Skip to content
Sitaar Urdu







7 دریا کنارے چاندنی


کیا چھا رہی ہے چاندنی

اٹھلا رہی ہے چاندنی

دریا کی اک اک لہر کو

نہلا رہی ہے چاندنی


لہرا رہی ہے چاندنی!


دریا کنارے دیکھنا

پانی میں تارے دیکھنا

تاروں کو دامن میں لیے

کیا کیا نظارے دیکھنا


دکھلا رہی ہے چاندنی!

1

ٹھنڈی ہوا خاموش ہے

اجلی فضا خاموش ہے

خاموش ہے سارا جہاں

ہر اک صدا خاموش ہے ۔


اور چھا رہی ہے چاندنی!


اے لو وہ بدلی آگئی

اور چاندنی پر چھا گئی

باہر نکلنے کے لیے

پھر آئی پھر کترا گئی


گھبرا رہی ہے چاندنی!


لو رات کے منظر چلے

تارے بھی گھل گھل کر چلے

بیٹھے ہوئے یاں کیا کریں

اختر ہم اپنے گھر چلے


اب جا رہی ہے چاندنی!

-اختر شیرانی

2

مشق

3

پڑھیے اور سمجھیے

اٹھلانا اترانا
أجلى فضا صاف ستھری فضا
فضا ماحول
صدا آواز
بدلی بادل کا ٹکڑا
کترا جانا بیچ کر نکل جانا، بچنا

سوچیے اور بتائیے

  1. شاعر نے یہ کیوں کہا کہ چاندنی لہرا رہی ہے؟

  2. دریا کے کنارے چاندنی کے کن کن نظاروں کا ذکر کیا گیا ہے؟

  3. کون کون سی چیزیں خاموش ہیں ؟

  4. چاندنی کیوں گھبرا رہی ہے؟

  5. اگر آپ چاندنی میں ہوں تو آپ کیا کریں گے؟

مثال کے مطابق لفظوں کے آخری حرف کو ہٹا کر پڑھیے اور لکھیے

دریا پانی دامن صدا بدلی تارے
دری

مثال کے مطابق درج ذیل لفظوں کے متضاد لکھیے

الفاظ ٹھنڈا اُجلی باہر آگ بیٹھنا پڑھنا زمین
متضاد گرم

مثال کے مطابق دیے گئے لفظوں کی مدد سے نیا لفظ بنائیے۔ جیسے روشن سے روشنی

4
چاند
جامن
نی
بیگن
راگ

پڑھیے ، سمجھے اور لکھیے

اٹھلانا، نہلانا، دکھلانا، چھانا، کترانا، جانا، یہ سبھی ایسے الفاظ ہیں جن سے کسی کام کا ہونا یا کرنا ظاہر ہوتا ہے۔ ایسے لفظوں کو فعل کہتے ہیں۔

فعل ایسے لفظوں کو کہتے ہیں جن سے کسی کام کا کرنا یا ہونا ظاہر ہوتا ہے

●درج ذیل مصرعوں کو مثال کے مطابق ان کے سامنے لکھے گئے فعل کی صحیحشکل کے ساتھ مکمل کیجیے

مثال : گھبرا رہی ہے چاندنی (گھبرانا)

  • ______رہی ہے چاندنی (اٹھلانا)
  • ______رہی ہے چاندنی (نہلانا)
  • ______رہی ہے چاندنی (دکھلانا)
  • ______رہی ہے چاندنی (لہرانا)
  • ______رہی ہے چاندنی (کترانا )
  • ______رہی ہے چاندنی (جانا)

اے لو وہ بدلی چھا گئی
یہاں اے لو یہ ان لفظوں میں سے ہے جو اس زبان کے بولنے والوں کے کثرت استعمال کی وجہ سے عام بول چال میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے الفاظ روزمرہ کہلاتے ہیں۔ جیسے آئے دن ، دن بدن، روز بروز ، کبھی کبھار وغیرہ۔

●آپ بھی روزمرہ کے کچھ لفظ معلوم کر کے لکھیے




●درج ذیل میں خط کشیدہ لفظوں کو غور سے پڑھیے

  • خاموش ہے سارا جہاں
  • ہر اک صدا خاموش ہے
  • اس پہ رکھے خدا
  • اپنی رحمت سدا

ان مثالوں میں صدا اور سدا دونوں ایک ہی آواز کے لفظ ہیں لیکن دونوں لفظوں کا املا اور معنی و مفہوم الگ ہیں۔ صدا کے معنی ہے آواز اور سدا کے معنی ہے ہمیشہ

ایسے دو لفظ جو آواز کے لحاظ سے ایک جیسے ہوں، انھیں ہم آواز لفظ کہتے ہیں

لطیفہ چٹکلہ

ایک صاحب تیرنا سیکھنے تالاب میں اُترے لیکن بد قسمتی سے آپ کا پیر پھسل گیا اور دو تین غوطے کھا گئے۔ بس باہر آ کر بولے : دو قسم خدا کی جب تک تیرنا نہ سیکھ لوں گا تب تک تالاب کے اندر ہرگز کبھی پیر نہ دھروں گا۔“

کیجیے

●تصویر میں جو منظر دکھایا گیا ہے اس کے بارے میں چند جملے لکھیے

5



اساتذہ کے لیے ہدایات

  • اس نظم کی مناسبت سے اساتذہ طلبا سے کوئی اور نظم تلاش کر کے لانے کے لیے کہہ سکتے ہیں جس میں کوئی دل چسپ منظر بیان کیا گیا ہو ۔
  • بچوں سے اس نظم کے کسی ایک پسندیدہ بند سے متعلق اظہار خیال کرنے کے لیے بھی کہا جا سکتا ہے۔
  • دریا کنارے بیٹھ کر بچے کیا کیا نظارے دیکھتے ہیں۔ اس پر ان سے کلاس روم میں گفتگو کرائی جاسکتی ہے۔