باب 12
آواز اور ساز
گزشتہ چند برسوں کے دوران ہم نے موسیقی کےمختلف سازوں کے بارے میں سیکھا ہے۔ اب آئیے اس تعلیمی سفر کو آگے بڑھاتے ہیں۔
ستار، طبلہ، مِردنگم، تانپورہ … آپ نے ان میں سے کچھ سازوں کو دیکھا یا ان کے بارے میں ضرور سنا ہوگا، ہے نا؟ موسیقی کے مختلف ساز ہمیں یہ موقع دیتے ہیں کہ ہم گیت یا دُھن میں مختلف آوازوں کوشامل کر کے اُسے مزید خوب صورت اور د ل کش بنا سکیں۔ ایساکرنے سے موسیقی گہری اوررنگارنگ ہوتی ہے۔دنیا میں سینکڑوں قسم کے موسیقی کے ساز ہیں، کچھ نہایت سادہ اور کچھ بہت ہی پیچیدہ ہوتے ہیں۔
جیسا کہ ہم نے پہلے پڑھا موسیقی کے ساز وں کو چار بڑی اقسام میں تقسیم کیا جاتاہے :
تار والے ساز(تَتَ وادیہ)، ہوا والے ساز (سُشِر وادیہ)، ضربی یا جھانج والے ساز
(اَوَنَدّھ وادیہ) اور ٹھوس ساز(گھَن وادیہ)۔
سرگرمی 12.1a
آواز سے ساز کی پہچان کیجیے
آپ کے استاد مختلف موسیقی کے سازوں کی آوازیں سنائیں گے تاکہ آپ ان سے مانوس ہو سکیں۔ غور سے سنیے:
- آپ کے خیال میں یہ ساز کس قسم سے تعلق رکھتا ہے؟
- کیا آپ اس ساز کا نام بتا سکتے ہیں؟
- کیا آپ اس ساز کے بارے میں کوئی تفصیل بتا سکتے ہیں؟ اس کی ابتدا کہاں ہوئی ہے ؟اورکس قسم کی موسیقی میں استعمال ہوتا ہے ؟
سرگرمی 12.1b
تصویر سے ساز کی پہچان کیجیے
موسیقی کے سازوں کی درج ذیل تصویروں کو غور سے دیکھیے۔
- اندازہ لگایئے کہ یہ ساز کس قسم کا ہے؟
- اس ساز کا نام کیا ہے؟
- تصویر دیکھ کر کیا آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ساز کیسے بجایا جاتا ہے؟
- ان سازوں کی آوازیں آن لائن تلاش کیجیے اور سن کر ان سے واقفیت
حاصل کیجیے۔
استاد کے لیے نوٹ: ریکارڈنگ ڈیوائس، کمپیوٹر یا موبائل فون سے مختلف سازوں کی آوازیں سنائیں اور طلبا کو ترغیب دیں کہ وہ ساز کی قسم (تار والا، ہوا والا، ضربی یا ٹھوس) کی پہچان کریں اور ساتھ ہی ساز کا نام بھی بتائیں۔
سرگرمی 12.2
ساز کو سجائیے
یہ ایک خوب صورت ساز ہے جسے رودروِیناکہا جاتا ہے۔ یہ ایک بڑا تار والا ساز ہے جسے انگلیوں سے چٹکی لیتے ہوئے بجایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ دو گونج پیدا کرنے والے حصے تھمبا ہوتے ہیں۔ یہ ساز خاص طور پرہندوستانی کلاسیکی موسیقی بالخصوص ایک قدیم طرز جسے دھرُوپَد کہا جاتا ہے بجانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی آواز بہت گہری اور گونج دار ہوتی ہے۔ یہ ساز اکثر باریک نقش و نگار سے سجایا جاتا ہے جن میں روایتی یا پھولوں کے پیٹرن اور ڈیزائن شامل ہوتے ہیں۔
اوپر دکھائی گئی رودر وِیناکی تصویر کو سجایئے، خاص طور پر اس کے دونوں تھمبوں کو۔ آپ اپنے بصری آرٹ سے حاصل کیے گئے ڈیزائن ،نقش و نگار اور تخیلاتی خاکے استعمال کر سکتے ہیں۔
اب آن لائن رودر وِیناپر بجائی گئی موسیقی سنیے۔ کیا آپ کو اس کی آواز دیگر موسیقی کے سازوں سے مشابہ لگتی ہے یا مختلف ؟
سنتور کی کہانی
سنتوربھارت کا ایک مشہور تار والا ساز ہے، جسے مِضراب کہا جاتا ہے۔یہ دو چھوٹی ڈنڈیوں سے تاروں پر ہلکی ضرب لگا کر بجایا جاتا ہے۔یہ ساز عموماً میپل یا اخروٹ کی لکڑی سے تیار کیا جاتا ہے۔سنتور میں عام طور پر تقریباً 100 تاریں ہوتی ہیں۔قدیم سنسکرت متون میں اس ساز کو “شت تنتری وِینا” کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔یہ ساز کشمیر سے تعلق رکھتا ہے اور ماضی میں اسے ایک روحانی طرز کی موسیقی یعنی صوفیانہ موسیقی میں استعمال کیا جاتا تھا، جو صوفی روایت سے جڑی ہوئی ہے۔پنڈت شیوکمار شرما اور پنڈت بھجن سوپوری جیسے عظیم فن کاروں کی کاوشوں کے باعث سنتور نے ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔ سنتور کی آواز میں ایک خاص نرمی اور روحانیت ہوتی ہے۔جو ہمیں وادیٔ کشمیر کی یاد دلاتی ہیں۔
کوئز کا وقفہ: سنتور کی تصویر دیکھیے۔اس کی جیومیٹری والی شکل کیاہے؟
ایک تار والے ساز
اکتارہ موسیقی کا ایک ایساساز ہے جس میں صرف ایک تار ہوتا ہے۔یہ ساز عموماً پس منظر میں مسلسل آواز پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور بعض اوقات اس سے سادہ دُھنیں بھی بجائی جاتی ہیں۔
سرگرمی 12.3
اکتارہ تیار کیجیے
سامان: ناریل کا خول ، بارہ انچ لمبی پتلی بانس کی کھپچی ، دو چھوٹے لکڑی کے ٹکڑے، پندرہ انچ لمباباریک تانبے کاتار، سفید کاغذ، ٹیپ اور مضبوط گوند۔
- آدھا ناریل کا خول لیجیے۔
- بانس کی کھپچی کو خول کے ایک سرے پر اور چھوٹی کھپچی کو دوسرے سرے پر مضبوط گوند کی مدد سے جوڑدیجیے۔
- خول کے کھلے حصے کو سفید کاغذ سے اچھی طرح ڈھانپیے اور مضبوطی سے چپکا دیجیے۔
- اوپر اور نیچے کھونٹیاں (Pegs)لگائیے۔
- پیگ کے دونوں سروں پر تانبے کے تار کو مضبوطی سے لپیٹیے تاکہ وہ کھنچ کر سخت ہو جائے۔ تار اور ناریل کے خول کے درمیان تھوڑی سی جگہ ضرور ہو تاکہ وہ لرز(وائبریٹ)سکے اور آواز پیدا ہو۔
- تار کی سختی اور پوزیشن کو اس وقت تک ٹھیک کریں جب تک کہ آپ کو تار کستے وقت اچھی آواز نہ سنائی دے۔
- آپ کا اکتارہ تیار ہے! اب اس کے لمبی کھپچی اور گونجنے والے حصے کو اپنے ذوق کے مطابق سجایئے، رنگ بھریئے ۔
گیت: بادول باؤل باجے رے اکتارہ
زبان: بنگالی
بادل باؤل باجے رے اکتارہ
سارا بیلا دھورے جھارو جھارو جھارو دھارا۔
جامیر بو نے دھانیر کھیتے آپون تانے آپنی میٹے
نیچے نیچے ہولو سارا۔
گھانو جاتر گھٹا گھنایا آندھرو آکاش ماجھے،
پاتے پاتے ٹوپُر ٹوپُر نُپور مدهُر باجے۔
گھرچھارانو آکول سوری اداس ہو ئے بیرای گھورے
پو بے ہاواگری ہوہارا۔
گانے کا خلاصہ: یہ ایک گانا ہے جو اکتارہ بجانے کے بارے میں بات کرتا ہے اور فطرت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
پرندہ کی سیٹی
(Bird Whistle)
آپ نے یہ سادہ موسیقی کا ساز دیکھا ہوگا جو پرندے کی شکل میں ہوتا ہے۔ اسے مٹی کا پرندہ سیٹی کہا جاتا ہےاور یہ ٹیراکوٹا (مٹی) سے بنایا جاتا ہے۔ اگرآپ اس سیٹی میں پانی بھر کر پھونک ماریں تو یہ پرندے کی چہچہاہٹ جیسی آواز پیدا کرتا ہے۔ پرندہ کی سیٹی بھارت کی کئی ریاستوں میں پائی جاتی ہے اور یہ سب سے پرانے موسیقی کے آلات میں شمار ہوتا ہے۔
جائزہ
|
باب 21 – آواز اور ساز |
|||
|
سی جی |
آموزشی ماحصل |
استاد |
خود |
|
1.3 |
ایک ساز کا ماڈل بنانے کی صلاحیت رکھنا ۔ |
||
|
1.4 |
فطرت کی آوازوں کی نقل کرنے والے موسیقی کے آلات کے بارے میں جاننا ۔ |
||
|
2.4 |
عام بھارتی موسیقی کے آلات سے واقف ہونا۔ |
||
استادکےمشاہدات:
____________________________________________________________________________________________________
____________________________________________________________________________________________________
____________________________________________________________________________________________________
دیگر تاثرات:
____________________________________________________________________________________________________
____________________________________________________________________________________________________
____________________________________________________________________________________________________