صرف پڑھنے کے لیے
ٹوپی والا اور بندر
بہت دنوں کی بات ہے، ایک راجو نام کا آدمی رہتا تھا۔ وہ گاؤں اور چھوٹے بڑے شہروں میں گھوم گھوم کر رنگ برنگی ٹوپیاں بیچا کرتا تھا۔
اُسے بہت غصہ آیا ۔ غصے میں وہ بندروں پر
بہت چیخا چلا یا مگر بندروں نے بھی اس کی
نقل اُتارتے ہوئے زور زور سے
'خوں خاں 'کرنا اور شروع کر دیا۔
اس پر راجو کو ایک ترکیب سوجھی۔
اس نے ایک ٹوپی اپنے سر پر رکھ لیں ۔
پیڑ پر سارے بندروں نے بھی
ٹوپیاں سر پر رکھ لیں۔
پھر راجو نے اپنی ٹوپی اتار
کر زمین پر پھینک دی۔
فوراً بندروں نے بھی اپنی ٹوپیاں اتار اتار کر زمین پر پھینک دیں۔ راجو نے جلدی جلدی اپنی ٹوپیاں سمیٹیں اور انھیں ٹوکری میں رکھ کر اس نئے شہر کی طرف چل پڑا۔
ایک دن کسی نئے شہر پہنچنے
کے لیے ایک جنگل پار کرتے
کرتے وہ بہت تھک گیا۔ اس
نے سوچا کہ ایک بڑے سے
پیڑ کی چھاؤں میں لیٹ کر کچھ
دیر آرام کر لیں۔
اس نے ٹوپیوں کی ٹوکری
پیڑ کے نیچے رکھی اور سو گیا۔
کے لیے ایک جنگل پار کرتے
کرتے وہ بہت تھک گیا۔ اس
نے سوچا کہ ایک بڑے سے
پیڑ کی چھاؤں میں لیٹ کر کچھ
دیر آرام کر لیں۔
اس نے ٹوپیوں کی ٹوکری
پیڑ کے نیچے رکھی اور سو گیا۔
اس پیڑ پر بندروں کا ایک بہت
بڑا غول رہا کرتا تھا۔ جلدی جلدی
سارے بندر پیڑ سے نیچے اتر آئے
اور رنگ برنگی ٹوپیوں سے کھیلنے لگے-
ان کے شور سے راجو کی آنکھ کھل
گئی۔ بندر فوراً ساری ٹوپیاں لے کر
پیڑ پر چڑھ گئے۔ راجو نے دیکھا کہ
ذراسی دیر میں اس کی ساری ٹوپیاں
غائب ہو گئیں۔
بڑا غول رہا کرتا تھا۔ جلدی جلدی
سارے بندر پیڑ سے نیچے اتر آئے
اور رنگ برنگی ٹوپیوں سے کھیلنے لگے-
ان کے شور سے راجو کی آنکھ کھل
گئی۔ بندر فوراً ساری ٹوپیاں لے کر
پیڑ پر چڑھ گئے۔ راجو نے دیکھا کہ
ذراسی دیر میں اس کی ساری ٹوپیاں
غائب ہو گئیں۔
اُسے بہت غصہ آیا ۔ غصے میں وہ بندروں پر بہت چیخا چلا یا مگر بندروں نے بھی اس کی
نقل اُتارتے ہوئے زور زور سے
'خوں خاں 'کرنا اور شروع کر دیا۔
اس پر راجو کو ایک ترکیب سوجھی۔
اس نے ایک ٹوپی اپنے سر پر رکھ لیں ۔
پیڑ پر سارے بندروں نے بھی
ٹوپیاں سر پر رکھ لیں۔
پھر راجو نے اپنی ٹوپی اتار
کر زمین پر پھینک دی۔
-پنچ تنتر سے ماخوذ