12
چار سکے
بہت پرانی بات ہے۔ کسی گاؤں میں ایک برہمن عالم رہتا تھا۔ اُس کا زیادہ تر وقت پوجا پاٹھ میں گزرتا تھا۔ اسے ضرورت سے زیادہ دولت کی کوئی خواہش نہ تھی لیکن اس کی بیوی امیر بننا چاہتی تھی۔
وہاں کا راجا بہت سخی اور لوگوں کا بھلا کرنے والا انسان تھا۔ وہ برہمنوں کی بہت عزت کرتا تھا۔ کوئی بھی برہمن اس کے در سے خالی ہاتھ نہیں جاتا تھا۔ ایک دن برہمن کی بیوی نے اس سے کہا: ” تمھارے سبھی دوست امیر ہو گئے، سب راجا کے پاس جاکر دھن لے کر آتے ہیں، ایک تم ہو کہ راجا کے پاس نہیں جاتے اور نہ ہی پیسہ کمانے کے لیے کچھ کرتے ہو۔“
وہاں کا راجا بہت سخی اور لوگوں کا بھلا کرنے والا انسان تھا۔ وہ برہمنوں کی بہت عزت کرتا تھا۔ کوئی بھی برہمن اس کے در سے خالی ہاتھ نہیں جاتا تھا۔ ایک دن برہمن کی بیوی نے اس سے کہا: ” تمھارے سبھی دوست امیر ہو گئے، سب راجا کے پاس جاکر دھن لے کر آتے ہیں، ایک تم ہو کہ راجا کے پاس نہیں جاتے اور نہ ہی پیسہ کمانے کے لیے کچھ کرتے ہو۔“

اس نے کہا: ” میں راجا کے پاس دھن مانگنے نہیں جاؤں گا۔ راجا کا خزانہ رعایا کا خزانہ ہوتا ہے۔ وہ اُس کے خون پسینے کی کمائی نہیں ہے۔ “
برہمن منع کرتا رہا لیکن بیوی نے اُس کی ایک نہ سنی۔ اگلے دن برہمن راجا کے محل پہنچا۔ اتفاق سے راجا کہیں گیا ہوا تھا۔ برہمن خالی ہاتھ گھر لوٹ آیا۔ دوسرے دن بیوی کے کہنے پر وہ راجا کے پاس پھر گیا۔ اس دن بھی راجا کہیں گیا ہوا تھا۔ برہمن واپس جانے لگا تو سامنے سے راجا آگیا۔ راجا نے احترام کے ساتھ کہا: ” مہاراج! آپ پدھارے ہیں، بیٹھیے۔ آپ کل بھی خالی ہاتھ چلے گئے تھے، مجھے بہت دکھ ہے۔ کہیے کیا سیوا کروں؟“
برہمن نے کہا: ” راجن ! اور کچھ نہیں، مجھے تو صرف آپ کی محنت کی کمائی کے چار سکے چاہیے۔“
برہمن منع کرتا رہا لیکن بیوی نے اُس کی ایک نہ سنی۔ اگلے دن برہمن راجا کے محل پہنچا۔ اتفاق سے راجا کہیں گیا ہوا تھا۔ برہمن خالی ہاتھ گھر لوٹ آیا۔ دوسرے دن بیوی کے کہنے پر وہ راجا کے پاس پھر گیا۔ اس دن بھی راجا کہیں گیا ہوا تھا۔ برہمن واپس جانے لگا تو سامنے سے راجا آگیا۔ راجا نے احترام کے ساتھ کہا: ” مہاراج! آپ پدھارے ہیں، بیٹھیے۔ آپ کل بھی خالی ہاتھ چلے گئے تھے، مجھے بہت دکھ ہے۔ کہیے کیا سیوا کروں؟“
برہمن نے کہا: ” راجن ! اور کچھ نہیں، مجھے تو صرف آپ کی محنت کی کمائی کے چار سکے چاہیے۔“

راجا برہمن کی اس بات پر سخت حیران ہوا۔ اس نے سوچا: ”میرے خزانے میں بے شمار دولت بھری پڑی ہے لیکن میری محنت کا تو اس میں ایک بھی سکہ نہیں۔ اس نے ہاتھ جوڑ کر کہا: ” مجھے دو دن کا وقت دیجیے، میں آپ کو اپنی محنت کی کمائی کے ہی سکے دوں گا۔ “
اس دن بھی برہمن خالی ہاتھ گھر لوٹ آیا۔ بیوی نے کہا: ” خالی ہاتھ ہی لوٹ آئے ؟ تم سے کچھ نہیں ہو گا۔ “
برہمن نے کہا: ” میں نے راجا سے جو مانگا، وہ اس نے دو دن بعد دینے کو دو کہا ہے۔“ یہ سن کر اس کی بیوی خوش ہو گئی۔ اُس نے سوچا، ” لگتا ہے میرے شوہر بہت ہوشیار ہیں۔ انھوں نے جتنا دھن مانگا ہو گا، ممکن ہے اُتنا اس وقت خزانے میں نہ ہو ، اسی لیے را جانے دو دن کا وقت مانگا ہے۔“
اُدھر راجا سوچ میں پڑ گیا۔ کچھ طے کر کے اٹھا۔ اپنا شاہی لباس اتارا اور دھوتی کرتا پہن کر جانے لگا۔ یہ دیکھ کر رانی نے کہا: ” مہاراج آپ اس طرح کہاں جا رہے ہیں؟“
را جانے ساری بات بتادی۔ یہ سن کر رانی مسکرائی اور بولی: ” ٹھہریے مہاراج! میں بھی آتی ہوں۔“ یہ کہہ کر رانی محل میں اپنے رہائشی حصے میں چلی گئی۔ واپس آئی تو اسے دیکھ کر راجا حیران رہ گیا۔ رانی نے معمولی سی ساڑی پہن رکھی تھی، وہ اپنے زیور بھی اتار آئی تھی۔ را جارانی کام کی تلاش میں نکل پڑے۔ جہاں بھی کام مانگتے ، کام نہیں ہے “ کہہ کر منع کر دیا جاتا۔ راجا بہت پریشان ہو گیا۔ شام ہو گئی، دونوں دن بھر کے بھوکے پیاسے خالی ہاتھ لوٹ آئے۔ کہیں کام نہیں ملا تھا۔
اس دن بھی برہمن خالی ہاتھ گھر لوٹ آیا۔ بیوی نے کہا: ” خالی ہاتھ ہی لوٹ آئے ؟ تم سے کچھ نہیں ہو گا۔ “
برہمن نے کہا: ” میں نے راجا سے جو مانگا، وہ اس نے دو دن بعد دینے کو دو کہا ہے۔“ یہ سن کر اس کی بیوی خوش ہو گئی۔ اُس نے سوچا، ” لگتا ہے میرے شوہر بہت ہوشیار ہیں۔ انھوں نے جتنا دھن مانگا ہو گا، ممکن ہے اُتنا اس وقت خزانے میں نہ ہو ، اسی لیے را جانے دو دن کا وقت مانگا ہے۔“
اُدھر راجا سوچ میں پڑ گیا۔ کچھ طے کر کے اٹھا۔ اپنا شاہی لباس اتارا اور دھوتی کرتا پہن کر جانے لگا۔ یہ دیکھ کر رانی نے کہا: ” مہاراج آپ اس طرح کہاں جا رہے ہیں؟“
را جانے ساری بات بتادی۔ یہ سن کر رانی مسکرائی اور بولی: ” ٹھہریے مہاراج! میں بھی آتی ہوں۔“ یہ کہہ کر رانی محل میں اپنے رہائشی حصے میں چلی گئی۔ واپس آئی تو اسے دیکھ کر راجا حیران رہ گیا۔ رانی نے معمولی سی ساڑی پہن رکھی تھی، وہ اپنے زیور بھی اتار آئی تھی۔ را جارانی کام کی تلاش میں نکل پڑے۔ جہاں بھی کام مانگتے ، کام نہیں ہے “ کہہ کر منع کر دیا جاتا۔ راجا بہت پریشان ہو گیا۔ شام ہو گئی، دونوں دن بھر کے بھوکے پیاسے خالی ہاتھ لوٹ آئے۔ کہیں کام نہیں ملا تھا۔

راجا مایوس ہو گیا۔ رانی نے کہا: ”مہاراج! نراش کیوں ہوتے ہیں؟ ابھی تو ایک دن کا وقت اور ہے ، کل پھر کام ڈھونڈیں گے۔ کہیں نہ کہیں کام ضرور مل جائے گا۔ “ دوسرے دن صبح دونوں پھر کام کی تلاش میں نکل پڑے۔ وہ دونوں مزدوروں کی بستی میں چلے جارہے تھے۔ انھوں نے دیکھا کہ اُدھ ننگے بچے سوکھی روٹیاں چبار ہے ہیں۔ عورتیں اور مرد کام میں جٹے ہیں۔ کچھ دیر یہ سب دیکھنے کے بعد رانی اُن عورتوں کے پاس گئی اور کہا : ” کیا ہمیں بھی کام مل سکتا ہے ؟“
ایک عورت نے ٹھیکے دار کی طرف اشارہ کیا۔ راجا رانی اس کے پاس گئے۔ اُس آدمی نے راجا کو پتھر ڈھونے کا کام دے دیا مگر رانی کو کام نہیں ملا۔ رانی مزدوروں کے بچوں کے ساتھ کھیلنے لگی۔ راجا ٹو کرے میں پتھر بھر کر اٹھانے لگا مگر وہ ٹوکرانہ اٹھا سکا اور بہت شرمندہ ہوا۔ اسے دیکھ کر عورتیں منھ پر کپڑا رکھ کر ہنسنے لگیں۔
ایک عورت نے ٹھیکے دار کی طرف اشارہ کیا۔ راجا رانی اس کے پاس گئے۔ اُس آدمی نے راجا کو پتھر ڈھونے کا کام دے دیا مگر رانی کو کام نہیں ملا۔ رانی مزدوروں کے بچوں کے ساتھ کھیلنے لگی۔ راجا ٹو کرے میں پتھر بھر کر اٹھانے لگا مگر وہ ٹوکرانہ اٹھا سکا اور بہت شرمندہ ہوا۔ اسے دیکھ کر عورتیں منھ پر کپڑا رکھ کر ہنسنے لگیں۔

ٹھیکے دار یہ سب دیکھ رہا تھا۔ دو پہر کو وہ راجا کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر کہا: ”تم کسی اونچے خاندان کے معلوم ہوتے ہو۔ قسمت کے مارے ہو جو یہاں کام کرنے چلے آئے۔ یہ لو، دو سکے جو تم نے کڑی محنت سے کمائے ہیں، جاکر اپنا اور اپنی بیوی کا پیٹ بھرو۔“
را جا بہت خوش ہوا۔ دو سکے لے کر رانی کے ساتھ آگے چل دیا۔ تھوڑی دور جا کر انھیں لہلہاتے کھیت ملے۔ وہاں کچھ عورتیں کام کر رہی تھیں۔ رانی نے کہا: ”مہاراج! میں وہاں کام ڈھونڈتی ہوں۔ کام ضرور مل جائے گا۔“
رانی ان عورتوں کے پاس گئی اور اس نے کہا: ” مجھے کچھ کام دے دیجیے۔
عورتوں نے رانی کو کام دے دیا۔ رانی کھیتوں کی کٹائی کرنے لگی۔ کچھ ہی دیر میں وہ پسینے سے تر بتر ہو گئی اور ہانپنے لگی۔ اب راجا سے نہ رہا گیا۔ وہ رانی کی مدد کرنے کے لیے دوڑ پڑا کسی طرح دونوں نے شام تک مزدوری کر کے چار سکے کمالیے اور خوشی خوشی اپنے محل کی طرف چل پڑے۔
رانی نے کہا: ” دیکھا مہاراج! یہ لوگ کتنی محنت کرتے ہیں، تب کہیں جاکر انھیں دو وقت کا کھانا نصیب ہوتا ہے۔“
را جا مسکرانے لگا اور کہا: ” اب ہمیں بھی اسی طرح محنت کرنی چاہیے۔“
وہ محل میں پہنچے تو برہمن کو وہاں موجود پایا۔ برہمن نے را جارانی کو اس حلیے میں دیکھا تو حیران رہ گیا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: ” دھنیہ ہے یہ راجا جس نے اپنے وچن کی لاج رکھنے کے لیے مزدوری کرنے میں بھی شرم نہیں کی۔“
راجا اور رانی نے برہمن کو دیکھا۔ وہ خوشی خوشی اس کے پاس آئے اور بولے : ” یہ لیجیے مہاراج! ہماری محنت کی کمائی۔ آپ محنت کی کمائی نہ مانگتے تو ہمیں رعایا کی صحیح حالت کیسے پتا چلتی ۔ اب ہمیں معلوم ہو گیا کہ محنت کی کمائی کسے کہتے ہیں؟ ہم سب کو اپنی محنت سے کمائی روٹی ہی کھانی چاہیے۔“
را جا بہت خوش ہوا۔ دو سکے لے کر رانی کے ساتھ آگے چل دیا۔ تھوڑی دور جا کر انھیں لہلہاتے کھیت ملے۔ وہاں کچھ عورتیں کام کر رہی تھیں۔ رانی نے کہا: ”مہاراج! میں وہاں کام ڈھونڈتی ہوں۔ کام ضرور مل جائے گا۔“
رانی ان عورتوں کے پاس گئی اور اس نے کہا: ” مجھے کچھ کام دے دیجیے۔
عورتوں نے رانی کو کام دے دیا۔ رانی کھیتوں کی کٹائی کرنے لگی۔ کچھ ہی دیر میں وہ پسینے سے تر بتر ہو گئی اور ہانپنے لگی۔ اب راجا سے نہ رہا گیا۔ وہ رانی کی مدد کرنے کے لیے دوڑ پڑا کسی طرح دونوں نے شام تک مزدوری کر کے چار سکے کمالیے اور خوشی خوشی اپنے محل کی طرف چل پڑے۔
رانی نے کہا: ” دیکھا مہاراج! یہ لوگ کتنی محنت کرتے ہیں، تب کہیں جاکر انھیں دو وقت کا کھانا نصیب ہوتا ہے۔“
را جا مسکرانے لگا اور کہا: ” اب ہمیں بھی اسی طرح محنت کرنی چاہیے۔“
وہ محل میں پہنچے تو برہمن کو وہاں موجود پایا۔ برہمن نے را جارانی کو اس حلیے میں دیکھا تو حیران رہ گیا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: ” دھنیہ ہے یہ راجا جس نے اپنے وچن کی لاج رکھنے کے لیے مزدوری کرنے میں بھی شرم نہیں کی۔“
راجا اور رانی نے برہمن کو دیکھا۔ وہ خوشی خوشی اس کے پاس آئے اور بولے : ” یہ لیجیے مہاراج! ہماری محنت کی کمائی۔ آپ محنت کی کمائی نہ مانگتے تو ہمیں رعایا کی صحیح حالت کیسے پتا چلتی ۔ اب ہمیں معلوم ہو گیا کہ محنت کی کمائی کسے کہتے ہیں؟ ہم سب کو اپنی محنت سے کمائی روٹی ہی کھانی چاہیے۔“

برہمن نے سکے لے لیے۔ گھر آکر اپنی بیوی کے ہاتھوں پر سکے رکھتے ہوئے کہا : ”لو راجا کا دھن۔“
بیوی نے غصے سے کہا: ” کیا تم نے راجا سے اتنا ہی دھن مانگا تھا، جو دو دن بعد لے کر چلے آرہے ہو ؟“ برہمن نے اپنی بیوی کو ساری بات بتائی۔ سن کر اُس کی آنکھیں بھر آئیں۔ اُس نے سنتے سنبھال کر رکھ لیے اور کہا: ”اب ہم بھی محنت کی کمائی سے ہی اپنا پیٹ بھریں گے۔“
بیوی نے غصے سے کہا: ” کیا تم نے راجا سے اتنا ہی دھن مانگا تھا، جو دو دن بعد لے کر چلے آرہے ہو ؟“ برہمن نے اپنی بیوی کو ساری بات بتائی۔ سن کر اُس کی آنکھیں بھر آئیں۔ اُس نے سنتے سنبھال کر رکھ لیے اور کہا: ”اب ہم بھی محنت کی کمائی سے ہی اپنا پیٹ بھریں گے۔“
-مدھو مالتی جین
مشق
پڑھیے اور سمجھیے
عالم ↔ علم والا، معلومات رکھنے والا
سخی ↔ سخاوت کرنے والا، بڑے دل والا
رعايا ↔ عوام، عام لوگ
خون پسینے کی کمائی ↔ کڑی محنت کی کمائی
رہائشی ↔ رہنے کی جگہ
سوچیے اور بتائیے
1. راجا کیسا انسان تھا ؟
-----------------------------------------
-----------------------------------------
2. برہمن نے راجا سے کون سی چیز مانگی؟
-----------------------------------------
-----------------------------------------
3. راجا اور رانی نے برہمن کو چار سکے دینے کے لیے کیا کیا؟
-----------------------------------------
-----------------------------------------
4. مزدوروں کی بستی میں راجا اور رانی نے کیا دیکھا؟
-----------------------------------------
-----------------------------------------
5. برہمن نے راجا سے بے شمار دولت کے بجائے چار سکے کیوں مانگے؟
-----------------------------------------
-----------------------------------------
نیچے دیے گئے لفظوں کے متضاد لکھیے
| لفظ | زیادہ | امیر | خوش | سوکھی | صبح | آسمان |
| متضاد |
درج ذیل خالی جگہوں میں مناسب لفظ لکھیے
●راجا کا خزانہ -----------کا خزانہ ہوتا ہے۔
●مجھے تو صرف آپ کی محنت کی کمائی کے-------------
چاہیے۔
●
میرے خزانے میں---------------
دولت بھری پڑی ہے۔
●رانی نے-------------- سی ساڑی پہن رکھی تھی۔
●تم کسی اونچے-------------- کے لگتے ہو۔
●اب ہم بھی محنت کی--------------
سے ہی اپنا پیٹ بھریں گے۔
درج ذیل لفظوں کے مذکر کی مؤنث اور مؤنث کے مذکر لکھیے
| مذکر | راجا | شوہر | |||
| مؤنث | پرانی | عورت | بیوی |
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
●اس سبق میں آپ نے ایک لفظ ٹھیکے دار پڑھا ہے۔ یہ لفظ دو لفظوں سے مل کر بنا ہے۔ ٹھیکے + دار جس کے معنی ہیں 'کسی کام کو اپنے ذمے لینے والا 'ذیل کے الفاظ میں دار لفظ جوڑ کر نیا لفظ بنائیے اور معنی لکھیے
| الفاظ | معنی |
درج ذیل محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے
| محاورے | معنی | جملے |
| خون پسینے کی کمائی ہونا | بہت محنت کی کمائی ہونا | |
| ایک نہ سننا | بالکل نہ سننا | |
| باغ باغ ہونا | بہت خوش ہونا | |
| لاج رکھنا | عزت رکھنا | |
| آنکھ بھر آنا | رونا، آنکھ میں آنسو آجانا |
کیجیے
●آپ موسم کے لحاظ سے کون سا لباس پہنتے ہیں؟ ہر موسم کے لباس کے بارے میں چند جملے لکھیے
------------------------------------------------------------------
---------------------------------
---------------------------------
---------------------------------
●محنت کرنے کی اہمیت پر پانچ جملے لکھیے
------------------------------------------------------------------
---------------------------------
---------------------------------
---------------------------------
● گلک اور سکوں کی آؤٹ لائن میں رنگ بھر لیے
●آپ نے کئی طرح کے سکے دیکھے ہوں گے۔ دو طرح کے سکوں کی تصویر بنائیے/چسپاں کیجیے۔
ملا نصر الدین کا قصہ
ایک بار ملا نصر الدین کھانا کھانے گئے تو دکان دار ایک غریب آدمی سے لڑ رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ ” تم اس طرف لیٹے ہوئے تھے جس طرف میرے کھانوں کی خوش بو آتی ہے، اس لیے تمھیں پیسے دینے ہوں گے۔“
غریب آدمی گڑ گڑا رہا تھا لیکن دکان دار ماننے کو تیار نہیں تھا۔ نصر الدین نے دخل اندازی کرتے ہوئے دکان دار سے کہا: ” وہ اس غریب کی طرف سے رقم ادا کریں گے۔ “ دکان دار مان گیا۔ نصر الدین نے چند سکے اپنی ہتھیلی پر رکھے، دونوں ہاتھ بند کیے اور ان کو دکان دار کے پاس لے جاکر بجانے لگے۔ اس کے بعد بولے : ”حساب برابر ہو گیا۔ “ دوکان دار نے حیرت سے دیکھا تو ملا نصر الدین نے کہا: ” اس نے تمھارے کھانے کی خوش بو سونگھی اور تم نے بدلے میں سکوں کی کھنک سن لی۔ “ سب لوگ ہنسنے لگے۔ دکان دار شرمندہ ہو گیا۔
اساتذہ کے لیے ہدایات
●محنت کر کے کھانے کمانے کے طریقوں اور منصوبوں پر بچوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کروایا جا سکتا ہے۔
●محنت کی کمائی کفایت سے خرچ کرنے پر مباحثہ منعقد کرایا جاسکتا ہے۔
●بچت کرنے کے طریقوں اور اسے محفوظ رکھنے کے متبادل طریقوں کی ایک فہرست تیار کرائی جا سکتی ہے۔
●قدیم زمانے سے اب تک سکوں سے متعلق ایک ویڈیو دکھایا جا سکتا ہے۔