہے؟“
ثنا : مشروم ایک قسم کی فنگس ہے جو چھوٹی چھتری کی طرح نظر آتے ہیں۔ یہ زمین یا پرانے پودوں پر اُگتے ہیں۔ مشروم کے پتے یا جڑیں نہیں ہوتیں جیسے پودوں کی ہوتی ہیں۔ یہ جنگلوں، باغوں یا درختوں پر پائے جاتے ہیں۔
فرحان : (حیرت سے) یعنی مشروم فنگس ہے!
اشوک سر : جی ہاں! لیکن عام پیڑ پودوں اور مشروم میں بہت فرق ہے ۔ پہلا یہ کہ عام پیڑ پودوں میں جڑ، تنا، پیتی، چھال، پھل اور پھول ہوتے ہیں لیکن مشروم میں یہ سب کچھ نہیں ہوتا۔ ان کی شکل پودوں سے الگ اور منفرد ہوتی ہے۔ ان میں سے بعض اس قدر چھوٹے یا باریک ہوتے ہیں کہ انھیں خورد بین کی مدد سے ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ عمر : سر ! کیا ہم مشروم کی کھیتی نہیں کر سکتے؟
شوک سر جی! جی! کیوں نہیں، میں نے کہا بیش تر فنگسی مشروم خود رو ہوتے ہیں۔ لیکن اب دنیا بھر میں مشروم کی کاشت ہو رہی ہے۔ ہمارے ملک میں بھی ہما چل پردیش، پنجاب اور بہار کے کسان بڑے پیمانے پر مشروم کی کاشت کر رہے ہیں۔
ونود : لیکن سر ! میری دادی تو انھیں کھانے سے منع کرتی ہیں۔ وہ انھیں سانپ کی چھتری کہتی ہیں۔ اسے نگر متا بھی کہتی ہیں۔ (سب لوگ ہنستے ہیں۔ ونود بھی ہنسنے لگتا ہے)
شوک سر : (مسکراتے ہوئے) وہ آپ کی حفاظت کے لیے ایسا کہتی ہیں کیوں کہ ہر مشروم کھانے لائق نہیں ہوتا۔ مشروم کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ہی مشروم غذا کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس اعتبار سے انھیں دو قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ غذائی اور زہریلے۔ ظاہر ہے کہ زہر یلے مشروم غذا کے طور پر استعمال نہیں ہو سکتے ۔ بازار میں ملنے والے مشروم غذائیت سے بھر پور ہوتے ہیں۔ مشروم کی چار مقبول
قسمیں ہیں جیسے بٹن یا یورپین مشروم، جاپانی مشروم ، چینی مشروم اور اوکسٹر مشروم۔ ثنا : اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم احتیاط کے ساتھ مشروم کو کھا سکتے ہیں۔ میں نے تو آج پہلی مرتبہ کھایا ہے۔ بہت مزے دار تھا۔ (سب بچے ہنستے ہیں)
اشوک سر : جی ہاں ! آپ نے پہلی مرتبہ کھایا ہو گا۔ مشروم کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے لوگوں کو مشروم کے فائدے معلوم ہو رہے ہیں۔ ویسے ویسے کھانے میں ان کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ مشروم کی بڑھتی کھپت کو دیکھ کر میدانی مشروم کی کھیتی باڑی عام ہو رہی ہے۔ اس کی کھیتی اکتوبر سے مارچ کے درمیان ہوتی ہے۔ ہندوستان میں میسور
کے سینٹرل فوڈ اینڈ ٹیکنالوجیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں مشروم کی مصنوعی کاشت بھی ہو رہی ہے۔
دانش سر ! آپ نے ہمیں مشروم کے بارے میں کافی کچھ بتا دیا۔ بس میں یہ اور جاننا چاہتا ہوں کہ غذائیت کے اعتبار سے مشروم کھانا کیسا ہے؟
اشوک سر : صحت اور تندرستی کے اعتبار سے مشروم بے حد مفید اور مکمل غذا ہے۔ اس میں شوگر کی مقدار کم ہوتی ہے، اس لیے یہ ذیا بیطس (شوگر) کے مریضوں کے لیے بھی مفید ہے ۔
مشق
پڑھیے اور سمجھیے
سوچیے اور بتائیے
- وقفے کے دوران بچوں کے غل غپاڑے کی خاص وجہ کیا تھی؟ __________________
- اشوک سر کلاس میں داخل ہوئے تو بچے کیوں ہنسنے لگے؟ __________________
- ثنا نے مشروم کے بارے میں کیا بتایا؟ __________________
- عام پیڑ پودوں اور مشروم میں کیا فرق ہے؟ __________________
- ہمارے ملک میں مشروم کی کاشت کن کن علاقوں میں ہوتی ہے؟ __________________
- مشروم کی چار مقبول قسمیں کون کون سی ہیں؟ __________________
- غذائیت کے اعتبار سے مشروم کھانا کیسا ہے؟ __________________
خالی جگہوں میں مناسب لفظ چن کر بھریے
مفید غذائیت خودرو مشروم جڑیں زہریلے
- کرتی ___ بریانی لائی تھی۔
- بازار میں ملنے والے مشروم ____ سے بھر پور ہوتے ہیں۔
- بیش تر فنگسی مشروم ____ ہوتے ہیں۔
- ____ مشروم غذا کے طور استعمال نہیں ہو سکتے۔
- صحت اور تندرستی کے اعتبار سے مشروم بے حد ___ اور مکمل غذا ہے۔
مثال کے مطابق واحد لکھیے
| دوستوں | دوست | چیزیں | چیز | بچہ | بچہ |
| جنگوں | جڑیں | ذائقے | |||
| باغوں | قمیں | فائدے | |||
| مریضوں | چھائیں | زہریلے |
نیچے دیے ہوئے حروف میں سے صحیح حرف کو خالی جگہ میں بھریے
جو اور لیکن سے کہ
- بچے بھاگ دوڑ ___ کھیل کود میں مگن تھے۔
- کچھ بچے باتوں میں مصروف تھے ___ کچھ بچے کھانے کا مزہ لے رہے تھے۔
- مشروم ایک قسم کی فنگس ہے ___ چھوٹی چھتری کی طرح نظر آتے ہیں۔
- بیش تر فنگسی مشروم خودرو ہوتے ہیں ___اب دنیا بھر میں مشروم کی کاشت ہو رہی ہے۔
- مشروم کی کھیتی اکتوبر ___ مارچ کے درمیان ہوتی ہے۔
درج ذیل الفاظ کو جملوں میں استعمال کیجیے
- مگن ______________
- بریانی _____________
- غذا ______________
- خودرو _____________
- مشروم _______________
سبق میں سے ایسے جملے تلاش کر کے لکھیے جن میں زمانہ ماضی اور زمانہ حال ہو
حصہ 'الف' اور 'ب کے صحیح جوڑ ملائیےسبق م اور زمانہ حال ہو
| الف | ب |
![]() |
ٹنڈے |
![]() |
لوبيا |
![]() |
اروی |
![]() |
مشروم |
![]() |
شلجم |
![]() |
بند گوبھی |
بلند آواز سے پڑھیے اور خوش خط لکھیے
- غل غپاڑا ______________
- قبضه _____________
- فنگس ______________
- خورد بین _____________
- ذیا بیطس _______________
کیجیے
●آپ کا پسندیدہ کھانا کون سا ہے؟ اس کے بارے میں لکھیے
●آپ اسکول کے وقفے میں کیا کیا کرتے ہیں؟
●مشروم کی تصویر بنا کر رنگ بھر لیے
لطیفہ چٹکلہ
منا : امی جان! یہ لیمو کا پودا اتنا بڑا ہو گیا ہے آخر اس میں لیمو کب لگیں گے؟
امی : انتظار کرو بیٹا، صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔
منا : مگر لیمو تو کھٹا ہوتا ہے۔
اساتذہ کے لیے ہدایات
- بچوں کو فنگس اور پودوں سے متعلق مزید تفصیل بتائی جا سکتی ہے۔
- آس پاس قدرتی طور پر اگنے والے مشروم بچوں کو دکھائے جاسکتے ہیں۔
- بچوں کو ان کے آس پاس قدرتی مشروم تلاش کرنے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔
صرف پڑھنے کے لیے
روند رجین
روندر جین هندوستان کے معروف موسیقار، گلوکار اور نغمہ نگار تھے۔ وہ 28 فروری 1944 کو اتر پردیش کے شہر علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔ وہ سات بھائی بہن تھے۔ ان کے والد اندرمنی جین سنسکرت کے بڑے پنڈت اور آیوروید آچاریہ تھے۔ والدہ کا نام کرن جین تھا۔ روند ر ان کی تیسری اولاد تھے ۔ روندر جین کی اہلیہ کا نام دیو یا جین اور بیٹے کا نام ایوشمان جین ہے۔
روند رجین کا شمار ایسے فن کاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنی جسمانی معذوری کے باوجود اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے دنیا کو حیران کر دیا۔ پیدائش سے ہی نابینا ہونے پر بھی ہمت سے کام کی شروعات کی۔ ان کا یقین تھا کہ انسان کی اصل خوبی اس کی محنت اور لگن میں ہے، نہ کہ اس کی جسمانی حالت میں۔ روندر جین بالی ووڈ کا سفر شروع کرنے سے پہلے جین بھجن گاتے تھے ۔ ہندی فلموں میں ان کے گیت خوب مقبول ہوئے ۔ ان کے چاہنے والوں کا ایک بہت بڑا حلقہ ہے۔
روندر جین نے اپنے کیریئر کا آغاز آل انڈیا ریڈیو کے پروگراموں سے کیا۔ اس کے بعد وہ فلمی دنیا میں آئے اور بالی ووڈ کی متعدد مشہور فلموں میں موسیقی دی۔ روند جین نے را مانند ساگر کی ہدایت میں ڈرامائن، سیریل میں بھی سنگیت دیا تھا جس کی وجہ سے وہ ہندوستان کے گھر گھر میں پہچانے جانے لگے تھے۔
روند رجین کو قدرت نے دنیا دیکھنے کا سکھ تو نہیں دیا لیکن اس کے باوجود انھوں نے وہ سب کچھ حاصل کیا جس کو پانا کسی عام آدمی کے لیے آسان نہیں۔ روند رجین کو ہندی کے ساتھ بنگلہ ،سنسکرت ، انگریزی اور اردو زبان پر عبور حاصل تھا۔
روند رجین کی موسیقی میں ہندوستانی کلاسیکل اور لوک گیت کے عناصر کی جھلک تھی، جو ان کی تخلیقی صلاحیتوں اور روایتی موسیقی سے گہری محبت کا مظہر تھی۔ ان کے گانوں میں سادگی اور دلکشی تھی ، جس کی وجہ سے ان کے لکھے گئے نغمے لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتے تھے۔ انھیں 1985 میں فلم رام تیری گنگا میلی کے لیے فلم فیئر انعام برائے بہترین موسیقار ملا تھا۔ 2015 میں ان کو پدم شری انعام سے نوازا گیا تھا۔
روند رجین کی شخصیت میں ایک خاص قسم کی شائستگی اور عاجزی تھی، جس کا اثر ان کی موسیقی اور زندگی کے ہر پہلو میں دکھائی دیتا ہے۔ وہ موسیقی کو روح کی غذا سمجھتے تھے اور ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ موسیقی انسان کے دل کو جوڑنے اور روحانی تسکین دینے کا ذریعہ ہے۔ روند رجین کو ہندوستانی سینما کے خوب صورت اور ، اور جذباتی گیتوں کے لیے ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔
روندر جین کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ معذوری کبھی بھی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ ان کی زندگی ایک عمدہ مثال ہے کہ اگر انسان میں لگن اور محنت کرنے کا جذبہ ہو تو وہ سب کچھ حاصل کر سکتا ہے۔ 9 اکتوبر 2015 جمعہ کے دن ممبئی میں روند رجین کا انتقال ہو گیا۔





