6
چچا چھکن کی عینک
چچا چھکن کپڑے بدل کر باہر جانے لگے تو عینک کا قصہ در پیش آیا۔ ایک پاؤں دہلیز کے اندر تھا ایک باہر کہ اچانک خیال آیا کہ غسل کے بعد عینک نہیں لگائی، عینک لینے غسل خانے میں گئے۔ عینک اُتار کھڑ کی میں رکھنا کچھ کچھ یاد تھا لیکن وہاں پہنچ کر اب دیکھا تو موجود نہ تھی۔ طاقوں پر نظر ڈالی، ان میں بھی نہ تھی۔ گھڑونچی کو دیکھا، فرش اور نالی کا جائزہ لیا۔ کہیں نظر نہ آئی۔ سوچا شاید میلے کپڑوں کے ساتھ کوٹھری میں چلی گئی۔ واپس کو ٹھری میں پہنچے۔ کپڑے لا کر تخت پر رکھے تھے۔ عینک تخت پر بھی نہ تھی۔ ہر کپڑے کو احتیاط سے جدا کر کے اُٹھایا۔ ٹٹول ٹٹول کر دیکھا اور جھٹکا: ” کہیں بھی نہیں ، گئی کہاں؟“ قوس اور نیم دائرہ بناتے ہوئے کھڑے گھومتے رہے۔

سارے کمرے کا جائزہ لیا کہ بے توجہی میں کسی اور جگہ نہ رکھ دی ہو۔
مایوسی ہوئی۔ لپکے ہوئے پھر غسل خانے میں پہنچے۔ پھر کھڑ کی کو دیکھا۔ کھڑ کی
کے نیچے نالی تھی۔ اُکڑوں بیٹھ کر اس کا معائنہ بھی کر لیا۔ اسے ناکافی سمجھ کر باہر
گئے غسل خانے سے سڑک تک ساری نالی دیکھ ڈالی ، نہ ملی۔ واپس غسل خانے میں
پہنچے۔ گردن گھما گھما کر طاقوں میں نظر ڈالی۔ گھٹرونچی کے نیچے دیکھا۔ گھڑے
جگہ سے سر کائے۔ کہیں نظر نہ آئی۔ ذرا دیر پریشانی کے عالم میں کھڑے سر
کھجاتے،
رہے۔ ”عجیب تماشا ہے!“ لپکے ہوئے پھر کوٹھری میں پہنچے۔ میلے
کپڑے باری باری اس زور سے جھٹکے کہ عینک کیا سوئی بھی لگی ہوتی تو الگ ہو کر
گر پڑتی۔ ”لَا حَولَ وَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِالله" یک لخت نیا خیال سوجھا، بھاگے ہوئے پھر غسل خانے میں پہنچے۔ لوٹے اُٹھا کر دیکھنے سے رہ گئے تھے۔ وہاں بھی کچھ نہ نکلا۔ گردن بڑھا کر احتیاطاً ایک نظر لوٹوں کے اندر بھی ڈال لی۔ کچھ سراغ نہ ملا۔ داڑھی کھجاتے ہوئے پھر کمرے میں آگئے۔
ذرا دیر کھوئے کھوئے کھڑے رہے پھر تخت پر بیٹھ گئے۔ سر جھکا کر ایک نظر احتیاطا تخت کے نیچے بھی ڈال لی۔ اچانک خیال آیا کہ شاید عینک لگا کر غسل خانے میں گئے ہی نہ ہوں۔ وہاں عینک اُتار کر رکھنے کا یوں ہی وہم ہے۔ چپکے بیٹھ کر صبح سے اُس وقت تک کے واقعات پر غور فرمانے لگے کہ شاید اس طرح کسی موقع پر عینک اُتارنا اور کہیں رکھنا یاد آجائے سو چا عینک کہیں بستر ہی میں نہ رہ گئی ہو۔ دالان میں جا کر سارے لیٹے ہوئے بستر تل پٹ کر ڈالے۔ ان میں سے اپنا بستر ڈھونڈ کر نکالا۔ اس کی ایک ایک چیز دیکھی، جھٹکی، تکیوں میں ٹٹولا کہ شاید عینک سیر سپاٹے سے فارغ ہو کر واپس آگئی ہو مگر نہیں آئی تھی۔ یک لخت دیوان خانے میں دیکھنے کا خیال آیا۔ تیز تیز قدم اٹھاتے وہاں پہنچے۔ میزیں، کرسیاں، فرش، طاق، ایک ایک چیز دیکھ لی۔ عینک کہیں ہو تو ملے۔

چچا کھسیانے سے ہو چلے۔ ” کیا واہیات ہے!“ بے اختیار جی چاہتا تھا کہ نوکروں اور بچوں کو امداد کے لیے پکاریں لیکن ان سے امداد طلب کرنے میں ہیٹی ہوتی تھی۔ دماغ ایک ہی ادھیڑ بن میں مصروف تھا کہ اور کس جگہ گئے تھے۔ بے تابی کے عالم میں کبھی صحن سے گزر کر باہر جاتے، کبھی اندر آجاتے۔ کنکھیوں سے بچی کو تاڑتے جارہے تھے۔ کبھی باہر کھڑے ہو کر داڑھی کھجانے لگتے، کبھی اندر آ کر پیٹ سہلانا شروع کر دیتے۔ سمجھ میں نہ آتا تھا کیا کریں۔ اتفاق سے بنو ہنڈ کلیا کا سامان لیے اُدھر سے گزری۔ چچا نے اشارے سے بلایا۔ آہستہ سے کہا: ” بنو ایک کام کیجو۔ ہماری عینک کھو گئی ہے۔ باورچی خانے میں کہیں رکھی تھی۔ ڈھونڈ کر لادے گی؟“
بنو نے پوچھا: ” کون سی عینک؟“
چچا بولے: ”احمق کہیں کی، جو عینک ہم لگاتے ہیں، اور کون سی ، مگر دیکھ تیری اماں کو نہ معلوم ہونے پائے۔“
بنو چچا کا منھ تکتے ہوئے بولی: ” اپنی عینک تو لگا رکھی ہے آپ نے۔“ چچانے چونک کر ہاتھ آنکھوں کی طرف بڑھایا۔ ”ہیں ! یقین نہ آیا کہ جس شے کو ہاتھ نے چھوا وہ عینک ہی ہے، اُتار لی۔ ہاتھ میں لے کر گھما گھما کر دیکھنے لگے۔ پھر حیرت کے عالم میں ایک نظر بنو پر ڈالی۔ یہ یہیں تھی! کب لگائی تھی ہم نے؟“
بنو کو چھوٹی ہنسی، قہقہہ لگاتی اور اماں اماں کرتی ہوئی یہ بات سنانے باورچی خانے کو چلی، چچانے لپک کر پکڑ لیا۔ ہیں ہیں! کیا ہوا؟ کہاں چلی؟ گلاب جامن کھائے گی؟ وہ بات تو ہم نے مذاق میں کی تھی۔ اس میں اماں کو سنانے کی کیا بات ہے؟ کیا لائیں تیرے لیے بازار سے؟“
بنو نے قہقہہ اور 'اماں اماں' ، کی رٹ بند نہ کی تو چچا جلدی سے باہرنکل گئے۔ شام کو چچا گھر آئے تو لدے پھندے تھے۔ ایک ہاتھ میں مٹھائی کی ٹوکری دوسرے میں کچوریوں کی۔ دروازے میں قدم رکھتے ہی بچوں کو پکارنا شروع کر دیا۔ ایسے خوش ہوئے گویا صبح کچھ ہوا ہی نہ تھا۔
مشق
پڑھیے اور سمجھیے
سوچیے اور بتائیے
-----------------------------------------
-----------------------------------------
-----------------------------------------
-----------------------------------------
-----------------------------------------
مثال کے مطابق دنیم کو دوسرے لفظ سے جوڑ کر نیا لفظ بنائیے
تصاویر کے سامنے ان کے نام لکھیے اور ان کے بارے میں ایک ایک جملہ بھی لکھیے
| تصویر | نام | جملے |
![]() |
||
![]() |
||
![]() |
||
![]() |
||
![]() |
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
ان جملوں میں خط کشیدہ لفظوں پر غور کیجیے۔ ہر جملے میں ایک لفظ کو دو بار لکھا گیا ہے ٹول ٹٹول کر ، گھما گھما کر ، باری باری ، کھوئے کھوئے اور تیز تیز قدم
آپ بھی اپنے استاد کی مدد سے کچھ ایسے جملے تلاش کر کے لکھیے جن میں تكر الفظی ہو
------------------------
------------------------
------------------------
------------------------
------------------------
------------------------
آپ بھی اپنے استاد اور گھر کے بڑوں سے کچھ ایسے لفظ جو روز مرہ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، معلوم کر کے لکھیے اور ان سے جملے بھی بنائیے
------------------------
------------------------
------------------------
------------------------
------------------------
------------------------
کیجیے
------------------------
------------------------
------------------------
------------------------
------------------------
------------------------
------------------------
------------------------
لطیفہا/چٹکلہ
امی نے راجو سے پوچھا: ” کون آیا ہے؟“
راجو : ایک مونچھوں والے انکل آئے ہیں۔“
امی : ” اُن سے کہہ دیجیے کہ ہمیں مونچھیں نہیں چاہیے۔“




