Skip to content
Sitaar Urdu







اکائی 2

صحت و تندرستی


اکائی کے بارے میں

ابتدائی سطح پر یہ اکائی طلبا کو مختلف قسم کی خوراک، متوازن خوراک کی اہمیت ، صحت کی دیکھ بھال اور باقاعدہ ورزش اور آرام کے ساتھ اچھی صحت کو برقرار رکھنے کے طور طریقوں سے روشناس کراتی ہے۔ طلبا یہ بھی سیکھیں گے کہ بدلتے ہوئے موسموں کے مطابق روایتی زراعت اور ثقافتی رسم و رواج صحت و تندرستی کے سلسلے میں مددگار ہوتے ہیں۔

گریڈ 5کی یہ اکائی اس بات کا پتا لگانے میں طلبا کی مدد کرتی ہے کہ کس طرح روزمرہ کی پسند نا پسند ذاتی اور اجتماعی تندرستی میں مددگار ہو سکتی ہے۔طلبا یہ سیکھتے ہیں کہ خوراک کا کس طرح خیال رکھا جائے اور و ہ خوراک کے تحفظ کے مختلف ہندوستانی روایتی طور طریقوں سے بھی واقف ہوتے ہیں۔ وہ مفید جرثوموں کے رول اور خوراک کو محفوظ کرنے میں مدد کرنے والے ثقافتی رسم و رواج کے بارے میں بھی سیکھتے ہیں۔

یہ اکائی اچھی صحت کے لیے اپنے گھر اور اس کے آس پاس کی جگہوں کی دیکھ بھا ل کرنے کے لیے بھی طلبا کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ وہ یہ بھی سیکھتے ہیں کہ کچرے کے بندوبست، پانی کے تحفظ اورہمدردی کے طور طریقے اختیار کرکے وہ کس طرح اپنے اسکول کو زیادہ ہرا بھرا، زیادہ صاف ستھرا اور صحت کے لیے بہتر مقام بنا سکتے ہیں۔

unit_header

ٹیچر کے لیے ہدایت

یہ اکائی دو ابواب پر مشتمل ہے۔ باب3خوراک کے راز’اور باب 4 ہمارا اسکول—ایک خوش گوار مقام’۔

باب 3 : خوراک کے راز

  • ‘خوراک کے راز سراغ رساں دِشا کے ساتھ ساتھ چلتا ہے،دِشا اس بات کا پتا لگاتی ہے کہ جرثومے (Microbes)کس طرح کھانے کو خراب کرتے ہیں اور کیوں کچھ اشیائے خوردنی زیادہ مدت تک خراب ہونے سے بچی رہتی ہیں۔ اس باب میں خوراک کے تحفظ کی سائنس، تحفظ کے مختلف طریقوں اور ان کی ثقافتی اہمیت کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس باب میں صحت اور حفظان صحت کو فروغ دینے کے سلسلے میں مفیدجرثوموں کے کردار، مناسب طریقے سے خوراک کا ذخیرہ اور استعمال کرنے کی اہمیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

باب 4 : ہمارااسکول — ایک خوش گوار مقام

  • ہمارا اسکول ایک خوش گوار مقام’ہرے بھرے اسکول کے نظریے سے متعارف کراتا ہے، یعنی ایک ایسا مقام جو صاف ستھرا، محفوظ اور طلبا، اساتذہ اور ماحول کے موافق ہو۔ اس باب میں ایک خوش گوار اسکول کا ماحول تیار کرنے میں ہمدردی ،احترام اور مثبت رویےّ کی اہمیت سے با خبر کر نے کے ساتھ ساتھ کوڑے کے بندوبست ، پانی کے تحفظ اور شجرکاری کے ذریعہ اپنے اسکول کو بہتر بنانے کے لیے طلبا کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔
unit_2_footer

سہولت کیسے فراہم کریں

  • سرگرمی کے ساتھ مشاہدہ کرنے اور تجربہ کرنے کی حوصلہ افزائی کیجیے۔ طلبا نے جن باتوں کا پتا لگایا ہے ، ان کو ایک ‘خوراک کی تفتیش’یا ‘اسکول کی کھوج’ نوٹ بک میں درج کرنے میں ان کی مدد کیجیے۔
  • طلبا کے خاندان کی غذائی عادتوں یا غذا کے تحفظ کے طریقوں کے بارے میں ذاتی واقعات بیان کرنے یا ایک چھوٹے گروپ مباحثے کا اہتمام کرنے میں طلبا کی رہنمائی کیجیے۔
  • خوراک کے تحفظ سے متعلق مقامی یا ثقافتی روایات کا پتا لگانے اور ان سے دوسروں کو واقف کرانے کے لیے طلبا کی حوصلہ افزائی کیجیے۔
  • حقیقی اشیا کو آموزشی اشیا کے طور پر اور اسکول کے مقامات (جیسے کہ کچن، باغ یا کاریڈور ) کو آموزشی مقامات کے طور پر استعمال کیجیے۔
  • خوراک کے تحفظ، کچرے کے بندوبست اور سماج کے طور طریقوں کے بارے میں جاننے کے لیے بزرگ افراد، کچن کے اسٹاف، چیزوں کو دوبارہ قابل استعمال بنانے والوں یا مقامی دکانداروں کے ساتھ طلبا کی بات چیت کا اہتمام کیجیے۔
  • اپنی غذائی عادتوں ، صحت کے معاملے میں جرثوموں کے کردار اور کس طرح یہ تصورات ماحولیات کی پائیداری سے متعلق ہیں ، اس کے بارے میں ناقدانہ طریقے سے سوچنے کے لیے طلبا کو تحریک دیجیے۔

3

خوراک کے راز

خوراک کی بربادی

بھولا ہوا ٹفن باکس!

پیر کے روز کی صبح تھی۔ دھوپ نکلی ہوئی تھی ۔ دِشا ایک کھوجی مزاج والی لڑکی تھی۔ وہ اپنے آس پاس کی چیزوں کے بارے میں پتا لگانے کے لیے ہمیشہ متجسس رہتی تھی۔ گزشتہ جمعہ وہ اسکول میں جو لنچ باکس بھول گئی تھی، وہ اس کو مل گیا تھا۔ اسے یاد آیا کہ تین روز قبل اس میں اس کی مرغوب غذا اتپم بچی رہ گئی تھی۔ جب اس نے باکس کھولا تو اس میں سے ایک نا گوار بو نکلی۔ اس کے پسندیدہ اتپم پر رنگ برنگے دھبّے پڑگئے تھے۔ وہ حیران تھی کہ میر ے اتپم کو کیا ہوا ہے! دِشا کے لیے یہ ایک راز تھا۔

دِشا کو اس بات کا پتا لگانے کا بڑا تجسس تھا کہ یہ کیسے ہوا — سراغ رساں دِشا اب اپنے آس پاس کی دنیا کے رازوں کا پتا لگانے کے لیے تیار تھی۔ خوراک ہماری دنیا کا ایک اہم جز ہے۔ دِشا نے خوراک کے بارے میں اپنی تفتیش شروع کر دی۔

1

راز # 1: میرےاتپم کو کس چیز نے خراب کیا؟

گھر پہنچتے ہی دِشا اپنے انّا(تمل زبان میں بڑا بھائی)آدتیہ کے پاس گئی، جو گریڈ 8 میں پڑھتا تھا۔

دِشا نے پوچھا،‘‘انّا، کھانے کے اوپر یہ دھبےّ کیسے ہیں؟ اس کی بو بھی اچھی نہیں ہے!’’

اس نے کھانے کو دیکھا اور مسکرا تے ہوئے کہا،’’یہ پھپھوندی ہے، دِشا۔ ان ننھےجانداروں کو جرثومے کہا جاتا ہے، جو تمہارے کھانے پر پیدا ہو گئے ہیں اور کھانے کو خراب کر دیا ہے۔‘‘

دِشا نے سوال کیا، ‘‘جرثومے؟ کیا یہ چھوٹی جوں کی طرح ہوتے ہیں؟’’

انّا نے جواب دیا،‘‘اس سے بھی چھوٹے! یہ اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ انھیں دیکھنے کے لیے ایک آلے کی ضرورت ہوتی ہے، جس کو خوردبین (Microscope)کہا جاتا ہے۔ جرثومے ہمارے چاروں طرف موجود ہیں۔ یہ مختلف چیزوں پر پیدا ہو جاتے ہیں اور ان میں تبدیلیاں لے آتے ہیں۔ کچھ جرثومے دہی جمانے اور ہمارے کھانے کو ہضم کرنے میں مدد کرتی ہے۔ یہ اتپم اورکھانے کی دوسری چیزوں کے ذائقے اور خوشبو کو بھی تبدیل کر دیتے ہیں۔ پھپھوندی کو ہم اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ہزاروں جرثوموں کی ایک کالونی سے تیار ہوتی ہے۔ ‘‘

تجسس سے دِشا کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ اس نے فوراً یہ بات اپنی نوٹ بک میں درج کرلی—

2_b

دریافت # 1

جرثومے: یہ ہمارے چاروں طرف مٹّی، پانی اور ہوا میں پائے جاتے ہیں۔ یہ پودوں، جانوروں میں بھی ہوتے ہیں اور ہمارے اندر بھی ہوتے ہیں!


غورکیجیے

کیا آپ کو کبھی بدہضمی ہوئی ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ خراب ہو جانے والے کھانے کو اگر غلطی سے کھا لیا جاتا ہے، تو کیا ہوتا ہے؟ اگر آپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے تو آپ نے ٹھیک ہونے کے لیے کیا کیا ؟ اپنے تجربے سے کلاس کو واقف کرائیے۔

راز # 2 :کھانے کی کچھ چیزیں جلد خراب کیوں ہو جاتی ہیں؟

اسی روز دوپہر کو ، دِشا نے ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا دیکھا ، جو اس نے بلّی کے کھانے کے لیے بالکنی میں رکھ دیا تھا۔ بلّی دو دن سے ادھر نہیں گئی تھی۔ اس پر بھی دھبّےآ گئے تھے، لیکن اس کی پاتی (تمل میں دادی) نے دو ماہ پہلے جو اچار بنایا تھا، اس میں تیل بھرا ہوا تھا اور وہ ابھی تک مزے دار تھا!

دِشا نے آہستہ سے کہا،’’حیرت انگیز!کچھ چیزیں بہت تیزی سے خراب کیوں ہوجاتی ہیں، جب کہ کچھ لمبی مدت تک چلتی ہیں؟‘‘

2_a

تحریر کیجیے

آپ کی رائے میں کھانے کی چیزیں کیوں خراب ہو جا تی ہیں؟


وہ اپنے انّا کے پاس واپس گئی اور پوچھا،‘‘ان جرثوموں کو پیدا ہونے کے لیے کس چیز کی ضرورت ہوتی ہے؟’’

انّا نے جواب دیا،‘‘جرثوموں کو بڑھنے کے لیے نمی، ہوا اورصحیح درجہ ٔحرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم ان میں سے کوئی ایک چیز ہٹا دیں ، تو ہم ان کے بڑھنے کے عمل کو روک سکتے ہیں۔ ہر طرح کی زندگی کو برقرار رہنے کے لیے پانی اور ہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔ ’’

دریافت # 2

ہمیں ہوا اور پانی کو جرثوموں سے دور رکھنا چاہیے۔

خوراک کا تحفظ

راز # 3:ہم اپنے کھانے کو خراب ہونے سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

کھوجی مزاج والی دِشا نے اپنے گھر پر ہی ا س کا جواب حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔

مشاہدہ کیجیے

سُکھانا اور خشک کرنا

دِشا نے دیکھا کہ اس کی امّا ں(والدہ) اور اپّا (والد) بالکنی میں دھوپ میں ایک چٹائی پر مرچیں سکھا رہے ہیں۔ اس نے پوچھا،’’امّاں، آپ یہ کیوں سکھا رہی ہیں؟‘‘امّاں نے جواب دیا،‘‘پسی ہوئی مرچیں تیار کرنے کے لیے۔ یہ پورے سال چلیں گی!’’

3_a

دریافت # 3

دھوپ میں سکھانے سے مرچوں کی نمی ختم ہو جاتی ہے۔ نمی کے بغیر جرثومے نہیں پنپ سکتے!


تحریر کیجیے

Screenshot 2025-12-15 at 09-30-28 Chapter 3.pdf

ایسی دیگر کون سی چیزیں ہیں ، جنھیں سُکھا یا جاتا ہے تاکہ وہ سال بھر خراب نہ ہوں؟


سرگرمی 1


آم سےایسی کون کون سی چیزیں تیار کی جا سکتی ہیں، جن کا لطف لمبی مدت تک اٹھایا جا سکتا ہے؟ نیچے دئیے گئے خانوں میں ان کے نام تحریر کیجیے۔

Screenshot 2025-12-15 at 09-34-40 Chapter 3.pdf

سرگرمی 2


1. ایک ٹماٹر لیجیے اور اس کی قاشیں کاٹ لیجیے۔

2. ٹماٹر کی قاشوں کو ایک ٹرے میں رکھیے اور اس کو ایسی کھڑکی میں رکھ دیجیے جہاں دھوپ آتی ہو۔

3. آپ کو اس میں کیا تبدیلیاں نظر آتی ہیں؟

کیا آپ ٹماٹر جیسی چیزوں کو سُکھانے کے طریقے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟

مشاہدہ کیجیے

اچار تیار کرنا اور تیل سے محفوظ کرنا

باورچی خانے میں دِشا کی پاتی کچے آم کے اچار کے ایک مرتبان میں سرسوں کا تیل ڈال رہی تھیں۔ دِشا نے تجسس ظاہر کرتے ہوئے پوچھا،‘‘لیکن اچار میں تیل کیوں ڈالا جاتا ہے؟’’

پاتی نے وضاحت کی،‘‘تیل ہوا کو اندر جانے سے روکتا ہے۔ اس سے اچار محفوظ رہتا ہے!’’

دریافت # 4

تیل ہوا کو باہر رکھتا ہے اور جرثوموں کو بڑھنے سے روکتا ہے۔


بات چیت کیجیے

اگر تیل نہ ڈالا جاتا تو اس اچار کا کیا ہوتا؟

مشاہدہ کیجیے

ریفریجریٹر میں ٹھنڈا کرنا اور جمانا

اگلی صبح، دِشا نے فریج کھولا، جس میں دودھ، سبزیاں، مکھن اور ایک کیک رکھے تھے۔

اپّا نے بتایا،’’فر یج میں درجہ ٔحرارت اتنا ٹھنڈا ہوتا ہے کہ اس میں جرثومے پنپ نہیں سکتے۔‘‘

دریافت # 5

ٹھنڈا درجہ ٔحرارت جرثوموں کو سست کر دیتا ہے۔


کیا آپ جانتے ہیں؟

پانی کو ٹھنڈا کرنے کے لیے مٹکے کا استعمال

پانی کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ہم مٹّی کے برتن (مٹکے) استعمال کرتے ہیں۔

مکھن کو فریج میں رکھنے کی ضرورت کیوں ہوتی ہے، جب کہ گھی کے لیے ایسی ضرورت نہیں ہوتی؟

اشارہ: اس بات کا پتا لگائیےکہ گھر پر مکھن اور گھی کیسے تیار کیا جاتا ہے۔

کھانے کو محفوظ رکھنے کے کئی طریقے ہیں۔دِشا کے دادا نے اسے بتایا کہ کھانے کی چیزوں کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے نمک، چینی اور کالی مرچ جیسے مسالے استعمال کرتے ہیں۔ ہم آج بھی یہ طریقے استعمال کرتے ہیں۔

Screenshot 2025-12-15 at 09-39-22 Chapter 3.pdf

سرگرمی 3


گھر کے بزرگ افراد سےمعلوم کرکے اپنے خاندان میں استعمال کیے جانے والے خوراک کے تحفظ کے طریقوں کا پتہ لگائیے۔ایسا کم سے کم ایک طریقہ تحریر کیجیے۔

دریافت # 6

خوراک کو کئی طریقوں سے محفوظ کیا جاتا ہے۔


کیا آپ جانتے ہیں؟

‘کالی مرچ ’ہمارے گھروں میں استعمال ہونےوالا ایک عام مسالہ ہے۔ ماضی میں کالی مرچ کو مسالے کے طور پر اتنی مقبولیت حاصل ہوئی تھی کہ واسکو ڈی گاما اس کو حاصل کرنے کے لیے کئی سمندر پار کرکے ہندوستان آیا تھا۔

black_mirch

انّا نے دِشا کو بتایا کہ ڈبہ بند خوراک فیکٹریوں میں جرثوموں سے بچانے کے لیے ایسے ڈبوں اور بوتلوں وغیرہ میں محفوظ کیا جاتا ہے، جن میں ہوا کا گزر نہ ہو۔


کیا آپ جانتے ہیں؟

کیڑے مکوڑے خوراک کو انسانوں سے بھی زیادہ مدت تک محفوظ رکھتے ہیں۔ تتیّا اور خصوصی طور پر شکاری تتیّا اپنے لاروا کے لیے خوراک کو محفوظ رکھتا ہے۔

page_no_8
71

اڈلی کیسے تیار کی جاتی ہے؟

دِشا نے گھر پر اپنی ماں کو اڈلی بناتے ہوئے دیکھا۔ کیا آپ پتا لگا سکتے ہیں کہ اڈلی کس طرح تیار کی جاتی ہے؟ کیا کوئی ایسی چیز ہے جو اڈلی کی پیٹھی کو نرم بناتی ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کیا ہے؟

دریافت # 7

ہوا میں موجود جرثومے اڈلی کی پیٹھی کو پھلانے میں مدد کرتے ہیں۔

بد ہضمی اور گھریلو علاج

ایک میلے میں کھانا کھانے کے بعد آدتیہ انّا کا پیٹ خراب ہوگیا ہے۔


غورکیجیے

کیاکبھی آپ کا پیٹ خراب ہوا ہے، الٹی یا بد ہضمی ہوئی ہے؟ کیا آپ نے کبھی گھریلو علاج کا سہارا لیا ہے؟ آپ کا جو گھریلو علاج کیا گیا ، اس کے بارے میں تحریر کیجیے۔

کیا آپ کے پیٹ کی خرابی کو دور کرنے کے لیے آپ کے والدین نے آپ کو دہی یا اس سے بنی ہوئی دیگر چیزیں جیسے چھاچھ دی ہے۔ دہی میں ننھے جرثومے ہوتے ہیں، جو نظام ہضم میں مدد کرنے کے لیے آپ کے پیٹ کے جرثوموں سے مل جاتے ہیں۔ اگر مسئلہ شدید ہو تو آپ کو ڈاکٹر سے مشورہ کرکے کو ئی دوا لینی چاہیے۔

دریافت # 8

کبھی کبھی کھانے کی بری عادتوں کی وجہ سے بھی بدہضمی ہو جاتی ہے۔

دِشا کی نوٹ بُک اب اس کی دریافتوں سے بھر گئی تھی۔

میری خوراک ، میرا فخر

اپنی کھوج بین کے دوران ، دِشا کو پتا چلا کہ خوراک سے متعلق بہت سے روایتی رسم و رواج ہیں، جو خاندان میں ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔

اس نے میری خوراک ، میرا فخر’سے متعلق اپنی سراغ رسانی کی کیس ڈائری تیار کی۔ آئیے! ہم دِشا کی ڈائری میں کیے گئے کچھ نئے اندراجات کو دیکھتے ہیں اور انھیں مکمل کرنے میں اس کی مدد کرتے ہیں۔

سبزی منڈی کا دورہ

تھتھہ(دادا) روز انہ سبزی منڈی جاتے ہیں۔ وہ تازہ پھل اور سبزیاں خریدتے ہیں۔ ان کے ساتھ سبزی منڈی جانے میں بڑا مزہ آیا۔ دِشا نے دیکھا کہ اس کے دادا منڈی میں پھل اور سبزیاں خریدنے سے پہلے ان کی کتنی احتیاط کے ساتھ جانچ پرکھ کرتے ہیں۔


سرگرمی 4


کیا آپ کبھی پھل اور سبزیاں خریدنے کے لیے اپنے بڑوں کے ساتھ گئے ہیں؟ ایسے دوروں کے دوران دیکھیےکہ منڈی میں بزرگ کس طرح پھل اور سبزیاں منتخب کرتے ہیں۔

اپنے خریداری کے دورے کےدوران آپ نے جو ایک بات سیکھی ہو ، اسے دریافت # 9 کے طور پر تحریر کیجیے، جس طرح دِشا تحریر کرتی ۔

page_9

موسم کے پھل کھانے کا لطف!

بارش ہو رہی تھی۔ اپّا گھر واپس آتے وقت لیچی خرید کر لائے تھے۔ دِشا خو شی سے چلائی، ’’تقریباً ایک سال بعد مزے دار لیچیاں!‘‘اپّا نے کہا، ’’لیچی ایک موسمی پھل ہے، اس لیے ہمیں اس کا انتظار کرنا پڑتا ہے!‘‘ دِشا نے دیکھا کہ ا س لذیذپھل کو چھیلتے اور ایک دوسرے کودیتے وقت ہر کسی کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔

اپّانے کہا، ’’لیکن ہمارے مقامی آم کے سامنے سب پھیکے ہیں، وہ ا یک دم تازہ ہوتے ہیں ، کیوں کہ ہم تک پہنچنے کے لیے انھیں زیادہ سفر نہیں کرناپڑتا!‘‘

دریافت # 9

پھلوں کا ذائقہ اس وقت سب سے اچھا ہوتا ہے، جب انھیں ان کے موسم میں کھایا جائے۔ ان کا انتظار کرنے سے لطف مزید بڑھ جاتا ہے۔


تحریر کیجیے

اپنے علاقے کے تین موسمی پھلوں اور سبزیوں کے نام بتائیے ۔ مثال کے طور پر سردیوں میں آملہ اور گرمی کے موسم میں جامن۔



اچھی طرح چبائیے!

چھان بین: آپ کے منھ کے اندر کھانے کا کیا ہوتا ہے؟

سراغ رساں دِشا نے رازوں کا پتا لگانے کا کام ابھی بند نہیں کیا تھا۔ اس کو اس بات پر حیرانی تھی کہ، ‘‘ ہمارے کھانے کے بعد خوراک کا کیا ہوتا ہے؟’’ اس نے آئینے میں دیکھا، اپنا پورا منھ کھولا اور کہا، ‘‘آآآہ !’’۔


سرگرمی 5


جب آپ کھانا کھاتے ہیں، تو کھانے کی ہر چیز کو اچھی طرح اس وقت تک چبائیے، جب تک کہ وہ بالکل باریک ٹکڑوں میں ٹوٹ کر گودا نہ بن جائے۔ چیزوں کو کاٹنے اور چبانے کے لیے آپ نےکون سے دانتوں کا استعمال کیا؟ اگلے صفحے پر دی گئی تصویر کو دیکھیے اور اس میں دیے گئے دانتوں کے نام تحریر کیجیے۔

دانت اور چبانے کا عمل

انّا نے کہا،‘‘ہمارے مختلف قسم کے دانت ہوتے ہیں—آگے والے کاٹنے کے لیے، نوکیلے دانت پھاڑنے کے لیے، ابتدائی داڑھ کچلنے کے لیے اورپچھلی داڑھیں پیسنے کے لیے ’’۔

Screenshot 2025-12-15 at 09-52-08 Chapter 3.pdf

دانتوں کی اقسام

دِشا کےدماغ میں یہ سوال کلبلا رہا تھا کہ کھانے کو زیادہ دیر تک چبانے سے کیا زیادہ لعاب بنتا ہے۔

انّانے مزید کہا،’’اچھی طرح چبانے سے لعاب بنتا ہے، جو کھانے کو ہضم کرنے میں معاون ہوتا ہے ۔ ‘‘

دریافت # 10

خوراک کو اچھی طرح چبانے سے وہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتی ہے اور لعاب بنتا ہے، جو ہاضمے میں مددگار ہوتا ہے۔

دریافت # 11

مختلف قسم کے دانتوں کا مختلف استعمال ہوتا ہے ۔

منھ کی صفائی ستھرائی

دِشا کے دانت میں درد تھا۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس گئی۔ ڈاکٹر نے دیکھا کہ اس کے دانتوں میں دراڑ (Cavity)تھی، جس کا اس نے علاج کیا۔

دانتوں کے ڈاکٹر نے مشورہ دیا، ‘‘کھانا کھانے کے بعد کلّی کیجیے۔ اپنے دانتوں کو با قاعدہ برش سے صاف کیجیے۔ مٹھائیاں کم کھائیے۔’’

دریافت # 12

منھ کی صفائی بہت اہم ہے۔ دانتوں کی جانچ کے لیے یا اگر آپ کے دانتوں میں درد ہو تو آپ کو دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس جا نا چاہیے۔

دم گھٹنے کا خطرہ

رات کے کھانے پر امّا نے خبر دار کیا ،‘‘کھانے کو جلدی جلدی مت نگلو! اپنے کھانےکو اچھی طرح سے چباؤ!’’

دریافت # 13

مجھے دم گھٹنے سے بچنے کےلیے اپنا کھانا آہستہ آہستہ چبا کر ہی کھانا چاہیے۔


ٹیچر کے لیے ہدایت

ٹیچر اس بات کو یقینی بنائیں کہ طلباکھانے کے چھوٹے چھوٹے نوالے بناکر کھانے اور انھیں نگلنے سے پہلے اچھی طرح چبانے کی طرف راغب ہوں۔ اس کے علاوہ انھیں یہ مشورہ بھی دیجیےکہ وہ اس وقت بات کرنے اور ہنسنے سے گریز کریں جب ان کے منھ میں کھانا ہو۔


تحریر کیجیے

آپ دم گھٹنے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

ہمارے جسم میں خوراک

حتمی کھوج

کچھ جرثومے ہمارے کھانے کو خراب کر دیتے ہیں، جب کہ کچھ جرثومے کھانے کی چیزیں تیار کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔وہ کھانے کو ہضم کرنے میں بھی ہماری معاونت کرتے ہیں۔

آخر کار ، خوراک کا راز حل ہو گیا۔

اچھی چیزیں کھائیے، اچھی طرح سے محفوظ اور ذخیرہ کیجیے ، اچھی طرح چبائیے اور اچھے جرثوموں کا شکریہ ادا کیجیے۔

راز کا پتا چل گیا! سراغ رساں دِشا نے مسکرا تے ہوئے اپنی نوٹ بُک بند کردی۔

  1. ایسا کیو ں ہوتا ہے کہ کھانے کی کچھ چیزیں ہفتوں چلتی ہیں اور دیگر کچھ چیزیں کچھ دنوں میں ہی خراب ہو جاتی ہیں؟
  2. آپ دو دن کے لیے میدانی دورے پر جا رہے ہیں۔ کھانے کی ایسی پانچ چیزوں کی فہرست تیار کیجیے، جو آپ اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ آپ انھیں خراب ہونے سے کیسے بچائیں گے؟
  3. اگر کھانے کی چیزوں کو محفوظ نہ کیا جا سکتا تو کیا ہوتا؟ ایک ایسی دنیا کا تصور کیجیے، جہاں کھانے کو محفوظ نہ کیا جا سکتا ہو اورپھر اس کے نتائج پر بات چیت کیجیے۔

مندرجہ ذیل کو ملائیے:

حتمی مصنوعات (B) تیار کرنے کے لیے کھانے کی درج ذیل (A) اشیا کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔

اشیا (A)

تحفظ کا طریقہ

مصنوعات (B)

روٹی

خشک کرکے

کھا کھرا

پاپڑ

دھوپ میں سکھاکر

خشک پاپڑ

آم

آم پاپڑ

لیموں

لیموں کا اچار

مکھن

گھی

جوس

ڈبہ بند جوس

مرچ

پسی ہوئی مرچ

مچھلی

سوکھی مچھلی