Skip to content
Sitaar Urdu







صرف پڑھنے کے لیے

تیاری میں ہی سمجھ داری ہے


کرن پور گاؤں میں روی اور سونی ندی کنارے کھیل رہے تھے۔ ان کا گھر بھی ندی سے چند قدم کے فاصلے پر تھا۔ صبح سے ہی آسمان پر بادل گھرے ہوئے تھے۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور چاروں طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ لگتا ہے بارش ہونے والی ہے۔“ سونی نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ روی نے سر ہلایا : ”جی! اس سے پہلے کہ موسم زیادہ خراب ہو، ہمیں گھر چلنا چاہیے۔“ تبھی دادا نے برآمدے سے آواز دی: روی! سونی! یہاں آؤ! تمھیں ایک ضروری بات بتانی ہے۔“ بچے گھر کی طرف دوڑے اور آکر دادا کے سامنے بیٹھ گئے۔ دادا اپنی پسندیدہ کرسی پر بیٹھے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔

Screenshot 2025-08-04 091829

آؤ بچو ! میں تمھیں قدرتی آفات سے نمٹنے کے طریقوں کے بارے میں بتاتا ہوں۔“ دادا نے کہا۔ ”یہ کیا ہے دادا؟“ سونی نے تجسس اور حیرت سے پوچھا۔ قدرتی آفات جیسے، سیلاب، زلزلے اور طوفان کے دوران ہمیں کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہیں ، ان کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے۔ خاص طور پر آج کل، جب کہ دریا میں سیلاب آنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ دادا نے سمجھاتے ہوئے کہا۔ روی نے حیرت زدہ ہو کر کہا: ”اگر دریا میں سیلاب آجائے تو ہمیں کیا کرنا ہو گا؟“ دادا نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا: ”سب سے پہلے ہمیں ایک ایمر جنسی کٹ تیار کرنی ہو گی۔ ایک تھیلے میں کھانا، پانی، ضروری دوائیاں اور کچھ کپڑے رکھنے ہوں گے۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی معلوم کرنا ہو گا کہ اونچی زمین تک پہنچنے کا سب سے آسان اور محفوظ راستہ کون سا ہے؟

Screenshot 2025-08-04 092454

تبھی ماں سبزیوں کی ٹوکری لیے اندر داخل ہوئیں اور بولیں: ” اپنے دادا کی بات دھیان سے سنو بچو ! وہ تمھیں سمجھائیں گے کہ ایسے موقع پر کیا کرنا ہے۔“ اسی رات موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ صبح تک دریا کا پانی خطرے کے نشان سے کافی اوپر آچکا تھا۔ لاؤڈ اسپیکر سے مسٹر ورما کی آواز پورے گاؤں میں گونجی : ” سبھی لوگ دھیان دیجیے ... ندی کا پانی تیزی سے بڑھ رہا ہے ...اپنا ضروری سامان جمع کیجیے .... اور پہاڑی پر واقع اسکول میں چلے جائیے ... یہ گاؤں کی سب سے محفوظ جگہ ہے۔“ روی اور سونی نے جلدی جلدی اپنے تھیلے اُٹھائے۔ روی نے اپنے تھیلے میں پانی کی بوتلیں، کچھ نمکین ، ٹارچ اور ایک اپنی پسندیدہ کتاب رکھی تھی سونی نے اپنی گڑیا، ایک برساتی اور کچھ بسکٹ اپنے تھیلے میں رکھے تھے۔ بچوں نے اپنے دادا کی باتیں سننے کے بعد ہی یہ تھیلے تیار کر لیے تھے۔ ماں ! کیا آپ تیار ہیں؟“ روی نے پوچھا۔ ہاں بیٹا! میرے پاس ضروری دوائیاں اور کچھ کمبل ہیں۔“ ماں نے جواب دیا۔ باہر نکلتے ہی انھوں نے اپنے پڑوسیوں کو تیزی سے اسکول کی طرف جاتے دیکھا۔ سلمان روی کی طرف دوڑا۔ اس کے ہاتھ میں ایک نقشہ تھا۔ ”روی!

میں نے اسکول کا سب سے محفوظ راستہ تلاش کر لیا ہے۔ آؤ! میرے ساتھ چلو۔“ بارش تیز تھی۔ اس لیے راستہ صاف نظر نہیں آرہا تھا۔ روی نے سونی کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ”سونی! فکر نہ کرو۔ ہم حفاظت سے اسکول پہنچ جائیں گے۔“ وہ اسکول پہنچے تو مسٹر ورما اور دوسرے اساتذہ لوگوں کے لیے ٹھہرنے کا انتظام کر رہے تھے۔ تسلی رکھیے! اطمینان سے رہیے ! ہمارے پاس سب کے لیے کافی جگہ اور سامان کا انتظام ہے۔ مسٹر ورما نے گاؤں والوں کو یقین دلایا۔ بچے بھی اسکول کے ایک کمرے میں بیٹھ گئے۔ دادا نے اپنے قصے سنانے شروع کر دیے: " مجھے یاد ہے جب میں تمھاری عمر کا تھا۔ بارش رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی ہمیں دو دن تک چھت

Screenshot 2025-08-04 093132

پر ہی رہنا پڑا۔ "ان کی آنکھوں میں پرانی یادوں کا عکس تھا۔ روی ، سونی اور سلمان غور سے سُن رہے تھے۔ آپ نے کھانے پینے کا کیا انتظام کیا ؟“ سلمان نے پوچھا۔ ہم نے اچھی تیاری کی تھی جیسے آج آپ نے کی۔ ہمارے پاس ہنگامی تھیلے ( ایمر جنسی کٹ) تیار تھے ۔ “ داد نے بتایا۔ پھر دادا نے زور دے کر کہا : ایسے موقعوں پر تیار رہنا اور ایک دوسرے کی مدد کرنا بہت ضروری ہے۔“ اس بار بھی دو دن تک موسلادھار بارش جاری رہی لیکن قدرتی آفتوں سے نمٹنے کی تیاریوں نے گاؤں میں ہر کسی کو محفوظ رکھا۔ آخر کار سیلاب کا پانی کم ہوتا گیا اور گاؤں والے اپنے گھروں کی طرف لوٹ آئے۔ اُنھوں نے اپنی حفاظت اور مدد کے لیے مسٹر ورما اور سبھی اساتذہ کا شکریہ ادا کیا۔

Screenshot 2025-08-04 093433

روی نے سونی سے کہا: ” مجھے خوشی ہے کہ ہم تیار تھے۔“ " ہمیں آئندہ بھی تیار رہنا ہو گا۔ "سلمان نے جو شیلے انداز میں کہا۔ سونی نے اپنی گڑیا کو گلے لگاتے ہوئے سر ہلایا : ”ہاں! اس طرح ہم دوسروں کی مدد بھی کر سکیں گے۔“ اس دن سے روی سونی اور سلمان نے قدرتی آفتوں سے نمٹنے کی تیاریوں کے بارے میں جانکاری جمع کرنی شروع کردی۔ اُنھوں نے اپنے دوستوں، پڑوسیوں اور گاؤں والوں میں بھی یہ معلومات پہنچائیں تاکہ کرن پور گاؤں اور آس پاس کے سبھی علاقے قدرتی آفتوں سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔ بچوں کی یہ چھوٹی سی جماعت سب کو یہی بتاتی تھی کہ ” قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری میں ہی سمجھ داری ہے۔“

Screenshot 2025-08-04 093956