12
چاول کے دس دانے
کسی ملک میں ایک بادشاہ تھا جو بڑا چالاک اور لالچی تھا۔ وہ ہر سال اپنی رعایا سے چاول وصول کرتا اور شاہی گودام میں جمع کرادیتا۔ کئی برس تک دھان کی فصل بہت اچھی ہوئی اور بھولے بھالے کسان زیادہ تر چاول بادشاہ کے آدمیوں کو دیتے رہے۔ اپنے پاس صرف کھانے کے لیے بچا لیتے تھے۔ بادشاہ اور اُس کے آدمی اُن سے وعدہ کرتے کہ ہم تمھارے لیے چاول جمع کر کے رکھ رہے ہیں۔ اگر کبھی فصل خراب ہوئی تو یہ چاول تمھیں بانٹ دیے جائیں گے۔“
ایک سال دھان کی فصل اچھی نہیں ہوئی۔ لوگوں کے پاس بادشاہ کو دینے کے لیے چاول نہیں تھے اور نہ ہی اپنا پیٹ بھرنے کے لیے۔ بادشاہ کے کچھ نیک دل وزیروں نے بادشاہ سے بہت منت سماجت کی کہ حضور آپ کے پاس جو چاول جمع ہیں کیوں نہ وہ لوگوں میں تقسیم کر دیے جائیں۔ آپ نے اس کا وعدہ بھی کیا تھا۔
نہیں نہیں“ بادشاہ نے کہا: ” کیا پتہ یہ قحط کتنے برس تک چلے۔“ وقت گزرتا گیا اور لوگ بھوک سے مرنے لگے۔ لیکن بادشاہ نے چاول نہیں بانٹے۔ ایک دن بادشاہ نے اپنے خوشامدی وزیروں کو کھانے پر مدعو کیا۔ دعوت کے لیے گودام سے دو بورے چاول نکالے گئے اور ہاتھی پر شاہی محل کی طرف روانہ کیے گئے۔ راستے میں عقیلہ نام کی ایک
لڑکی نے دیکھا کہ بورے کے سوراخ سے چاول گر رہے ہیں۔ عقیلہ بھاگ کر اُس طرف گئی اور اپنے دوپٹے میں چاول اکٹھا کرتی ہوئی محل تک جا پہنچی۔ وہ بہت ہوشیار تھی۔ اُس نے تھوڑی دیر رک کر کچھ سوچا اور بادشاہ کے محل میں داخل ہونے لگی۔ دربان نے اندر جانے سے منع کرتے ہوئے کہا: ”تم چاول چرا اکر کہاں لے جارہی ہو۔“
عقیلہ بولی: ”میں نے چوری نہیں کی ہے۔ یہ چاول تو ایک بورے میں سے گر رہے تھے، میں اُنھیں بادشاہ کو دینے آئی ہوں۔“ جب بادشاہ نے لڑکی کے بارے میں سنا تو اُسے اپنے پاس بلایا اور کہا: تم نے میرے چاول بے کار جانے سے بچائے اور اُنھیں لوٹا بھی رہی ہو۔ مجھے اس بات سے بڑی خوشی ہوئی۔ بتاؤ میں تمھیں کیا انعام دوں؟ تم اس وقت جو مانگو گی تمھیں دیا جائے گا۔“
عقیلہ بولی: ”حضور ! مجھے کچھ نہیں چاہیے لیکن اگر آپ کچھ دینا ہی چاہتے ہیں تو مجھے چاول کے دس دانے دے دیجیے۔“
بادشاہ نے کہا: ”صرف دس دانے! میں تمھیں کوئی بڑا انعام دینا چاہتا ہوں، آخر میں ایک بادشاہ ہوں۔“
عقیلہ نے کہا: ”ٹھیک ہے اگر آپ انعام دینا ہی چاہتے ہیں تو آپ مجھے چاول کے دس دانے دیجیے، پھر دس دن تک ہر روز پچھلے دن دیے گئے دانوں کے دس گنے دانے دیتے جائیں۔“
بادشاہ نے کہا: ”اب بھی تم کم مانگ رہی ہو۔ خیر تمھاری خواہش پوری کی جائے گی۔“ اس دن عقیلہ کو چاول کے دس دانے دیے گئے۔ دوسرے دن اُسے سو دانے اور تیسرے دن ایک ہزار دانے دیے گئے۔ اب اس کے پاس کل ملا کر ایک ہزار ایک سو دس دانے ہو گئے۔ یعنی مٹھی بھر چاول ۔ بادشاہ نے سوچا یہ لڑکی ایمان دار تو ہے لیکن سمجھ دار نہیں ہے۔ -
اگر وہ اپنی اوڑھنی میں اکٹھا کیے ہوئے چاول لے جاتی تو زیادہ فائدے میں رہتی۔“ چوتھے دن عقیلہ کو دس ہزار دانے ملے یعنی دو کٹورے چاول۔ پانچویں دن اُسے چار کٹورے چاول ملے یعنی چار چھوٹی تھیلیاں ۔ چھٹے دن اُسے چاول کے اتنے دانے دیے گئے جس سے ایک بڑی بوری بھری جا سکتی تھی۔ ساتویں دن عقیلہ کو اتنے دانے دیے گئے یعنی دس بڑی بوریاں۔ یہ چاول اسے دس شاہی گھوڑوں پر لاد کر بھیجے گئے۔ آٹھویں دن عقیلہ کو چاول کی سو بوریاں دی گئیں ، سو بوریاں جن میں اتنے دانے تھے جو پچاس اونٹوں پر لاد کر بھیجی گئیں۔ بادشاہ کو بڑی فکر ہوئی اور وہ سوچ میں پڑ گیا کہ چاول کے دس دانے تو واقعی بہت بڑھ گئے ہیں۔
لیکن ایک اچھے بادشاہ کی طرح میں بھی اپنا وعدہ پورا کروں گا۔ نویں دن عقیلہ کو دو شاہی گوداموں کے سارے چاول بھیجے گئے۔ بادشاہ کے پاس دینے کے لیے اب چاول بچے ہی نہ تھے۔
اُس نے عقیلہ سے کہا: ”میرے پاس تو اب کچھ بچا ہی نہیں، لیکن تم اتنے وو چاولوں کا کرو گی کیا ؟“ اس نے جواب دیا: ” میں انھیں بھوکوں اور غریبوں میں تقسیم کروں گی اور ایک بورا آپ کو بھی دوں گی۔ لیکن آپ کو وعدہ کرنا ہو گا کہ آئندہ آپ اتنے ہی چاول جمع کریں گے جتنی آپ کی ضرورت ہو۔“
میں وعدہ کرتا ہوں“ بادشاہ نے شرمندہ ہو کر کہا۔ اُس کے بعد وہ رعایا کی بھلائی چاہنے والا ایک مہر بان بادشاہ بن گیا۔
مشق
پڑھیے اور سمجھیے
سوچیے اور بتائیے
- بادشاہ رعایا سے کیا وعدہ کر کے چاول وصول کرتا تھا؟
- قحط پڑنے پر نیک دل وزیروں نے بادشاہ سے کیا درخواست کی ؟
- جب بڑا انعام دینے کا وعدہ کیا تو عقیلہ نے بادشاہ سے کیا کہا؟
- عقیلہ بادشاہ سے چاول وصول کر کے کیا کرنا چاہتی تھی؟
- عقیلہ کی باتوں کا بادشاہ پر کیا اثر ہوا؟
اس سبق سے پانچ واحد اور پانچ جمع الفاظ تلاش کر کے لکھیے
| واحد | |||||
| جمع |
درج ذیل صحیح بیان پر (✔) اور غلط بیان پر ( ✖ ) کا نشان لگائے
- بھولے بھالے کسانوں نے بادشاہ کے وعدے پر بھروسا کیا۔ ()
- قحط پڑنے پر بادشاہ نے رعایا میں چاول تقسیم کیے۔ ()
- بادشاہ عقیلہ کی چالا کی کو سمجھ چکا تھا۔ ()
- بادشاہ ایک بھلائی چاہنے والا مہر بان انسان بن گیا۔ ()
- بادشاہ کو عوام کی پریشانی اور بھوک مری کا احساس تھا۔ ()
پڑھیے ، سمجھیے اور لکھیے
ایک بادشاہ تھا وہ ہر سال رعایا سے چاول وصول کرتا تھا۔ بادشاہ اور اس کے آدمی ان سے وعدہ کرتے کہ ہم تمہارے لیے چاول جمع کر کے رکھ رہے ہیں۔
اوپر کے جملوں میں ”وہ ، ان سے ، اس کے ، ہم ، تمہارے ایسے لفظ ہیں جو بادشاہ ، رعایا اور بادشاہ کے آدمی کی جگہ استعمال ہوئے ہیں۔
ایسے الفاظ جو کسی اسم کی جگہ پر استعمال کیے جائیں انھیں ضمیر کہتے ہیں
●آپ سبق سے ایسے جملے تلاش کر کے لکھیے جن میں ضمیر کا استعمال ہوا ہو
دیے گئے جملوں میں لفظوں کی ترتیب درست کیجیے
- بھوک مرنے لگے سے لوگ ———
- چاول نے نہیں بانٹے بادشاہ ———
- ایک سال فصل کی چاول نہیں اچھی ہوئی ———
- سوراخ بورے کے سے گر رہے چاول ہیں ۔ ———
- بات اس سے خوشی بڑی ہوئی مجھے ———
مثال کے مطابق صحیح جوڑ ملائیے
| دو بورے | فصل |
| مہربان | محل |
| خوشامدی | چاول |
| اچھی | عقیلہ |
| شاہی | بادشاه |
| چالاک | وزیر |
دیے گئے لفظوں سے جملے بنائیے
- بادشاه—————
- رعايا—————
- گودام—————
- فصل—————
- دعوت—————
مثال کے مطابق دیے ہوئے لفظوں کے لیے صرف ایک لفظ لکھیے
- مثال:چالا کی کرنے والا ↔چالاک
- خوشامد کرنے والا↔ ________
- لانچ کرنے والا↔————
- کھیتی کرنے والا↔————
- مہربانی کرنے والا↔————
- بادشاہت کرنے والا↔————
کیجیے
- اپنے گھر کے افراد کے ساتھ بیٹھ کر ایک ایک مٹھی چاول گنیے اور ہر ایک کی مٹھی کے چاول کی تعداد لکھیے
| ——— | ——— |
| ——— | ——— |
| ——— | ——— |
| ——— | ——— |
- جس طرح عقیلہ نے غریبوں اور ضرورت مندوں میں چاول تقسیم کیے۔ کیا آپ نے بھی کوئی ایسا کام کیا ہے تو اسے لکھیے
پہیلی
ایک پھل اوپر سے ہرا اندر سے سینہ لال رس سے بھرا ہوا ہے سارا کھانے میں لگتا وہ پیارا
اساتذہ کے لیے ہدایات
- طلبا کو دھان کی کھیتی اور دھان سے چاول بنانے کے عمل کا ویڈیو دکھایا جا سکتا ہے۔
- دھان کے کھیت و کھلیان کی سیر کرائی جاسکتی ہے۔
- کھیت اور کھلیان میں کام کر رہے کسانوں سے طلبا کی بات چیت کرائی جاسکتی ہے۔
- مختلف فصلوں کی تصویریں بنوائی جاسکتی ہیں۔
صرف پڑھنے کے لیے
سات بھائی
ایک کسان تھا۔ اُس کے سات بیٹے تھے۔ اُس کی کھیتی اچھی تھی۔ وہ نیک تھا، سچا تھا۔ سب اُسے اچھا سمجھتے تھے مگر کچھ بڑے لوگ اُس سے جلتے تھے۔ اُنھوں نے اُس کے بیٹوں میں پھوٹ ڈال دی۔ لڑکے آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے ۔ باپ کا دل اس لڑائی سے بہت دُکھا۔ اُس نے ایک دن سات پتلی پتلی لکڑیوں کا ایک گٹھا باندھا۔ پھر ساتوں لڑکوں کو بلایا۔ پہلے بڑے لڑکے سے کہا: ” بیٹا اس گٹھے کو بیچ میں سے توڑ دو۔“ اُس نے بہت زور لگایا پر گٹھا نہ ٹوٹا۔
پھر دوسرے سے کہا: ” بیٹا تم توڑ دو۔“ اُس نے بھی بہت زور لگایا پر گٹھا نہ ٹوٹا۔ ایسے ہی باری باری دوسرے سب لڑکوں سے کہا۔ سب نے باری باری زور لگایا پر کٹھا نہ ٹوٹا۔
اب باپ نے رسی کاٹ دی۔ ہر ایک لڑکے کو ایک ایک لکڑی دے دی اور کہا کہ اب اپنی اپنی لکڑی توڑ دو۔ ساتوں نے چٹ چٹ اپنی اپنی لکڑی توڑ دی۔
باپ نے ہنس کر کہا: ”میرے پیارو! آنکھ کے تار و! دیکھو ، جب تک یہ ساتوں پتلی پتلی لکڑیاں ایک دوسری سے بندھی ہوئی تھیں تو کیسی مضبوط تھیں۔ جب الگ الگ ہو گئیں تو کیسی کمزور ہو گئیں۔ تم ساتوں بھائی جب تک آپسی محبت سے بندھے رہو گے، کوئی تمھارا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ جب لڑائی جھگڑا کر کے الگ الگ ہو جاؤ گے تو ہر ایک تم کو دبائے گا۔ میری اس وقت کی بات یاد رکھنا ۔“
-لوک کہانی