6
کبڈی
حامد تین روز کے بعد ٹریکنگ کیمپ سے گھر واپس آیا۔ وہ اسکول کا واحد بچہ تھا جو اس ٹریکنگ کیمپ میں اسکول کی نمائندگی کر رہا تھا۔ اگلے دن جب وہ اسکول آیا تو اس نے یہاں بہت گہما گہمی دیکھی۔ بچے صبح سویرے ہی اسکول پہنچ چکے تھے۔ اسکول میں صفائی کے ساتھ ساتھ سجاوٹ کا بھی خاص اہتمام ہو رہا تھا۔ اسکول گیٹ سے کھیل کے میدان تک پھولوں سے ایک ٹنل بنائی جا رہی تھی۔ حامد یہ دیکھ کر حیران ہوا۔ اُس نے اپنے ایک دوست عدنان سے علیک سلیک کے بعد پوچھا: آج اسکول میں سجاوٹ کی خاص وجہ کیا ہے؟“

عدنان : آج اسکول میں کبڈی کا فائنل میچ کھیلا جا رہا ہے۔
حامد : یہ میچ کب شروع ہو گا ؟
عدنان : میچ دو پہر کھانے کے وقفے کے بعد، دو بجے شروع ہو گا۔
حامد : کیا دونوں ٹیمیں ہمارے ہی اسکول کی ہیں؟
عدنان : ایک ٹیم ہمارے اسکول کی ہے اور دوسری ٹیم دوسرے اسکول کی۔
حامد : آج تو بہت مزا آئے گا لیکن مجھے اس کھیل کے بارے میں کوئی واقفیت نہیں ہے۔
عدنان : مجھے کل ہی ابو نے اس کھیل کے بارے میں بہت سی باتیں بتائی تھیں۔
حامد : کیا بتایا ابو جان نے تم کو ؟
عدنان : کبڈی بہت پرانا کھیل ہے اور ہر جگہ کھیلا جاتا ہے۔ شمالی ہندوستان میں اسے 'کبڈی 'کہا جاتا ہے جب کہ جنوبی ہندوستان میں اسے چیڈو گڈو اور مشرقی علاقوں میں 'ہو تو تو ' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ کھیل ہندوستان کے علاوہ نیپال ، سری لنکا، بنگلہ دیش اور پاکستان میں بھی کھیلا جاتا ہے۔
حامد : کیا اس کھیل میں بھی کرکٹ کی طرح گیارہ گیارہ کھلاڑی ہوتے ہیں؟
عدنان : نہیں! کبڈی میں صرف سات سات کھلاڑی ہوتے ہیں۔

حامد : یہ کھیل کیسے کھیلا جاتا ہے؟
عدنان : اس کھیل میں دو پالے ہوتے ہیں۔ ٹاس جیتنے والی ٹیم پہلے اپنا ریڈر ( کبڈی کبڈی کہنے والا) مخالف ٹیم کے پالے میں بھیجتی ہے۔ ریڈر کبڈی کبڈی کہتے ہوئے مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کو چھونے کی کوشش کرتا ہے، جب کہ مخالف ٹیم کے کھلاڑی اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دوران ریڈر کو نہ صرف یہ خیال رکھنا ہوتا ہے کہ اس کی سانس نہ ٹوٹے، بلکہ اسے مقررہ وقت ( تقریباً 30 سیکنڈ ) کے اندر واپس اپنی ٹیم کے پالے میں بھی لوٹنا ہوتا ہے۔ اگر وہ وقت پر واپس نہ آئے یا اس کی سانس ٹوٹ جائے ، تو وہ آؤٹ تصور کیا جاتا ہے۔
اگر وہ کسی کھلاڑی کو چھونے کے بعد بحفاظت اپنے کورٹ میں واپس آجاتا ہے تو چھو جانے والے کھلاڑی کو آؤٹ تصور کیا جاتا ہے اور ریڈر کی ٹیم کو ایک پوائنٹ ملتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ریڈر مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کے ہاتھوں پکڑا جائے اور اس کی سانس ٹوٹ جائے تو ریڈر کو آؤٹ تصور کیا جاتا ہے اور اسے کھیل سے باہر کر دیا جاتا ہے۔
حامد : اگر کوئی کھلاڑی آؤٹ ہو جائے تو کیا وہ ٹیم میں واپس آسکتا ہے؟

عدنان : ہاں! وہ دوبارہ ٹیم میں واپس آسکتا ہے بشرطیکہ اس کی ٹیم مخالف ٹیم کے کسی کھلاڑی کو آؤٹ کر دے۔
حامد : کیا کبڈی کے لیے لمبی سانس کا ہونا ضروری ہے؟
عدنان : ہاں! وہ دوبارہ ٹیم میں واپس آسکتا ہے بشرطیکہ اس کی ٹیم مخالف ٹیم کے کسی کھلاڑی کو آؤٹ کر دے۔
حامد: کیا کبڈی کے لیے لمبی سانس کا ہونا ضروری ہے؟
عدنان : جی! کبڈی کے کھیل میں لمبی سانس کی ہی اصل اہمیت ہے۔
حامد : کبڈی میچ کتنے وقت تک کھیلا جاتا ہے؟ کیا اس میچ کے لیے کوئی وقت بھی مقرر ہے؟
عدنان : یہ کھیل دو اننگ میں کھیلا جاتا ہے۔ ہر انگ 20-20 منٹ کی ہوتی ہے۔ درمیان میں پانچ منٹ کا وقفہ ہوتا ہے۔
حامد : کیا اس کھیل میں بھی ریفری ہوتا ہے؟
عدنان : کبڈی کے کھیل میں عام طور پر ایک ریفری، دو امپائر ، ایک اسکورر اور ایک اسسٹنٹ اسکورر ہوتا ہے۔ ان میں ریفری کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ پوائنٹس کا فیصلہ، فاؤل کا فیصلہ اور دیگر معاملات میں ریفری کا فیصلہ ہی حتمی ہوتا ہے۔
حامد: اس کھیل کے بارے میں ابو جان نے تمھیں کیا اور بھی کچھ بتایا ہے؟
عدنان : ابو نے یہ بھی کہا کہ کھیل شروع ہونے سے پہلے کھلاڑیوں کے ناخن دیکھے جاتے ہیں۔ کسی بھی قسم کی انگوٹھی، بریسلیٹ یا چین کے ساتھ کھیلنا بھی قابلِ اعتراض ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کھلاڑیوں کے لیے ہاتھوں اور پیروں پر کسی بھی قسم کی چکناہٹ یا تیل کا استعمال بھی کبڈی کے ضابطے کے خلاف ہے۔
حامد : کبڈی کے لیے کیا کوئی خاص لباس بھی ہوتا ہے؟
عدنان : جی ! عام طور پر ہاف آستین والی ٹی شرٹ اور شارٹس پہنی جاتی ہیں۔ جو جسم پر آرام دہ ہو اور دوڑتے وقت کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔
حامد : کبڈی کا میدان کیسا ہوتا ہے ؟
عدنان : کبڈی کا کورٹ 13 میٹر چوڑا اور 10 میٹر لمبا ہوتا ہے۔ کبڈی کورٹ میں چار آؤٹر لائن ( حد بندی لائن ) ہوتی ہیں جو کہ کورٹ کے حدود کا تعین کرتی ہیں۔ یہ کھیل ان ہی حدود کے اندر کھیلا جاتا ہے۔ کورٹ کے درمیان میں ایک لکیر کھینچی جاتی ہے جو اُسے دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ کورٹ کے دونوں حصوں میں 3.75 میٹر کے فاصلے پر ایک لکیر بنائی جاتی ہے جسے ”بک لائن کہا جاتا ہے جب کہ بونس لائن بک لائن سے ایک میٹر آگے کھینچی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ لابی بھی کبڈی کورٹ کا حصہ ہوتی ہے۔ لابی کورٹ کے دونوں اطراف میں ہوتی ہے، جو کورٹ کی حدود کے باہر کا حصہ ہے۔ یہ صرف اس وقت فعال ہوتی ہے جب ریڈر اور دفاعی کھلاڑی کے درمیان رابطہ ہوتا ہے۔
حامد: کیا کبڈی قومی سطح پر بھی کھیلی جاتی ہے؟

عدنان : جی! یہ کھیل قومی اور بین الاقوامی دونوں سطح پر بھی کھیلا جاتا ہے۔
حامد : کیا اس کھیل میں خواتین بھی حصہ لے سکتی ہیں؟
عدنان : جی ! خواتین بھی اس کھیل میں حصہ لے سکتی ہیں۔ ان کے لیے قوانین تھوڑے الگ ہوتے ہیں جیسے کہ ان کے کورٹ کا سائز مردوں کے کورٹ کے مقابلے تھوڑا چھوٹا ہوتا ہے۔ کورٹ کی چوڑائی 12 میٹر اور لمبائی 8 میٹر ہوتی ہے۔
حامد : تم نے تو مجھے کبڈی میچ کو دیکھے بغیر ہی اس کھیل کے سارے اصول و قواعد سے واقف کرا دیا۔
عدنان : مجھے تو یہ معلومات اپنے ابو جان سے حاصل ہوئی تھیں۔ ورنہ میں بھی تمھاری ہی طرح اس سے ناواقف ہی رہتا۔ اسی دوران اسکول کی گھنٹی بجی اور دونوں دوست مارننگ اسمبلی کے لیے اسکول گراؤنڈ کی طرف چلے گئے ۔
مشق
سوچیے اور سمجھیے
سوچیے اور بتائیے
-----------------------------------------
-----------------------------------------
-----------------------------------------
-----------------------------------------
-----------------------------------------
صحیح جواب پر (✔) کانشان لگائیے
درج ذیل خالی جگہوں کو مناسب لفظ سے بھریے
نیچے دیے گئے حروف کو ملا کر کم سے کم پانچ الفاظ بنائیے
ذیل میں دیے گئے الفاظ سے پانچ بامعنی جملے ترتیب دے کر لکھیے
| کبڈی کھیل میں | لمبی سانس کی اہمیت | کھیلا جاتا ہے۔ |
| آج ہمارے اسکول | کی لمبائی | بہت زیادہ ہے |
| کبڈی کھیل | میں کبڈی کا | 20 منٹ کی ہوتی ہے۔ |
| خواتین کے کورٹ | ایک اننگ | 8 میٹر ہوتی ہے۔ |
| کبڈی کے کھیل میں | ہر گاؤں اور شہر میں | فائنل میچ کھیلا جارہا ہے۔ |
---------------------------
---------------------------
---------------------------
---------------------------
---------------------------
کس کھیل میں کتنے کھلاڑی ہوتے ہیں؟ خالی جگہوں میں بھر لیے
| والی بال | |
| باسکٹ بال | |
| کھو کھو | |
| کبڈی | |
| کرکٹ |
درج ذیل صحیح بیان پر (✔) اور غلط بیان پر ( ✖ ) کا نشان لگائے
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
ان تینوں میں بتائے، سجارہے ہیں، شروع ہو گا کا تعلق ایک خاص وقت سے ہے۔ پہلے جملے میں گزرے ہوئے وقت کی بات کی جارہی ہے، اسے زمانہ ماضی کہتے ہیں۔ دوسرے جملے میں موجودہ وقت کی بات ہو رہی ہے، اسے زمانہ حال کہتے ہیں، اور تیسرے جملے میں آنے والے وقت کی بات کی جا رہی ہے، اسے زمانہ مستقبل کہتے ہیں۔
کیجیے
------------------------
------------------------
------------------------
------------------------
اساتذہ کے لیے ہدایات
لطیفہ/ چٹکلہ
شاگرد : چار کروڑ پچانوے لاکھ پچیس ہزار نو سو بیاسی۔
استاد: حیران ہو کر تمھیں کیسے معلوم ہوا؟
شاگرد : آپ نے صرف ایک سوال پوچھنے کا وعدہ کیا تھا یہ دوسرا سوال ہے!