Skip to content
Qr







10

زمین — ہمارا مشتر کہ گھر


10

نیلا سیارہ

’’کرۂ ارض کو باہر سے دیکھنے پر جو پہلا خیال ذہن میں آتا ہے، وہ یہ کہ کرۂ ارض مکمل طور پر واحد نظر آتا ہے، باہر سے کوئی حد نظر نہیں آتی۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی حد موجود نہیں، کسی مملکت کا وجود نہیں اور کوئی ملک موجود نہیں۔ ہم سب انسانیت کا حصہ ہیں اور زمین ہمارا ایک گھر ہے اور ہم سب اس کے اندر ہیں۔‘‘

یہ تحریک دینے والے الفاظ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچنے والے پہلے ہندوستانی گروپ کیپٹن شُبھانشو شکلا کے ہیں جو انھوں نے ہندوستان کے اس وقت کے وزیر اعظم کے ساتھ بات چیت کے دوران کہے تھے۔


کیا آپ جانتے ہیں؟

ہندوستانی خلاباز، وِنگ کمانڈر راکیش شرما پہلے ہندوستانی تھے جنہوں نے خلا سے زمین کو دیکھا۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ اوپر سے ہندوستان کیسا نظر آتا ہے تو ان کا جواب تھا ’’سارے جہاں سے اچھا۔‘‘

galaxy

خلامیں بہت اونچائی پر جانے کے بعد زمین بہت چھوٹی نظر آتی ہے اور ہم چھوٹی چھوٹی تفصیلات، جیسے اپنا شہر یا گاؤں وغیرہ نہیں دیکھ سکتے۔ ہم اپنے نیلے سیارہ پر وسیع زمینی خاکوں اور سمندر کو ہی دیکھ سکتے ہیں۔

سرگرمی 1


ہم سب اس سیارے میں رہتے ہیں اور ہم سب کا الگ الگ پتا ہے۔ نیچے اپنا پتا درج کیجیے۔

1. میرا پتا

نام:


مکان نمبر؍ عمارت کانام:


گلی کا نام :


شہر کا نام:


گاؤں ؍قصبہ؍شہر:


ضلع:


صوبہ؍مرکز کے زیر انتظام علاقہ:


ملک:


سیارہ:


2. گلوب کا استعمال کیجیے اور پتہ لگائیے:

a.کیا کرۂ ارض پر موجود تمام سمندر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں؟

b. گلوب میں ہندوستان کہاں واقع ہے؟


کیا آپ جانتے ہیں؟

‘ڈ ی جی پن’ (DIGIPIN) آپ کے پتے کا ڈیجیٹل ورژن جیسا ہے! یہ ہندوستان میں موجود ہر چھوٹے سے چھوٹے مقام کو 10عدد والا مخصوص ڈیجیٹل کوڈ فراہم کرتا ہے۔ یہ آپ کے گھر یا اسکول کے لیے نام کے ٹیگ کی طرح ہے، یہ گاؤں یا شہروں میں آپ کا پتا معلوم کرنے کے لیے ڈاکیے، ایمبولینس، یا سامان پہنچانے والے شخص کی تیزی سے مدد کرتا ہے!

119377-middle

جب ہم زمین کو بہت اونچائی سے دیکھتے ہیں تو ہم ملکوں کے درمیان کوئی سرحد یا لائن نہیں دیکھتے۔ فطرت کی کوئی حد نہیں ہے — اس لیے ہوا، پانی، بادل اور یہاں تک کہ بیج اور جانور بھی پوری دنیا میں آزاد انہ حرکت کرتے ہیں۔

پوری دنیا کے عوام بھی کئی اعتبار سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جس طرح ہندوستان کے لوگ آم، دریاؤں اور تہواروں میں اشتراک کرتے ہیں اسی طرح پوری دنیا کے لوگ بھی ان چیزوں کے ذریعے مربوط ہیں جن کا ہم اشتراک کرتے ہیں۔

کپڑے جو ہم پہنتے ہیں،کھانا جو ہم کھاتے ہیں، اور کھلونے جن سے ہم کھیلتے ہیں، وہ ہو سکتا ہے دنیا کے مختلف حصوں سے آئے ہوں۔ اسی طرح نظریات، خوراک، موسیقی، کہانیاں اور اختراعات کا بھی اشتراک کیا جاتا ہے۔

ہر چیز فطرت، تجارت، سفر اور ان طور طریقوں کے ذریعہ مربوط ہے جن سے ہم مل کر اپنے کرۂ ارض کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ زمین ہمارا مشترکہ گھر ہے۔

ہم کچھ کہانیوں کے ذریعے اس بات کا پتا لگائیں گے۔


ٹیچر کے لیے ہدایت

ٹیچر، طلبا کو میکسکو، پرتگال، جنوبی امریکہ، برازیل، روس، منگولیا وغیرہ سمیت کچھ ملکوں سے واقف کرانے کے لیے گلوب کا استعمال کر سکتے ہیں۔

کہانی1 : سیاحت کرنے والے پرندے!

کیا آپ نے کبھی گلابی اور کالے پرندوں کو بڑے بڑے جھنڈ میں اڑتے دیکھا ہے؟ وہ ہیں گلابی مینا! ہر موسم سرما میں وہ روس کے جنوبی حصے، منگولیا اور اس کے اطراف کے ملکوں سے اڑ کر ہزاروں کلومیٹر دور ہندوستان آتی ہیں۔

Screenshot 2025-12-17 at 11-30-04 Chapter 10.pdf

یہ پرندے ہندوستان میں قدرے گرم موسم کا لطف لیتے ہیں اور ٹڈیوں کے علاوہ دیگر کیڑوں مکوڑوں کو خوراک بناتے ہیں اور اس طرح فصل میں لگنے والے کیڑے مکوڑے کو کھا کر کسانوں کی مدد کرتے ہیں۔ کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ اتنا چھوٹا سا پرندہ اتنا طویل سفر طے کرتا ہے اور اتنا مددگار ہوتا ہے؟

جب جانور محفوظ اور آزادانہ طور پر دنیا میں گھوم سکتے ہیں تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فطرت پورے کرۂ ارض پر کس شدت کے ساتھ مربوط ہے۔


تحریر کیجیے

  1. کیا گلابی مینا آپ کے علاقے میں بھی آتی ہیں؟ مقامی طور پر انھیں کیا کہا جاتاہے؟



  2. یہ کہانی ہمیں فطرت کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟



سرگرمی 2


1. پانچ ایسے پرندوں کا پوسٹر بنائیے جو موسم سرما میں آپ کے علاقے میں آتے ہیں۔ یہ جاننے کی کوشش کیجیے کہ وہ پرندے کہاں سے آتے ہیں۔

2. ایک دھاگے کا استعمال کرتے ہوئے گلوب پر گلابی مینا کے سفر کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کیجیے جو وہ روس ؍منگولیا سے ہندوستان آنے کے لیے اختیار کرتی ہیں۔

3. تصور کیجیے کہ آپ ایک پرندہ ہیں اور دنیا کا سفر کر رہے ہیں۔ آپ نے اس سفر میں جو دیکھا اور جس نے آپ کی مدد کی (ہوا، سمندری لہریں، گرم موسم) اس سے متعلق ایک مختصر پوسٹ کا رڈ یا نوٹ لکھیے۔ پھر اسے اپنی جماعت کے ساتھیوں کے ساتھ اشتراک کیجیے۔

Screenshot 2025-12-17 at 11-36-40 Chapter 10.pdf

تحریر کیجیے

جب ہم کہتے ہیں کہ ‘فطرت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی’تو اس کا کیا مطلب ہے؟

کہانی 2: یوگ — دنیا کے لیے ہندوستان کا تحفہ!

عہد قدیم سے ہندوستان میں عوام اپنے جسم کو صحت مند اور دماغ کو پُر سکون رکھنے کے لیے یوگ کی مشق کرتے آئے ہیں۔ یہ اپنی ذات اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی سے جینے کا ایک طریقہ تھا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں یوگ 3,000 سال سے بھی زیادہ عرصے سے کیا جا رہا ہے؟

03

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے سیاحوں، دانشوروں اور اساتذہ نے یوگ کا دنیا کے ساتھ اشتراک کیا۔ رفتہ رفتہ دوسرے ملکوں کے لوگوں نے بھی اسے سیکھنا اور اس پر عمل کرنا شروع کر دیا۔ آج تقریباً ہر ملک میں یوگ کی مشقیں کی جاتی ہیں۔

آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یوگ اتنے ملکوں میں کیوں مقبول ہوا ہے؟


کیا آپ جانتے ہیں؟

اقوام متحدہ نے 2014 میں 21 جون کو یوگ کا بین الاقوامی دن قرار دیا جس میں پوری دنیا کے لاکھوں لوگ مل کر یوگ کی مشق کرتے ہیں !

یہ کیا تعجب کی بات نہیں ہےکہ ایک رواج ، جس کا آغاز ہندوستان میں ہوا وہ اب پوری دنیا میں مقبول ہے؟


بات چیت کیجیے

آپ کیا سمجھتے ہیں کہ لوگ اتنے ملکوں میں کیوں مقبول ہوا ہے؟


تحریر کیجیے

کیا آپ یوگ کے کسی ایسے آسن کا نام بتا سکتے ہیں جو آپ نے کیا ہو یا دیکھا ہو؟آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ آسن کس چیز میں مدد کرتا ہے؟

کہانی 3: مرچ — ایک ایسا مسالہ جس نے ہماری زندگی کو بدل دیا!

طویل عرصہ پہلے، مرچ کے پودے جنوبی امریکہ میں پائے جاتے تھے، جو ہندوستان سے بہت دور ہے۔ لیکن 400 یا 500 سال پہلے پرتگال سے آنے والے سیاح جنوبی امریکہ سے اپنے ساتھ مرچ لے کر ہندوستان آئے۔ مرچ کو ایک نئی مٹی، نئی آب و ہوا ملی اور وہ ہندوستان کے باورچی خانوں تک پہنچ گئی۔ اندازہ لگایئے کہ اس کے بعد کیا ہوا؟ہندوستان میں لوگوں نے اسے اتنا پسند کیا کہ آج ہم مرچ کے بغیر اپنے کھانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے! مرچ کی آمد سے پہلے ہم اپنے کھانوں میں چٹخارے کے لیے کالی مرچ کا استعمال کرتے تھے۔

chap_10_page_7

دل چسپ بات یہ ہے کہ مرچ کے سفر کی کہانی اس حقیقت کی ایک بڑی مثال ہے کہ پودے کس طرح دور دراز کی سرزمینوں سے لائے گئے اور نئی ثقافت اور کھانوں کا حصہ بن گئے۔


تحریر کیجیے

  1. اگر مرچ کو ہمارے باورچی خانوں سے ایک ہفتے کے لیے ہٹا دیا جائے تو کیا ہوگا؟



  2. اپنے والدین سے کسی ایسے کھانے کے بارے میں معلوم کرکے نام لکھیے جس میں انھوں نے کالی مرچ کا استعمال کیا ہو نہ کہ لال مرچوں کا۔



سرگرمی 3


1. گلوب پر ایک رنگین دھاگے سے جنوبی امریکہ سے ہندوستان تک لال مرچوں کے سفر کو اجاگرکیجیے۔

2. آلو، ٹماٹر، مونگ پھلی، کا جو اور دیگر بہت سی خوردنی اشیا کی بھی ایسی ہی کہانیاں ہیں۔ ان سب نے ہندوستان تک پہنچنے میں ایک طویل سفر طے کیا ہے اور اب ہم اپنی روز مرہ کی غذا میں ان کا لطف اٹھاتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کے بارے میں پتا لگائیے اور اس کی کہانی تحریرکیجیے۔

کہانی 4: شکر کی میٹھی کہانی!

جس طرح مرچیں دور دراز سے سفر کرکے ہندوستان پہنچیں، اسی طرح شکر ہندوستان سے سفر کرکے دنیا کے دوسرے حصوں تک پہنچی ہے۔

بہت عرصہ پہلے دنیا میں لوگ شکر کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ وہ اپنی غذا کو میٹھا بنانے کے لیے شہد اور دیگر قدرتی طور پر میٹھی چیزوں کا استعمال کرتے تھے۔

chap_10_page_9

پہلی مرتبہ ہندوستان میں ہی گنے کے رس سے گڑ بنانے کا طریقہ دریافت کیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے گڑ سے شکر بنانے کا طریقہ بھی سیکھ لیا۔

یہ علم اور طریقۂ کار تجارت اور سیاحت کے ذریعہ دنیا کے دوسرے حصوں تک پھیلا۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ چاول، آم اور کیلا نے بھی ہندوستان سے ہی دوسرے ملکوں تک رسائی حاصل کی ہے؟ آج پوری دنیا کے لوگ ان تحفوں کا لطف اٹھا رہے ہیں، لیکن ان کا اصل سفر ہندوستان سے ہی شروع ہوا ۔

ہمارے کھانے بھی عالمی سیاحوں کی طرح ہیں جو پوری دنیا کی کہانیوں اور ذائقو ں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم کتنی گہرائی سے باہم جڑے ہوئے ہیں۔


بات چیت کیجیے

  1. اگر آپ کو کسی ایک ہندوستانی کھانے کادنیا کے ساتھ اشتراک کرنا ہو تو وہ کون سا کھانا ہوگا؟
  2. آپ کے خیال میں نئے کھانے کی کون سی اشیا مستقبل میں سفر کریں گی؟

کہانی 5: میکسکو کا گیندا ہندوستان پہنچا!

کیا آپ جانتے ہیں کہ گیندے کا پھول میکسکو سے آیا ہے؟ میکسکوکی ثقافت میں، گیندے کے پھولوں کو تہواروں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ وہاں سے گیندہ پوری دنیا اور ہندوستان تک پہنچا، جہاں اسے ایک نیا گھر ملا۔ شاید اس کے چمکتے ہوئے نارنجی اور پیلے رنگ تھے جو ہمیں بہت زیادہ پسند آئے کیوں کہ یہ ہمارے گرم جوشی، جشن اور روحانیت کے احساس کو اجاگر کرتے ہیں۔ آج گیندے کے پھول ہندوستان میں ہر جگہ نظر آتے ہیں— مندروں، گھروں، شادیوں اور دیوالی جیسے تہواروں میں۔

earth_our_shared_home_page10

کیا یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ کس طرح دور دراز علاقے کا ایک پھول ہماری تقریبات کا اہم حصہ بن گیا ہے؟


تحریر کیجیے

  1. آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ہندوستان اور میکسکو دونوں ثقافتوں میں گیندے کے پھول کو ان کے تہواروں کے دوران کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟



  2. آپ کے خیال میں مختلف ملکوں کی عوام اپنی تقریبات میں پھولوں کو کیوں شامل کرتی ہیں؟



کہانی 6 : گائیں جو برازیل پہنچیں!

بہت پہلے، پرتگال کے تاجر کچھ ہندوستانی گائیں برازیل لے کر گئے۔ یہ گائیں صحت مند تھیں، انھوں نے خوب دودھ دیا اور برازیل کے موسم سے متاثر بھی نہیں ہو ئیں ۔

وقت گزرنے کے ساتھ ان گایوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ آج برازیل میں پیدا ہونے والے دودھ کا تین چوتھائی سے زیادہ حصہ ہندوستانی گایوں کی تین نسلوں —گیر، کنکریج اور اونگول سے حاصل ہوتا ہے۔

وہ گائیں برازیل میں اتنی اہمیت حاصل کر گئی ہیں کہ ان کی تصاویر ٹکٹوں اور سکوں پر بھی نظر آتی ہیں!


تحریر کیجیے

یہ کہانی ہمیں جانوروں کے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟




سرگرمی 4

  1. اپنے ٹیچر یا کسی بڑے کی مدد سے گایوں کی کم از کم 5 مختلف نسلوں کے نام معلوم کیجیے۔
  2. اپنے گھر یا اسکول میں موجود کچھ ایسی چیزوں کی فہرست تیارکیجیے جو دنیا کے کسی دوسرے حصے سے آتی ہوں۔ پتا لگائیے کہ اصل میں وہ اشیا کہاں سے آئی ہیں۔

    اشیا

    نام

    اصل تعلق کہاں سے ہے؟

    لباس

    جینس

    امریکہ

    کھانا

    کھیل

    آلات موسیقی

    درخت

زندگی کا تانا بانا

یہ کہانیاں صرف پرندوں ، پیڑ پودوں یا اشیا کی ہی نہیں ہیں بلکہ یہ کہانیاں لوگوں کی، سیاحت کی، اشتراک اور تہذیبوں کے آپس میں ملنے کی بھی ہیں۔ ہم الگ الگ زبان بولنے والے یا الگ الگ طرح کے کھیل کھیلنے والے ہوسکتے ہیں، لیکن ہم سب ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں اور ایک دوسرے کو تحریک دیتے ہیں۔

چاہے یہ کسی پرندے کی ایک برّاعظم سے دوسرے برّاعظم تک کی پرواز ہو، کسی نئی سرزمین پر نئے بیج کا اُگنا ہو یا دنیا کے ہر کونے تک پہنچنے والی یوگ کی مشقیں ہوں، یہ سب ہمیں ایک بڑی سچائی کی یاد دلاتی ہیں — ہم سب ایک دوسرے سے مربوط ہیں!

ہمارا کرۂ ارض صرف زمین اور پانی ہی نہیں ہے بلکہ اور بہت کچھ ہے۔ یہ زندگی کا ایک متحرک تانا بانا ہے جس میں عوام، جانور، پیڑ پودے اور نظریات سفر کرتے ہیں، خلط ملط ہوتے ہیں اور مل کر فروغ پاتے ہیں۔

آموزش ، اشتراک،ایک دوسرے کی پروا اور اپنے سیارے کا خیال رکھنے سے ،ہم اس سلسلے کا حصہ بن گئے ہیں۔

سرگرمی 5


1. دادا، دادی یا کسی پڑوسی کا انٹرویوکیجیے: ان سے کسی ایسی ضروری اشیا،گانے یا رواج کے بارے میں دریافت کیجیے جو ان کے بچپن میں نہیں ہوتا تھا، لیکن آج بہت عام ہے۔ پتا لگائیے کہ وہ سب چیزیں کہاں سے آئیں؟

2. آپ نے جو کہانیاں پڑھیں، ان سے ان چیزوں کی فہرست بنائیے جو دوسرے ملکوں سے ہندوستان میں آئیں اور وہ چیزیں جو ہندوستان سے دنیا کے دوسرے حصوں میں پہنچیں۔ پھر دو مختلف رنگوں کے دھاگوں کو استعمال کر تے ہوئے نقشے پر ان کے سفر کو معلوم کیجیے۔

dada_dadi

ایک زمین، ایک خاندان!

قدیم ہندوستان کی ایک خوبصورت کہاوت ہے —’ وسُودھیو کٹمبکم‘ یعنی دنیا ایک خاندان ہے۔

تمام لوگ، جانور، درخت، دریا اور حتیٰ کہ ہوا اور آسمان اسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم سب ایک ساتھ رہتے ہیں، ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں اور ایک ہی گھر — اپنے کرۂ ارض پر رہتے ہیں۔

جب ہم پوری دنیا کو ایک خاندان کے طور پر دیکھتے ہیں تو ہم ایک دوسرے کے لیے اور کرۂ ارض کے لیے جو ہم سب کی مدد کرتا ہے ، احترام، لحاظ اور محبت کے ساتھ جینا سیکھتے ہیں۔ ’وسو دھیو کٹمبکم ‘ ہمیں یہی سکھاتا ہے۔

کرۂ ارض واقعی بہت خاص ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ وہ واحد سیارہ ہے جس میں زندگی ہے۔ ہزاروں سال سے اس نے انسانوں، جانوروں اور پیڑ پودوں کی پرورش کی ہے۔

کرۂ ارض کو بھی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ جب ہم زمین کی دیکھ بھال کرتے ہیں تو ہم ایک دوسرے کی دیکھ بھال کرتے ہیں کیوں کہ ہم سب ایک ہی خاندان کا حصہ ہیں۔

کرۂ ارض صرف ہمارا گھر نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا تحفہ ہے جس کا ہمیں، اپنے لیے، دوسروں کے لیے اور مستقبل کے لیے تحفظ کرنا ضروری ہے۔

chap_10_page_14earth_our_shared_home_page14_(1)

کیا آپ جانتے ہیں؟

ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا میں تبدیلی کی وزارت (MOEFCC)کا علامتی نشان (Logo) فطرت اور انسانی زندگی کے درمیان توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ انسان اور فطرت ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور انھیں ہم آہنگی کے ساتھ رہنا چاہیے۔ علامتی نشان ہمیں بتاتا ہے کہ ماحول کی دیکھ بھال کا مطلب خود اپنی دیکھ بھال کرنا بھی ہے۔

20

تحریر کیجیے

  1. وسو دھیو کٹمبکم ہمیں کیا درس دیتاہے؟

  2. ‘وسو دھیو کٹمبکم’ کا مطلب اپنے الفاظ میں تحریر کیجیے۔

  3. اگرچہ ہم الگ الگ ہیں، پھر بھی ہم ایک خاندان کی طرح کیسے رہ سکتے ہیں؟


اپنی رائے کا اظہارکیجیے

  1. تصورات میں سے کسی ایک تصور کا انتخاب کیجیے۔ اس کے متعلق ایک چھوٹی سی کہانی تحریرکیجیے کہ طویل عرصہ پہلے یہ نظر یہ ایک جگہ سے دوسری جگہ کس طرح پہنچا ہوگا۔ تصورکیجیے کہ اس نے لوگوں کی زندگی اور طرز زندگی کو بدلنے میں کس طرح مدد کی ہوگی؟
  2. کوئی ایسا طریقہ تحریرکیجیے کہ جس سے آپ کرۂ ارض کی دیکھ بھال کرسکتے ہوں۔
  3. کسی ایسی چیز کی نشان دہی کیجیے جو ہندوستان سے دنیا کے دوسرے حصوں تک پہنچ سکتی ہو اور اس کے بارے میں تحریرکیجیے۔