8
کپڑے — چیزیں کیسے بنتی ہیں
8
دھاگوں کے ساتھ نمونے
اپنے ارد گرد اچھی طرح دیکھیے۔کیا آپ کو پرندے گھونسلے بناتے ہوئے یا مکڑی جالے بنتی ہوئی دکھائی دیتی ہے؟ فطرت ایسے پوشیدہ فن کاروں مثلاً جانوروں،پرندوں اور کیڑے مکوڑے سے بھری پڑی ہے جو کہ بُنتے ہیں، سلائی کرتے ہیں، ڈیزائن بناتے ہیں یہاں تک کہ چیزوں کو ایک دوسرے کے ساتھ چپکاتے بھی ہیں۔
آپ کو ذیل کی تصویر میں کیا دکھائی دے رہا ہے؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے آس پاس ایک ایسا چھپا ہوا فن کار موجود ہے جو انسانوں سے بہت پہلے ہی بُنائی کا کام کرتا رہا ہے؟
بیا( نر) پرندہ بُننے والاایک پرندہ ہے، جو گھاس سے لٹکتے ہوئے خوبصورت گھونسلے تیار کرتا ہے۔وہ گھونسلے کو مضبوط بنانے کے لیے اوپر اور نیچےکے تنکوں کی بنُائی کرتا ہے۔ گھونسلے پاؤچ کی شکل میں بنائے جاتے ہیں اور درخت کی شاخوں سے لٹکے ہوئے ہو تے ہیں۔ماہر بیا بُنکر پرندہ بہت ہی اچھا گھونسلا تیار کرتاہے جب کہ نوجوان بیا پرندے جو ابھی سیکھ رہے ہوتے ہیں وہ نسبتاً کم خوبصورت گھونسلے بناتے ہیں۔
بُنائی پٹیوں یا کسی چیز کے دھاگوں کو ایک نمونے والے کپڑے میں تبدیل کر دیتی ہے۔ دھاگوں کا ایک سیٹ عمودی شکل میں رکھا جاتا ہے اور دوسرا افقی شکل میں گزرتا ہے۔جب ان دھاگوں کواحتیاط کے ساتھ ایک دوسرے کے اوپر نیچے سے گذارا جاتا ہے تواس سے ایک طرح کا کپڑا، چٹائی، ٹوکری یا اسی طرح کی دوسری چیزیں وجود میں آتی ہیں۔
ایک طویل عرصے سے لوگ ناریل کے ریشے یا پام کے پتوں، بانس، گھاس، پٹسن اور کپاس یا ریشم جیسی قدرتی اشیا سے چٹائیاں اور ٹوکریاں یا چادریں وغیرہ بُنتے آرہے ہیں۔
بات چیت کیجیے
کیا آپ نے اپنے گھر میں یا کہیں اور قدرتی مواد سے تیار کردہ چیزیں دیکھی ہیں؟ وہ کیا ہیں؟
سرگرمی 1
- 5-6 نیلے کاغذ کی پٹیاں لیجیے اور انھیں کسی سطح پر چسپا ں کر دیجیے۔
- پیلے کاغذ کی پٹیوں کا ایک دوسرا سیٹ لیجیے اور اس کو اوپر نیچے کرتے ہوئے بُنائی کیجیے۔
- آپ اس کام کو اس وقت تک جاری رکھیے جب تک کہ ایک چٹائی تیار نہ ہو جائے۔
- کیا آپ یہی طریقہ ایک ٹوکری بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں؟




کاغذ کے علاوہ تار، رسیاں، ربن یا نرسلوں جیسے مواد کو استعمال کرنے کی کوشش کیجیے۔




غور کیجیے
آپ اپنے کمرۂ جماعت میں ایسی کیا چیز تلا ش کر سکتے ہیں جو بُنی ہوئی ہو؟اگر ہم کاغذ کی پٹیوں کے بجائے دھاگوں سے بُنائی کریں تو یہ کپڑا بن جاتا ہے۔
سرگرمی 2
کپڑے کے ایک ٹکڑے کو محدّب شیشے سے یا موبائل فون کیمرے پر زوم کر کے دیکھیے۔یہ ایک قمیص یاکوئی دوسری چیز ہو سکتی ہے جو آپ پہنے ہوئے ہیں۔کیا آپ حیرت انگیز تانے بانے کے نمونے کو دیکھ سکتے ہیں؟
بُنائی کی روایتیں
ہندوستان کے لوگ 4,000سال پہلے بھی ُبننا جانتے تھے! روایتی بُنائی ہاتھ سے کرگھے(لوم) پرکی جاتی ہے۔اس طرح تیار کیے گئے کپڑے کو ہینڈ لوم کپڑا کہا جاتا ہے۔ ہندوستان میں بہت سے ایسے بہترین ہینڈ لوم بُنکر ہیں جنھیں اپنی دستکاری میں مہارت حاصل ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
ہندوستان میں ہینڈ لوم کی بہت سی روایات ہیں جن میں منفرد تکنیک اور نمونوں کا استعمال ہوتا ہے۔ ان میں تمل ناڈو کا کانجی ورم،کشمیر کا پشمینہ اور اوڈیشہ و گجرات کا اِکات وغیرہ شامل ہیں۔
بُنائی محض کپڑا تیار کرنا نہیں ہے۔ یہ بہت سے کنبوں کو کام فراہم کرتا ہے اور ہماری روایتی مہارتوں، ڈیزائنوں کو بھی زندہ رکھتاہے۔اسی لیے بُنائی ہندوستان کے لیے بہت خاص ہے — اس کی ثقافت اور ان لوگوں کے لیے جو اپنی زندگی گزار نے کے لیے اس پر انحصار کرتے ہیں۔
کپڑے کے مل بڑے پیمانے پر دھاگے اور کپڑے تیار کرنے کے لیے جدید مشینوں کا استعمال کرتے ہیں۔
دھاگے
ہم نے دیکھا کہ کس طرح دھاگوں کو ایک ساتھ بُن کر کپڑا تیار کیا جا سکتا ہے ۔لیکن دھاگے کیسے تیار کیے جاتے ہیں؟
سرگرمی 3
- روئی کا ایک گولا لیجیے، اس کا ایک کونا پکڑ کر آہستہ سے کھینچیے تاکہ ریشہ باہر نکل سکے۔
- اب، آپ اپنی انگلی سے آہستہ آہستہ اس ریشے کوبل دیجیے۔دیکھیے کہ جب آپ اسے بل دیتے ہوئے کھینچتے ہیں تویہ کیسے مضبوط ہوتا ہے۔
- ایک پنسل لیجیے۔ اب، آپ اپنے روئی کے ریشے کو بل دیتے ہوئے اپنی پنسل پر لپیٹیے۔
روئی کے ریشوں کو بل دے کر دھاگہ یا سوت بنانے کے اس عمل کو کتائی کہتے ہیں۔ چرخہ روئی کو بل دینے میں ٹھیک اسی طرح مدد کرتا ہے جس طرح کہ پنسل کرتی ہے۔
بال کی طرح باریک یہ ریشے جو آپ کو دھاگے کے بل کھولتے وقت ملتے ہیں انھیں فائبر کہا جاتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
گاندھی جی نے ہمیں بتایا تھا کہ یہ خود کفیل ہو نے کے لیے کس قدر اہم ہے۔کپاس دھاگہ گھما کر اور اسے کپڑے میں بن کر کیسے اپنا لباس خود بنانا آزادی کی جد و جہد اور آتم نربھر(خود انحصار)بننے کے لیے ایک مثال بن گیا۔وہ کپڑے جواس طریقے سے بنائے جاتے ہیں انھیں کھادی کے طور پر جانا جاتا ہے۔
ہم فائبر صرف روئی سے ہی نہیں حاصل کرتے ۔ دوسرے بہت سے قدرتی ذرائع بھی ہیں۔
ریشم ایک چھوٹے کیڑے کے کویا سے، جسے سلک موتھ کہا جاتا ہے، نکلتا ہے۔کو یا کوگرم پانی میں رکھا جاتا ہے تو ریشم کے دھاگے آسانی کے ساتھ باہر نکال لیے جاتے ہیں اور پھر اس کا دھاگا بنایا جاتا ہے جو ریشم کا کپڑا بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ٹیچر کے لیے ہدایت
ٹیچر ،کسی کپڑے کی مل یا ایسی جگہ دیکھنے کا پروگرام بنا سکتے ہیں جہاں ہینڈ لوم کے کپڑے تیار ہوتے ہیں۔یا پھر ٹیچر کسی علاقائی ہینڈ لوم بُنکر کو اسکول میں بلا سکتے ہیں۔
1. ریشم کے کیڑے کے انڈے
2. کیٹرپلر
3. کویا
4.تتلی
مصنوعی(Synthetic) ریشے انسان کے ذریعہ مصنوعی مواد سے تیار کردہ ریشے ہوتے ہیں۔ ہم سب قدرتی اور مصنوعی دونوں طرح کے ریشوں سے تیار کردہ چیزوں کا استعمال کرتے ہیں۔
ٹیچر کے لیے ہدایت
ٹیچر ،’دائرہ حیات ‘(Life cycle) کو فروغ اور تبدیلی کے ایک نمونے کے طور پر متعارف کراسکتے ہیں جس میں ہر جاندار کو پیدائش سے فروغ اور نشو ونما سے موت تک گزرنا پڑتا ہے۔مثال کے طور پر ایک تتلی یا پودا۔ اسےسمجھانے کے لیے تصویریں یا ویڈیو دکھائیں۔
سرگرمی 4
اپنے تھیلے، کپڑے یا دوسری چیزوں کو غور سے دیکھیے جو آپ روزانہ استعمال کرتے ہیں۔کچھ ایسی چیزوں کی فہرست بنائیےجنھیں آپ نے استعمال کیا ہے۔کیایہ قدرتی یا مصنوعی ریشے سے تیار کیے گئے ہیں؟ پھر اس میں آ پ کو جو ایک چیز پسندہو، نیچے دیے گئے جدول میں تحریر کیجیے۔
|
اشیا |
قدرتی |
مصنوعی(Synthetic) |
اس کے بارے میں میری کیا پسندہے |
سوئی اور دھاگے کے ساتھ ہنر مندی
فطرت حیرت انگیز چیزوں سے بھر ی ہوئی ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہر ےرنگ کا ایک ایساچھوٹا سا پرندہ ہوتا ہے جو اپنا گھونسلا سلائی کر کے بناتا ہے؟ یہ درزی پرندہ( Tailorbird) ہے۔
یہ پرندہ اپنی چونچ کے ذریعہ کسی بڑے پتّے کے کناروں کو پودوں کے ریشوں یامکڑی کے جا لےکے ریشوں سے ملا کر سلائی کرتا ہے۔ یہ اپنی چونچ سے پتّے کے کنارے پر سوراخ کرکے اس میں ریشہ ڈال کر کھینچ لیتا ہے اور پھر دوسرے کنارے میں بھی سوراخ کر کے ایسا ہی کرتا ہے اور بالکل اسی طرح پتّہ کو سی دیتا ہے جس طرح ایک درزی سوئی دھاگے سے آستین تیار کرتا ہے۔ یہ ہرے پتّوں کو جوڑ کر ایک نرم اورمحفوظ گھونسلا تیار کر تا ہے تاکہ اس میں انڈے دے سکے اور اپنے بچوں کی پرورش کر سکے۔
سرگرمی 5
چھوٹے چھوٹے گروپوں میں پلاش، ساگوان،کٹھل یا اسی طرح کے بڑے پتّے جمع کیجیے۔ اگر پتّے دستیاب نہ ہوں تو کاغذ کا استعمال کر سکتے ہیں۔
خلال کی طرح کچھ چھوٹی ٹہنیاں اکٹھا کیجیے۔ اب، ان پتیوں یا کاغذ کو خلال کی مدد سے آپس میں ملا کر ایک پلیٹ یا چمچہ بنانے کی کوشش کیجیے۔

سرگرمی 6
کیا آپ نے کبھی کچھ سینے کی کوشش کی ہے؟ آپ کو کپڑا سینے کے لیے ایک سوئی دھاگے کی ضرورت ہوگی۔ کیا کسی پھٹے ہوئے کپڑے کو سی سکتے ہیں یاکوئی بٹن ٹانک سکتے ہیں؟ آئیے ہم سادہ سلائی کرنا سیکھیں۔
غور کیجیے
- کیا آپ نے کبھی گھر میں یا پڑوس میں کسی کو کچھ سیتے ہوئے دیکھاہے؟وہ کیا سی رہے تھے یا ٹانک رہے تھے؟
- اپنی قمیص یا اسکول کے بستے کو دیکھیے۔ کیا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ٹکڑوں کو کیسے جوڑا گیا ہے؟
سرگرمی 7
آ ئیے ہم ساد ہ ٹانکے والی سلائی کے ساتھ آغاز کریں۔
پوائنٹ A
پوائنٹ C
پوائنٹ B
- ایک سوئی میں دھاگہ پروئیے۔ دھاگے کے ایک سرے پر گانٹھ لگائیے۔
- کپڑے کی الٹی جانب سے شروعات کیجیے۔ پوائنٹAپر سوئی کو اوپر نکالیے۔
- پوائنٹ B پر سوئی کو نیچے کی جانب نکالیے۔
- پوائنٹ Cپر پھر سوئی کو اوپر نکالیے اور پھر پوائنٹ Dپر نیچے نکالیے۔
- اسی طرح سوئی کو ایک سیدھ میں اوپر نیچے نکالیے۔
- اس طرح کی سلا ئی کو سادہ ٹانکے والی سلائی کہتے ہیں۔
سرگرمی 8
کپڑوں کو ملا کر سینا
آئیے اب ہم کپڑے کے دو ٹکڑوں کو جو ڑ نے کے لیے اس طرح کی سلائی کا استعمال کریں۔
- کسی درزی کی دوکان سے کپڑے کے بچے ہوئے ٹکڑے لیجیے یا پرانے کپڑے کے کچھ ٹکڑے لیجیے۔
- کپڑے کے ایک ٹکڑے کو میز پرپھیلا دیجیے۔ کپڑے کے دوسرے ٹکڑے کو پہلے ٹکڑے پر تھوڑا سا بڑھا کر پھیلادیجیے
- اب ،ان دونوں ٹکڑوں کو جوڑنے کے لیے سوئی اور دھاگے سے سادہ سلائی کیجیے۔
- میز پوش، بوریا، کوسٹر، صافی یا اپنی پسند کی کوئی اور چیز تیار کرنے کے لیے اس میں مزید کپڑے کے ٹکڑوں کا اضافہ کیجیے۔



ٹیچر کے لیے ہدایت
سوئی دھاگے سے سلائی بہت احتیاط کے ساتھ کی جانی چاہیے۔سلائی آہستہ آہستہ کیجیے تاکہ طلبا اسے اچھی طرح دیکھ سکیں۔ طلبا کو سوئی کے ساتھ نہیں کھیلنا چاہیے — کسی چوٹ سے بچنے کے لیے احتیاط ضروری ہے۔ اس سرگرمی سے پہلے طلبا کو واضح ہدایات دینا ضروری ہیں۔
روز مرہ کی زندگی میں ہم اور کہاں سادہ سلائی کا استعما ل کرسکتے ہیں؟

اگر آ پ کی سلائی کرتے وقت ایک دھاگہ ٹوٹ جاتا ہے تو آپ کی رائے میں باقی ٹانکوں کا کیا ہوگا؟

ٹانکا لگائیے اور سجاوٹ کیجیے
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کے مختلف حصوں میں لوگ مختلف قسم کے ٹانکے استعمال کرتے ہیں؟ محض کپڑوں کو جوڑنے کے لیے ہی ٹانکے نہیں لگائے جاتے بلکہ اس کو خوبصورتی سے سجانے کے لیے بھی ٹانکے لگائے جاتے ہیں۔ہرایک ٹانکا ہم سے کسی جگہ، وہاں کے لوگوں اور ان کی روایت کی داستان بیان کرتاہے۔
|
ہندوستان کی روایتی کشیدہ کاری اور اس کی ابتدا |
|||
|
1. |
|
چکن یا چکن کاری |
ابتدالکھنؤ، اتر پردیش میں ہوئی |
|
2. |
|
بنجارہ |
ابتدا راجستھان میں ہوئی |
|
3. |
|
کانتھا |
ابتدامغربی بنگال، اوڈیشہ اور تری پورہ جیسی ہندوستان کی مشرقی ریاستوں میں ہوئی |
|
4. |
|
گوٹہ |
ابتدا راجستھان میں ہوئی |
|
5. |
|
پھلکاری |
ابتدا پنجاب میں ہوئی |
|
6. |
|
ٹوڈا |
ابتداتمل ناڈو میں ہوئی |
|
7. |
|
کشمیری |
ابتداکشمیرمیں ہوئی |
|
8. |
|
کھنینگ کشیدہ کاری |
ابتدامیگھالیہ میں ہوئی |
دوبارہ قابل استعمال بنانا
ہمار ے ملک میں لو گ کپڑوں کو کم ہی پھینکتے ہیں۔ اگرہمارے کپڑے چھوٹے ہوجاتے ہیں تو ہم کسی چھوٹے بھائی بہن کو یا ایسے افراد کو دے دیتے ہیں جو انھیں استعمال کر سکتا ہو۔کبھی کبھی کوئی بڑا فرد بھی اس سے کچھ اور چیز بنا لیتاہے۔ہمارے ملک میں کپڑے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جو ڑ کر خوبصورت رضائی بنانے کی بھی پرانی روایت ہے۔
نمائش
آپ نے شان دار چیزوں کاا یک سیٹ تیار کیا ہے۔ اپنی چٹائیوں، بوریوں، کپڑے کے سلے ہوئے ٹکڑوں اور پیج ورک کی نمائش کیجیے۔ان پرناموں کی پر چی لگائیے اور ایک چھوٹا سا نوٹ بھی لگائیے جس میں یہ بتائیے کہ آپ نے اس کو کس طرح تیار کیا ہے۔اس نمائش کو دیکھنے کے لیے اپنی جماعت کے ساتھیوں یا اپنے والدین کو بلائیے۔
اپنی رائے کا اظہار کیجیے
- کیا آپ نے کبھی کسی پرانے کپڑے کے ٹکڑے کو دوبارہ استعمال کیا ہے یا ری سائیکل کیا ہے؟آپ نے یا آپ کے خاندان نے اس سے کیا تیار کیا؟
- اگر کسی سلے ہوئے کپڑے یا بنی ہوئی چٹائی میں سے ایک دھاگہ ٹوٹ جاتا ہے تو کیا ہو سکتا ہے؟ ہر ایک دھاگہ اہم کیوں ہے؟
- کسی بڑے فرد کے ساتھ درزی کی دوکان پر یا کسی ہینڈلوم کےاسٹور میں جائیے۔آپ وہاں پر کون سے اوزاروں یا مشینوں کا استعمال دیکھتے ہیں؟
- پتا لگائیے کہ آ پ کے علاقے یا صوبہ میں کس قسم کی بُنائی یا سلائی مشہور ہے۔ اس کا نام تحریر کیجیے۔
- ہمیں پرانے کپڑے پھینکنے نہیں چاہیے، کیوں؟
- نیچے ریشم کے کیڑے کے دائرہ ٔحیات کے ملے جلے مقامات درج کیے گئے ہیں ان کوپڑھیے اور صحیح تسلسل کے ساتھ ان پر 1سے 6تک نمبر درج کیجیے۔
بالغ ریشم کا کیڑا کویا سے باہر نکلتا ہے۔
انڈے سے بہت چھوٹے لاروے نکلتے ہیں۔
ریشم کا کیڑا انڈے دیتا ہے۔
سلسلہ دوبارہ شروع ہوتا ہے۔
لاروا شہتوت کے پتے کھا کربڑے ہوتے ہیں۔
لاروا ا پنے چاروں طرف ایک کویا بنا لیتے ہیں۔
- اپنے گھر یاآس پاس کے درزی کی دوکان سے مختلف قسم کے کپڑوں کے6-5ٹکڑے (بچی ہوئی کترنیں)لیجیے۔ ان کا بار یکی سے مشاہدہ کیجیے اور درج ذیل جدول کو پُرکیجیے۔یہ پتا لگانے کے لیے کسی بڑے فرد کی مدد لیجیے یا اپنی کتاب دیکھیے کہ وہ کپڑے، کپاس، اون،ریشم،پٹسن ، پولیسٹر یا نائیلون سے تیار کیے گئے ہیں۔
کپڑے کے ٹکڑےکا نمبر
کیسا محسوس ہوتاہے؟
(چکنا، کھردرا)
موٹا/باریک
چمک دار
(ہاں /نہیں)لچک دار
(ہاں /نہیں)آپ کے خیال میں یہ کس چیز سے بنا ہے؟
1
2
3
4
5







