Skip to content
Sitaar Urdu







8 بہادر روپا


اسکول میں ایک نئی لڑکی نے داخلہ لیا۔ ٹیچر نے کلاس میں اس کا تعارف کرایا۔ یہ روپا ہے، یہ اسی کلاس میں پڑھے گی۔“ پھر وہ روپا سے بولیں، روپا تمھاری ہم جماعت تمھیں بتا دیں گی کہ وہ کون کون سے سبق پڑھ چکی ہیں۔ کوئی مشکل آنے پر وہ تمھاری مدد بھی کریں گی۔

روپا بہت خوب صورت تھی۔ وہ بولتی بہت کم تھی ۔ اس کی ہم جماعت لڑکیاں اس سے دوستی کرنا چاہتی تھیں لیکن وہ ان سے دور دور ہی رہتی۔ لڑکیوں نے بھی دو تین دن تو اس سے بات کرنے کی کوشش کی پھر اپنی اپنی سہیلیوں میں مست ہو گئیں۔ انھیں لگا کہ روپا بہت مغرور لڑکی ہے۔ وہ کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتی ہے۔

1

ایک دن اسکول میں پکنک کا پروگرام بنا سب نے سو چار و پا نہیں جائے گی لیکن پکنک کے دن رو پا ہی سب سے پہلے اسکول کے گیٹ پر کھڑی تھی۔

پکنک کی جگہ تھی ایک چھوٹی سی جھیل کا کنارہ ۔ اونچے اونچے درختوں سے گھری یہ جگہ پکنک کے لیے بہت اچھی تھی۔ جھیل کے چاروں طرف پھولوں کی کیاریاں تھیں۔ جنگلی پھولوں کی بھی کوئی کمی نہ تھی۔ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے اونچی نیچی سطح پر پھیلے رنگ برنگے پھول اور بیلیں جھیل کی خوب صورتی کو دوبالا کر رہی تھیں۔

لڑکیوں کے وہاں پہنچتے ہی ان کی ہنسی اور قہقہے سے ماحول گونجنے لگا۔ سبھی ادھر اُدھر دوڑ کر اپنے لیے اچھے سے اچھا مقام تلاش کرنے لگیں۔ ٹیچر نے ایک خوب صورت جگہ دیکھ کر دریاں بچھوا دیں۔ کچھ لڑکیاں وہیں بیٹھ کر ہنسی مذاق کرنے لگیں۔ کچھ ادھر اُدھر گھوم کر قدرت کے خوب صورت نظارے سے لطف اندوز ہونے لگیں۔

2

روپا آج بھی اکیلی تھی۔ وہ اپنی ہم جماعت لڑکیوں سے الگ گھوم رہی تھی۔ وہ خوب صورت پھولوں کو دیکھتی، ان کی طرف ہاتھ بڑھاتی اور بڑھا ہوا ہاتھ پھولوں کو چھو کر پیچھے آجاتا۔ وہ پھولوں کی کیاریوں سے ہوتی ہوئی بیلوں کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔

رو پادل ہی دل میں اس جگہ کی خوب صورتی کی تعریف کر رہی تھی۔ اچانک دھپ کی آواز ہوئی اور ایک چیخ گونج گئی۔ روپا اُٹھ کر تیزی سے آواز کی طرف دوڑی جھیل کے ایک کنارے پر اسے سفید کپڑا سا دکھائی دیا۔ وہ اُدھر ہی دوڑنے لگی۔ پاس پہنچتے ہی اسے بچاؤ، بچاؤ کی آواز سنائی دی۔ اس نے دیکھا کہ اس کی ہم جماعت شانتی جھیل میں گر پڑی ہے۔

حقیقت میں جھیل کے اس جگہ پر پانی کم اور کیچڑ زیادہ تھی۔ ایک طرح سے جھیل کا وہ حصہ دلدل بنا ہوا تھا اور لوگ اس طرف بہت کم جاتے تھے۔ روپانے زور سے آواز

لگائی بچاؤ بچاؤ اس نے شانتی سے کہا تم اطمینان سے کھڑی رہو۔ ابھی میں کسی کو بلا کر لاتی ہوں لیکن شانتی ہاتھ پاؤں پٹک رہی تھی اور کیچڑ میں بھی دھنستی چلی جارہی تھی۔ روپانے ایک لمحہ کچھ سوچا اور اپنے تھیلے میں سے پھل کاٹنے کا چاقو لے کر پاس کی بیلوں کو جلدی جلدی کاٹنے لگی۔ جیسے ہی بیلیں کٹیں اس نے اسے زور سے شانتی کی طرف پھینکا اور چلائی اسے پکڑ لو شانتی ! اسے دونوں ہاتھوں سے کس کر پکڑلو۔“

شانتی نے بیل پکڑ لی اور وہ کیچڑ میں پاؤں مارنے لگی۔ روپانے کہا: ”اسے پکڑے رہو ، پاؤں مت مارو، میں تمھیں دھیرے دھیرے اپنی طرف کھینچوں گی۔“ روپا بیل کو اپنی طرف کھینچنے لگی، اس کے ہاتھ جگہ جگہ سے کٹ رہے تھے۔ اس کا کرتا بھی پھٹ گیا تھا لیکن اس نے کسی بات کی پروا نہ کی۔ شانتی کو باہر لانا کوئی آسان کام نہ تھا لیکن روپا نے ہمت نہیں ہاری اور دھیرے دھیرے اسے کھینچتی رہی۔ شانتی کو اب اپنے بچنے کی

3 4

امید ہو گئی۔ وہ اطمینان سے بیل کو پکڑے رہی اور آگے آگے گھٹتی گئی۔ بیچ بیچ میں روپا بچاؤ، بچاؤ بھی چلاتی رہی۔

لوگوں نے بچاؤ، بچاؤ کی آواز سنی تو وہ اُدھر دوڑے۔ روپا بہت تھک چکی تھی، اس کے جسم سے پسینہ بہہ رہا تھا۔ اس کا منھ لال ہو رہا تھا لیکن وہ بیل کو کھینچے جا رہی تھی۔ اسی وقت ٹیچر اور جھیل کا ایک چوکیدار وہاں پہنچ گئے۔ انھوں نے روپا کے ہاتھوں سے بیل لے لی اور شانتی کو کھینچنے لگے۔ شانتی کیچڑ سے نکل آئی اور گھسٹتی ہوئی سوکھی زمین پر آپڑی۔ روپا بے ہوش ہو گئی تھی۔ اتنے میں دیگر لڑکیاں بھی وہاں پہنچ گئیں۔

روپا کے منھ پر پانی کے چھینٹے مارے گئے۔ وہ ہوش میں آگئی۔ شانتی کا جسم کیچڑ سے لت پت تھا۔ اسے بھی کئی کھروچیں لگی تھیں لیکن وہ ہوش میں تھی۔ شانتی

سب کو پوری بات بتا رہی تھی اور سبھی لڑکیاں روپا کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔

ٹیچر نے روپا کی پیٹھ تھپتھپائی اور شانتی نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: آج تم نہ ہوتی تو میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ۔ ہم تمھیں مغرور سمجھتے تھے پر تم تو سچی دوست نکلی۔“

روپا نے شرماتے ہوئے کہا: نہیں نہیں ایسا نہیں ہے۔ مجھے کسی سے بات کرتے وقت جھجھک ہوتی ہے۔“ تبھی ایک لڑکی بول اُٹھی: ”ہاں اب ہم تمھیں مغرور نہیں شرمیلی کہا کریں گے۔“

سبھی لڑکیاں قہقہہ لگا کر ہنسنے لگیں اور فضا پھر سے خوش گوار ہوگئی۔

مشق

5

پڑھیے اور سمجھیے

تعارف جان پہچان
ہم جماعت ایک ہی کلاس میں پڑھنے والے
مست ہونا خوشی میں ڈوب جانا
مغرور گھمنڈی
پکنک کسی سیاحتی مقام کی سیر
جھیل بڑا تالاب
دو بالا دو گنا، بڑھ چڑھ کر
قہقہہ مارنا زور زور سے ہنسنا
دلدل وہ زمین جو پانی کے اثر سے اتنی نرم اور لیس دار ہو کہ پاؤں دھنستا چلا جائے
پروا خیال ، دھیان
چوکیدار وہ شخص جسے حفاظت کے لیے رکھا جائے
کھروچیں زخم (کھروچ کی جمع)
لت پت سنا ہوا، آلودہ

سوچیے اور بتائیے

  1. ٹیچر نے کلاس روم میں روپا کا تعارف کیوں کرایا ؟

  2. پکنک کے دوران شانتی کے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا؟

  3. روپانے شانتی کو کس طرح بچایا؟

  4. جھیل کے آس پاس کیسا ماحول تھا ؟

  5. روپا کی بہادری دیکھ کر ہم جماعت لڑکیوں نے اس سے کیا کہا؟

دیے گئے الفاظ کے متضاد لکھیے

الفاظ نیا مشکل ہنسنا اچھا امید زمین
متضاد پرانا

دیے گئے الفاظ کو جملوں میں استعمال کیجیے

  • تعارف ____________
  • جھیل ____________
  • قدرت ____________
  • حقیقت ____________
  • حسرت ____________

دیے گئے الفاظ کے ہم معنی ہندی یا اپنی زبان میں لکھیے

اردو مغرور تعارف ہم جماعت مدد درخت خوب صورت
ہندی / مادری گھمنڈی

درست املا کی نشان دہی کیجیے اور سامنے لکھیے

زمین   ظمین   ذمین   _________

لڑکی   لڑقی   لڑکی   _________

دوسط   دوست   دوصت   _________

شفید   صفید   سفید   _________

لمحہ   لمہہ   لمحا   _________

بے جوڑ لفظ کی نشان دہی کر کے اس پر دائرہ بنائیے

استاد معلم پھول مدرس

جھیل بیل کیاری پھول

دلدل سمندر کیچڑ مٹی

جھیل دریا سمندر درخت

جنگل ہنسی قہقہہ مسکراہٹ

خالی جگہوں کو مناسب حرف ربط سے بھر یے

کی کو نے سے کا

  • شانتی اپنی ہم جماعت لڑکیوں ____ الگ گھوم رہی تھی۔
  • روپا اُٹھ کر آواز ___ طرف دوڑی۔
  • جھیل ___ ایک چوکیدار وہاں پہنچ گیا۔
  • ٹیچر ___کلاس میں روپا کا تعارف کرایا۔
  • آج سے ہم آپ ___ شرمیلی کہا کریں گے۔

کیجیے

●پکنک کے دوران آپ کو کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے





●کیا آپ کو لگتا ہے کہ رو پانے شانتی کو بچانے کے لیے صحیح قدم اٹھایا ، اگر آپ روپا کی جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟





●جھیل کے منظر کی تصویر میں رنگ بھریے

6

اساتذہ کے لیے ہدایات

  • کلاس کے بچوں سے ان کی سیر یا پکنک کی روداد بیان کرنے کو کہا جا سکتا ہے۔
  • طلبا سے ان کی بہادری کے کارنامے سنے جاسکتے ہیں۔
  • بچوں کو آس پاس کے کسی خاص مقام کی سیر پر لے جایا جا سکتا ہے۔

●روپا کو گھر سے اسکول تک پہنچانے میں مدد کیجیے

7

پہیلی

ہری ہری پانی میں گھولی
لال رنگ جب مٹھی کھولی