Skip to content
Sitaar Urdu

3

گورو نانک


ہماراملک گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ ہے، اس لیے کہ یہاں بہت سے مذہبوں کے ماننے والے سیکڑوں برس سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں۔ جیسے ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی ، بودھ اور پارسی وغیرہ۔ ہر مذہب کے رہنماؤں نے اپنی تعلیمات کے ذریعے پیار، محبت، بھائی چارے اور امن کا پیغام دیا ہے۔ ایسے ہی ایک بزرگ سکھ مذہب کے رہنما گرونانک تھے۔ گرونانک کی پیدائش 1469 میں دریائے راوی کے کنارے آباد ایک گاؤں تل ونڈی میں ہوئی۔ یہ گاؤں اب پاکستان میں ہے اور لاہور کے جنوب میں واقع ہے۔ اس گاؤں کو اب 'ننکانہ صاحب' کہتے ہیں۔ گرو نانک اس گاؤں کے ایک منیم کالو چند کے بیٹے تھے۔
Screenshot 2025-07-29 102506

ان کے نام کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ ان کی بڑی بہن کی پیدائش اپنے نانا کے گھر میں ہوئی، اس لیے انھیں نانکی یعنی 'نانا 'کی کہتے تھے۔ اپنی بڑی بہن کے نام پر ان کو نانک یعنی نانا کا کہنے لگے اور یہی ان کا نام پڑ گیا۔ بچپن ہی سے گرونانک کی عادتیں عام بچوں سے مختلف تھیں۔ انھیں کھیل کود کا شوق نہیں تھا۔ جیب خرچ کے پیسے بھی وہ اپنی ذات پر خرچ کرنے کے بجائے ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ جب ان کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا تو انھوں نے ریاضی اور فارسی زبان بہت حد تک سیکھ لی۔ آگے پڑھائی میں ان کا جی نہیں لگا۔ جب وہ بڑے ہوئے تو ان کے والد نے پہلے انھیں کھیتی باڑی اور پھر تجارت کرنے کے لیے کہا۔ تاہم انھوں نے کسی کام میں دلچسپی نہیں لی کیوں کہ ان کا دل دنیا داری میں نہیں لگتا تھا۔ ایک دن گرو نانک کے والد نے انھیں کچھ روپے دے کر لاہور بھیجا اور کہا کہ ایسا کھرا سودا کرنا جس سے کچھ نفع ہو ۔ انھوں نے بالا نام کا ایک

Screenshot 2025-07-29 102856

نو کر بھی ساتھ لگا دیا۔ راستے میں گرو نانک کو کچھ فقیر نظر آئے جو بہت بھوکے تھے۔ گرونانک نے ان کو کچھ روپے دینے چاہے لیکن فقیروں نے کہا: ” یہ پیسے ہمارے کس کام کے ؟ ہم تو بھوکے ہیں، کھانا چاہیے۔“ گرونانک نے فقیروں کے کھانے کا انتظام کیا اور سارے پیسے ان کو کھانا کھلانے میں خرچ کر دیے۔ واپس آکر والد کے ڈر سے گھر کے باہر ہی رک گئے لیکن والد نے انھیں ڈھونڈ نکالا اور جب اُن سے پوچھا کہ تجارت کی غرض سے جو روپے دیے تھے وہ کیا کیے ؟ تو گرونانک نے سارا وقعہ بیان کر دیا اور کہا: ” آپ نے کہا تھا کھرا سودا کرنا۔ بھوکوں کو کھانا کھلانے سے زیادہ کھرا سودا اور کیا ہو سکتا ہے؟“ گرونانک کے والد ان کی طرف سے بہت فکر مند رہتے تھے۔ اس لیے گرونانک کے بہنوئی انھیں اپنے ساتھ کپور تھلا لے گئے اور وہاں کے گورنر لودھی خاں کے دفتر میں انھیں ملازمت دلادی۔ یہاں بھی ان کا دل کام میں نہیں لگا۔ یہ طور طریقے دیکھتے ہوئے ان کے والد نے سوچا کہ ان کی شادی کر دی جائے۔ شاید گھریلو ذمے داریاں پڑنے پر وہ اس طرح روپیہ خرچ کرنا بند کر دیں۔

Screenshot 2025-07-29 103136

آخر کار انھوں نے گھر بار چھوڑ کر فقیری اختیار کر لی۔ یہ بات ان کے دل پرنقش ہو گئی کہ دنیا اور یہاں کی ہر شے فانی ہے۔ اس کا پیدا کرنے والا ہی ہمیشہ باقی رہے گا۔ اس لیے خدا سے محبت کی جائے اور اس کا قرب حاصل کیا جائے۔ ان کے والد نے انھیں سمجھانے کے لیے مسلمان گویے اور وفادار خادم مردانا کو بھیجا لیکن وہ بھی ان کا چیلا بن گیا۔ اب گرونانک اپنے پرانے خادموں کے ساتھ لوگوں کو نصیحت کرتے کہ ذات پات کی بنا پر انسانوں کے بیچ کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ گرونانک نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ان کے ماننے والے مشتر کہ رسوئی یعنی لنگر میں کھانا کھائیں جہاں کوئی بھی ذات پات اور مذہب کے بھید بھاؤ کے بغیر کھا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانوں کا آپسی رشتہ محبت پر ہی قائم ہے۔ انھوں نے عورتوں کو برابری کے حقوق دینے کی بات کہی۔ جب ان کے ماننے والے جمع ہوتے تو عورتیں بھی ان کے

Screenshot 2025-07-29 103441

ساتھ ہوتیں۔ رفتہ رفتہ ان کی یہ تعلیمات ایک مذہب کی شکل اختیار کر گئیں، جس کے ماننے والے 'سکھ' کہلائے۔ گرونانک نے کئی ملکوں کا سفر کیا۔ آخر میں کرتار پور میں آباد ہو گئے، جسے آج کل 'ڈیرہ نانک صاحب 'کہتے ہیں۔ 1538 میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی تعلیمات 'گرو گرنتھ صاحب 'میں جمع ہیں۔ یہی سکھوں کی مقدس کتاب ہے۔ ان کا یوم پیدائش ' گرو پرب' کی شکل میں دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔

-اداره

مشق

پڑھیے اور سمجھیے

گنگا جمنی تہذیب : الگ الگ مذہبوں، علاقوں اور زمانوں کے باوجود ہمارے ملک کے لوگوں کا آپس میں مل جل کر رہنا
پیرو کار : ماننے والے، پیچھے چلنے والے
نقش ہو جانا : اثر کرنا، دل میں بیٹھ جانا
فانی : مٹنے والا، فنا ہو جانے والا
قرب : نزدیکی
مشترکہ : ملی جلی
مقدس : پاک

سوچیے اور بتائیے

1. ہمارے ملک ہندوستان کو گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ کیوں کہتے ہیں؟
-----------------------------------------
2. گرونانک کے گاؤں ' تل ونڈی 'کو ننکانہ صاحب کیوں کہا جاتا ہے؟
-----------------------------------------
3. گرونانک کا دل کام میں کیوں نہیں لگتا تھا ؟
-----------------------------------------
4. گرونانک کی تعلیمات کیا ہیں؟
-----------------------------------------
5. گرونانک کی تعلیمات کس کتاب میں جمع کی گئی ہیں؟
-----------------------------------------

نیچے دیے گئے لفظوں کے جملے بنائیے

●گنگا جمنی تہذیب ……………………………………………
●بھائی چارہ …………………………………………………
●طور طریقے ……………………………………………
●دھوم دھام ……………………………………………
●نصیحت ……………………………………………

مثال کے مطابق ذیل میں دیے گئے الفاظ کے متضاد لکھیے

الفاظ محبت امن کھرا نفع آباد شروع
متضاد

درج ذیل صحیح بیان پر (✔) اور غلط بیان پر (✖) کانشان لگائے

-ہمارے ملک میں بہت سے مذہبوں کے ماننے والے رہتے آئے ہیں- ( )

- گرونانک کی پیدائش کسان کے گھر میں ہوئی تھی۔ ( )

- گرونانک کو جو پیسے ملتے تھے، انھیں اپنی ذات پر خرچ کر دیتے تھے۔ ( )

- گرونانک کا دل دنیا داری میں نہیں لگتا تھا۔ ( )

- گرونانک آخری وقت میں تل ونڈی، گاؤں آئے۔ ( )

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

●سبق میں ایک لفظ آیا ہے 'فکر مند 'یہ 'فکر 'اور 'مند 'سے مل کر بنا ہے۔ آپ بھی' مند 'لگا کر پانچ الفاظ بنائیے
--------------------------
--------------------------
--------------------------
--------------------------
--------------------------
● مثال کے مطابق نیچے دیے گئے لفظوں میں لاحقہ جوڑ کر نیا لفظ بنائیے
وفا و فادار و فاداری
ایمان    -----------  -----------
دنیا    -----------  -----------
جہاں    -----------  -----------
مزے    -----------  -----------
چوکی    -----------  -----------
دیانت    -----------  -----------

آپ جانتے ہیں کہ کسی شخص ، جگہ یا کسی چیز کے نام کو اسم کہتے ہیں اور وہ لفظ جو 'اسم 'کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے اسے' ضمیر 'کہتے ہیں۔
●نیچے دیے گئے جملوں کو پڑھیے اور ان میں سے اسم اور ضمیر ، تلاش کر کے خالی جگہوں میں لکھیے
جملے    اسم    ضمیر   
گرونانک کی پیدائش "تل ونڈی"، گاؤں میں ہوئی۔
اس گاؤں کو اب' ننکانہ صاحب 'کہتے ہیں ۔
بڑی بہن کے نام پر ان کو نانک کہنے لگے۔
جیب خرچ کے پیسے بھی وہ ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔
ان کا دل دنیا داری میں نہیں لگتا تھا۔

کیجیے

●گرونانک کی تصویر تلاش کر کے نیچے دی گئی جگہ میں چسپاں کیجیے اور اُن کے بارے میں پانچ جملے لکھیے
Screenshot 2025-07-29 at 15-31-33 eust103.pdf
------------------
------------------
------------------
------------------
------------------
اس سبق میں آپ نے گرونانک کے بارے میں پڑھا۔ آپ نے دوسرے مذہبی پیشواؤں کے قصے بھی سنے ہوں گے۔ ان کا کوئی قصہ لکھیے
------------------
------------------
------------------
------------------
------------------
پہیلی

وہ کون سا پھل ہے جسے ہم خرید نہیں سکتے؟

اساتذہ کے لیے ہدایات


●گرونانک کے بارے میں مزید معلومات فراہم کی جاسکتی ہیں۔
●طلبا سے گرونانک کے علاوہ دیگر مذہبی شخصیات کے بارے میں بھی گفتگو کرائی جاسکتی ہے۔
●طلبا کو گرونانک کی شخصیت اور ان کی تعلیمات پر کوئی ویڈیو بھی دکھایا جاسکتا ہے۔