8
چار دوست
کردار
1.چوہا2.کوا
3.کچھوا
4.ہرن
5.شکاری
پہلا منظر

چوہا
: (کوے کو مخاطب کرتے ہوئے) ” کیا بات ہے بھائی؟ کسے پکار رہے ہو ؟“
کوا
:
ارے چوہے
بھائی !.... کدھر سے؟ ....
راستہ بھول گئے کیا ؟“
چوہا : راستہ کہاں بھولا .... یہ پیڑ جس کی ڈالی سے اتر کر تم نیچے آکر بیٹھے ہو ، اس کی جڑ میں میرا بل ہے۔“
کووا: تب تو ہم دونوں کو دوست ہونا چاہیے۔“
چوہا: ہم دوست کیسے ہو سکتے ہیں؟ تم آسمان میں اُڑنے والے اور میں زمین کے اندر رہنے والا۔“
کوا
:
تم بھی انسانوں کی طرح اونچ نیچ کو مانتے ہو کیا؟ ہم جنگل کے باسی تو ایسی باتوں سے دور ہی رہتے ہیں۔“
(تبھی ایک کچھوا رینگتا ہوا ان کی طرف آتا دکھائی دیا۔)
کچھوا اور چوہا : (ایک ساتھ ) ارے کچھوے بھائی ! تم کہاں سے آٹپکے؟“
کچھوا : میں بھی تو تمھارے پاس سامنے والی جھیل میں رہتا ہوں۔ مجھے بھی اپنا دوست بنالو۔“
کوا : کیوں چوہے بھائی .... کیا خیال ہے ..... بنالیں کچھوے کو دوست؟“
چوہا : دوست تو جتنے بھی ہوں، کم ہیں۔ دشمن ایک بھی برا ہوتا ہے۔“
کچھوا اور کوا : (ایک ساتھ ایک آواز میں) ” تو آج سے ہم تینوں دوست ہوئے۔“
( تبھی سامنے سے ایک ہرن برگد کی گھنی چھاؤں کی طرف آتا دکھائی دیتا ہے۔ تینوں دوست خوشی سے چلا اٹھتے ہیں۔ )
لو ! .... اب تو ہمارے پاس ایک اور خوب صورت دوست بھی آگیا۔ “
ہرن :
مگر ہم سب ایک دوسرے سے بالکل الگ، رنگ الگ، شکل الگ ، عادت الگ، کھانا پینا الگ .... ہم کیسے ایک دوسرے کے دوست ہو سکتے ہیں؟“
کچھوا : دوستی کے لیے صرف دل ملنا ضروری ہے۔ ہم انسان تو ہیں نہیں، جو ان معمولی باتوں پر دھیان دیں۔“
(چاروں ایک ساتھ بولے)
تو پھر ٹھیک ہے آج سے ہم ایک دوسرے کے ساتھی اور دوست بن گئے۔“
دوسرا منظر
کچھوا : کیا بات ہے کوے بھائی ؟ آج تم بہت اداس ہو۔“
کوا:
مجھے ان آدمیوں کی عقل پر رونا آتا ہے، پتہ نہیں کیوں؟ یہ اپنے آپ کو سب سے بہتر سمجھتے ہیں۔“
کچھوا: ” کیا ہوا کوے بھائی؟“
کوا:
انسان .... اب تو وہ اپنے پیروں پر کلہاڑی مار رہا ہے۔“
چوہا : وہ کس طرح؟“
کوا:
پورے جنگل کا صفایا کر رہا ہے .... اگر جنگل ختم ہو گئے تو ایک
دن یہ علاقہ بھی ویران ہو جائے گا .... نیلے پانی کی یہ جھیل جہاں کچھوے بھائی تم رہتے ہو یہ سوکھ جائے گی .... اس ہری بھری گھاس کی جگہ ریت کی چادر لے لے گی۔“
کچھوا : " آج بہت دیر ہوگئی .... کیا بات ہے، ہرن بھائی نہیں آئے؟“
چوہا : ”ہاں ! اب تو آجانا چاہیے تھا۔ وہ صبح صبح ہری گھاس چرنے گیا تھا۔“
کوا: "میں درخت پر چڑھ کر دیکھتا ہوں، کہیں کسی جال میں تو نہیں پھنس گیا ؟“

کوا : دوستو! بہت بری خبر ہے۔ ہمارا ساتھی بڑی پریشانی میں ہے۔“
کچھوا اور چوہا : (ایک ساتھ ) ” کیا ہوا؟“
کوا: ”وہ ایک شکاری کے جال میں پھنس گیا ہے۔ بڑا مضبوط جال ہے وہ۔
چوہا : بس کسی طرح مجھے وہاں پہنچا دو۔ جال کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، میں اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا۔“
کچھوا : ہائے بے چارہ ہرن .... ہمارا خوب صورت دوست!
کوا: پریشان ہونے سے کچھ نہیں ہو گا .... آؤ چوہے بھائی ! میں تم کو اپنی چونچ میں پکڑ کر لے چلتا ہوں۔“
چوہا : جلدی کرو کوے بھائی۔“
(کوے کے اُڑنے کی آواز .... کائیں کائیں)
کچھ دیر بعد
ہرن : تم نے تو کمال کر دیا چوہے بھائی۔ جال کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔“
چوہا: کمال تو کوے بھائی کا ہے جنھوں نے تمھارا پتہ لگایا اور اپنی چونچ میں پکڑ کر مجھے یہاں تمھارے پاس لے آئے۔“
ہرن : " کچھوے بھائی ! ابھی جھیل میں ہی ہوں گے۔“
کچھوا : ” بھائیو ! میں بھی آگیا ہوں۔“
چوہا : کمال کرتے ہو بھائی ! چلتے اتنے آہستہ ہو مگر ہر جگہ بہت جلد پہنچ جاتے ہو۔“
کچھوا : ”بغیر ر کے چلتے رہنے کا یہی فائدہ ہے۔“
ہرن : آج مجھے اندازہ ہوا کہ دوستی کتنی اچھی اور کام کی چیز ہے۔“
کوا : مل جل کر رہنے کا یہی تو فائدہ ہے۔ سب ایک دوسرے کے کام آتے ہیں۔“
چوہا : ساتھیو! ہوشیار! شکاری اسی طرف آرہا ہے۔ جلدی کرو، بھاگو .... بھاگو۔“
(کوے کی کائیں کائیں دور ہوتی ہوئی)
شکاری : ارے یہ کیا ! پھنسا پھنسایا ہرن کیسے بھاگ نکلا؟ .... میرا جال بھی برباد کر دیا .... اچھا وہ کچھوا جھاڑی کی طرف رینگ رہا ہے۔ ہرن گیا تو کچھوا ہی سہی۔ کچھ تو ملے۔“ (شکاری دوڑ کر کچھوے کو پکڑ لیتا ہے۔) ” بھاگ رہا ہے، چل اس تھیلے میں۔“
(قدموں کی آہٹ دور ہوتی ہوئی۔)
کوا : "اے چوہے بھائی ! اے ہرن بھائی ! جلدی آؤ۔“
ہرن اور چوہا : (ایک ساتھ ) ” کیا بات ہے کوے بھائی؟“
کوا : ہائے ! ہمارا ساتھی کچھوا، اُسے شکاری نے پکڑ لیا ہے۔“
چوہا : ” اب کیا کریں؟“
کوا : " کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا۔ شکاری کے گھر پہنچنے سے پہلے ہمیں اپنے ساتھی کو آزاد کرانا ہو گا۔“
ہرن : ”میری سمجھ میں ایک ترکیب آئی ہے۔“
چوہا : “وہ کیا؟
ہرن : میں شکاری کے راستے میں کھڑا ہو کر گھاس چرنے کا بہانہ کروں گا۔ جوں ہی وہ مجھے دیکھے گا تو وہ ضرور اپنا تھیلا چھوڑ کر میرے پیچھے بھاگے گا۔ اتنی دیر میں چوہا تھیلا کاٹ دے گا اور ہمارا ساتھی آزاد ہو جائے گا۔“
ارے ! یہ تو لنگڑا کر چل رہا ہے، شاید زخمی ہو گا۔اسے تو میں آسانی سے پکڑ سکتا ہوں۔“
(شکاری تھیلا رکھ کر ہرن کے پیچھے بھاگتا ہے۔)
کوا : ہرن نے تو کمال ہی کر دیا، شکاری کو خوب دور بھگا لے گیا۔“
چوہا : ”اب کوے بھائی، آپ میرا کمال دیکھیے۔“
شکاری : ہرن بڑا چالاک نکلا ۔ تھکا ہارا تھا مگر ہاتھ نہیں آیا .... لگتا ہے آج کچھوے پر ہی گزارہ کرنا پڑے گا.... چل بھیا کچھوے۔ (چونک کر) ” ارے یہ کیا، تھیلا کٹا ہوا۔ “ ( نا امید ہو کر ) ” کچھوا بھی ہاتھ سے گیا۔ “( قدموں کی آہٹ دور ہوتی ہوئی۔)
(چاروں دوستوں کی ملی جلی ہنسی)
کچھوا : ”بھائیو! میں آپ کا کس طرح شکر یہ ادا کروں؟“
کوا : ” اس کی ضرورت بھی کیا ہے؟“

ہرن : ”ہاں! آج کافی بھاگ دوڑ کی ہے۔ مجھے پیاس بھی لگ رہی ہے۔“
کچھوا : ہرن بھیا! میں اپنی نیلی جھیل کا ٹھنڈا اور میٹھا پانی تمھیں پلاؤں گا۔“
کوا : میں بھی کچھ دیر کسی ہرے بھرے پیر پر آرام کروں گا۔“
چوہا : جال اور تھیلا تو کتر چکا، اب کچھ دیر میں آلو کتر نا چاہتا ہوں۔“
(چاروں ہنستے ہیں۔)
کچھوا : اب ہمیں آپسی بھائی چارے کی طاقت کا اندازہ ہو گیا ہے، چلو واپس چلیں اور مل جل کر زندگی آرام سے گزاریں۔“
مشق
پڑھیے اور سمجھیے
سوچیے اور بتائیے
-----------------------------------------
-----------------------------------------
-----------------------------------------
-----------------------------------------
-----------------------------------------
خالی جگہوں کو مناسب لفظ سے بھریے
درج ذیل صحیح بیان پر (✔) اور غلط بیان پر ( ✖ ) کا نشان لگائے
نیچے دیے گئے لفظوں سے جملے بنائیے
نیچے دیے گئے محاوروں کو ان کے درست معنی سے ملائیے
یہ بات کس نے کہی ؟ اس کا نام لکھیے
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
دیے گئے جملوں سے فعل ماضی تلاش کر کے لکھیے
●ہرن بہت ڈرا ہوا تھا۔----------------
●کوا درخت سے نیچے اتر آیا۔-------------
●کچھوا جھیل میں تیر نے چلا گیا۔-------------
کیجیے





لطیفہ /چٹکلہ
شاگرد : میں ان کے جانے کا انتظار کروں گا!!!