Skip to content
Qr






باب 14
خیالات اور تحریک



शिशुर्वेत्ति पशुर्वेत्ति वेत्ति गान रसं फणि:

ششُوروِتی پشُوروتی، وتی گان رسم پھنی:

ایک بچہ، ایک جانور، اور ایک سانپ،

سب موسیقی پر ردِعمل ظاہر کر سکتے ہیں اور اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

کیا آپ نے غور کیا ہے کہ لوگ موسیقی سنتے وقت کیا کرتے ہیں؟ کبھی ہم اپنے پاؤں کو تھپتھپاتے ہیں، یا تال کے ساتھ سر ہلاتے ہیں۔ کبھی ہم دُھن کے مطابق جھومتے ہیں یا اپنی انگلیاں ہلاتے ہیں۔ یہ سب وہ طریقے ہیں جن سے ہم فطری طور پر موسیقی پرردِّعمل ظاہر کرتے ہیں۔

بات چیت کیجیے:

  • آپ کو کب موسیقی سننا پسند ہے؟
  • آپ کا پسندیدہ گیت یا دُھن کون سی ہے؟
  • جب آپ اسے سنتے ہیں تو آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟

سرگرمی 14.1


موسیقی پر ردِعمل ظاہر کرنا

  • کلاس میں کھڑے ہونے کے لیے ایک آرام دہ جگہ تلاش کیجیے۔ تمام طلبا کو علاحدہ علاحدہ بیٹھاکراپنی آنکھیں بند کیجیے۔
  • آپ کے استاد موسیقی کی ایک دھن چھیڑیں گے۔
  • اسے توجہ سے سنیے اور اپنے جسم کو اس پر فطری رد عمل ظاہر کرنے دیجیے۔
  • کیا آپ کا دل چاہتا ہے کہ آپ اپنے بازو ہلائیں؟ یا سر کو ہلائیں؟کیا آپ انگلیاں ہلانا چاہتے ہیں یا آپ تھرکنا چاہتے ہیں؟ یاد رکھیے کہ کوئی آپ کو دیکھ نہیں رہا اس لیے آزادانہ طور پر حرکت کیجیے!
  • موسیقی پر ردِعمل ظاہر کرنے کے اس تجربے کا لطف اٹھائیے۔

جب موسیقی ختم ہو جائے تو اپنی آنکھیں کھول لیجیے۔

کیا آپ اپنے جسم یا جذبات میں کوئی تبدیلی محسوس کرتے ہیں؟ اس پر بات چیت کیجیے۔

استاد کے لیے نوٹ:

اس سرگرمی کے لیے تقریباً 3 سے 4 منٹ تک کسی ساز پر بجائی گئی موسیقی کا انتخاب کیجیے۔

سرگرمی 14.2


موسیقی کا انتخاب

مندرجہ ذیل میں پنچ تنترکی ایک کہانی دی گئی ہے:

بندر اور مگرمچھ

ایک چالاک بندر دریا کے کنارے ایک پھل دار درخت پر رہتا تھا۔ ایک دن اس نے ایک تھکا ہوا مگرمچھ دیکھا اور اسے میٹھے پھل دیے۔ وہ دوست بن گئے۔ مگرمچھ وہ پھل گھر لے گیا ۔ اس کی بیوی کو پھل کا ذائقہ بہت پسند آیا او ر وہ اس سے حسد کرنے لگی۔ اُس نے کہا: ’اگر پھل اتنے مزیدار ہیں تو بندر کا دل تو اور بھی اچھا ہوگا!‘ مگرمچھ اپنی بیوی کے لیے بندر کا دل لانا نہیں چاہتا تھا، لیکن بالآخر راضی ہو گیا۔

125

اگلے دن اُس نے بندر کو دریا پار سیر کرانے کے لیے بلایا۔ درمیان میں اُس نے کہا کہ اُس کی بیوی بندر کا دل کھانا چاہتی ہے۔ سمجھدار بندر نے کہا: ’’اُف! میں تو اپنا دل درخت پر ہی چھوڑ آیا ہوں۔ واپس چلتے ہیں۔‘‘

مگرمچھ نے اس بات پر یقین کیا اور واپس لے گیا۔ جیسے ہی وہ کنارے پہنچے بندر فوراً درخت پر چڑھ گیا اور کہا: ”تم نے مجھے دھوکہ دیا! کوئی اپنا دل کہیں نہیں چھوڑتا۔ میں اب تم پر بھروسہ نہیں کروں گا!‘‘ مگرمچھ تیرتا ہوا واپس چلا گیا اور بندر محفوظ رہا اور خوشی خوشی رہنے لگا۔

  • سب سے پہلے کہانی پڑھیے اور مختلف جذبات جیسے خوشی، اداسی، حیرت، خوف وغیرہ کو پہچانیے۔

اب کہانی کے ہر حصے کے لیے سوچیے کہ آپ کس قسم کی موسیقی شامل کرنا
چاہیں گے؟

  • جب آپ تمام موسیقی کے حصے منتخب کر لیں تو کہانی کو گروپ کی صورت میں کلاس میں پیش کیجیے۔ اور ہر حصے میں مناسب موسیقی بجائیے۔

سرگرمی 14.3


موسیقی کا تجزیہ

موسیقی مختلف جذبات کیوں اُبھارتی ہے اسےسمجھنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ مختلف قسم کی دھنیں ایک کے بعد ایک سنیے اور دیکھیے کہ وہ آپس میں کس طرح یکساں یا مختلف ہیں۔

یہاں دو گیت دو الگ زبانوں میں دیے گئے ہیں۔ انہیں سنیے اور سیکھیے۔

گیت: آکاش گنگا

زبان: گجراتی

معنی:کہکشاں ، سورج، چاند اور تارے، شام اور صبح یہ کسی ایک کے نہیں ہیں۔کس کی زمین، کس کی ندیاں، کس کے سمندر اور ساگر؟یہ سب صرف لفظوں کے ذریعے بانٹے گئے ہیں، ہمارا اور تمھارا۔


آکاش گنگا سوریہ چندر تارا

سندھیا اُشرا کوئی نا نا تھی

کونی بھومی، کونی ندھی، کونی ساگر دھارا

بھیَد کیوَل شبد امارا تمارا

ایج ہاسیہ، ایج رودن، آشا ای نراشا

ایج مانو اُرمی، فن متر باشا

میگھ دھنُ اندر نا ہوئے کدی جنگو

سُندرتا کاج ونیا وود رنگو

119

گیت: کوڈَ گنا کولی نُنگتّا

زبان: کنڑ

شاعر: شیشونالا شریف


کوڈگنا کولی نُنگتّا

نوڈووّا تنگی

کوڈگنا کولی نُنگتّا

آڈو آنے یا نُنگی

گوڈے سُنّاوا نُنگی

آڈالو باندا پاترادولا

مڈدلی نُنگتّا تنگی

گُڈّا گاوی یا نُنگی

گاوی یو ارُوی یا نُنگی

گووندا گُروونا پادا

ننّننے نُنگتّا تنگی

  • کیا آپ کو دونوں گیت ایک جیسے محسوس ہوئے ہیں یا مختلف؟
  • ان میں سے کون سا گیت تیز رفتارمیں تھا؟
  • کون سے گیت میں زیادہ تال والے ساز تھے؟
  • دونوں گیت میں کس قسم کے ساز استعمال ہوئے ہیں؟

اب جب آپ ان سوالات کے جواب دے چکے ہیں تو کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ گانے کے کون سے عناصر اسے ایک خاص احساس دیتے ہیں؟

128kk

متاثر کرنے والے موسیقار

موسیقار ہمیں کئی مختلف طریقوں سے متاثر کرتے ہیں۔کچھ موسیقاروں کو اپنی لگن کے راستے میں مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا ۔ دیگر نے بہترین کارکردگی کے لیے ہمت نہیں ہاری۔

ڈی کے پٹّم مال

وہ کرناٹک کی ایک نامور گلوکارہ تھیں جن کی پیدائش 1919 میں ہوئی۔ انھوں نے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کے دوران حب الوطنی کا پیغام عام کرنے کے لیے موسیقی کا بھی استعمال کیا۔انھوں نے کئی فلموں میں حب الوطنی کے
گیت گائے۔

انھیں 15 اگست 1947 کو آل انڈیا ریڈیو میں بھارت کے جشن آزادی کے موقع پر گیت کے لیے مدعو کیا گیا۔

وہ اسٹیج پر پیچیدہ صنف موسیقی ’راگم تانم پلوی‘ گانے والی پہلی خاتون بھی تھیں۔

121

پورن داس باؤل

ان کی پیدائش 1933 میں ہوئی اور وہ باؤل موسیقاروں کی آٹھویں نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ باؤل ایک منفرد گروپ ہے جو بنگال سے تعلق رکھتا ہے اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ موسیقی روحانی اظہار کا بنیادی ذریعہ ہے۔انھوں نے 168 سے زائد ممالک میں پروگرام پیش کیے اور دنیا بھر کے سامعین کو باؤل فلسفہ اور موسیقی سے متعارف کرایا۔

پورن داس باؤل نے اپنی سماجی خدمات میں اضافہ کرتے ہوئے بچوں کی تنظیموں اور اسپتالوں میں بھی پروگرام پیش کیے جہاں وہ موسیقی کے ذریعے کمزور اور ضرورت مند طبقات کو سہارا اور حوصلہ فراہم کرتے تھے۔

121_copy

سرگرمی 14.4


ایک موسیقار جس نے مجھے متاثر کیا

عظیم موسیقاروں کی کہانیاں زندگی کے سفر میں ہماری رہنمائی اور حوصلہ افزائی کر سکتی ہیں۔

  • اپنی پسند کے کسی موسیقار کا انتخاب کیجیے۔
  • ان کی زندگی، موسیقی کے انداز اور کامیابیوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیجیے۔
  • ایک مختصر تقریر تیار کیجیے جس میں ان کی زندگی اور خدمات کا خلاصہ ہو، اور اسے کلاس میں پیش کیجیے۔
  • اس میں یہ بھی بیان کیجیے کہ آپ کو اس موسیقار کی کیا چیز متاثر کرتی ہے۔

متاثر کرنے والے موسیقار

_______________________________________ _______________________________________ _______________________________________ _______________________________________ _______________________________________ _______________________________________ _______________________________________ _______________________________________ _______________________________________ _______________________________________ _______________________________________ _______________________________________

جائزہ

باب 41 – خیالات اور تحریک

سی جی

آموزشی ماحصل

استاد

خود

2.4

بھارت کےعظیم موسیقاروں کے بارے میں سیکھنا۔

2.3

موسیقی کے دست یاب متبادلات سے انتخاب کرتے وقت سمجھ داری سے انتخاب کرنا۔

2.4

موسیقی پر اپنی حرکات و سکنات کے ذریعہ بلا جھجک ردِعمل ظاہر کرنا۔

Part-1_Chapter_1-12

استادکےمشاہدات:

____________________________________________________________________________________________________

____________________________________________________________________________________________________

____________________________________________________________________________________________________

دیگر تاثرات:

____________________________________________________________________________________________________

____________________________________________________________________________________________________

____________________________________________________________________________________________________

تکمیلی جائزہ

موسیقی

تکمیلی جائزے کی مثالیں

تکمیلی جائزے کے معیارات

انفرادی

طالب علم کو دیے گئے کسی موضوع پر کوئی گانا منتخب کر کے پیش کرنے کو کہا جاتا ہے۔

طالب علم کو ایک چارٹ پیش کرنے کو کہا جاتا ہے جو دن کے مختلف اوقات میں اُس کے اردگرد موجود موسیقی کو ظاہر کرے۔

طالب علم کو ایک سادہ کلاسیکی دھن پیش کرنے کو کہا جاتا ہے، جس میں آروہن اور اوَروہن کے ساتھ تال برقرار رکھی جائے۔

موزوں انتخاب کرنے اور سُر و تال کے ساتھ روانی سے گانے کی اہلیت۔

مشاہدہ کرنے اور سننے کی صلاحیت، آواز اور موسیقی میں فرق پہچاننے کی اہلیت، اور چارٹ پیش کرنے میں تخلیقی صلاحیت۔

راگ کے درست سر گانے اور صحیح تال رکھنے کی اہلیت۔

گروپ

طلبا کے گروپ کو ایک کہانی کے مطابق موزوں موسیقی کے ٹکڑے منتخب کرنے کو کہا جاتا ہے تاکہ کہانی کو خوبصورتی سے پیش کیا جا سکے۔

تخلیقی خیالات، ٹیم ورک، اور جوش و خروش۔