صرف پڑھنے کے لیے
کیپٹن حنیف الدین
کیپٹن حنیف الدین 23 اگست 1974 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام عزیز الدین تھا۔ ان کی والدہ ہیما عزیز ایک کلاسیکی گلوکارہ ہیں۔ گھر میں موسیقی کا ماحول تھا، اس لیے بچپن سے حنیف کو بھی گانے کا بہت شوق تھا۔ ان کی آواز بہت میٹھی تھی، وہ خود گانے لکھتے اور خوشی خوشی گاتے تھے۔
دوستوں کے ساتھ وہ ہمیشہ ہنسی خوشی رہتے اور ہر کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لے آتے۔
موسیقی کے علاوہ بچپن سے وہ ملک کی خدمت بھی کرنا چاہتے تھے۔ دہلی یونیورسٹی سے سائنس میں گریجویشن مکمل کیا اور پھر 1996 میں انڈین ملٹری اکیڈمی میں داخلہ لیا۔
7 جون 1997 کو آپ کو آرمی سروس کور (ASC) میں باقاعدہ طور پر کمیشن عطا کیا گیا۔ جلد ہی اپنی ہمت، محنت اور خوش اخلاقی سے سب کے پسندیدہ بن گئے۔

1999 میں جب کارگل کی جنگ شروع ہوئی تو حنیف کو 'آپریشن تھنڈر بولٹ' کے تحت ایک بہت ہی مشکل اور خطر ناک مشن پر بھیجا گیا۔ اُنھیں اپنی ٹیم کے ساتھ برف سے ڈھکے،18,500 فٹ اونچے پہاڑ پر ایک دشمن چوکی پر قبضہ کرنا تھا۔ رات کی تاریکی، ٹھنڈی ہوا اور برفانی طوفان کے باوجود وہ آگے بڑھتے گئے۔

جب وہ دشمن کے بہت قریب پہنچے تو اچانک گولیوں کی بوچھار شروع ہو گئی۔ کیپٹن حنیف اور اُن کے دو ساتھی سب سے پہلے زخمی ہوئے۔
لیکن کیپٹن حنیف نے ہار نہیں مانی۔ وہ زخمی حالت میں بھی دشمن پر فائرنگ کرتے رہے تا کہ اُن کے باقی ساتھی محفوظ مقام تک پہنچ سکیں۔ وہ بار بار زخمی ہوئے لیکن جب تک اُن میں سانس باقی تھی وہ لڑتے رہے۔ بالآخر وطن پر اپنی جان قربان کردی۔
ان کی اس عظیم قربانی پر حکومت ہند نے انھیں ویر چکر ، جیسے بڑے اعزاز سے نوازا۔ یہ ان بہادروں کو دیا جاتا ہے جو اپنے ملک کے لیے اپنی جان دے دیتے ہیں۔ ان کے اعزاز میں 'آپریشن وجے' کے دوران ہندوستانی فوج نے جس نئے سب سیکٹر کو اپنی بہادری سے حاصل کیا، اسے حنیف سب سیکٹر “ کا نام دیا گیا۔ یہ علاقہ آج بھی بھارت کے سب سے مشکل محاذوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں سپاہی روز موت سے لڑتے ہیں۔
ان کی اس عظیم قربانی پر حکومت ہند نے انھیں ویر چکر ، جیسے بڑے اعزاز سے نوازا۔ یہ ان بہادروں کو دیا جاتا ہے جو اپنے ملک کے لیے اپنی جان دے دیتے ہیں۔ ان کے اعزاز میں 'آپریشن وجے' کے دوران ہندوستانی فوج نے جس نئے سب سیکٹر کو اپنی بہادری سے حاصل کیا، اسے حنیف سب سیکٹر “ کا نام دیا گیا۔ یہ علاقہ آج بھی بھارت کے سب سے مشکل محاذوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں سپاہی روز موت سے لڑتے ہیں۔

آج دہلی کی ایک سڑک کا نام کیپٹن حنیف الدین مارگ رکھا گیا ہے جب کہ دہلی کے میور وہار اور ہماچل پردیش کے ضلع کلو میں ایک اسکول ان کے نام سے ہے۔
کیپٹن حنیف صرف ایک فوجی نہیں تھے، وہ ایک محبت کرنے والے انسان، ایک گلو کار اور ایک سچے وطن پرست تھے۔ آج بھی بچے ، بڑے، سب کیپٹن حنیف کو یاد کرتے ہیں۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ ملک سے محبت سب سے بڑی بات ہے اور اگر دل میں جذبہ ہو، تو کوئی بھی مشکل راستہ آسان ہو جاتا ہے۔ کیپٹن حنیف ہمیشہ کے لیے ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے ۔
کیپٹن حنیف صرف ایک فوجی نہیں تھے، وہ ایک محبت کرنے والے انسان، ایک گلو کار اور ایک سچے وطن پرست تھے۔ آج بھی بچے ، بڑے، سب کیپٹن حنیف کو یاد کرتے ہیں۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ ملک سے محبت سب سے بڑی بات ہے اور اگر دل میں جذبہ ہو، تو کوئی بھی مشکل راستہ آسان ہو جاتا ہے۔ کیپٹن حنیف ہمیشہ کے لیے ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے ۔

کیپٹن حنیف الدین کی قربانی اور بہادری کروڑوں ہندوستانی کے لیے ایک مثال ہے ۔
-اداره
