باب 13
تعمیراتی عناصر
کوشش کیجیے: کھیل کے میدان میں دوڑ لگایئے یا اوپر نیچے کودیے اور پھر فوراً ہی کوئی گیت گانے یا کوئی سُر پکڑ نے کی کوشش کیجیے۔ مشکل ہے نا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ گیت کے لیے ہماری سانس کا ہموار اور قابو میں ہونا ضروری ہے۔ ہماری سانس بالکل گاڑی کے انجن کی طرح ہے جو اسے توانائی اور طاقت دیتی ہے۔
سرگرمی 13.1
سانس کی مشق (Box Breathing)
کسی پرسکون جگہ بیٹھیے۔ اب آہستہ سے سانس اندر لیجیے اور چار تک گنیے 1، 2، 3، 4 … پھر اگلی چار گنتی تک سانس روک کر رکھیں۔اس کے بعد چار گنتی میں آہستہ سے سانس باہر نکالیں۔پھر چار گنتی تک سانس روکیں۔اسے تقریباً 4 سے 5 بار دہرائیں۔
اسے ’ڈبا نما سانس لینے‘ کی مشق (Box Breathing)کہا جاتا ہے کیونکہ سانس لینے کے اس عمل میں چاروں حصے ایک ہی مدت کے ہوتے ہیں۔یہ مشق نہ صرف گیت کے لیے آپ کی سانس کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ جب آپ غصہ میں یا بے چین ہوں تو آپ کو پرسکون محسوس کرنے میں بھی مدد کرتی ہے۔
دھوَنی کیا ہے؟
دھوَنی یعنی آواز۔ہم اپنے اردگرد بے شمار آوازیں سنتے ہیں۔دوستوں کی بات کرنے کی آواز، پرندوں کی چہچہاہٹ، کاروں، بسوں، ٹرینوں، جہازوں کی آوازاور کسی ساز کی مدھر لے کی آواز۔ یہ آوازیں ہمیں اپنے اردگرد ہونے والے بے شمار واقعات سے باخبر رکھتی ہیں۔
نادکیا ہے؟
نادیعنی موسیقی کی آواز۔جب آپ ٹریفک کا شور یا تیز ہارن سنتے ہیں تو وہ زیادہ خوشگوارمحسوس نہیں ہوتی۔لیکن جب آپ کسی ساز یا انسان کی آواز سے نکلنے والی دھن بھری موسیقی سنتے ہیں تو وہ خوشگوار لگتی ہے، کیونکہ اس میں ارتعاش کا باقاعدہ اور متوازن نمونہ ہوتا ہے۔
کیا آپ کو معلوم ہے؟
بھارتی کلاسیکی موسیقی کے سُر سام وید کے رسوماتی گیتوں سے وجود میں آئے۔ا بتدائی طور پر ویدوں کو تین سروں کے ساتھ گایا جاتا تھا یعنی اُداتّ (عام یا درمیانہ سُر)، انوداتّ (نہ اُٹھایا ہوا یا نیچا سُر) اور سوَرِتّ (بلند سُر یا اونچی تان)۔یہ سُر آہستہ آہستہ ترقی پا کر اُن سات سروں (سَپت سُوَر) میں تبدیل ہو گیا جس کا استعمال ہم آج موسیقی میں کرتے ہیں۔
سرگرمی 13.2
سرگم/سوَر کے نمونے
سرگم یا سوَر کے نمونے گانا ہماری آواز کو وارم اپ کرنے اور گانے کی تیاری کا ایک بہترین طریقہ ہے۔یہ ہماری سُر پر گرفت مضبوط کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔
یہاں آپ کے لیے چند نمونے دیے گئے ہیں انہیں مکمل کیجیےاور گائیے۔
- سا گا رے سا، رےماگا رے، گا پا ما گا، ما دھا پا ما، پا نی دھا پا، دھا سا نی دھا، نی رے سا نی، سا گا رے سا
سا دھا نی سا، نی پا دھا نی،_ _ _ _، پا گا ما پا، _ _ _ _، گا سا رے گا، _ _ _ _ سا دھا نی سا
- سا ما گا رے، رے پا ما گا، _ _ _ _ ما نی دھا پا، پا سا نی دھا، _ _ _ _ نی گا رے سا
سا پا دھا نی، نی ما پا دھا، دھا گا ما پا، _ _ _ _، ما سا رے گا، گا نی سا رے _ _ _ _
- سا رے سا گا، رے گا رے ما، _ _ _ _ ما پا ما دھا، پا دھا پا نی، _ _ _ _
_ _ _ _، نی دھا نی پا، _ _ _ _ پا ما پا گا، _ _ _ _ گا رے گا سا
- رے سا، گا رے، ما گا، _ _ دھا پا، _ _، سا نی، _ _
نی سا، _ _، پا دھا، _ _، گا ما، _ _ سا رے، _ _
کیا آپ کو معلوم ہے؟
پیٹرن (Patterns) مختلف اصناف فن میں پائے جاتے ہیں خاص طور پر بصری آرٹ میں جہاں تصویروں، پرنٹ اور دیواروں پر بنائے گئے فن پاروں میں شکلیں اوربار بار دہرائے جانے والے عناصر نظر آتے ہیں۔
روایتی آرٹ رنگولی میں نقطوں، لکیروں اور خم دارشکلوں کے دل چسپ پیٹرن ہوتے ہیں۔یہ عموماً گھروں کے فرش اور دیواروں کو سجانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ہر سال ہم بھارت کی دوکلاسیکی موسیقی کی اقسام — کرناٹک اور ہندوستانی کے بارے میں کچھ نہ کچھ مزید سیکھتے آ رہے ہیں۔
کرناٹک موسیقی
آئیے دو گیتھم سیکھتے ہیں، جو سادہ کرناٹک دھنیں ہیں۔
ورا وینا
راگ: موہنا
تال: روپک
آروہنم
سا رے2 گا3 پا دھا2 سا
اوروہنم
سا دھا2 پا گا3 رے2 سا
گا گا|پا ، پا ،||دھا پا | سا ، سا ،||
وا را|وی - نا -||مروَ دو | پا - نی -||
را سا|دھا دھا پا ،||دھا پا|گا گا رے ،||
وا نا | رو ہا لو -||چا نا |را - نی -||
گا پا| دھا سا دھا ،||دھا پا|گا گا رے ،||
سو رو | چی را بم -|| بھا را| او - نی -||
گا گا|دھا پا گا ،|| پا گا |گا رے سا ،||
سو را | نو تا کل -||یا -|- - نی -||
گا گا | گا گا رے گا ||پا گا | پا ، پا ،||
نی رو |پا ما شو بھا| گو نا | لو - لا -||
گا گا |دھا پا دھا ،||دھا پا| سا ، سا ،||
نی را | تا جا یا -|| پرا دا | شی - لا -||
دھا گا | رے رے سا سا || دھا سا || دھا دھا دھا پا |
دا را| دا - پری یا|| رن گا | نا - یا کی||
گا پا | دھا سا دھا پا | دھا پا| گا گا رے سا||
دان -| چی تا پا لا|| دا -|- - یا کی||
سا رے | گا ، گا ،|| گا رے| پا گا رے ،||
سا را | سی - جا -|| سا نا | جا نا نی -||
سا رے | سا گا رے سا||
جا یا |جا یا جا یا||
پدُما نبھا
راگ: ملہاری
تال: تِشرا جاتی تریپوتا تال
گیت ساز: پورندر داس
آروہنم
سا رے1 ما 1 پا دھا 1 سا
اوروہنم
سا دھا 1 پا ما 3 گا 3 رے1سا
پلّوی
رے سا دھا | سا - | سا - || ما گا رے | ما ما | پا - ||
پا دو ما | نا - | بھا - || پا را ما | پو رو | شا - ||
سا دھا دھا | دھا پا | ما پا || دھا دھا پا | ما گا | رے سا ||
پا رم - | جو - | - تی || سوا رو - | پا - | - - ||
رے سا دھا | سا - | سا - || ما گا رے | ما ما | پا - ||
وی دو را | ون - | دھیا - || وی ما لا | چا ری | تھا - ||
سا دھا دھا | دھا پا | ما یا || دھا دھا پا | ما گا | رے سا ||
وی ہنگ - | گا - | - دی || رو - ہا | نا - | - - ||
انو پلّوی
|
دھا پا || |
دھا سا |
|
رے سا دھا |
|
سا || |
دھا سا | دھا
|
پا ما پا | |
|
- نا || |
سا یا | |
او را گا | |
سا || |
نی وا | - |
او دھا دھی | |
|
پا - || |
پا - | |
رے ما ما | |
ما || |
پا - | پا |
دھا دھا پا | |
|
- - || |
ما - | |
ما ہی - | |
تھا || |
تھو - | نا |
او – نا | |
|
رے سا || |
ما گا | |
رے – ما | |
ما || |
پا - | پا |
دھا دھا پا | |
|
کشکا || |
را - | |
یے – گنا | |
ما || |
لو - | تھا |
یا دو کو | |
|
رے سا || |
ما گا | |
پا – پا | |
پا || |
دھا دھا | دھا |
سا – سا | |
|
- ما || |
نا - | |
را – ما | |
کا || |
سی - | کشا |
اے - گنا | |
دھا سا - | دھا پا | ما پا || دھا دھا پا | ما گا | رے سا ||
وی بھی - | شا نا | پا - || لا کا - | نا مو | نا مو ||
چرنم
دھا سا - | دھا پا | ما پا || دھا دھا پا | ما گا | رے سا ||
ای بھا - | وا را | دا - || یا کا - | نا مو | نا مو ||
پا ما پا | دھا سا | دھا سا || رے سا دھا | دھا سا | دھا پا ||
سو بھا - | پرا دا | سو ما || نو - را | تھا - | - سو ||
دھا دھا پا | پا - | پا ما || رے - ما | پا - | - - ||
رے - ندرا | ما - | نو - || ران - جا | نا - | - - ||
دھا دھا پا | پا - | پا ما || رے - ما | ما گا | رے سا ||
آ بھی - | نا - | وا پو || رن - دا | را - | - دی ||
سا - سا | دھا دھا | دھا پا || پا - پا | ما گا | رے سا ||
تل - لا | پھل - | لا رے || را - ما | نا - | - ما ||
ہندوستانی موسیقی
ہم ’راگ کھماج‘ کو ایک بندش کے ذریعے سیکھنے پر توجہ دیں گے۔
بندش
نمن کروں میں ست گرو چرنا
سب دُکھ ہرن بھو نسترنا
شدھ بھاو دھرانتہ کرنا
سُر نر کنر وندت چرنا
راگ کھماج
آروہ — سا گا ما پا دھا نی سا
اَوروہ — سا نی دھا پا ما گا رے سا
پکڑ — نی دھا، ما پا دھا، ما گا
|
استھائی |
|||||||||||||||
|
1 |
2 |
3 |
4 |
5 |
6 |
7 |
8 |
9 |
10 |
11 |
12 |
13 |
14 |
15 |
16 |
سا |
سا |
نی |
نی |
دھا |
پا |
ما |
گا |
||||||||
|
نا |
ما |
نا
|
کا
|
رو |
میں |
||||||||||
|
گا |
ما |
پا |
دھا |
نا |
نا |
سا |
سا |
سا
|
سا |
گا
|
ما |
گا
|
رے
|
نا |
سا |
|
سا |
دا |
گو |
رو |
چا |
را |
نا |
سا |
با |
دو |
کھا |
ہا |
را |
نا |
||
|
نا |
نا |
سا
|
سا |
نا |
سا |
نا |
دھا |
||||||||
|
بھا |
وا |
نی |
سا |
تا |
را |
نا |
|||||||||
|
انتارا |
|||||||||||||||
|
1 |
2 |
3 |
4 |
5 |
6 |
7 |
8 |
9 |
10 |
11 |
12 |
13 |
14 |
15 |
16 |
|
گا |
ما |
نی |
دھا |
نی |
نی |
سا
|
سا |
||||||||
|
سو |
دھا |
بھا |
وا |
دھا
|
را |
||||||||||
|
نی |
نی |
سا |
سا |
نی |
سا |
نی |
دھا |
سا
|
سا |
گا |
ما |
گا
|
رے
|
سانی
|
سا |
|
ان |
تا |
کا |
را |
نا |
سو |
را |
نا |
را |
کی |
نا |
را |
||||
|
نی |
نی |
سا |
سا |
نی |
سا |
نی |
دھا |
||||||||
|
وا |
ن |
دی |
تا |
چا |
را |
نا |
|||||||||
سرگرمی 13.3
مشق کا روزنامچہ
- مشق کا ایک روزنامچہ تیار کریں ۔ اس میں تاریخ، وقت، دورانیہ اور آپ نے کس چیز کی مشق کی شامل کریں۔ دھنوں کے علاوہ آواز کے وارم اپ اور مشقوں کے لیے بھی وقت رکھیں۔ یہ بھی نوٹ کریں کہ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں ۔کیا کوئی مشکل چیز آسان ہو ئی ہے؟ کیا آپ نے کوئی نیا کام شروع کیا ہےجو دلچسپ لگا؟
- مشق کے روزنامچہ سے آپ اپنی پیش رفت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اگر آپ کو مشق کا روزنامچہ مفید لگے تو اپنے دیگر مضامین کے لیے بھی روزنامچہ بنانے کی کوشش کریں۔
کسی بھی فن میں کامیابی کے لیے بار بار اور باقاعدہ مشق بہت ضروری ہے۔ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں اسے ریاض، ابھیاس یا سادھکم کہا جاتا ہے۔بہت سے مشہور فن کار بچپن سے ہی روزانہ 6 سے 8 گھنٹے تک مشق کرتے رہے ہیں۔
سرگرمی 13.4
کلاسیکی موسیقی کے پروگرام میں شرکت کریں
اپنے قریب ہونے والی کسی کلاسیکی موسیقی کی پیش کش میں شامل ہوں۔اگر آپ وہاں جا کر شامل نہیں ہو سکتے تو آن لائن کسی مکمل پروگرام کا ویڈیو دیکھیں۔
- اسٹیج اور فنکاروں کا ایک خاکہ تیار کریں۔
- کون کون سے ساز بجائے جا رہے ہیں؟
- جو دھنیں آپ نے سنیں ان کے نام لکھیں اور کوئی اور معلومات بھی نوٹ کریں جیسے راگ یا تال کا نام۔
- دیکھیں کہ اسٹیج پر فنکار آپس میں کیسے بات چیت یا اشاروں سے رابطہ کر رہے ہیں۔ یہ بھی دیکھیں کہ فنکار اور ناظرین کے درمیان کیسا تعلق یا ردِعمل ہے۔ جو کچھ آپ نے دیکھا، اسے لکھ لیجیے۔
جائزہ
|
باب 31 – بنیادی عناصر |
|||
|
سی جی |
آموزشی ماحصل |
استاد |
خود |
|
1.3 |
گیت کے لیے سانس لینے کی اہمیت جاننا۔ |
||
|
2.2 |
ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی چند بنیادی اقسام سے واقف ہونا۔ |
||
|
2.3 |
مقررہ اوقات کے مطابق مشق اور ریہرسل کرنا۔ |
||
استادکےمشاہدات:
____________________________________________________________________________________________________
____________________________________________________________________________________________________
____________________________________________________________________________________________________
دیگر تاثرات:
____________________________________________________________________________________________________
____________________________________________________________________________________________________
____________________________________________________________________________________________________