Skip to content
Sitaar Urdu







14 شام


3

سورج ڈوبا ہوا اندھیرا

دن کا غائب ہوا اُجالا

جلنے لگے دیے گھر گھر میں

چرخ بریں پر چمکے تارے

چڑیاں لینے لگیں بسیرا

تاریکی نے پردہ ڈالا

گرجا مسجد اور مندر میں

بے روغن ہیں روشن سارے

جنگل سے گھر آئے گوالے

جا پہنچے مزدور گھروں میں

دن میں کب آرام کیا ہے

نیند میں غافل ہو گئے بچے

ریوڑ اپنا اپنا سنبھالے

خوش خوش ہیں بیوی بچوں میں

خون پسینہ ایک کیا ہے

سو گئے لوری سنتے سنتے

-منشی جوالا پرشاد برق لکھنوی
3 3

مشق

پڑھیے اور سمجھیے

بسیرا گھونسلا، ٹھہرنے کی جگہ
تاریکی اندھیرا
دیا چراغ
چرخ آسمان
بریں بلند ، او پر
بے روغن بغیر تیل کے
گوالے گائے بھینس پالنے والے ۔
ریوڑ بھیڑ بکریوں کا گلہ ، جھنڈ
غافل بے پر وا، بے خبر
لوری وہ سریلے بول جو بچے کو سلانے کے لیے گیت کے طور پر ماں دھیمے سروں میں گاتی ہے

سوچیے اور بتائیے

  1. نظم میں شام ہونے کی کیا کیا نشانیاں بتائی گئی ہیں؟
  2. ____________________
  3. شام کے وقت چڑیاں کیا کرتی ہیں ؟
  4. ____________________
  5. نظم میں شاعر نے کن عبادت گاہوں کا ذکر کیا ہے؟
  6. ____________________
  7. شام ہوتے ہی گوالے ریوڑ کو گھر کیوں لاتے ہیں؟
  8. ____________________
  9. مزدوروں کی خوشی کی کیا وجہ ہوتی ہے؟
  10. ____________________

اس نظم سے وہ اشعار لکھیے جن میں چرخ بریں، بیوی بچوں اور خون پسینہ جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں

چرخ بریں____________

بیوی بچوں___________

خون پسینہ

تصویر پہچان کر حروف کی صحیح ترتیب سے لفظ بنائیے

33

نیچے دیے ہوئے الفاظ کی جمع لکھیے

الفاظ مزدور لوری غافل بچه گھر
جمع

بلند آواز سے پڑھیے اور خوش خط لکھیے

چرخ بریں ...... ....... ...... ...... ......

غافل ...... ....... ...... ...... ......

چڑیاں ...... ....... ...... ...... ......

اندھیرا...... ....... ...... ...... ......

روغن...... ....... ...... ...... ......

پڑھیے ، سمجھیے اور لکھیے

نظم کے ایک مصرعے میں خون پسینہ ایک کرنا استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ہے بہت محنت کرنا یہ اپنے اصلی معنی میں استعمال نہیں ہوا ہے۔

وہ الفاظ جو فعل پر ختم ہوتے ہیں اور اپنے لغوی معنی کی جگہ دوسرے معنی میں استعمال کیے جاتے ہیں، انھیں محاورہ کہتے ہیں۔

دیے ہوئے محاوروں کے معنی پڑھیے اور ان محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے

محاوره معنی جملہ
باغ باغ ہونا خوش ہونا ..............
ہکا بکا ہونا حیران ہونا ..............
آسمان سر پر اٹھانا بہت شور مچانا ..............

اساتذہ کے لیے ہدایات

  • طلبا سے ان کے آس پاس کے شام کے منظر سے متعلق گفتگو کروائی جاسکتی ہے۔
  • طلبا کو اس نظم سے متعلق آڈیو/ ویڈیو سنایا / دکھایا جا سکتا ہے۔
  • بچوں کو آس پاس کی عبادت گاہوں اور تاریخی عمارتوں کی سیر پر لے جایا جا سکتا ہے۔

کیجیے

بچو ! نظم میں آپ کو کون کون سی باتیں اچھی لگیں اور کیوں؟






شام کے منظر کی تصویر بنا کر اس میں رنگ بھریے

9

شام کے وقت آپ کیا کرتے ہیں؟ چند جملے لکھیے






لطیفہ چٹکلہ

ایک دوست (دوسرے سے ): جب سورج کی پہلی کرن مجھ پر پڑتی ہے تو میں اٹھ جاتا ہوں۔

دوسرا دوست: لیکن تمہاری امی کہتی ہیں کہ تم پورا دن سوتے رہتے ہو۔

پہلا دوست: ہاں ! در اصل میرے کمرے کی کھڑ کی مغرب میں ہے۔



صرف پڑھنے کے لیے


انگور کھٹے ہیں

ایک دن ایک لومڑی اپنی غذا کی تلاش میں نکلی۔

3

سارا دن گھومتی پھرتی رہی۔ کھانے کو کچھ نہ ملا۔

3

اسی تلاش میں وہ ایک باغ میں پہنچ گئی۔ وہاں انگور کی

بیل تھی۔ انگور کے رس دار خوشے لٹک رہے تھے۔

لومڑی کے منھ میں پانی بھر آیا۔ اوپر کو منھ

اُٹھا کر وہاں بیٹھ گئی۔ اس نے سوچا یہ انگور تو

مہینوں کے لیے کافی ہیں۔

3

آس پاس دیکھ کر وہ انگور کے ایک خوشے کی

طرف اچھلی مگر اس تک نہ پہنچ سکی۔ کہنے لگی

عمدہ چیز آسانی سے ہاتھ کہاں آتی ہے۔

تھوڑی دیر بعد اُس نے

رُخ بدل کر پھر چھلانگ لگائی مگر منھ میں ایک بھی انگور نہیں آیا۔

3

اس نے سوچا ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ پھر اس نے جسم میں پھرتی پیدا کی اور

لگا تار کئی چھلانگیں لگائیں مگر انگوروں تک نہیں پہنچ سکی اور بری طرح تھک

گئی ۔ آخر کار نڈھال ہو کر باغ سے باہر جانے لگی۔ جاتے جاتے اس نے

انگوروں کو مڑ کر دیکھا۔

3

اتنی دیر میں ایک دوسری لومڑی آگئی اور کہنے لگی:

بہن! کیوں چل دیں، انگور نہیں ملے؟ لومڑی نے کہا:

بہن! انگور تو بہت ہیں لیکن کھٹے ہیں۔