Skip to content
Qr






باب 6
منظر تخلیق کیجیے


Screenshot 2026-01-21 at 11-28-24 eubu106.pdf

اساتذۂ کرام!

یہ درسی کتاب گریڈ 5 کے لیے تیار کی گئی ہے تاکہ بچوں کواس قابل بنایا جا سکے کہ وہ تھیٹر کو تخلیق کار، مل کر کام کرنے والے اور فن کار کے طور پر دریافت کرسکیں۔

اس کتاب کا مقصد یہ ہے کہ بچے اپنی محنت اور رہنمائی کے ساتھ ایک مکمل ڈراما خود تیار کر سکیں۔ اس میں بچوں کو خود سیکھنے اور اپنی کارکردگی کی منصوبہ بندی اور تیاری خود کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے تاکہ وہ خیال کی ترتیب سے لے کراسٹیج پر پیش کرنے تک کے تمام مراحل کی ذمہ داری خود سنبھالیں۔ آپ کا کام ایک مددگار رہنما کا ہے، جو بچوں کی صحیح رہنمائی کرے، ضرورت پڑنے پر سہارا دے، اور ایک محفوظ، خوشگوار ماحول فراہم کرے جہاں وہ آزادی سے اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں۔

بچوں کی حوصلہ افزائی کیجیے تا کہ وہ ایک ٹیم کے طور پرفیصلہ کرسکیں جیسے کہانی کا انتخاب ، کرداروں کی تقسیم، ملبوسات، منظر کی ترتیب اور ڈرامے کی پیش کش وغیرہ۔غلطیاں سیکھنے کا ایک فطری حصہ ہوتی ہیں۔ انھیں تجربہ کرنے، مسائل حل کرنےاور اپنی محنت سے تھیٹر کی جادوئی دنیا کو دریافت کرنے دیجیے۔مناسب یہ ہے کہ استاد صرف اسی وقت مداخلت کریں جب رہنمائی کی ضرورت ہو باقی وقت انھیں خود اعتمادی حاصل کرنے کا موقع دیا جائے۔

یہ پورا عمل صرف تھیٹر کی مہارتیں ہی نہیں بلکہ زندگی کی عملی مہارتیں بھی پروان چڑھاتا ہے جیسے بات چیت کا سلیقہ، باہمی تعاون، ہمدردی اور قیادت۔آئیے ہم اس سفر کو اپنے طلبا کے ساتھ خوشی سے طے کریں اور ہر مرحلے پر ان کی ترقی کا جشن منائیں۔

یاد رکھنے کی چند باتیں:

  • وِدوشک ہندوستانی روایتی تھیٹر کا ایک منفرد کردار ہے۔ سنسکرت تھیٹر میں اس کردار کو کہانی میں مزاح اور شرارت کا عنصر ڈالنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ کردار آج بھی بچوں کا ایک اچھا دوست ہےجو تھیٹر کی سرگرمیوں میں ان کی رہنمائی کرتا ہے، نئی فکر سے روشناس کراتا ہے اور نئے تصورات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ وِدوشک ہر سرگرمی کے ساتھ بچوں کو اہم باتیں اور سیکھنے کے نکات بھی سمجھاتا ہے۔ تھیٹر کی کلاس کے لیے ایک کشادہ، خالی کمرہ دستیاب ہونا چاہیے تاکہ بچے آزادانہ حرکت کر سکیں۔ یہ کمرہ صاف ستھرا ہو اور اس میں کوئی ایسی چیز نہ ہو جو انھیں چوٹ پہنچا سکے۔
  • کلاس کا آغازدعا سے کیجیے اور پچھلی کلاس میں کی گئی سرگرمیوں کا جائزہ لیجیے ۔تجویز کردہ دعا کے لیے
    گریڈ 3کی کتاب کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    کلاس کی مجوزہ ساخت

    5 منٹ کی دعا اور پچھلی سرگرمی کا جائزہ

    03 منٹ کی کلاس کی سرگرمی

    5 منٹ حلقے کا وقفہ

جائزہ

بچوں کے لیے تھیٹر ہمیشہ ایک مثبت اور خوشگوار تجربہ رہا ہے۔جس طرح وہ کلاس کی سرگرمیوں کا لطف لیتے ہیں، اسی طرح جائزے کا عمل بھی خوشگوار ہونا چاہیے۔ تھیٹر کی سرگرمیوں میں امتحان جیسا دباؤ یا گھبراہٹ ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔

تمام جائزے سرگرمیوں پر مبنی ہوں، جن سے بچوں کی دل چسپی، شرکت اور سمجھ بوجھ کا اندازہ لگایا جا سکے۔جائزہ لیتے وقت ذہن میں رکھنے کے لیے چند اہم باتیں درج ذیل ہیں:

  • توجہ بچوں کی صلاحیت اور مہارت کے اظہار پر ہونی چاہیے۔
  • جہاں تخلیقی صلاحیت شامل ہو، وہاں کوئی جواب درست یا غلط نہیں ہوتا۔
  • صرف آخری نتیجہ یا پیش کش ہی معیار نہ ہو۔اس کے پیچھے کی کوشش، سوچ اور عمل کو بھی برابر اہمیت دی جائے، جیسے کہ:
  • علم کا اطلاق
  • کوشش اور شرکت
  • تخلیقی صلاحیت اور پیش کش کا انداز
  • اجتماعی عمل اور اشتراک
  • بچوں کو خود احتسابی کی جانب مائل کیجیے اور اسے اساتذہ کے لیے ایک فیڈبیک کے طور پر استعمال کیجیے
    ( فراہم کردہ روبرک میں آخری کالم کے مطابق)
  • شرمیلے یا جھجک محسوس کرنےوالے بچوں کے لیےمعاون اور بااعتماد ماحول تیار کریں۔
  • کتاب کے آغاز میں دیے گئے وقت کی تقسیم اور جائزے کے حصے کا مطالعہ ضرور کریں تاکہ اس عمل کی بہتر سمجھ حاصل ہو سکے۔

    تشکیلی جائزہ

    تکمیلی جائزہ

    یہ جانچ کا ایسا طریقہ ہے جو پوری کلاس کے دوران خود بخود چلتا رہتا ہے۔ اس کے لیے کوئی خاص دن نہیں رکھا جاتا۔ اس میں شامل ہوتے ہیں:

    1. حلقے کا وقفہ کے دوران بچے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔استاد ان کی بات کونوٹ کرتے
      جاتے ہیں۔
    2. سبق کے آخر میں موجود جائزہ کے لیے روبرک۔
    3. استاد کے مشاہداتی نوٹس۔

    یہ جائزہ سال کے آخر میں ایک مقررہ دن پر کیا جاتا ہےجو صرف سرگرمیوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ اس میں روایتی سوالنامے یا تحریری ٹیسٹ شامل نہیں ہوتے۔

    1. سرگرمیوں کی مثالیں کتاب کے آخر میں دی گئی ہیں۔
    2. جائزہ میں نمبر دینے کا معیار فراہم کردہ روبرک کےمطابق ہونا چاہیے۔
    3. بچے کی جانب سے کیے گئے خود کے جائزے کو بھی تکمیلی جائزہ میں شامل کیا جائے۔

آداب… خوش آمدید(سوسواگتم)!

واہ! ہم تھیٹر کے دو سال مکمل کر چکے ہیں اور اب تیسرے سال میں داخل ہو رہے ہیں!اب آپ زیادہ تجربہ کار ہو چکےہیں، اس لیے اب آپ اپنے حاصل کردہ تمام تجربات کو استعمال کرتے ہوئے خود اپنا ایک ڈراما تیار کریں ۔

مجھے یقین ہے کہ آپ یہ کام بہت اچھے طریقے سے کر سکتے ہیں۔میں ہر قدم پر آپ کے ساتھ رہوں گا۔مدد ، تعاون اور رہنمائی کے لیے۔

وِدُوشک آپ کی خدمت میں حاضر ہے!

52

صدیوں سے ہمارا یہ یقین ہے کہ بچوں میں بے پناہ صلاحیت ہوتی ہے۔وہ ہماری تاریخ،اپنشد اور پرانوں کا ایک اہم حصہ رہے ہیں۔کیا آپ نچی کیتا، دھرو، لَو اور کُش کے بارے میں جانتے ہیں؟یہ سب آپ ہی کی عمر کے بچے تھے!

52a521

اس سال کی ساری سرگرمیاں آپ ہی سےمتعلق ہیں۔آپ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک کہانی تیار کریں گے، ڈرامے کی تیاری کریں گے، ملبوسات اور اسٹیج کا سامان خود جمع کریں گے، ریہرسل کریں گے اور خود ہی ڈراما تیار کرکےپیش بھی کریں گے۔

آئیے! شروع کرتے ہیں!

THEATRE-ICON-58

باب 6

منظر تخلیق کیجیے

ہم سب جب کسی ڈرامے یا فلم کے کسی خاص حصے کی بات کرتے ہیں تو اسے ‘منظر’ کہتے ہیں۔ہم یہ بھی کہتے ہیں: ’’کیا سین بنایا ہےانھوں نے!‘‘جب کسی ڈرامے کا واقعہ سڑک، اسکول یا کسی اور جگہ پر رونما ہوتاہے۔تو یہ منظر ہوتا کیا ہے؟

منظر ڈرامے کا وہ حصہ ہوتا ہے جو:

  • کہانی کو آگے بڑھاتا ہے۔
  • جوکسی خاص جگہ اور وقت میں پیش آتا ہے۔
  • جس میں کوئی دل چسپ یا ڈرامائی بات ضرور شامل ہوتی ہے۔

تو، جیسا کہ ودوشک کہتا ہے، اس سال آپ ایک ڈراما پیش کریں گے اور اس کے مناظر خود تیار کریں گے۔ گریڈ 3 اور 4 میں کی گئی سرگرمیوں کی بنیاد پر آپ ان میں سے بہت سی باتیں پہلے ہی سیکھ چکے ہیں۔ یہاں ایک فہرست دی جا رہی ہے۔ اگر آپ پہلی فہرست میں دی گئی کچھ سرگرمیاں دوبارہ کرنا چاہیں، تو آپ کے استاد ،گریڈ 3 اور 4 کی کتابوں کی مدد سے وہ سرگرمیاں آپ کو دوبارہ کروا ئیں گے۔

جو کچھ آپ پہلے ہی سیکھ چکے ہیں

جو کچھ آپ سیکھیں گے

کردار ادا کرنا

مکالمہ تیار کرنا

منظرتیار کرنا— داخلہ اور اخراج

منظر میں چیزیں اور کردار کوشامل کرنا

اسٹیج پر بنیادی احتیاطی تدابیر کیا کرنا ہے اور کیا نہیں

جگہ کا تعین کرنا

وقت کا تعین کرنا

کرداروں کی حیثیت قائم کرنا

آئیے سب سے پہلے ان بنیادی باتوں پر غور کریں جنھیں پیش کش کے دوران یاد رکھنا ضروری ہے۔ یہ باتیں آپ کے ناٹک کو ناظرین کے لیے زیادہ مؤثر اور دل چسپ بنانے میں مدد دیتی ہیں۔

وہ باتیں جو آپ کو ناٹک کی پیش کش کے دوران اسٹیج پر ضرور کرنی چاہیے:

  1. صاف اور بلند آواز میں بولیے: تاکہ ناظرین کی آخری قطار میں بیٹھے لوگ بھی آپ کی آواز بخوبی سن سکیں۔
  2. کردار میں بنے رہیں: جب آپ اسٹیج پر ہوں تو آپ اسی کردار میں ہوں جسے آپ نبھا رہے ہیں۔ چاہے آپ بول نہ رہے ہوں۔ آپ کی حرکات، سکنات اور رویّہ سب کچھ آپ کے کردار کے مطابق ہونا چاہیے۔
  3. اپنے ساتھی اداکاروں کا احترام کیجیے: بولنے کے لیے اپنی باری کا انتظار کیجیےاور اسٹیج پر دوسروں کا بھرپور ساتھ دیجیے۔ یہ جانناضروری ہے کہ آپ کو کہاں کھڑا ہونا ہے اور کہاں چلنا ہے۔ یہ سب کچھ اس طرح کیجیے کہ دوسروں کو اپنا کردار ادا کرنے میں پریشانی نہ آئے۔

وہ باتیں جو اسٹیج پر نہیں کرنی چاہیے:

  1. ناظرین کی طرف پیٹھ نہ کریں: جب ناظرین کی طرف رخ کریں تو تھوڑا سا کسی ایک طرف مڑ کر کھڑے ہوں۔ اگر آپ کو اسٹیج کے پیچھے جانا ہو تو بولنے سے گریز کیجیے جب آپ کا چہرہ ناظرین کی طرف نہ ہو تو مکالمہ ادا کرنے سے گریز کریں۔
  2. اسٹیج کے پیچھے بات نہ کریں: اگر آپ اسٹیج پر آنے کے منتظر ہیں یا اپنا کردار مکمل کر چکے ہیں تو خاموشی اختیار کریں۔ بات چیت سے آپ خوداسٹیج پر موجود دوسرے اداکاروں اور ناظرین کی توجہ ناٹک سے ہٹا سکتے ہیں۔
  3. دوسروں کے آگے کھڑے نہ ہوں: اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کہاں کھڑے ہیں تاکہ سب اداکار ناظرین کو دکھائی دیں۔ یہ بھی دیکھیں کہ کہیں کوئی آپ کے سامنے تو نہیں جس کی وجہ سے آپ ناظرین کو دکھائی نہ دے رہے ہوں۔
Screenshot 2026-01-21 at 14-12-51 eubu106.pdf 551

یہ بہت ضروری ہے کہ آپ اسٹیج پر ہر پیش کش کے دوران ان باتوں کا خاص خیال رکھیں تاکہ آپ کی آئندہ تمام پیش کش بھی شاندار اور موثر ہوں۔ ان اصولوں کو ’اسٹیج کےآداب‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ بنیادی طرزِ عمل جن پر عمل کرنے سے اداکاروں اور ناظرین دونوں کے لیے ایک خوشگوار ماحول پیدا ہوتا ہے۔اسی خیال کے ساتھ، آئیے اب جانتے ہیں کہ ایک منظر (Scene) کس طرح تیارکیا جا سکتا ہے۔

کسی منظر کی سب سے بنیادی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ وہ ناظرین کو درج ذیل سوالات کے واضح جواب دے:

Screenshot 2026-01-21 at 14-09-04 eubu106.pdf

ناظرین کے ذہن میں یہ سوالات اس وقت ابھرتے ہیں جب وہ اسٹیج پر کوئی منظر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ آئیے اب یہ سیکھتے ہیں کہ ہم ان سوالات کے جوابات کیسے دے سکتے ہیں تاکہ ناظرین کہانی کو بخوبی سمجھ سکیں۔

1. کہاں: جگہ کا تعین کرنا

سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اسٹیج کی تیاری اور ساز وسامان کو اس انداز میں ترتیب دیا جائے کہ وہ کسی مخصوص مقام کی عکاسی کرتا ہو ۔

مثال کے طور پر، چند کرسیاں اور ایک سینٹرٹیبل گھر کا ماحول پیش کریں گے۔ میزیں جن پر فائلیں، کاغذات یا لیپ ٹاپ رکھا ہو دفتر کا ماحول دکھائیں گی ۔اسی طرح دوسرے مقامات کے لیے بھی اشیا کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ ملبوسات بھی ماحول بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ مثلاً دفتر کے لیے رسمی لباس مناسب ہیں جب کہ پارک کے لیے آرام دہ اور غیر رسمی لباس۔لیکن اگر اسٹیج پر تمام ضروری سازو سامان لانا ممکن نہ ہو تو پھر کیا کریں ؟ ایسی صورت میں اداکاروں کا انداز،طرزِ عمل اور رویہ ہی منظر کا مقام و ماحول ظاہر کریں گے۔آئیے اب اس کی کچھ مثالیں دیکھتے ہیں تاکہ آپ بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

سبزی منڈی

اسٹیج پر بڑی گاڑیاں یا دکانیں لانا ممکن نہیں ہوتا۔ا س لیے سبزی منڈی کا منظر پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اداکار (آپ کے ساتھی) ٹاٹ پچھاکر اور ٹوکریاں لے کر زمین پر بیٹھ جائیں، اور سبزیوں اور پھلوں کے نام اور ان کی قیمتیں آواز لگا کر بتائیں ۔ آپ کچھ اور اداکار شامل کر سکتے ہیں جو خریدار بن کر ان سے سودا خریدیں اور رقم ادا کریں ۔ اپنی ٹیم کے ارکان کی تعداد کے حساب سے آپ اور بھی کردار شامل کر سکتے ہیں جیسے آئس کریم والا، غبارے بیچنے والا وغیرہ۔

Screenshot 2026-01-21 at 14-13-55 eubu106.pdf

سرگرمی 6.1


اندازہ لگائیے

ہدایات: 6 سے 7 بچوں کے گروپ بنائیے۔ ہر گروپ کو ایک الگ جگہ دی جائے گی۔آپ کو اس جگہ کو اداکاری اور کلاس میں موجود سازوسامان کی مدد سے پیش کرنا ہے۔ یادرہے’چیزوں کی اداکاری‘ جس میں آپ نے ایک ہی چیز کو مختلف چیزوں کی طرح استعمال کیا تھا؟ یہاں بھی آپ وہی طریقہ استعمال کر سکتے ہیں۔ آپ اسکول بیگ کوسبزیوں کی بوری بنا سکتے ہیں! یا پینسلوں کو پھلی اور بھنڈی دکھانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں! ایک گروپ کو جو جگہ دی جائے اس کے بارے میں دوسرے گروپ کو نہ بتایا جائے۔ جب ایک گروپ کی پیش کش جاری ہو تو دوسرا گروپ بات چیت کرے کہ اس کو کس طرح بہتر طور پر پیش کش کیا جاسکتا ہے ۔

بنیادی مشق : ایسی جانی پہچانی جگہیں جیسے ریلوے اسٹیشن، بس اسٹینڈ، پارک، دفتر وغیرہ کی منظر کشی اداکاری کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔

آپ اداکاری، سادہ ملبوسات اور مکالموں کی مدد سے اس منظر کو مؤثر انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔

ترقی یافتہ مشق : اب آپ کو یہی سرگرمی دوبارہ کرنی ہے لیکن اس باربغیر بولے! آپ صرف جسمانی حرکات، چہرے کے تاثرات اوردستیاب سازوسامان کے ذریعے منظر پیش کریں گے۔ اس بار آپ کو ایسی جگہیں دی جائیں گی جو آپ کے لیے نئی یا کم جانی پہچانی ہوں جیسے جنگل، سمندر وغیرہ تاکہ آپ کی تخلیقی اور تخیلاتی صلاحیت میں اضافہ ہو۔

2.کب: وقت کا تعین کرنا

کسی منظر میں ناظرین کی مکمل دل چسپی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وقت سے متعلق تفصیلات واضح ہوں۔ وقت کا اظہار دو سطحوں پر کیا جاتا ہے:

عہد یا زمانہ : یعنی یہ منظر ماضی کا ہے، حال کا یا مستقبل کا۔ اس کا اظہار زیادہ تر لباس، سازو سامان اور زبان کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

مخصوص وقت: یعنی صبح ہے، شام ہے یا رات۔اس کا اظہار کرداروں کی حرکات و سکنات اور مکالموں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

آئیے ایک مثال کے ذریعے کوشش کرتے ہیں۔ درست جواب پرصحیح کا نشان لگائیں۔

اگر آپ ناشتہ کرتے ہوئے اسکول کے لیے دیر ہونے کی بات کریں، تو وقت کیا ہوگا صبح ،شام یا رات۔

اگر آپ کہیں کہ آج کا دن بہت تھکا دینے والا تھا اور جمائی لیتے ہوئے بات کریں، تو وقت کیا ہوگا صبح،شام یا رات۔

Screenshot 2026-01-21 at 14-16-24 eubu106.pdf

سرگرمی 6.2


وقت کا صحیح تعین کرنا

اسی گروپ کے ساتھ یہ سرگرمی جاری رکھیں جو پہلے مقام کی منظر کشی کر چکے ہیں۔ اب آپ کو مختلف اوقات اور حالات دیے جائیں گے جنھیں آپ کو اداکاری کے ذریعے پیش کرنا ہےاور باقی گروپس اندازہ لگائیں گے کہ آپ کون سا وقت دکھا رہے ہیں۔


یہ معلومات ناظرین سے براہِ راست بات کرکے یا یہ اعلان کرکے نہیں دی جانی چاہیے کہ‘‘یہ رات کا منظر ہے’’ یا ’’یہ شام کا وقت ہے‘‘۔بلکہ یہ منظر کا حصہ ہونا چاہیے اور کرداروں کو اپنے عمل یا مکالموں کے ذریعے وقت کا اظہار کرنا چاہیے۔

رمیش: ارے رادھا! صبح صبح کہاں جا رہی ہو؟

یا

ماں: راجو، رات کے نو بج گئے ہیں، تمہارے ابو ابھی تک نہیں آئے۔

Screenshot 2026-01-21 at 14-20-55 eubu106.pdf

3.کون: کردار کو ظاہر کرنا

اسٹیج پر موجود اداکار سب سے زیادہ توجہ حاصل کرتے ہیں اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے کردار کو صحیح طریقے سے پیش کریں۔ کردار کی پہچان کا ابتدائی اظہار لباس اور سازوسامان سے ہوتا ہے۔لیکن صرف لباس کافی نہیں ہوتا۔ کردار کے بارے میں مزید معلومات دینا بھی ضروری ہوتا ہے جیسے اس کا رویہ، بات کرنے کا انداز، حرکات و سکنات اور جذبات تاکہ ناظرین کو کردار کی گہرائی کا اندازہ ہو سکے۔اس کردار کو دیکھیے۔ آپ آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک پیشہ ور خاتون ہے جو محنت سے کام کرتی ہے۔ کہانی میں یہ دکھاناضروری ہے کہ وہ نہایت مہربان ہے اور اپنی مصروف زندگی کے باوجود ہر وقت دوسروں کی مدد کو تیار رہتی ہے۔ آپ یہ بات کیسے دکھا سکتے ہیں؟ اسی کو کردار نگاری کہا جاتا ہے۔

مثال 1: دو مختلف کرداروں کواپنی گفتگو میں اس خاتون کے بارے میں بات کرنے دیں۔ مثال کے طور پر: اس کے ہم سائے آپس میں بات
کر رہے ہیں کہ اس نے ان کے بیٹے کی ریاضی کے امتحان کی تیاری میں کس طرح مدد کی۔

Screenshot 2026-01-21 at 14-21-45 eubu106.pdf

مثال 2: ایک سادہ منظر دکھائیے جس میں وہ سڑک پر زخمی کتے کی مدد کر رہی ہو۔

مثال 3 : ( آپ اس کردار کو دکھانے کا ایک انوکھا طریقہ سوچ سکتے ہیں)

مختلف کردار منتخب اور گروپ میں مل کر یہ بات چیت کیجیے کہ ان کرداروں کو منظر (سین) میں پیش کرنے کے لیے کون سے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں۔ یادرکھیے، ایک منظر میں کئی کردار ہو سکتے ہیں۔ ایک کردار جلد غصہ کرنے والا ہو سکتا ہے، دوسرا ہنسی مذاق کرنے والا اور باقی کرداروں کی بھی اپنی
الگ الگ خصوصیات ہو سکتی ہے۔

سرگرمی 6.3


اصل منظر!

اب آئیے جو کچھ بھی آپ نے سیکھا ہے اسے جوڑ کر ایک مکمل منظر تیار کریں۔آپ وہی گروپ استعمال کر سکتے ہیں جو اس باب کی شروعات میں بنائے گئے تھے۔ ہر گروپ ایک موضوع منتخب کرے گا (یہ موضوع آپ کےاستاد تجویز کر سکتے ہیں) پھر اس پر منصوبہ بندی کرے گا، مشق کرے گا اور اسے دوسرے گروپ کے سامنے پیش کرے گا۔ دھیان رکھیے کہ آپ نے اپنے منظر میں بنیادی اسٹیج کےآداب، مقام، وقت اور کردار کا تعارف ضرور شامل کیا ہو۔

IMG20250508115431
  • کون سا منظر ان تمام چار پہلوؤں (اسٹیج کے آداب، مقام، وقت اور کردار) میں سب سے زیادہ متاثر کن تھا؟
  • جن حصوں کو آپ مؤثر طریقے سے پیش نہ کر سکے، ان میں کیا چیز مشکل تھی؟
  • کیا کلاس کے دوسرے طلبا کوئی ایساحل تجویز کر سکتے ہیں جن سے اسے بہتر طریقے سے پیش کیا جا سکے؟

جائزہ

باب 6 – منظر تخلیق کیجیے

صلاحیتیں

سی- 1.1: ڈرامے کی سرگرمیوں میں مختلف اشیا،کرداروں، واقعات اور تجربات کو پیش کرنے میں جوش و خروش کا اظہار کرنا۔

سی- 1.2: ڈرامے کے فنون میں اشتراکی انداز میں کام کرتے ہوئے اپنےذاتی خیالات اور ردِعمل پر گفتگو کرنا۔

سی جی

سی

آموزشی ماحصل

استاد

خود

1

1.1

منظر میں مقام، وقت اور کردار کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھنا۔

1.2

دوسروں کی پیش کش پر تاثرات بیان کرنا۔

1.2

بغیر جھجک کے سرگرمیوں میں حصہ لینے کی کوشش کرنا۔

1.1,1.2

مستعدی اور تفصیل پر توجہ دینا۔

1.2

کلاس میں مجموعی طور پر شرکت۔

Part-1_Chapter_1-12

استادکےمشاہدات:

____________________________________________________________________________________________________

____________________________________________________________________________________________________

____________________________________________________________________________________________________

دیگر تاثرات:

____________________________________________________________________________________________________

____________________________________________________________________________________________________

____________________________________________________________________________________________________