Skip to content
Sitaar Urdu

2

تالاب کا بھوت


اپریل کا مہینہ، دو پہر کی چلچلاتی دھوپ، نارائن راؤ پینے سے تر بتر رام گڑھ میں داخل ہوئے۔ رام گڑھ کے سر پنچ سے اُنھیں اپنے کھیتوں کے کاغذات کی نقل حاصل کرنی تھی۔ دفتر میں سر پنچ انھیں کا انتظار کر رہے تھے۔ نارائن راؤ نے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہوئے کہا: ”سر پنچ صاحب! تھوڑا ٹھنڈا پانی پلادیجیے، بڑی گرمی ہے۔“
سرپنچ نے میز پر رکھا ہوا لوٹا اور گلاس آگے بڑھاتے ہوئے کہا: ”جناب! پانی حاضر ہے مگر ایک گلاس سے زیادہ نہ پینا۔ بڑی مشکل سے صبح و شام ایک ایک مٹکا ملتا ہے۔ وہ بھی چار کلومیٹر دور سے لانا پڑتا ہے۔“
2
مگر گاؤں کا تالاب چھوڑ کر آپ پانی اتنی دور سے کیوں لاتے ہیں؟“ اجی جناب! کیا بتائیں، یہ تالاب تو گاؤں والوں کے لیے ایک مصیبت بن گیا ہے۔“
وہ کیسے؟“ نارائن راؤ نے حیرت سے پوچھا۔
سرپنچ نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے رازدارانہ انداز میں کہنا شروع کیا: گاؤں کے بڑے بوڑھوں کا کہنا ہے کہ تالاب میں بھوت گھس آیا ہے۔ جہاں کسی نے تالاب کا ایک گھونٹ پانی پیا، اُسے کوئی نہ کوئی بیماری آدبوچتی ہے۔ پچھلے ہفتے بڑے بڑے عامل آکر چلے گئے مگر بھوت کا بال بھی بیکا نہ کر سکے۔ وہ اب بھی تالاب میں گھسا بیٹھا ہے۔“
یہ سن کر نارائن راؤ گاؤں والوں کی جہالت اور لا علمی پر دل ہی دل میں پیچ و تاب کھانے لگے۔ پھر سر پنچ کا لحاظ کر کے سنجیدہ لہجے میں بولے : ” دیکھیے سرپنچ صاحب! آپ تو جانتے ہیں کہ میں گرام سُدھار کمیٹی کا ممبر ہوں۔ ہمارے پاس ایسے ایسے نسخے ہیں کہ آپ کا بھوت دو روز میں گاؤں چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہو گا مگر شرط یہ ہے کہ گاؤں والے بھی ہمارا ہاتھ بٹائیں۔“
دیکھیے جناب! آپ جو کچھ بھی کریں، سوچ سمجھ کر کریں۔ بھوت بڑا تگڑا ہے۔“
نارائن راؤ جب واپس اپنے شہر جانے لگے تب اُنھوں نے اُس تالاب کا غور سے معائنہ کیا۔ تالاب کی منڈیر جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی۔ کناروں پر جنگلی جھاڑیاں اور پودے کثرت سے اُگے ہوئے تھے۔ پانی کی سطح گندی اور نیلی کائی سے ڈھکی ہوئی تھی۔ کائی پر درختوں کے سوکھے پتوں کی چادرسی بچھی ہوئی تھی۔
2
لوگ تالاب میں نہاتے، کپڑے دھوتے اور مویشیوں کو نہلاتے، پھر پانی بھی اسی کا پیتے تھے۔
نارائن راؤ گاؤں والوں کی جہالت پر افسوس کرتے ہوئے شہر پہنچے۔ اُنھوں نے سب سے پہلے گرام سُدھار کمیٹی کے سکریٹری کو تمام واقعہ سنایا۔ پھر جیسے ہی گرمیوں کی تعطیلات شروع ہوئیں، مختلف اسکولوں سے سو بچے منتخب کیے گئے۔ وہ سب ماسٹر صاحب کی رہنمائی میں رام گڑھ روانہ ہو گئے۔ نارائن راؤ بھی ساتھ تھے۔ نارائن راؤ نے گاؤں کے سر پنچ کو اطلاع دی۔ سر پنچ گاؤں والوں کو لے کر تالاب کے کنارے پہنچ گئے۔ ماسٹر صاحب نے کھڑے ہو کر کہا: ” پیارے بھائیو اور عزیز بچو! آج ہمیں اس تالاب کے بھوت کو بھگانا ہے۔ اس کی ترکیب یہ ہے کہ تالاب کی گندگی صاف کر دی جائے۔ جب گندگی صاف ہو جائے گی، اندر سے صاف شفاف پانی کے چشمے پھوٹتے نظر آئیں گے، ان چشموں کا نر مل پانی دیکھتے ہی بھوت بھاگ کھڑا ہو گا۔“
2
اتنا کہہ کر ماسٹر صاحب نے کدال اُٹھا کر پہلی ضرب لگائی۔ پھر کیا تھا، بیک وقت دو سو ہاتھ مشینوں کی طرح چل پڑے۔ گاؤں والے دور کھڑے ڈری ڈری نظروں سے انھیں کام کرتا دیکھتے رہے۔ وہ منتظر تھے کہ ابھی بھوت نکل کر ماسٹر صاحب کا گلا دبا دے گا مگر دو پہر تک وہ لوگ برابر کام میں جٹے رہے۔ ہنستے گاتے، سب بچے اتنے خوش خوش کام کر رہے تھے گویا تالاب میں سے خزانہ برآمد ہونے والا ہو۔ سہ پہر کے قریب شہر سے ایک لاری آئی جس میں قیام کے لیے خیمے اور بچوں کے کھانے پینے کا سامان تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے تالاب کے قریب کے میدان میں خیمے گاڑ دیے گئے۔ گاؤں والے انھیں منع کرتے رہ گئے کہ رات کو یہاں نہ ٹھہریے ، آپ نے بھوت کو ناراض کر دیا ہے۔ کہیں رات میں وہ آپ کو پریشان نہ کرے مگر ماسٹر صاحب نے ہنستے ہوئے کہا: ”ہم بھوت کو پیاری پیاری کہانیاں سنا کر اس کا غصہ ٹھنڈا کر دیں گے۔“
2
2
پہلی رات کو گاؤں والے بڑے گھبرائے ہوئے تھے۔ انھیں یقین تھا کہ رات میں بھوت ایک آدھ بچے کو کھا جائے گا اور صبح تک سب شہر بھاگ جائیں گے مگر جب صبح اُنھوں نے دیکھا کہ تمام بچے ویسے ہی خوش خوش کدال پھاؤڑا سنبھالے کام پر جا رہے ہیں تو حیرت سے اُن کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
گاؤں والوں کے ذہن میں یہ بات سرایت کر گئی۔ ان کا خوف دور ہو گیا۔ بچوں کے ساتھ وہ خود بھی کام میں جٹ گئے۔ پھر کیا تھا، ایک ہفتے کے اندر ہی تالاب کے باہر کیچڑ اور گندگی کا ڈھیر لگادیا گیا۔ تالاب آئینے کی طرح صاف ہو گیا اور زمین سے پھوٹتے پانی کے قدرتی چشمے نظر آنے لگے۔ پھر ماسٹر صاحب نے پوٹاشیم پر مینگنیٹ کی تھوڑی سی مقدار پانی میں گھول کر تالاب میں ڈال دی۔ دوسرے دن شہر سے کانچ کے دو بڑے بڑے مرتبان پہنچ گئے جن میں مچھلیاں تیر رہی تھیں۔ ماسٹر صاحب نے گاؤں والوں سے کہا: ”بھائیو! دیکھیے یہ آپ کے تالاب کی صفائی کرنے والے خدمت گار ہیں۔ اب آپ لوگ یہ کیجیے کہ تالاب کے اردگرد ایک پختہ منڈیر بنائیے۔ اطراف میں اُگی ہوئی جنگلی جھاڑیوں اور جھاڑ جھنکاڑ کو اُکھاڑ کر پھینک دیجیے تاکہ سورج کی کرنوں کے لیے کوئی روک نہ ہو اور تالاب کی سطح پر تیرنے والے جراثیم ہلاک ہو سکیں۔ یہاں نہ کپڑے دھوئے اور نہ نہائے مویشیوں کو بھی مت لائیے۔ پھر دیکھیے آپ لوگ کیسے تندرست اور خوش رہتے ہیں۔“

سرپنچ نے ماسٹر صاحب کا شکر یہ ادا کیا اور گاؤں والوں سے کہا: ” اب بات سمجھ میں آئی کہ بھوت پریت کوئی چیز نہیں انسان کا وہم اور جہالت ہی سب سے بڑے بھوت ہیں۔“

لوک کہانی
2

مشق

پڑھیے اور سمجھیے

راز دارانہ : چپکے سے بات کرنا
عامل : عمل کرنے والا، جھاڑ پھونک کرنے والا
بال بیکا نہ کرنا ( محاوره ) : کوئی نقصان نہ پہنچانا
جہالت : لاعلمی ، نہ جاننا، علم او رواقفیت کا نہ ہونا
پیچ و تاب کھانا ( محاورہ) : بہت غصہ ہونا، پریشان ہونا
نسخہ : ترکیب، طریقہ ، وہ پرچہ جس میں حکیم ڈاکٹر دوا تجویز کرتے ہیں
معائنہ کرنا : جائزہ لینا
تعطیلات : تعطیل کی جمع ،چھٹیاں
ضرب لگانا : چوٹ پہنچانا، مارنا
اطراف : طرف کی جمع، ارد گرد، آس پاس
و ہم : شک و شبہ ، وسوسہ

سوچیے اور بتائیے

سرپنچ صاحب کے گاؤں میں پانی کی کمی کیوں تھی ؟
-----------------------------------------
نارائن راؤ گاؤں والوں کی کسی جہالت پر پیچ و تاب کھانے لگے۔
-----------------------------------------
تالاب کی صفائی کے لیے نارائن راؤ نے کیا کام کیا ؟
-----------------------------------------
ماسٹر صاحب نے تالاب کو صاف رکھنے کے لیے گاؤں والوں کو کیا مشورہ دیا ؟
-----------------------------------------
گندا پانی پینے سے کون سی بیماریاں ہوتی ہیں؟
-----------------------------------------

پڑھیے، لکھیے اور سمجھیے

ان جملوں کو پڑھیے اور خط کشیدہ الفاظ پر غور کیجیے
●تالاب چھوڑ کر آپ پانی اتنی دور سے کیوں لاتے ہیں؟
●پانی کی سطح گندی اور نیلی کائی سے ڈھکی ہوئی تھی۔
●بھوت کو پیاری پیاری کہانیاں سنا کر اس کا غصہ ٹھنڈا کر دیں گے۔

آپ جانتے ہیں کہ 'فعل' کا تعلق کسی نہ کسی زمانے سے ہوتا ہے۔ کوئی بھی کام یا تو گزرے ہوئے وقت میں ہوتا ہے یا موجودہ وقت میں یا آنے والے وقت میں۔
●گزرے ہوئے وقت میں ہونے والے کام کے زمانے کو 'زمانہ ماضی' کہتے ہیں۔
● موجودہ وقت میں ہونے والے کام کے زمانے کو 'زمانہ حال -' کہتے ہیں۔
● آنے والے وقت میں ہونے والے کام کے زمانے کو'زمانہ مستقبل' کہتے ہیں۔

- دیے گئے جملوں میں ماضی، حال اور مستقل کی نشان دہی کیجیے

زمانہ

●تالاب کا غور سے معائنہ کیا۔(..)
●اس میں صاف شفاف پانی کے چشمے پھوٹتے نظر آئیں گے۔(..)
●دو پہر تک وہ لوگ برابر کام میں جٹے رہے۔(..)

- نیچے دیے گئے جملوں میں مثال کے مطابق 'صفت' کی نشان دہی کیجیے

مثال : نارائن راؤ دو پہر کی چلچلاتی دھوپ میں آئے۔
●تھوڑا ٹھنڈا پانی پلا دیجیے۔ ……………………………………………
●سر پنچ نے راز دارانہ انداز میں کہنا شروع کیا۔ ……………………………………………
●پانی کی سطح گندی اور نیلی کائی سے ڈھکی ہوئی تھی۔ ……………………………………
●کائی پر درختوں کے سوکھے پتوں کی چادرسی بچھی ہوئی تھی۔ ………………………………

ان جملوں پر غور کیجیے
● نارائن راؤ رام گڑھ میں داخل ہوئے۔
●سنا ہے تالاب میں بھوت گھس آیا ہے۔
●راؤ صاحب بھی سب کے ساتھ تالاب کے کام میں جٹ گئے تھے۔
●لوگ پانی بھی اسی تالاب کا پیتے تھے۔ اب اسی کو صاف کر رہے تھے۔

ان چاروں جملوں کا تعلق 'زمانہ ماضی' سے ہے لیکن ہر جملہ میں
'زمانہ ماضی' کی الگ شکل ہے۔ پہلے جملے میں کام کے گزرے ہوئے وقت میں نہ قریب ہونے کا اظہار ہے نہ دور ہونے کا بلکہ بالکل گزرے ہوئے وقت کا اظہار ہے۔ ماضی کی اس شکل کو 'ماضی مطلق' کہتے ہیں۔

دوسرے جملے میں کام کے گزرے ہوئے وقت میں اس کے قریب ہونے کا اظہار ہے۔ ماضی کی اس شکل کو 'ماضی قریب' کہتے ہیں۔
تیسرے جملے میں دور کا گزرا ہوا وقت ظاہر ہو رہا ہے۔ ماضی کی اس شکل کو 'ماضی بعید ' کہتے ہیں۔
چوتھے جملے میں کام کے گزرے ہوئے وقت میں لگا تار ہونے کا اظہار ہے۔ ماضی کی اس شکل کو' ماضی استمراری' (ماضی ناتمام ) کہتے ہیں۔

درج ذیل جملوں میں ماضی مطلق / ماضی قریب / ماضی بعید /ماضی استمراری تلاش کر کے لکھیے

●سر پنچ راؤ صاحب کا انتظار کر رہے تھے۔ ……………………………………………
●بچوں نے کتاب کھولی اور استاد نے سبق شروع کیا۔ ……………………………………
●میں نے اپنا پورا ہوم ورک کر لیا ہے۔ ……………………………………
●دعوت میں ہماری خالہ جان نے بہت عمدہ کھانا بنایا تھا۔ ………………………………

درج ذیل عبارت کو پڑھیے اور سوالوں کے جوابات دیجیے

پانی کی صفائی ہماری صحت اور ماحول کے لیے بہت اہم ہے۔ صاف پانی زندگی کا بنیادی جزو ہے، کیوں کہ یہ نہ صرف پینے کے لیے ضروری ہے بلکہ کھانا پکانے، نہانے اوردیگر روز مرہ کے کاموں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ بد قسمتی سے صنعتی فضلہ، زرعی کیمیکل اور گھر یلو کوڑا کرکٹ پانی کے ذرائع جیسے دریاہ جھیلوں اور زیر زمین پانی کو آلودہ کر رہا ہے۔ یہ آلودگی نہ صرف انسانی صحت کے لیے خطر ناک ہے بلکہ ماحولیاتی توازن کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔

      صنعتی اور زرعی سرگرمیوں سے نکلنے والے فضلے کو روکنے کے لیے سخت قوانین نافذ کیے جائیں۔ عوام میں پانی کی اہمیت اور اسے صاف رکھنے کے طریقوں کے بارے میں شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کا قیام اور واٹر ری سائیکلنگ کے نظام کو فروغ دینا پانی کے تحفظ میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔


کون سا پانی زندگی کا اہم جزو ہے؟
-----------------------------------------
آلودگی انسانی صحت کے علاوہ اور کس کو نقصان پہنچاتی ہے؟
-----------------------------------------
دریا، جھیلوں اور زیر زمین پانی کو کون آلودہ کر رہا ہے؟
-----------------------------------------
پانی کے تحفظ کے لیے کیا مدد گار ثابت ہو سکتا ہے؟
-----------------------------------------
عوام میں پانی کی اہمیت اور اسے صاف رکھنے کے طریقوں سے متعلق کیا کیا جاسکتا ہے؟
-----------------------------------------

کیجیے

●رین واٹر ہارویسٹنگ کے مختلف طریقوں کے بارے میں لکھیے

------------------
------------------
------------------
------------------
------------------

●گندے پانی کو صاف کرنے کے لیے آپ کون سا طریقہ اختیار کرتے ہیں؟

------------------
------------------
------------------
------------------
------------------

●قدیم زمانے میں کنویں، باولی، تالاب، ندیاں وغیرہ پانی کے اہم ماخذ تھے۔ موجودہ دور میں پانی کے اہم ذرائع کیا ہیں؟ غور کیجیے اور لکھیے

------------------
------------------
------------------
------------------
------------------

●اپنے آس پاس کی صفائی کے لیے، صفائی انسپکٹر کو ایک درخواست لکھیے

------------------
------------------
------------------
------------------
------------------
●تالاب کے منظر کی تصویر بنائیے اور اس میں رنگ بھر لیے
7

لطیفہ / چٹکلہ

باپ (بیٹے سے) : افضل تم رات کو کس وقت سوئے تھے؟

افضل : میں رات کو دو بجے تک پڑھ رہا تھا۔

باپ: مگر رات گیارہ بجے تو بجلی چلی گئی تھی ؟

افضل ( گھبراتے ہوئے) : میں پڑھنے میں اتنا مگن تھا کہ بجلی آنے اور جانے کا پتہ ہی نہیں چلا۔

اساتذہ کے لیے ہدایات

طلبا سے کلاس میں صفائی ستھرائی کی اہمیت پر رول پلے کرایا جا سکتا ہے۔
طلبا سے اپنے گھر اور اسکول کو صاف ستھرا رکھنے کے مختلف طور طریقوں پر گفتگو کرائی جاسکتی ہے۔
بچوں میں بھوت پریت، وہم ، ڈر، خوف کی جگہ حقیقت پسندی اور ہمت و حوصلے کے جذبات و احساسات کو فروغ دینے پر خاص طور پر زور دیا جا سکتا ہے۔
صفائی ابھیان سے تعلق کوئی ویڈیو بھی دکھائی جاسکتی ہے۔