9
ڈیجیٹل دادی
رانی ایک چنچل ، ہنستی کھیلتی اور ذہین لڑکی تھی۔ وہ سورج پور نام کے ایک چھوٹے سے قصبے میں اپنے ماں باپ، دادی اماں اور چھوٹے بھائی رابی کے ساتھ رہتی تھی۔ رانی کی عمر گیارہ سال تھی اور وہ ایک سرکاری اسکول میں پانچویں جماعت کی طالبہ تھی۔
رانی کو نئی نئی باتیں سیکھنے کا بڑا شوق تھا۔ وہ ہر روز کچھ نہ کچھ نیا جاننے کی کوشش کرتی۔ کبھی کتابوں سے، کبھی اپنے اسکول ٹیچر سے اور کبھی دادی اماں کی کہانیوں سے۔ دادی اماں اسے اکثر پرانے زمانے کی باتیں سناتیں .... جب ہر گھر میں نہ بجلی آئی تھی اور نہ ہی موبائل کی ایجاد ہوئی تھی۔ رانی ان باتوں کو دل لگا کر سنتی اور پھر اپنی دادی پر سوالات کی بوچھار کر دیتی۔
رانی کو نئی نئی باتیں سیکھنے کا بڑا شوق تھا۔ وہ ہر روز کچھ نہ کچھ نیا جاننے کی کوشش کرتی۔ کبھی کتابوں سے، کبھی اپنے اسکول ٹیچر سے اور کبھی دادی اماں کی کہانیوں سے۔ دادی اماں اسے اکثر پرانے زمانے کی باتیں سناتیں .... جب ہر گھر میں نہ بجلی آئی تھی اور نہ ہی موبائل کی ایجاد ہوئی تھی۔ رانی ان باتوں کو دل لگا کر سنتی اور پھر اپنی دادی پر سوالات کی بوچھار کر دیتی۔

ایک دن رانی نے دادی اماں کو ٹین کے چھوٹے دیے میں پیسے رکھتے دیکھا رانی نے حیرت سے پوچھا: ” دادی! آپ ہر بار پیسے پلنگ کے نیچے ہی کیوں رکھتی ہیں؟ اگر چوری ہو جائے تو !“
دادی اماں مسکرا کر بولیں : ”بیٹا! ہم پرانے زمانے کے پانچویں پاس لوگ ہیں۔ بینک کا نظام ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ پیسے آنکھوں کے سامنے رہیں تو تسلی رہتی ہے۔“
رانی کو یہ بات عجیب لگی۔ اُسے یاد آیا کہ چند دن پہلے اس کی ٹیچر محترمہ میرا نے ڈیجیٹل انڈیا کے بارے میں پڑھایا تھا۔ انھوں نے بتایا تھا کہ آج کل زیادہ تر لوگ اپنا پیسہ بینک میں رکھتے ہیں، جہاں وہ محفوظ رہتا ہے اور آسانی سے کام میں بھی آتا ہے۔ اب تو لوگ اپنے موبائل سے بھی لین دین کر سکتے ہیں۔ رانی نے سوچا: ”اگر دادی کو صحیح طریقے سے سمجھایا جائے، تو شاید وہ بھی بینک کا استعمال کر سکیں گی۔“
اگلے دن اسکول میں رانی نے محترمہ میرا سے بات کی، میڈم ! میری دادی ہر مہینے اپنی پنشن کے پیسے ٹین کے ڈبے میں رکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بینک کے نظام کو سمجھنا اُن کے بس کی بات نہیں۔“
محترمہ میرا نے مسکرا کر کہا: ”رانی! تم بہت سمجھ دار ہو۔ اگر تم چاہو، تو اپنی دادی کو سکھا سکتی ہو کہ بینک کیسے کام کرتا ہے؟ یہ تمھاری دادی کا حق ہے کہ وہ اپنے پیسوں کو محفوظ رکھیں اور خود مختار بنیں۔“ یہ سن کر رانی کو حوصلہ ملا۔ اُس نے طے کیا کہ وہ دادی کو لے کر بینک جائے گی اور ان کا کھاتہ کھلوائے گی۔
دادی اماں مسکرا کر بولیں : ”بیٹا! ہم پرانے زمانے کے پانچویں پاس لوگ ہیں۔ بینک کا نظام ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ پیسے آنکھوں کے سامنے رہیں تو تسلی رہتی ہے۔“
رانی کو یہ بات عجیب لگی۔ اُسے یاد آیا کہ چند دن پہلے اس کی ٹیچر محترمہ میرا نے ڈیجیٹل انڈیا کے بارے میں پڑھایا تھا۔ انھوں نے بتایا تھا کہ آج کل زیادہ تر لوگ اپنا پیسہ بینک میں رکھتے ہیں، جہاں وہ محفوظ رہتا ہے اور آسانی سے کام میں بھی آتا ہے۔ اب تو لوگ اپنے موبائل سے بھی لین دین کر سکتے ہیں۔ رانی نے سوچا: ”اگر دادی کو صحیح طریقے سے سمجھایا جائے، تو شاید وہ بھی بینک کا استعمال کر سکیں گی۔“
اگلے دن اسکول میں رانی نے محترمہ میرا سے بات کی، میڈم ! میری دادی ہر مہینے اپنی پنشن کے پیسے ٹین کے ڈبے میں رکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بینک کے نظام کو سمجھنا اُن کے بس کی بات نہیں۔“
محترمہ میرا نے مسکرا کر کہا: ”رانی! تم بہت سمجھ دار ہو۔ اگر تم چاہو، تو اپنی دادی کو سکھا سکتی ہو کہ بینک کیسے کام کرتا ہے؟ یہ تمھاری دادی کا حق ہے کہ وہ اپنے پیسوں کو محفوظ رکھیں اور خود مختار بنیں۔“ یہ سن کر رانی کو حوصلہ ملا۔ اُس نے طے کیا کہ وہ دادی کو لے کر بینک جائے گی اور ان کا کھاتہ کھلوائے گی۔

ہفتے کے روز رانی اپنی دادی کو ساتھ لے کر بینک گئی۔ بینک کا ماحول دادی کے لیے نیا اور اجنبی تھا۔ رانی نے ان کا ہاتھ پکڑ کر ہمت بندھائی۔
بینک کے منیجر جناب آنند کمار ، بہت خوش اخلاق انسان تھے۔ انھوں نے دادی کو پردھان منتری جن دھن یوجنا کے بارے میں بتایا: ” دادی اماں! اس یوجنا کے تحت آپ بغیر کسی فیس کے کھاتہ کھلوا سکتی ہیں صرف آپ کا آدھار کارڈ ہی کافی ہے۔“
دادی اتاں ذرا ہچکچائیں لیکن رانی نے انھیں سمجھایا تو دادی نے آخر کار فارم بھرا اور اُن کا کھاتہ کھل گیا۔ ان کی پنشن اب سیدھے بینک کھاتے میں آنے لگی۔ کچھ دن بعد دادی کا اے ٹی ایم کارڈ بھی آگیا۔
دادی کو لے کر رانی خودکار مشین بوتھ (اے ٹی ایم بوتھ ) گئی اور انھیں سکھایا کہ کارڈ کیسے استعمال کرتے ہیں؟ ”دیکھیے دادی! پہلے کارڈ ڈالیے، پھر پن یعنی خاص نمبر ٹائپ کیجیے اور آخر میں رقم بتائیے۔ بس پھر پیسے باہر !“
بینک کے منیجر جناب آنند کمار ، بہت خوش اخلاق انسان تھے۔ انھوں نے دادی کو پردھان منتری جن دھن یوجنا کے بارے میں بتایا: ” دادی اماں! اس یوجنا کے تحت آپ بغیر کسی فیس کے کھاتہ کھلوا سکتی ہیں صرف آپ کا آدھار کارڈ ہی کافی ہے۔“
دادی اتاں ذرا ہچکچائیں لیکن رانی نے انھیں سمجھایا تو دادی نے آخر کار فارم بھرا اور اُن کا کھاتہ کھل گیا۔ ان کی پنشن اب سیدھے بینک کھاتے میں آنے لگی۔ کچھ دن بعد دادی کا اے ٹی ایم کارڈ بھی آگیا۔
دادی کو لے کر رانی خودکار مشین بوتھ (اے ٹی ایم بوتھ ) گئی اور انھیں سکھایا کہ کارڈ کیسے استعمال کرتے ہیں؟ ”دیکھیے دادی! پہلے کارڈ ڈالیے، پھر پن یعنی خاص نمبر ٹائپ کیجیے اور آخر میں رقم بتائیے۔ بس پھر پیسے باہر !“

دادی کو بہت حیرت ہوئی۔ انھیں یہ ایک جادو لگ رہا تھا۔
ان کے چہرے پر حیرت اور خوشی جھلک رہی تھی۔
اسی لیے وہ سب کام جلدی سیکھ گئیں۔
اس کے بعد ، رانی اپنے پڑوسی رحمٰن چچا کی دکان پر گئی۔ وہ موبائل کے ذریعے لین دین کے ماہر تھے۔ انھوں نے دادی کو سمجھایا کہ کس طرح وہ اپنے موبائل فون سے پیسے کا لین دین کر سکتی ہیں۔ دادی کے لیے موبائل میں ایک ایسی 'یو پی آئی 'ایپلی کیشن ڈالی گئی، جو ہندی میں ہدایت دیتی تھی۔
اب دادی خود سودا لینے جاتیں، کیو آر کوڈ اسکین کرتیں اور آواز سنتیں، ” آپ نے پچاس روپے ادا کیے۔“
اب دادی خود سودا لینے جاتیں، کیو آر کوڈ اسکین کرتیں اور آواز سنتیں، ” آپ نے پچاس روپے ادا کیے۔“

محلے کی عورتیں یہ دیکھ کر حیران رہ جاتیں۔ ایک دن محلے کی ایک خالہ نے پوچھا: ”ارے بی بی! آپ نے یہ سب کیسے سیکھا؟“
دادی نے فخر سے کہا: ”ہماری رانی نے سکھایا ہے۔“ "
اب دادی کا چہرہ خوشی سے چمکتا ہے۔ وہ محلے بھر کی عورتوں کو بینک کا نظام، کارڈ اور اے ٹی ایم کا استعمال اور موبائل فون سے لین دین کے طریقے سمجھاتی پھرتی ہیں۔
کچھ دن پہلے ایک ٹی وی چینل نے دادی کا انٹرویو نشر کیا تو وہ دنیا بھر میں مشہور ہوگئیں۔ اب لوگ انھیں ڈیجیٹل دادی کہتے ہیں۔
دادی نے فخر سے کہا: ”ہماری رانی نے سکھایا ہے۔“ "
اب دادی کا چہرہ خوشی سے چمکتا ہے۔ وہ محلے بھر کی عورتوں کو بینک کا نظام، کارڈ اور اے ٹی ایم کا استعمال اور موبائل فون سے لین دین کے طریقے سمجھاتی پھرتی ہیں۔
کچھ دن پہلے ایک ٹی وی چینل نے دادی کا انٹرویو نشر کیا تو وہ دنیا بھر میں مشہور ہوگئیں۔ اب لوگ انھیں ڈیجیٹل دادی کہتے ہیں۔

مشق
پڑھیے اور سمجھیے
ہنستی کھیلتی : خوش رہنے والی
پنشن : وظیفہ ، سر کار سے ملنے والی ماہانہ مدد
تسلی : اطمینان
چند : کچھ
خود مختار : با اختیار، اختیار والا
لین دین کرنا : وصول کرنا اور ادا کرنا
ہچکچانا : جھجھکنا، ڈرنا، سوچنا
انٹرویو : ملاقات اور بات چیت
نشر کرنا : خبر مشہور کرنا، اشاعت، کسی خبر کو پھیلانا
سوچیے اور بتائیے
1. رانی کہاں رہتی تھی اور کس جماعت میں پڑھتی تھی؟
-----------------------------------------
-----------------------------------------
2. رانی نے دادی کو بینک لے جانے کا فیصلہ کیوں کیا؟
-----------------------------------------
-----------------------------------------
3. دادی نے اپنا بینک کھاتہ کیسے کھلوایا؟
-----------------------------------------
-----------------------------------------
4. دادی نے موبائل سے پیسے کا لین دین کیسے سیکھا؟
-----------------------------------------
-----------------------------------------
5. دادی کیوں مشہور ہوئیں؟
-----------------------------------------
-----------------------------------------
درست جواب پر صحیح کا نشان ( ✔ ) لگائیے
1. رانی نئی باتیں کہاں سے سیکھنے کی کوشش کرتی تھی ؟
(i) کتابوں سے
(ii)
ٹیچر سے
(iii) دادی اماں سے
(iv)
تینوں سے
2. دادی اماں کا بینک کھاتہ کس یوجنا کے تحت کھولا گیا؟
(i) راشن یوجنا
(ii) پردھان منتری جن دھن یوجنا
(iii) آروگیہ یوجنا
(iv) سوچھ بھارت ابھیان
3. دادی اماں کو اے ٹی ایم کارڈ استعمال کرنے کا طریقہ کس نے سکھایا؟
(i)
بینک منیجر
(ii)
رحمٰن چاچا
(iii)
رانی
(iv) ٹیچر
مثال کے مطابق درج ذیل واحد کی جمع لکھیے
| واحد | جمع | واحد | جمع | واحد | جمع |
| دادی | دادیاں | پیسہ | پیسے | عورت | عورتیں |
| لڑکی | قصبہ | بات | |||
| کہانی | کھاتہ | ہدایت | |||
| خوشی | طریقہ | دکان | |||
| آسانی | ڈبہ | مشین |
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
●دادی نے بینک میں اپنا کھاتہ کھلوایا
اس جملے میں خط کشیدہ لفظوں کو غور سے پڑھیے۔
کھلوایا، یہ لفظ کسی کام کو ظاہر کرتا ہے۔ اسے 'فعل' کہتے ہیں۔
دادی یہ لفظ کام کے کرنے والے کو ظاہر کرتا ہے۔ اسے 'فاعل' کہتے ہیں
کھاتہ یہ ایسا لفظ ہے جس پر فعل کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔ اسے 'مفعول' کہتے ہیں۔
●مثال کے مطابق درج ذیل جملوں میں 'فعل' 'فاعل' اور 'مفعول' پہچان کر لکھیے
| جملہ | فعل (کام) | فاعل (کام کرنے والا) | مفعول (جس پر فعل کا اثر ظاہر ہو) |
| رانی نے دادی کے ساتھ بینک کا دورہ کیا۔ | دورہ کرنا | رانی | ببینک |
| رانی نے دادی کا ہاتھ پکڑا۔ | |||
| جناب آنند کمار نے یوجنا کے بارے میں بتایا۔ | |||
| دادی اماں نے فارم بھرا۔ | |||
| رانی نے دادی کو اے ٹی ایم استعمال کرنا سکھایا۔ |
درج ذیل جملے کو غور سے پڑھیے
" رانی ایک ہنستی کھیلتی اور ذہین لڑکی تھی۔ وہ سورج پور نام کے ایک چھوٹے سے قصبے میں اپنے ماں باپ، دادی اماں اور چھوٹے بھائی رابی کے ساتھ رہتی تھی۔"
اس مثال میں رانی ایک بچی کا نام یعنی 'اسم' ہے۔ وہ ' سے مراد ہے رانی یعنی رانی سورج پور نام کے ایک قصبے میں رہتی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ لفظ 'وہ 'ایک اسم ( نام ) کے بدلے استعمال ہوا ہے۔ اس لیے وہ 'ضمیر' ہے۔
اسم (نام) کی جگہ استعمال ہونے والے لفظ کو ضمیر کہتے ہیں۔
●مثال کے مطابق نیچے دیے گئے جملوں کو پڑھیے اور ان میں ضمیر ، کی نشان دہی کر کے لکھیے
| جملہ | ضمیر |
| وہ سورج پور نام کے ایک چھوٹے سے قصبے میں رہتی تھی۔ | وہ |
| ہمیں بینک کا نظام نہیں آتا۔ | |
| ان کے چہرے پر خوشی جھلک رہی تھی۔ | |
| یہ سب ہماری رانی نے سکھایا ہے۔ | یہ ، ہماری |
| تم اپنی دادی کو سکھا سکتی ہو۔ |
کیجیے
●اگر آپ کی دادی ڈیجیٹل نہیں ہیں تو آپ ان کو کس طرح آمادہ کریں گے؟
چند جملوں میں لکھیے
----------------------------------------------------
--------------------------
●یو پی آئی کے کون کون سے ایپلی کیشن ہوتے ہیں؟ ان کے بارے اپنے استاد کی مدد سے معلوم کر کے لکھیے
----------------------------------------------------
●رانی، دادی اور منیجر کے درمیان بات چیت پیش کرنے کے لیے ایک بچہ رانی بنے، دوسرا بچہ بینک منیجر اور تیسرا بچہ دادی کا کردار نبھائے ۔ اب یہ تینوں بچے بینک میں کھاتہ کھولنے اور اے ٹی ایم کا استعمال کرنے کے دوران ہونے والی بات چیت پیش کریں۔
نیچے دی گئی تصویر میں رنگ بھر لیے
میری ڈیجیٹل دادی
●آپ کے آدھار کارڈ پر کیا کیا معلومات ہیں اور اس کا استعمال کہاں کہاں کیا جاتا ہے؟
----------------------------------------------------
--------------------------
پہیلی
ایک ناری کے دو بالک دونوں ایک ہی رنگ
ایک پھرے ایک ٹھاڑا رہے پھر بھی دونوں سنگ
ایک پھرے ایک ٹھاڑا رہے پھر بھی دونوں سنگ
اساتذہ کے لیے ہدایات
●موبائل میں کیو آر کو ڈ کیسے اسکین کیا جائے؟ اس کے بارے میں طلبا کو سمجھایا جاسکتا ہے۔
●طلبا کو بینک کا دورہ کرایا جا سکتا ہے۔
●اپنا کھاتہ کیسے کھولیں؟ اس پر ویڈیو دکھایا جاسکتا ہے۔
●جن بچوں کے کھاتے کھلے ہوئے ہیں، ان کی پاس بک پرنٹ کروائی جاسکتی ہے۔
●یو پی آئی ایپلی کیشن کون کون سے ہیں؟ طلبا سے ایک چارٹ پر بنوایا جا سکتا ہے۔