11
ٹیولپ گارڈن
پیارے پرتاپ!
اُمید ہے کہ تم بخیر ہو گے۔ آج میں تمھیں ایک ایسی وادی کی سیر کی دعوت دے رہا ہوں جو زمین پر جنت کہلاتی ہے یعنی کشمیر ، یہاں ان دنوں بہارا اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے، ہر طرف رنگ و نور کی بارش ہو رہی ہے اور فضا خوشبوؤں سے مہک رہی ہے۔
پرتاپ! سری نگر کا مشہور ٹیولپ گارڈن اپنی خوب صورتی کی وجہ سے دنیا میں مشہور ہے ، اس کو باغ گل لالہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ باغ زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہے اور ایشیا کا سب سے بڑا ٹیولپ گارڈن ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں سے ہر سال لاکھوں سیاح اس باغ کو دیکھنے آتے ہیں۔

یہ باغ سال میں صرف چالیس دن یعنی مارچ کے آخری ہفتے سے اپریل کے آخر تک اپنی بہار دکھاتا ہے۔ اس لیے کہ ٹیولپ کے پھول زیادہ دیر تک نہیں رہتے۔ ان کی عمر پندرہ سے سترہ دن تک کی ہوتی ہے۔ اگر موسم سرد رہے تو یہ کچھ دن اور کھلے رہ سکتے ہیں لیکن جیسے ہی درجہ حرارت بیس ڈگری سے تجاوز کرتا ہے، یہ مرجھانے لگتے ہیں۔ محکمہ باغبانی کے اہل کاروں کے مطابق باغ میں پھولوں کو باری باری اگایا جاتا ہے تا کہ پورے چالیس دن تک اس کی دل کشی برقرار رہے۔
پیارے پر تاپ! یہاں تقریباستر اقسام کے پندرہ لاکھ سے زیادہ ٹیولپ کے پودے لگائے جاتے ہیں، جو مختلف رنگوں میں کھلتے ہیں، جیسے سرخ، پیلے، سفید ۔ اس کے علاوہ کئی دیگر رنگوں کے پھول ایسا منظر پیش کرتے ہیں، جیسے زمین پر رنگ برنگے پھولوں کا قالین بچھا ہوا ہو۔
پیارے پر تاپ! یہاں تقریباستر اقسام کے پندرہ لاکھ سے زیادہ ٹیولپ کے پودے لگائے جاتے ہیں، جو مختلف رنگوں میں کھلتے ہیں، جیسے سرخ، پیلے، سفید ۔ اس کے علاوہ کئی دیگر رنگوں کے پھول ایسا منظر پیش کرتے ہیں، جیسے زمین پر رنگ برنگے پھولوں کا قالین بچھا ہوا ہو۔

یہ باغ تقریباً تیس ہیکٹر زمین (چھ سو کنال) پر پھیلا ہوا ہے لیکن ابھی ڈیڑھ سو کنال پر ہی ٹیولپ کی کیاریاں بنی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ باقی حصہ پارک اور دیگر سہولیات کے لیے مخصوص ہے۔
ٹیولپ گارڈن کے آس پاس کئی اور دل کش مقامات بھی ہیں، جیسے بوٹانیکل گارڈن، چشمہ شاہی، پری محل، نشاط باغ ، شالیمار باغ اور ڈل جھیل وغیرہ ۔ پورا علاقہ قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ ان باغات میں پھیلی ہریالی، رنگ برنگے پھولوں اور فطری مناظر کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔
ڈل جھیل میں شکارے کا سفر بھی ایک یاد گار تجربہ ہو گا، جہاں جھیل کا پرسکون پانی اور پہاڑوں کے دل کش نظارے مسحور کر دیں گے۔
ٹیولپ کا اصل تعلق وسط ایشیا، ترکی اور ایران سے ہے، جہاں یہ پھول قدرتی طور پر اُگتے ہیں سولہویں صدی میں یہ یورپ پہنچے اور سب سے پہلے نیدرلینڈ میں ان کی کاشت کی گئی۔ جہاں یہ خوب صورتی کی علامت بن گئے۔
ٹیولپ گارڈن کے آس پاس کئی اور دل کش مقامات بھی ہیں، جیسے بوٹانیکل گارڈن، چشمہ شاہی، پری محل، نشاط باغ ، شالیمار باغ اور ڈل جھیل وغیرہ ۔ پورا علاقہ قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ ان باغات میں پھیلی ہریالی، رنگ برنگے پھولوں اور فطری مناظر کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔
ڈل جھیل میں شکارے کا سفر بھی ایک یاد گار تجربہ ہو گا، جہاں جھیل کا پرسکون پانی اور پہاڑوں کے دل کش نظارے مسحور کر دیں گے۔
ٹیولپ کا اصل تعلق وسط ایشیا، ترکی اور ایران سے ہے، جہاں یہ پھول قدرتی طور پر اُگتے ہیں سولہویں صدی میں یہ یورپ پہنچے اور سب سے پہلے نیدرلینڈ میں ان کی کاشت کی گئی۔ جہاں یہ خوب صورتی کی علامت بن گئے۔

بر صغیر کے علاوہ آج ٹیولپ، نیدرلینڈ، ترکی، ایران، امریکہ، چین، جاپان اور برطانیہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں یہ پھول اُگائے جاتے ہیں۔ اسے بہار کی آمد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں کشمیر ہی وہ موزوں مقام ہے جہاں یہ پھول پوری شان سے کھلتے ہیں اور کچھ دنوں تک ترو تازہ رہتے ہیں۔
پیارے پر تاپ! کشمیر نہ صرف اپنی فطری خوب صورتی کے لیے مشہور ہے بلکہ یہاں کی دست کاریاں بھی دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہیں۔ پیپر ماشی، کشمیر کا ایک منفرد اور روایتی ہنر ہے۔ اس فن میں کاغذ کو گوندھ کر کئی طرح کی اشیا تیار کی جاتی ہیں۔ جیسے گل دان، قلم دان، بکس، فریم، زیورات کے ڈبے اور سجاوٹی اشیا وغیرہ اور پھر ان پر رنگ برنگے نقش و نگار بنائے جاتے ہیں۔ یہ چیزیں دیکھنے میں بہت خوب صورت لگتی ہیں اور دنیا بھر میں پسند کی جاتی ہیں۔
پیارے پر تاپ! کشمیر نہ صرف اپنی فطری خوب صورتی کے لیے مشہور ہے بلکہ یہاں کی دست کاریاں بھی دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہیں۔ پیپر ماشی، کشمیر کا ایک منفرد اور روایتی ہنر ہے۔ اس فن میں کاغذ کو گوندھ کر کئی طرح کی اشیا تیار کی جاتی ہیں۔ جیسے گل دان، قلم دان، بکس، فریم، زیورات کے ڈبے اور سجاوٹی اشیا وغیرہ اور پھر ان پر رنگ برنگے نقش و نگار بنائے جاتے ہیں۔ یہ چیزیں دیکھنے میں بہت خوب صورت لگتی ہیں اور دنیا بھر میں پسند کی جاتی ہیں۔

اسی طرح کشمیر کے قالین دنیا بھر میں اپنی نفاست، مضبوطی اور دل کش ڈیزائن کے لیے مشہور ہیں۔ ہاتھ سے بنے ہوئے یہ قالین اکثر ریشم اور اون سے تیار کیے جاتے ہیں۔
ان کے ڈیزائن میں چنار کے پتے ، بیل بوٹے، پھول اور نباتاتی نمونے عام طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔
کشمیری شالیں بھی اپنی نرمی، حرارت اور نزاکت کے لیے مشہور ہیں۔ خاص طور پر پشمینہ شالیں جو خاص قسم کی اون سے بنتی ہیں، انتہائی قیمتی اور عالمی سطح پر مقبول ہیں۔ ان پر کی جانے والی سوئی دھاگے کی کشیدہ کاری کشمیر کے دست کاروں کی فنی مہارت کا ثبوت ہے۔
ان کے ڈیزائن میں چنار کے پتے ، بیل بوٹے، پھول اور نباتاتی نمونے عام طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔
کشمیری شالیں بھی اپنی نرمی، حرارت اور نزاکت کے لیے مشہور ہیں۔ خاص طور پر پشمینہ شالیں جو خاص قسم کی اون سے بنتی ہیں، انتہائی قیمتی اور عالمی سطح پر مقبول ہیں۔ ان پر کی جانے والی سوئی دھاگے کی کشیدہ کاری کشمیر کے دست کاروں کی فنی مہارت کا ثبوت ہے۔

بھائی پر تاپ! یہاں کے کھانوں کا کیا کہنا، کشمیر کا وازوان ایک ایسا روایتی پکوان ہے جو کھانا ہونے کے علاوہ محبت، تہذیب اور خوش ذوقی کی علامت ہے۔ وازوان میں بارہ سے زائد مختلف قسم کی لذیذ غذائیں شامل ہیں اور ہاں ! زعفرانی قہوہ کو کیسے بھول سکتے ہیں، یہ خوش بودار گرم مشروب کشمیر کی خاص پہچان ہے۔ زعفران، الائچی اور دار چینی سے تیار کیا گیا یہ قہوہ نہ صرف جسم کو حرارت دیتا ہے بلکہ دل کو بھی راحت بخشتا ہے۔ یہاں سرد موسم میں مہمان نوازی کا آغاز اسی قہوے سے ہوتا ہے۔ تمھیں یقینا اس کا ذائقہ ہمیشہ یاد رہے گا۔
کشمیر کے مذہبی و تاریخی مقامات بھی اس خطے کی روحانیت اور قومی اتحاد کا مظہر ہیں۔ حضرت بل، خاص طور پر کشمیر کی مشہور زیارت گاہ ہے۔ زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع شنکر آچاریہ مندر ایک قدیم اور مقدس زیارت گاہ ہے۔ یہ مندر ایک اونچی پہاڑی پر واقع ہے اور یہاں تک پہنچنے کے لیے پتھر یلی سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں، جہاں سے سری نگر اور ڈل جھیل کا خوب صورت نظارہ دکھائی دیتا ہے۔ یہاں عقیدت مند عبادت کے لیے آتے ہیں اور سیاح بھی روحانی سکون محسوس کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ 'ہری پربت'، جسے کوہ ماراں بھی کہا جاتا ہے، یہ بھی ایک روحانی اور ثقافتی علامت ہے۔ اس پہاڑ پر ایک تاریخی قلعہ ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں حضرت خواجہ مخدوم صاحب کی زیارت، مسجد ، شاکادیوی مندر اور گردوارہ ایک ہی مقام پر واقع ہیں۔ یہ کشمیر کی مذہبی آہنگی اور رواداری کی صدیوں پرانی تہذیبی روایت کا مظہر ہے۔
کشمیر کے مذہبی و تاریخی مقامات بھی اس خطے کی روحانیت اور قومی اتحاد کا مظہر ہیں۔ حضرت بل، خاص طور پر کشمیر کی مشہور زیارت گاہ ہے۔ زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع شنکر آچاریہ مندر ایک قدیم اور مقدس زیارت گاہ ہے۔ یہ مندر ایک اونچی پہاڑی پر واقع ہے اور یہاں تک پہنچنے کے لیے پتھر یلی سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں، جہاں سے سری نگر اور ڈل جھیل کا خوب صورت نظارہ دکھائی دیتا ہے۔ یہاں عقیدت مند عبادت کے لیے آتے ہیں اور سیاح بھی روحانی سکون محسوس کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ 'ہری پربت'، جسے کوہ ماراں بھی کہا جاتا ہے، یہ بھی ایک روحانی اور ثقافتی علامت ہے۔ اس پہاڑ پر ایک تاریخی قلعہ ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں حضرت خواجہ مخدوم صاحب کی زیارت، مسجد ، شاکادیوی مندر اور گردوارہ ایک ہی مقام پر واقع ہیں۔ یہ کشمیر کی مذہبی آہنگی اور رواداری کی صدیوں پرانی تہذیبی روایت کا مظہر ہے۔

پر تاپ! میں چاہتا ہوں کہ تم جلد کشمیر آؤ اور میرے ساتھ ان نظاروں کا لطف اُٹھاؤ ۔ تمھیں یہاں فطرت سے قرب ہی نہیں حاصل ہو گا بلکہ کشمیر کی تہذیبی زندگی، رواداری، ثقافت اور محبت کی لازوال خوبیوں کا بھی اندازہ ہو گا۔ اُمید ہے کہ تم میری اس پر خلوص دعوت کو قبول کرو گے اور جلد اپنی آمد کی اطلاع دو گے۔
گھر میں سب کو سلام
گھر میں سب کو سلام
تمھارا مخلص دوست
انجم شاه
--اداره
انجم شاه
--اداره

مشق
پڑھیے اور سمجھیے
رعنائی ↔ خوب صورتی، دل کشی
جلوه گر ↔ ظاہر ہونا
سیاح ↔ سیر کرنے والا
تجاوز ↔ حد سے بڑھنا
کنال ↔ ایک پیمانے کا نام، 20 مرلے کے برابر زمین کا پیمانہ، بیگھے کا چوتھا حصہ
مسحور کر دینا ↔ بہت زیادہ متاثر کر دینا
اہل کار ↔ عملے کا فرد، ملازم، کام کرنے والے، ورکر
بر صغیر ↔ زمین کا چھوٹا ٹکڑا (ہندوستان، پاکستان اور
بنگلہ دیش کی سر زمین )
موزوں ↔ مناسب
دست کاری ↔ ہاتھ کا کام
منفرد ↔ بے مثال، اچھوتا، لاجواب
علامت ↔ نشان
نباتاتی ↔ پیڑوں سے متعلق
لازوال ↔ ہمیشہ باقی رہنے والا
کشیده کاری ↔ بیل بوٹوں کا کام
مشروب ↔ پینے کی چیز
سوچیے اور بتائیے
1. ٹیولپ گارڈن کب اور کتنے دنوں کے لیے کھلا رہتا ہے؟
-----------------------------------------
-----------------------------------------
2. ٹیولپ گارڈن کے آس پاس کون کون سے مشہور مقامات ہیں؟
-----------------------------------------
-----------------------------------------
3. کشمیر فطری خوب صورتی کے علاوہ دست کاری کی دنیا میں کیا مقام رکھتا ہے؟
-----------------------------------------
-----------------------------------------
4. کشمیر کو جنت کیوں کہا جاتا ہے؟
-----------------------------------------
-----------------------------------------
5. خطہ کشمیر روحانیت اور قومی اتحاد کا مظہر کیوں ہے؟
-----------------------------------------
-----------------------------------------
خالی جگہوں میں مناسب لفظ لکھیے
●ٹیولپ گارڈن کو....................
بھی کہا جاتا ہے۔
●یہ باغ...............پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہے۔
●
باغ کے آس پاس...........اور........جیسے مشہور مقامات ہیں۔
●..............خوشبو دار گرم مشروب کشمیر کی خاص پہچان ہے۔
●..............خاص طور پر کشمیر کی مشہور زیارت گاہ ہے۔
درج ذیل جمع کے واحد لکھیے
| جمع | اقسام | سہولیات | مناظر | اشیا | ممالک |
| واحد |
بے جوڑ لفظ کی نشان دہی کر کے اس پر دائرہ O بنائیے
| سمندر | دریا | سڑک | ندی | جھیل |
| اونٹ | طوطا | چڑیا | کوا | بلبل |
| لال | دکان | سفید | پیلا | نیلا |
| بھینس | بکری | گائے | شیر | گھوڑا |
| گو بھی | مولی | گاجر | آلو | روٹی |
کالم 'الف' اور کالم ”ب“ کے صحیح جو ڑ ملائیے
الف
زمین پر جنت
شنکر آچاریہ
دست کاری
خوشبودار مشروب
کشمیر کاروایتی پکوان
ب
پیپر ماشی
زعفرانی قہوه
ایک قدیم مندر
وازوان
کشمیر
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
اس سبق میں آپ نے یہ جملہ پڑھا ہے: ”رنگ برنگ پھولوں اور فطری مناظر کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ “ یہاں دل باغ باغ ہونا اپنے اصل معنی کے بجائے دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس کا مطلب ہے خوش ہونا۔
وہ الفاظ جو فعل پر ختم ہوتے ہیں اور اپنے اصل معنی کے بجائے دوسرے معنی میں استعمال ہوتے ہیں انھیں محاورہ' کہتے ہیں۔'
●اسی طرح آپ بھی نیچے دیے گئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے
| جمع | معنی | جملے |
| نو دو گیارہ ہونا | بھاگ جانا | ........ |
| پیٹ میں چوہے دوڑنا | بہت زیادہ بھوک لگنا | ........ |
| دل بھر آنا | اچانک غمگین ہونا | ........ |
●اس سبق میں بہت سے الفاظ ایک ہی وزن کے آئے ہیں، جیسے مہارت، عبادت و غیرہ۔ اسی طرح آپ بھی پانچ اور الفاظ تلاش کر کے لکھیے
............ ............
........................ ............ ............
کیجیے
●چھٹیوں میں دوست کو اپنے شہر دہلی بلانے کے لیے ایک خط لکھیے
●سبق سے کشمیری تہذیب و ثقافت کو ظاہر کرنے والی چیزوں کے نام لکھیے
------------- ------------- -------------------------- ------------- -------------
●
آپ کے گھر کے آس پاس یا آپ کے شہر میں ٹیولپ گارڈن جیسا کوئی پھولوں کا باغ ہو تو اس کی تصویر بنائیے اور اس کے بارے میں لکھیے
------------- ------------- -------------------------- ------------- -------------
لطیفہ /چٹکلہ
باپ : بیٹا! دل لگا کر پڑھا کرو۔
بیٹا : لیکن آپ تو عینک لگا کر پڑھتے ہیں۔
بیٹا : لیکن آپ تو عینک لگا کر پڑھتے ہیں۔
اساتذہ کے لیے ہدایات
●بچوں کو کشمیر کے سیاحتی مقامات سے متعلق ایک ویڈیو دکھایا جا سکتا ہے۔
●پیپر کرافٹ سے تعلق کچھ سرگرمیاں کروائی جا سکتی ہیں۔
●ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں کون کون سے پھلوں کی پیداوار ہوتی ہے؟ اس کے بارے میں لکھوایا جاسکتا ہے۔