باب 2
جانداروں کی دنیا میں تنوع
(Diversity in the Living World)
छायामन्यस्य कुर्वन्ति तिष्ठन्ति स्वयमातपे ।
फलान्यपि परार्थाय वृक्षाः सत्पुरुषा इव ॥
(सुभाषित)
درخت دھوپ میں کھڑے رہ کر دوسروں کو سایہ دیتے ہیں۔ ان کے پھل بھی دوسروں کے لیے ہوتے ہیں۔ اسی طرح اچھے لوگ بھی ہم شکل کو برداشت کرتے ہیں اور دوسروں کا بھلا کرتے ہیں۔ وہ اپنی کمائی دوسروں پر خرچ کرتے ہیں۔
(دانشورانه قول)
کل کی تازگی بخش بارش کے بعد آج کی صبح خوش گوار ہے۔ ڈاکٹر رگھو اور منی رام چاچا کو سائنس ٹیچر ، میڈم سُلیکھا نے فطرت کی سیر کا اہتمام کرنے کے لیے اسکول میں مدعو کیا۔ ڈاکٹر رگھو نزدیک کی ریسرچ تجربہ گاہ میں
سائنس داں ہیں اور منی رام چاچا قریب کی بستی سے تعلق رکھنے والے بزرگ شخص ہیں منی رام چاچا پرندوں کی آوازوں کی نقل کرنے میں ماہر ہیں۔ وہ مختلف قسم کے پودوں اور جانوروں کی شناخت میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ فطرت کی سیر کی تیاری کے لیے ڈاکٹر رگھو نے طلبا کو بتایا کہ اس سیر کا مقصد فطرت میں موجود پودوں اور جانوروں کی خوبصورتی اور مختلف اقسام کا تجربہ کرنا ہے طلبا ان کے ساتھ شامل ہونے کے لیے پر جوش ہیں۔ وہ ان دونوں سے بات چیت کرنے اور سیکھنے کے شوقین ہیں۔ ٹیچر نے تمام طلبا کو کاپی، قلم اور پانی کی بوتل ساتھ رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔
اپنی سیر کے دوران وہ بھی اپنے ارد گرد کے پودوں اور جانوروں کی چھان بین شروع کر دیتے ہیں۔ ڈاکٹر رگھو نے طلبا کو درجہ حرارت کا اندازہ لگانے اور پارک میں طرح طرح کی خوشبوئیں محسوس کرنے کا مشورہ دیا۔ وہ تمام جانداروں کا احترام کرنے اور انھیں پریشان کیے بغیر ان کا مشاہدہ کرنے پر زور دیتے ہیں۔ منی رام چا چا طلبا سے کہتے ہیں کہ وہ نہ صرف مختلف پودوں اور جانوروں کا مشاہدہ کریں بلکہ مختلف آوازیں بھی نہیں۔ طلبا مختلف قسم کے پودوں کی چھان بین کرتے ہیں، جن میں گھاس ، جھاڑیاں اور بڑے درخت بھی شامل ہیں۔ وہ درختوں کی شاخوں پر بیٹھے مختلف پرندوں، ایک پھول سے دوسرے پھول تک جاتی ہوئی تتلیوں، ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگ لگاتے بندروں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ وہ ڈائریوں میں اپنے مشاہدات درج کرتے ہیں اور ڈاکٹر رگھو اور منی رام چاچا کے ساتھ ان پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔
فطرت کی سیر کے دوارن، بچے پرندوں کی چہچہاہٹ سنتے ہیں۔ ڈاکٹر رگھو نے انہیں بتایا کہ ہر پرندے کی اپنی منفرد چہچہاہٹ ہوتی ہے۔ یہ فطرت میں تنوع کی ایک مثال ہے۔ ڈاکٹر رگھومنی رام چاچا سے کچھ پرندوں کی آوازوں کی نقل کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ طلبا بھی جوش سے ان کے ساتھ آوازوں کی نقل کرنے لگتے ہیں۔
کیا آپ نے کبھی اپنے ارد گرد مختلف پودوں اور جانوروں کا مشاہدہ کیا ہے؟ اپنے مشاہدات میں اپنے دوستوں کو شریک کریں اور اپنے ٹیچر کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں۔
2.1 ہمارے اردگرد پودوں اور جانوروں میں تنوع
سرگرمی 2.1: آئیے چھان بین اور درج کریں
- فطرت کی سیر کے لیے اپنے استاد کے ساتھ کسی پارک یا قریبی جنگل جانے کا منصوبہ بنائیں۔
- فطرت کی سیر کے دوران مختلف پودوں، کیڑے مکوڑوں، پرندوں اور دیگر جانوروں کا مشاہدہ کیجیے۔ اس کے علاوہ، موسم کے حالات جیسے گرم، سرد اور تیز ہو او غیرہ پر بھی توجہ دیں۔
- آپ مختلف اقسام کی گری ہوئی پتیوں یا پھولوں کو جمع کر کے اسکریپ بک تشکیل دے سکتے ہیں۔
- قدرتی ماحول میں موجود پودوں اور جانوروں کی دیکھ بھال کریں۔ ان کو پریشان نہ کریں اور پارک میں پودوں اور جانوروں کو نہ چھونے کو یقینی بنائیں۔ پتیاں اور پھول نہ توڑیں۔
- مختلف پودوں، تنوں، پتیوں، پھولوں اور کسی بھی دلچسپ چیز کی خصوصیات کے بارے میں اپنے مشاہدات جدول 2.1 میں درج کیجیے۔ (شکل 2.1 ، جدول (2.1) میں چند مثالیں آپ کے لیے دی گئی ہیں۔
جدول 2.1 : ہمارے اطراف میں موجود مختلف پودوں کے مشاہدات کی منفر د خصوصیات
| نمبر شمار | پودے کا مقامی نام | تنا | پتیاں ( شکل اپتیوں کی ترتیب) | پھول | دیگر مشاہدات اور خصوصیات |
|---|---|---|---|---|---|
| 1. | عام گھاس | نرم اور پتلا | ایک ہی پتی تنے کے مختلف مقامات سے متبادل طور پرنکلتی ہے | ہری پتیاں | |
| 2. | تلسی | سخت اور پتلا | پتیوں کے ایک جوڑے کی ترتیب مخالف سمت میں ہوتی ہے۔ | گلابی جامنی | |
| 3. | گڑھل | سخت | |||
| 4. | نیم | سخت اور موٹا | چکنی سطح والی پیتیاں | ||
| 5. | کوئی دیگر |
آپ نے جن پودوں کا مشاہدہ کیا ان میں آپ کیا مماثلت اور فرق پاتے ہیں؟
آپ نے یہ ضرور مشاہدہ کیا ہو گا کہ پودوں میں مختلف خصوصیات پائی جاتی ہیں، جیسے
- لمبا چھوٹا، سخت / ملائم تنا
- مختلف شکل کی پتیاں اور تنے یا شاخوں پر ان کی ترتیب
- مختلف رنگ ، شکل اور خوشبو والے پھل
اب آپ اس سیر کے دوران کیے گئے مشاہدات یا اپنے سابقہ تجربات کی بنیاد پر جانوروں کی فہرست تشکیل دیں۔ ان کے رہنے کی جگہ ، ان کی غذا اور حرکتوں کے اقسام کو جدول 2.2 میں درج کریں۔ چند مثالیں آپ کے لیے دی گئی ہیں۔
جدول 2.2 : ہمارے اطراف میں موجود جانوروں کے مشاہدات
| جانوروں کے نام (مقامی نام) | ان کے رہنے کی جگہ | غذا | ان کی نقل و حرکت کا طریقہ | دیگر مشاہدات اور خصوصیات |
|---|---|---|---|---|
| کوا | درخت | کیڑے مکوڑے | اڑتے اور چلتے ہیں | اپنی چونچ میں ٹہنی اٹھاتا ہے |
| چیونٹی | مٹی میں بنائے گئے گھونسلے اور بل | پتیاں ، پیچ اور کیڑے مکوڑے | اس کے چھ پیر ہوتے ہیں | |
| گائے | گھاس ، پتیاں | |||
| کوئی دیگر |
آپ نے جدول 2.2 میں جن جانوروں کا مشاہدہ کیا، ان میں کیا یکسانیت اور فرق ہے ؟
آپ نے مشاہدہ کیا ہو گا کہ کچھ جانور زمین پر رہتے ہیں اور کچھ درختوں پر ۔ پرندے درختوں پر رہتے ہیں۔ مچھلیاں پانی میں رہتی ہیں اور کچھ جانور جیسے مینڈک زمین اور پانی دونوں میں رہتے ہیں۔ جانوروں کی غذا اور حرکت کی اقسام میں بھی تنوع پایا جاتا ہے۔
آپ اپنی نوٹ بک میں مشاہدہ کردہ پودوں اور جانوروں کا خاکہ بنائیے یا مختلف پودوں کی پتیوں اور پھولوں اور جانوروں کے پروں سے اسکریپ بک تیار کیجیے جس میں اُن سے متعلق جمع کی گئی تمام تفصیلات لکھیے۔
اسکول سے جاتے اور واپس آتے ہوئے اپنے آس پاس کے مختلف قسم کے پودوں اور جانوروں کا مشاہدہ کیجیے کسی پودے یا جانور کا نام جو آپ نے پہلے جدول 2.1 اور 2.2 میں درج نہیں کیا ہے اس میں شامل کیجیے۔
سرگرمی 2.2: آیئے لطف لیں
- 30 سیکنڈ کے لیے اپنی آنکھیں بند کیجیے اور کسی ایک پودے اور جانور کے بارے میں سوچیے جسے آپ نے قریب یب سے دیکھا اور سراہا ہے۔
- اب آپ میں سے ہر ایک اس پودے اور جانور کی تصویر بلیک بورڈ پر بنا سکتا ہے جس کے بارے میں آپ نے سوچا ہے۔
- جن پودوں اور جانوروں کے خاکے آپ نے بنائے ہیں ان کے بارے میں آپ کے کیا مشاہدات ہیں؟
- بلیک بورڈ پر پوری کلاس نے مختلف قسم کے پودوں اور جانوروں کی کتنی تصویریں بنائیں؟
- کیا آپ کو لگتا ہے کہ بلیک بورڈ پر بنائے گئے پودوں اور جانوروں کے علاوہ ان کی اور بھی بہت سی قسمیں ہو سکتی ہیں؟
کسی خاص جگہ پر پائے جانے والے پودوں اور جانوروں کی اقسام اس جگہ کے حیاتی تنوع (biodiversity) میں اہم کردار کرتی ہیں کسی جگہ کے حیاتی تنوع میں ہر رکن کا مختلف کردار ہوتا ہے مثلاً درخت، بعض پرندوں اور دوسرے جانوروں کو خوراک اور پناہ گاہ فراہم کرتے ہیں۔ جانور ، پھل کھانے کے بعد بیجوں کو منتشر کرنے میں مدد کرتے ہیں، وغیرہ۔ آپ اس طرح کی دیگر مثالیں سوچ سکتے ہیں؟ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پودے اور جانور ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔
2.2 پودوں اور جانوروں کی زمرہ بندی کیسے کریں؟
آپ اپنی کتابوں اور کاپیوں کو زمروں یا گروپوں میں کیسے ترتیب دیں گے؟ کیا انہیں زمروں میں ترتیب دینے سے آپ کو اپنا اسکول بیگ منظم کرنے میں مدد ملے گی؟
آئیے ہم اپنے اطراف کی دنیا کو دیکھیں۔ ہمارے ارد گرد مختلف خصوصیات والے پودے اور جانوروں کی الگ الگ قسمیں موجود ہیں جن کے متعلق آپ نے جدول 2.1 میں پڑھا۔ ہم ان کی زمرہ بندی ان کے درمیان یکسانیت اور فرق کی بنیاد پر کر سکتے ہیں۔
سرگرمی 2.3: آیئے زمرہ بندی کریں
- مختلف دیگر پودوں اور جانوروں کی تصویریں جمع کیجیے۔ آپ ان کی تصویریں پرانے رسالوں، اخبارات، چارٹ اور دیگر ذرائع سے جمع کر سکتے ہیں۔ ان میں سے ہر تصویر کو مختلف کارڈ پر چسپاں کیجیے۔
- اپنی کلاس میں 5-6 طلبا پر مشتمل گروپ بنائیے۔
- اپنے گروپ کے تمام طلبا کے تیار کردہ کارڈ جمع کیجیے۔
- کارڈ پر دکھائے گئے تمام پودوں اور جانوروں کی مختلف خصوصیات کا مشاہدہ کیجیے۔
- جدول 2.1 اور 2.2 میں شامل پودوں اور جانوروں کی خصوصیات یاد کیجیے۔
- مشترک خصوصیات کی بنیاد پر ان کی زمرہ بندی کیجیے۔
- آپ نے جو زمرہ بندی کی ہے اس کی بنیاد پر اپنی کلاس کے دوسرے گروپوں کو شریک کیجیے۔
آپ کو یہ دیکھ کر حیرانی ہوگی کہ مختلف گروپوں کی اختیار کردہ زمرہ بندی کی بنیاد الگ الگ ہو سکتی ہے۔ آپ کے خیال میں اس کی کیا وجوہات ہیں؟ مختلف طلبا نے زمرہ بندی کے لیے الگ الگ مشترک خصوصیات کا انتخاب کیا ہو گا۔ مثال کے طور پر ، ہو سکتا ہے کہ کچھ طلبا نے پودوں کی اونچائی کو زمرہ بندی کی بنیاد کے طور پر منتخب کیا ہو جب کہ دوسروں نے پودوں میں پھولوں کی موجودگی یا غیر موجودگی کو زمرہ بندی کی بنیاد بنایا ہو ( دیکھیے شکل 2.2)۔
پھولوں کی موجودگی غیر موجودگی
سخت املائم تنا
غذائی عادات
جگہ جہاں وہ رہتے ہیں
آپ نے جانوروں کی زمرہ بندی ان کی مختلف خصوصیات کی بنیاد پر کی ہو گی جیسے وہ کیا کھاتے ہیں، کہاں رہتے ہیں، ان کا رنگ کیا ہے اور وہ کیسے نقل و حرکت کرتے ہیں؟
زمرہ بندی کی کیا اہمیت ہے ؟ زمرہ بندی پودوں اور جانوروں میں یکسانیت اور فرق کی بنیاد پر کی جاتی ہے جو اُنھیں سمجھنے اور ان کے مطالعے کو آسان بناتی ہے۔
آپ روز مرہ کی زندگی میں زمرہ بندی کی اہمیت کے حوالے سے باب ”ہمارے ارد گرد کی اشیاء میں مزید جانیں گے۔
2.2.1 پودوں کی زمرہ بندی کیسے کریں؟
آپ نے ضرور دیکھا ہو گا کہ پودوں کے تنے، پتیوں، پھولوں وغیرہ کی خصوصیات میں فرق ہوتا ہے۔ مختلف پودوں کے تنے موٹائی، اونچائی اور ٹھوس پن میں الگ الگ ہوتے ہیں جبکہ پتیاں شکل، رنگ، سائز اور ترتیب میں مختلف ہوتی ہیں۔ آپ نے سابقہ سرگرمی 2.3 میں پودوں کی کسی ایک خصوصیت کی بنیاد پر ان کی زمرہ بندی کی کوشش بھی کی ہوگی۔
آپ نے پچھلی کلاسوں میں یہ بھی سیکھا ہو گا کہ پودوں کی زمرہ بندی ان کی اونچائی اور تنوں کی قسم کی بنیاد پر بوٹیوں، جھاڑیوں اور درختوں میں کی جاسکتی ہے۔ آئیے ہم پودوں کی خصوصیات کا مزید تفصیل سے مطالعہ کریں اور اسی بنیاد پر ان کی زمرہ بندی کریں۔
سرگرمی 2.4: آیئے زمرہ بندی کریں
- آئیے ایک بار پھر کچھ دلچسپ مشاہدوں کے لیے فطرت کی سیر کریں۔
- مختلف پودوں کی اونچائی کو قریب سے دیکھیے۔ کیا یہ پودے آپ سے چھوٹے ہیں، آپ کے برابر اونچے ہیں یا آپ سے بہت اونچے ہیں؟
- کیا تنا بھورا یا سبز رنگ کا ہے ؟ ان کے تنوں کو چھوئیں اور محسوس کریں اور انھیں احتیاط سے موڑنے کی کوشش کریں۔ کیا آپ تنے کو آسانی سے موڑ سکتے ہیں، یا یہ سخت ہے؟ اس کا خیال رکھیں کہ تنے ٹوٹ نہ جائیں۔
جدول 2.3: تنے کی اونچائی اور نوعیت کی بنیاد پر پودوں کی زمرہ بندی
|
نمبر شمار |
پودے کا نام |
اونچائی |
تنے کی نوعیت |
شاخوں کی شکل |
پودے کے زمرے کا نام |
|||
|
چھوٹا / درمیانہ/ لمبا |
سبز / بھورا |
ملائم /سخت |
موٹا /پتلا |
زمین سے نزدیک |
تنے سے اونچائی پر |
|||
|
1. |
آم |
لمبا |
بھورا |
سخت |
موٹا |
ہاں |
درخت |
|
|
2. |
گلاب |
درمیانی |
بھورا |
سخت |
پتلا |
ہاں |
جھاڑی |
|
|
3. |
ٹماٹر |
چھوٹا |
سبز |
ملائم |
پتلا |
ہاں |
بوٹی |
|
اس کے علاوہ یہ بھی دیکھیں کہ پودوں کی شاخیں کہاں سے نکلتی ہیں۔ کیا وہ زمین کے قریب سے نکلتی ہیں یا پھر تنے سے اونچائی پر نکتی ہیں۔ اپنے مشاہدات کو جدول 2.3 میں لکھیں۔ کچھ مثالیں پہلے سے دی ہوئی ہیں۔ بوٹیوں، جھاڑیوں اور درختوں کے درمیان آپ کو کیا فرق نظر آتا ہے؟ جدول 2.3 میں درج شدہ معلومات کی بنیاد پر آپ پودوں کی زمرہ بندی بوٹیوں، جھاڑیوں اور درختوں میں کیسے کریں گے؟
کچھ پودے واقعی بہت لمبے اور ان کے تنے سخت، موٹے، بھورے اور چوبی ہوتے ہیں۔ ان کی شاخیں عام طور پر زمین سے دور اونچائی سے
شروع ہوتی ہیں۔ ان پیڑوں کو درخت کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر آم کا درخت (شکل 2.3)۔ بعض پودوں کے تنے درختوں کے تنوں جیسے لمبے نہیں ہوتے ہیں۔ ان پودوں میں اکثر کئی بھورے مائل لکڑی کے تنے ہوتے ہیں جن کی شاخیں زمین کے قریب سے ہی نکلنے لگتی ہیں۔ یہ تنے سے نے سخت ہوتے ہیں لیکن درخت کے تنوں کی طرح بہت موٹے نہیں ہوتے۔ ان پودوں کو جھاڑیاں (shrubs) کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر گلاب کا پودا (شکل 2.3)۔
کچھ پودے خاص طور سے سائز میں چھوٹے ہوتے ہیں اور ان کے تنے نرم اور سبز ہوتے ہیں۔ انھیں بوٹیاں (herbs) کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر ٹماٹر کا پودا (شکل 2.3)۔
کمزور تنوں والے بعض پودوں کو چڑھنے اور نشوونما کے لیے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انھیں چڑھنے والے پودے (climbers) کہتے ہیں بعض پودے زمین کے سہارے رینگ کر پھیلتے ہیں اور انھیں پھیلنے والے پودے (creepers) کہا جاتا ہے۔
آپ کے خیال میں پودوں کی زمرہ بندی کے لیے دیگر خصوصیات کیا ہوسکتی ہیں۔ آئیے دوسری سرگرمی انجام دیں۔
سرگرمی 2.5: آئیے موازنہ کریں
- فطرت کی سیر کے دوران جو مختلف پودے آپ نے جمع کیے ہیں ان کی پتیوں پر نظر ڈالیے۔
- کیا آپ کو ان پتیوں کی شکل اور ان کی ساخت میں کوئی فرق دکھائی دیتا ہے؟
آپ پودوں کی پتیوں پر پتلی لکیریں دیکھ سکتے ہیں (شکل 2.42)۔ یہ رگیں (veins) ہیں۔ رگوں میں نظر آنے والے نمونے کو برگی ترتیب (venation) کہتے ہیں۔ شکل 2.42 اور شکل 2.40 میں دکھائی گئی پتیوں کی رگوں میں آپ کس طرح کے فرق دیکھتے ہیں؟
- (a) جالی دار برگی ترتیب والی
- گڑھل کی پتی
- (b) متوازی برگی ترتیب
- (c) متوازی برگی ترتیب والی گھاس کی پتی والا کیلے کا پتا
بعض پتیوں میں موٹی درمیانی رگ کے دونوں کناروں پر آپ رگوں کا ایک جال نما نمونہ دیکھ سکتے ہیں۔ اس نمونے کو جالی دار برگی ترتیب (reticulate venation) کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر گڑھل کی پتیاں
(شکل 2.42) جالی دار برگی ترتیب کو ظاہر کرتی ہیں۔ کچھ پتیوں میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ رگیں ایک دوسرے کے متوازی چل رہی ہیں۔ اس نمونے کو متوازی برگی ترتیب (parallel venation) کہتے ہیں۔ مثال کے طور و پر کیلے کے پتوں اور گھاسوں میں متوازی برگی ترتیب نظر آتی ہے۔ (شکل 2.4 اور 2.4 )۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پودوں کی زمرہ بندی اُن کی پتیوں میں موجود برگی ترتیب کی بنیاد پر کی جاسکتی ہے؟ آئیے اب ہم پودوں کی جڑوں کا پتہ لگانے کی کوشش کریں۔
سرگرمی 2.6: آئیے جائیں
- کسی کھلے علاقے میں جائیں جہاں جنگلی بوٹیاں اور گھاس اگ رہی ہو۔ آپ اس مشق کے لیے مختصر بوٹیوں کا استعمال کر سکتے ہیں۔
- ایک کھرپی لے کر چند مختلف بوٹیاں احتیاط سے جڑوں کو نقصان پہنچائے بغیر کھو دیے۔ ایسا کرنے کے لیے آپ مٹی کو بھگو کر اُسے ڈھیلی کر سکتے ہیں۔
- جڑ کو پانی سے دھوئیے اور ان کا مشاہدہ کیجیے۔
- جب آپ مشاہدہ کر چکیں تو جھاڑیوں کو دوبارہ لگانا یقینی بنائیں تا کہ اُن کی نشو و نما جاری رہے۔
اپنے جمع کیے گئے پودوں کی جڑوں میں آپ کون سی مماثلتیں اور اختلا کون سی مماثلتیں اور اختلافات دیکھتے ہیں؟ شکل 2.5 اور شکل 2.5 میں دکھائی گئی پودوں کی جڑوں میں آپ کو کس طرح کے اختلافات نظر آتے ہیں؟ شکل 2.5 میں سرسوں کے پودے کی جڑوں کو غور سے دیکھیے۔ اس پودے کی جڑوں میں ایک اصل جڑ ہے جس سے چھوٹی بغلی جڑیں نکلتی ہیں۔ ایسی جڑوں کونل دار جڑیں (taproots) کہتے ہیں۔ نل دار جڑ والے پودے کی ایک اور مثال گڑھل ہے جس کا مشاہدہ آپ نے سرگرمی 2.1 میں کیا شکل 2.5 میں دیا گیا پود اعام گھاس کا پودا ہے۔ اس پودے کی جڑیں یکساں سائز کی پہلی جڑوں کی طرح نظر آتی ہیں جو تنے کی بنیاد سے نکل رہی ہیں۔ اس طرح کی جڑوں کو ریشہ دار جڑیں (fibrous roots) کہتے ہیں (شکل 2.5 ۔ کیا آپ کے مجموعے میں کوئی اور گھاس شامل ہے ؟ ان میں کس طرح کی جڑیں ہیں؟ کیا ایک ہی پودے میں برگی ترتیب کی قسم اور اس کی جڑ کی قسم کے درمیان کوئی تعلق ہے؟ ہم یہ کیسے جانیں گے؟
سرگرمی 2.7: آئیے چیزوں کے درمیان تعلق قائم کریں اور تجزیہ کریں
- اپنے باغیچے میں دوبارہ لگانے کے لیے اسکول کی نرسری یا کسی دیگر نرسری سے عام پھول والے پودوں کی پود جمع کریں۔ اس طرح کے پودوں کی مثالیں لیمن گراس، گیندا، لی اور دیگر پھول والے پودے ہو سکتے ہیں۔
- اُنھیں لگانے سے پہلے اُن کی جڑوں اور اُن کی پتیوں میں برگی ترتیب کا مشاہدہ کر لیجیے۔
- اپنے مشاہدات جدول 2.4 میں درج کیجیے۔
جدول 2.4: پتی کی برگی ترتیب اور جڑوں کی قسمیں
کیا آپ برگی ترتیب اور جڑ کی قسموں کے درمیان کسی تعلق کا مشاہدہ کرتے ہیں؟ گیندے کے پودے میں نل دار جڑیں ہوتی ہیں اور اس کی پتیوں میں جالی دار برگی ترتیب (reticulate venation) ہوتی ہے۔ کیا جالی دار برگی ترتیب والے دیگر پودوں میں بھی نل دار جڑیں ہوتی ہیں؟ دوسری طرف لیمن گراس کے پودوں میں ریشہ دار جڑیں ہوتی ہیں اور ان کی پتیوں میں متوازی برگی ترتیب ہوتی ہے۔ کیا متوازی برگی ترتیب
والے دیگر پودوں میں بھی ریشہ دار جڑیں ہوتی ہیں؟ عموماً جالی دار برگی ترتیب والے پودوں میں نل دار جڑیں ہوتی ہیں جب کہ متوازی برگی ترتیب والے پودوں میں ریشہ دار جڑیں ہوتی ہیں۔ چنے کا پودا ( chickpea) ایسے پودے کی ایک اور مثال ہے جس میں نل دار جڑ ہوتی ہے اور جس کی پتیاں جالی دار برگی ترتیب والی ہوتی ہیں۔ گیہوں کا پودا ایسے پودے کی مثال ہے جس کی جڑیں ریشہ دار ہوتی ہیں اور جن کی پتیوں میں متوازی برگی ترتیب ہوتی ہے۔ کیا پودے کے بیج، جڑ کی قسموں اور جالی دار پتی میں کوئی تعلق ہے؟ کیا بھی بیچ ایک جیسے ہوتے ہیں؟
سرگرمی 2.8: آیئے موازنہ کریں
- چنے اور مکئی کے بیجوں کو دو یا تین دنوں کے لیے بھگو کر رکھیے۔
- بیجوں کے چھلکوں کو ہٹائے۔ چنے اور مکئی کے بیجوں کی بناوٹ کا مشاہدہ کیجیے۔ کیا وہ ایک جیسے ہیں یا مختلف ہیں؟
- (a) دو لختی بیج (چنا)
- (b) یک لختی بیج (مکئی)
آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ چنے کے بیج دو حصوں میں تقسیم ہوچکے ہیں (شکل 2.6a)۔ ہر حصے کو کوٹلڈن (cotyledon)کہتے ہیں۔ دو کوٹلڈن والے پودے(dicotyledon) دو لختی پودے (dicots)کہلاتے ہیں۔ مکئی میں صرف ایک پتلا کوٹلڈن ہوتا ہے (شکل2.6b)۔ اس طرح کے بیجوں والے پودے یک لختی(monocotyledons, monocots ) کہلاتے ہیں۔
آپ پودوں کی پتیوں کی برگی ترتیب، جڑ کی اقسام اور بیجوں میں کوٹلڈن کی مقدار کے درمیان کس طرح کا تعلق دیکھتے ہیں؟ دو یک لختی پودے جالی دار برگی ترتیب اور نل دار جڑ کے نظام والے پودے ہیں جب کہ یک لختی پودے متوازی برگی ترتیب اور ریشے دار جڑ کے نظام والے ہیں۔
آپ پودوں کی زمرہ بندی کے لیے استعمال ہونے والی کچھ خصوصیات جان چکے ہیں۔ آیئے اب ہم زیادہ تفصیل سےسمجھیں کہ جانوروں کی زمرہ بندی کیسے کی جاتی ہے؟
2.2.2 جانوروں کی زمرہ بندی کیسے کریں؟
نباتات کی طرح ہی، حیوانات نمایاں طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ ہم حیوانات کے اس وسیع تنوع کی زمرہ بندی کیسے کرسکتے ہیں؟ آپ ایسی کن خصوصیات کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جو ان کی زمرہ بندی کے لیے استعمال کی جاسکتی ہیں؟ سرگرمی 2.3 میں آپ پہلے ہی حیوانات کی زمرہ بندی کے لیے کوئی بنیاد متعین کرچکے ہیں۔ آیئے ان میں سےچند پر تبادلۂ خیال کریں۔
سرگرمی 2.9: آیئے جانیں
جدول 2.2 میں آپ نے چند جانوروں کی نقل وحرکت درج کی ہے۔ آپ نے شاید اس کا مشاہدہ بھی کیا ہوگا کہ دیگر حیوانات ایک جگہ سے دوسری جگہ کیسے جاتے ہیں۔ آیئے ہم جانوروں کی حرکت کی اقسام کو جاننے کی کوشش کریں۔ شکل 2.7 میں بہت سے حیوانات دکھائے گئے ہیں۔ آپ مزید جانوروں کا اضافہ کرکے، جن کا مشاہدہ آپ نے کیا ہو، جانوروں کے تنوع کے بارے میں ایک پوسٹر بناسکتے ہیں۔ شکل2.7 میں آپ کے بنائے گئے پوسٹرمیں دکھائے گئے جانور حرکت کرنے کے لیے اپنے جسم کے کن اعضا کا استعمال کرتے ہیں۔
- جدول 2.5 میں ان جانوروں کو درج کیجیے۔
- ان جانوروں کے حرکت کرنے کے طریقے کو غور سے دیکھ کراُن کے جسم کے اُن حصوں کا نام بتایئے جن کی مدد سے وہ حرکت کرتے ہیں۔جدول 2.5 میں کچھ مثالیں دی جارہی ہیں۔
|
نمبر شمار |
جانوروں کا نام |
حرکت کی قسم |
نقل وحرکت میں کام آنے والے جسم کے اعضا |
|
1. |
چیونٹی |
ٹانگیں |
|
|
2. |
بکری |
چلتی اور کودتی ہے |
ٹانگیں |
|
3. |
کبوتر |
اڑتا ہے |
پر |
|
4. |
مکھی |
چلتی اور اڑتی ہے |
ٹانگیں اور پر |
|
5. |
مچھلی |
پنکھ |
|
|
6. |
دیگر |
||
|
7. |
|||
|
8. |
آپ جدول 2.5 میں دی گئی معلومات سے کیا نتائج اخذ کرتے ہیں؟
مختلف حیوانات الگ الگ طرح کی حرکت کرتے ہیں۔ حیوانات اُڑ، دوڑ، رینگ، چل، اچھل یا کود سکتے ہیں۔
سائنس داں کے بارے میں جانیے
جانکی امّل (1984-1897) ماحولیاتی مطالعے کے لیے خود کو وقف کرنے والی ایک ہندوستانی ماہر نباتیات ہیں جنھوں نے ہندوستان کے ثروت مند حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور اس کی دستاویز کاری میں مدد کی۔ انھوں نے ’سِیوسائلینٹ وَیلی‘ (Save Silent Valley)تحریک میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انھوں نے نباتیاتی جائزہ ہند کی سربراہ کی حیثیت سے ہندوستان کے نباتیاتی تنوع کو دستاویزی شکل دینے کے پروگراموں میں پیش قدمی کی۔
کامیابی کی کہانی – سِیو سائلینٹ وَیلی تحریک(Save Silent Valley)
یہ کیرالہ کے پلکڈ ضلع کے جنگل کی سچی کہانی ہے۔ یہ بارانی سدا بہار جنگل کے اَن چھوئے حسن اور اس کے پُر ثروت حیاتی تنوع کے بارے میں ہے۔ اب مشہور سائلنٹ ویلی کو ان عام لوگوں کی قابل تعریف تحریک کے ذریعے بچایا گیا تھا جو جنگل کے علاقے کے اندر یا اس کے اطراف میں رہتے بھی نہیں تھے۔کُنتی پُژا ندی کے اوپر پن بجلی باندھ کی تجویز کے خلاف لڑائی دس سال تک جاری رہی۔ اس وقت لوگوں نے تمام ممکنہ ذرائع کا استعمال کیا۔ مثلاً وسیع پیمانے پر بیداری پروگرام، مدیروں کے نام خطوط، اخبارات میں مضامین، سیمینار اور آخرکار عدالت میں عرضیاں اور اپیلیں۔ یہ تحریک سائلنٹ ویلی کو بچانے میں کامیاب رہی۔
مزید جانیے!
اُن کے پر، ٹانگیں اور دیگر اعضا ہوسکتے ہیں جو حرکت میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ یہاں ہم نے حرکت کی قسم اور حرکت کے لیے استعمال کیے جانے والے جسم کے اعضا کی بنیاد پر جانوروں کی نشاندہی کی ہے۔حرکت کی بنیاد پر ہم جانوروں کی زمرہ بندی کیسے کرسکتے ہیں؟بہت سے جانور شکل، سائز، ڈھانچے، رنگ اور دیگر خصوصیات میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض خصوصیات کا استعمال مختلف طریقوں سے جانوروں کی زمرہ بندی کے لیے کیا جاسکتا ہے۔ پودوں کی طرح ہی جانوروں کے تنوع کو سمجھنے کے لیے ان کی زمرہ بندی ضروری ہے۔
2.3 مختلف حالات میں پودے اور حیوانات
فطرت کی سیر کے دوران آپ نے شاید مشاہدہ کیا ہو کہ مختلف حیوانات الگ الگ ماحول میں زندہ رہتے ہیں۔
جدول 2.5 میں آپ نے حیوانات کی حرکات بھی درج کی ہیں۔ کیا ان حیوانات کی حرکت کا انحصار اُن کے گردوپیش پر ہے؟ آیئے ہم مثال کے طورپرمچھلیوں اور بکریوں پر غور کریں۔ مچھلی پانی میں زندہ رہتی ہے۔ پانی میں حرکت کرنے کے لیے اس کا جسم اور پنکھ تیرنما (streamlined) ہوتے ہیں، (شکل 2.8a)۔ بکری گھاس والے علاقے میں رہتی ہے اور اپنی ٹانگوں کی مدد سے حرکت کرتی ہے (شکل2.8b )۔جانور شکل اور سائز میں بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔
سرگرمی 2.10: آیئے موازنہ اور تجزیہ کریں
- جدول 2.6کودیکھیے اورتختہ ٔسیاہ پر ایسی ایک جدول بنایئے۔
- اب اُن پودوں اور جانوروں کے نام لکھیے جو آپ نے یا آپ کے ہم جماعت طلبا نے ان جگہوں پر دیکھے ہیں یا اُن کے بارے میں جانتے ہیں۔ چند مثالیں دی گئی ہیں۔ آپ مزید مثالوں کا اضافہ کرسکتے ہیں۔
|
نمبر شمار |
ریگستان میں |
پہاڑوں پر |
سمندرمیں |
جنگل میں |
کوئی اور؟ |
|
1. |
اونٹ |
چیڑ کا درخت |
مچھلی |
شیر |
|
|
2. |
دیگر |
||||
|
3. |
مختلف خِطّوں میں پائے جانے والے پودوں اور جانوروں کے بارے میں آپ کے کیا مشاہدات ہیں؟ اپنے ہم جماعت طلبا کے ساتھ اپنے مشاہدات پر بات چیت کیجیے۔
جدول 2.6 سے شاید آپ نے یہ مشاہدہ کیا ہو کہ ایک طرح کے خطے میں پائے جانے والے پودے اور جانور دوسرے خطے میں پائے جانے والے پودوں اور جانوروں سے مختلف ہوتے ہیں۔
کلاس روم میں بات چیت کے دوران الیکس کو یاد آتا ہے کہ اُس نے راجستھان کے ریگستان میں موٹے اور گودے دار تنوں والے ناگ پھنی کے پودے دیکھے تھے (شکل 2.9)۔ مایابتاتی ہے کہ اُس نےہماچل پردیش کے ہمالیہ پہاڑوں میں چیڑ کے درخت دیکھے تھے (شکل 2.10)۔ یہ درخت مخروطی شکل اور لچکدار اور جھکی ہوئی شاخوں والے ہوتے ہیں۔
اس پر غور کیجیے کہ مختلف خطوں میں پائے جانے والے ان دو اقسام کے پودے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایسا کیوں؟ کیا کسی علاقے کا حیاتی تنوع دوسرے سے مختلف ہوتا ہے؟ آیئے جانیں۔
ریگستانی علاقے میں پانی کم پایا جاتا ہے۔ریگستان ایسے خشک علاقے ہیں جو دن کے وقت بہت گرم اور رات میں بہت ٹھنڈے ہوتے ہیں۔ اس لیے آپ کو ان علاقوں میں ایسے پودے اور جانور ملیں گے جو دن کے دوران گرم حالات میں اور رات میں بہت ٹھنڈک میں رہ سکتے ہیں۔ ریگستان میں پائے جانے والے پودوں کے گودے دار تنے پانی کا ذخیرہ کرسکتے ہیں اوران جگہوں کے گرم حالات کو برداشت کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔
حد درجہ ٹھنڈے علاقے میں پہاڑوں پر اکثر برف باری ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں زندہ رہنے کے لیے درختوں میں برف کو آسانی سے پھسلا کر گرانے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ چیڑ کے درختوں کی مخروطی شکل اور جھکی ہوئی شاخیں آسانی مہیا کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں۔
آپ اب تک ضرور سمجھ گئے ہوں گے کہ بدلتے ہوئےحالات کی وجہ سے حیاتی تنوع مختلف علاقوں میں الگ الگ ہوتا ہے۔
راجستھان کے گرم ریگستان کے ایک اونٹ (شکل 2.11) اور لداخ کے ٹھنڈے ریگستان کے اونٹ (شکل 2.12) کی تصویر پر نظر ڈالیے۔ دونوں جانوروں میں آپ کو کیا فرق دکھائی دیتا ہے؟ان اختلافات سے ان اونٹوں کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟
گرم ریگستان کے اونٹ کی ٹانگیں لمبی او ر کھُر چوڑے ہوتے ہیں۔ الیکس کا کہنا ہے کہ اُس کی نانی نے اُسے بتایا تھا کہ لمبی ٹانگوں اور چوڑےکھُروں سے ریت میں دھنسے بغیر ریگستان میں ان اونٹوں کو چلنے میں مدد ملتی ہے۔ دوسری طرف ٹھنڈے ریگستان کے اونٹ کا قد اور ٹانگیں گرم علاقے کے اونٹ کے مقابلے میں کم اور چھوٹی ہوتی ہیں۔ انھیں چھوٹی ٹانگوں سے پہاڑی علاقوں میں چلنے میں مدد ملتی ہے۔
ریگستانی حالات میں غذا آسانی سے نہیں ملتی۔ اونٹ اپنے کوہان کے اندر غذا کا ذخیرہ کرتے ہیں۔ گرم ریگستان کے اونٹوں کی پیٹھ پر ایک کوہان ہوتا ہے،جوانھیں غذا کی کمی کے دوران زندہ رہنے میں مدد دیتا ہے۔ دوسری طرف لداخ کے اونٹ کے دو کوہان ہوتے ہیں۔ یہ دونوں کوہان سردی کے اختتام پر نسبتاً چھوٹے ہوجاتے ہیں کیوں کہ ٹھنڈے ریگستان میں زیادہ غذائیں نہیں ملتی ہیں اور اس مدت کے دوران اُنھیں اپنے کوہان میں جمع شدہ غذا سے کام لینا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے سر سے گردن تک لمبے بال اگ آتے ہیں جو لداخ کی شدید سردی کو جھیلنے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔
دیگر کون سی خصوصیات ریگستان میں زندہ رہنے میں اونٹوں کی مدد کرتی ہیں؟
دیگر طلبا بھی اپنے مشاہدات بیان کرنے لگے۔ راجستھان سے تعلق رکھنے والے کاشی نے بتایا کہ اونٹ کم مقدار میں پیشاب کرتے ہیں۔ ان کا گوبر خشک ہوتا ہے اور انھیں پسینہ نہیں آتا۔ چوں کہ اونٹوں کے جسم کا زیادہ پانی ضائع نہیں ہوتا وہ پانی کے بغیر کئی دن تک زندہ رہ سکتے ہیں۔
مایانیل گری پہاڑوں کے شولا جنگلوں میں خوبصورت خرزہرہ (rhododendrons) کے پھولوں والی جھاڑیاں دیکھنے کے بارے میں بتاتی ہے (شکل 2.13a)۔یہاں پر خرزہرہ کم اونچائی والے ہوتے ہیں اور ان کی پتیاں چھوٹی ہوتی ہیں تاکہ وہ پہاڑ کی اونچائی پر تیز آندھی میں ٹکی رہ سکیں۔ لیکن پیما، جس کا تعلق سِکّم سے ہے، یہ بتاتی ہے کہ قریب کے ہمالیائی پہاڑوں پر خرزہرہ زیادہ اونچائی والے ہوتے ہیں (شکل 2.13b)۔ اس طرح ان علاقوں کے حالات میں زندہ رہنے کے لیے خرزہرہ بھی مختلف علاقوں میں الگ الگ خصوصیات کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔
ساگر اپنے ہم جماعت طلبا کو بتاتا ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ انڈمان نکوبار جزائر میں ایک خاص تقریب میں گیا تھا۔ اُس نے سمندر میں بہت بڑی وہیل اور رنگ برنگی مچھلیاں دیکھیں۔اس کے والد نے بتایا کہ مچھلیوں کواپنے تیرنما (streamlined) جسم سے پانی میں تیرنے میں آسانی ہوتی ہے۔
ہم پڑھ چکے ہیں کہ مخصوص علاقے میں زندہ رہنے والے پودوں اور جانوروں میں ایسے خاص اوصاف پیدا ہوجاتے ہیں جو انھیں اُس میں زندہ رہنے میں مدددیتے ہیں۔ ایسے خصوصی اوصاف کو جو پودوں اور جانوروں کو کسی خطے میں زندہ رہنے کے قابل بنائیں توافقات (adaptations) کہتے ہیں۔
چیڑ کے درخت کی شکل اور خرزہرہ کی اونچائی وہ توافقات ہیں جو پہاڑوں پر زندہ رہنے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔
وہ جگہ جہاں پودے اور جانور رہتے ہیں مسکن (habitat) کہلاتی ہے۔ مثال کے طورپر سمندری کچھوے کا مسکن دریا یا سمندر ہے۔ اونٹ کا مسکن گرم یا سرد ریگستان ہے اور خرزہرہ کا مسکن پہاڑ ہے۔ پودوں اور جانوروں کا مسکن انھیں غذا، پانی، ہوا، پناہ اور ان کی بقا کی دیگر ضروریات فراہم کرتاہے۔ ہوسکتا ہے کہ کئی طرح کے پودے اور جانور ایک ہی مسکن میں حصہ دار ہوں۔ کسی خطے کے حیاتی تنوع کی تشکیل میں مسکن ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنس داں کے بارے میں جانیے
ڈاکٹر سالم علی (1987-1896)نے پرندوں میں تنوع کے مشاہدے کے لیے ہندوستان بھر کا سفر کیا۔ انھوں نے پرندوں کی ایک فہرست تیار کی اور ان کے سفر کے راستے اور مسکنوں کی تفصیل درج کی۔ انھوں نے پرندوں کے بکثرت تنوع والے علاقوں کی دستاویز سازی کی اور ان علاقوں کو محفوظ رکھنے کے اقدامات کیے۔ کیولادیو نیشنل پارک، بھرت پور ، راجستھان اور رنگاناتھتو برڈ سینکچری مانڈیا، کرناٹک اس طرح کے علاقوں کی مثالیں ہیں۔ انھوں نے برِّصغیر ہندکے پرندوں سے متعلق 10 جلدوں پر مشتمل ایک یادگار کتاب لکھی۔ انھیں ’برڈ مین آف انڈیا‘کہا جاتا ہے۔ اُنھیں 1976 میں پدم وبھوشن کے اعزاز سے نوازا گیا۔
مسکن کی بنیاد پر آپ کن مختلف طریقوں سے پودوں اور جانوروں کی زمرہ بندی کرسکتے ہیں۔ ان کی زمرہ بندی
کا ایک طریقہ خشکی پر رہنے والے اور پانی میں رہنے والے، کا ہے۔
خشکی پر رہنے والے پودوں اور جانوروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زمینی مسکنوں (terrestrial) میں رہتے ہیں۔ زمینی مسکنوں کی بعض مثالیں جنگلات، ریگستانیں اور پہاڑ یں ہیں۔
پانی میں رہنے والے پودوں اور جانوروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آبی(aquatic) مسکنوں میں رہتے ہیں۔ آبی مسکنوں کی بعض مثالیں تالاب،ندیاں،دریا اور سمندر ہیں۔
بعض جانور مثلاً مینڈک پانی میں اور خشکی پر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ انھیں آبی وزمینی (amphibians) کہتے ہیں۔
کسی پودے یا جانور کے مسکن کے برباد ہوجانے پر کیا ہوگا؟اگر بکری کو کھانے کے لیےگھاس نہ ملے تو کیا ہوگا؟ کیا مچھلی پانی کےبغیر زندہ رہ سکتی ہے؟
اپنے والدین، اجداد اور پڑوسیوں سے ان پودوں، پرندوں، کیڑوں مکوڑوں یا کسی دیگر جانور کے بارے میں جاننے کے لیے دریافت کریں جو وہ اپنے بچپن میں اکثر دیکھا کرتے تھے لیکن اب وہ انھیں اکثر نظر
نہیں آتے۔یہ تبدیلیاں اکثر مسکنوں کی تباہی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ پودوں اور جانوروں کے مسکنوں کی تباہی سے گھر، غذا اور وسائل کا ضیاع ہوتا ہے۔ نتیجتاً حیاتی تنوع کو نقصان پہنچا ہے۔
ہندوستان میں بنگال ٹائیگر، چیتے اور گریٹ انڈین بسٹرڈکی آبادی انسانی سرگرمیوں سے ہونے والے مسکن کی تباہی کی وجہ سے کم ہوئی ہے۔ حکومت ہند نے ہمارے حیاتی تنوع کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پروجیکٹوں کا آغاز کیا ہے۔ بنگال ٹائیگر کی گھٹتی ہوئی آبادی کے تحفظ کے لیے پروجیکٹ ٹائیگر کی شروعات 1973میں ہوئی تھی۔ چیتے کی آبادی کو بحال کرنے کے لیے ’چیتا ری انٹروڈکشن پروجیکٹ‘کی شروعات 2022 میں ہوئی۔ اسی طرح گجرات، راجستھان اور مہاراشٹر کی ریاستوں میں گریٹ انڈین بسٹرڈ کے مسکنوں کو محفوظ شدہ علاقے قرار دیا گیا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
روایتی طور پر محفوظ شدہ جنگلات: مقدس نخلستان
مقدس درختوں کے جھنڈ یا نخلستان جنگلات کے بڑے ٹکڑے ہیں۔ وہ بہت چھوٹے سے بہت بڑے سائز تک کے ہوسکتے ہیں۔ درختوں کے مقدس جھنڈ پورے ہندوستان میں پائے جاتے ہیں۔ وہ مختلف پودوں اور جانوروں کے مسکن ہیں، جن میں بہت سے ادویاتی پودے بھی شامل ہیں۔ مقامی آبادی ان کا تحفظ کرتی ہے اور کسی کو بھی اجازت نہیں ہوتی کہ وہ کسی جانورکو نقصان پہنچائے، درخت کاٹے یا علاقے میں انتشارپھیلائے۔ اس طرح مقدس نخلستان معاشرے کے زیرِتحفظ حیاتی تنوع کا خزانہ ہیں۔ اپنے علاقے میں مقدس نخلستان کے بارے میں جانیں۔
مزید جانیے!
یہ یقینی بنانے کے لیے کہ ہمارا سیارہ زندگی سے بھرپور رہے، ہمیں حیاتی تنوع کا تحفظ کرنا چاہیے جس سے پودوں اور جانوروں کو اپنی بہتر بقا میں آسانی ہو۔
خلاصہ
کلیدی نکات
- ہمارے اردگرد بڑی تعداد میں بہت سے مختلف پودے اور جانور پائے جاتے ہیں۔ پودوں اور جانوروں کا ایسا تنوع حیاتی تنوع کا حصہ ہے۔
- پودوں اور جانوروں کے درمیان مماثلتوں اور اختلافات کی بنیاد پر ان کی زمرہ بندی کی جاسکتی ہے۔
- پودوں کے تنوں، پتیوں، پھولوں وغیرہ کی خصوصیات کی بنیاد پر ان میں مماثلتیں اور اختلافات پائے جاتے ہیں۔
- پودوں اور جانوروں کی مشترک خصوصیات کی بنیاد پر انھیں گروپوں میں ترتیب دینے کے طریقے کو زمرہ بندی کہا جاتا ہے۔
- پودوں کی اونچائی، تنے کی نوعیت اور شاخ بندی کے نمونے کی بنیاد پر ان کی زمرہ بندی بوٹیوں، جھاڑیوں اور درختوں میں کی جاسکتی ہے۔
- پودے کے بیجوں میں کوٹلڈن کی تعداد کے مطابق اُن کی زمرہ بندی دو لختی اور یک لختی کے طور پر بھی کی جاسکتی ہے۔
- یک لختی پودے عموماً اپنی پتیوں میں متوازی برگی ترتیب ظاہر کرتے ہیں اور ریشہ دار جڑ رکھتے ہیں جب کہ دو لختی پودے اپنی پتیوں میں جالی دار برگی ترتیب کا مظاہرہ کرتے ہیں اور نل دار جڑ رکھتے ہیں۔
- جانوروں کی حرکت کی مختلف قسمیں ہیں جو ان کے زمرہ بندی کی بنیاد ہوسکتی ہیں۔
- مختلف خطوں کا حیاتی تنوع امتیازی ماحولیاتی حالات کی وجہ سے الگ الگ ہوتا ہے۔
- مخصوص خطے میں پودوں اور جانوروں کی بقا میں مدد کرنے والے مخصوص اوصاف کو توافقات کہتے ہیں۔
- جس جگہ پر پودے اور جانور زندہ رہتے ہیں وہ ان کا مسکن کہلاتا ہے۔
- مسکنوں کی بنیاد پر پودوں اور جانوروں کی زمرہ بندی خشکی کے جانداروں اور پانی کے جانداروں میں
کی جاسکتی ہے۔ - مسکن کا اتلاف حیاتی تنوع سے محرومی کا سبب بن سکتا ہے کیوں کہ پودوں اور جانور وں سے ان کا مسکن، غذا اور دیگر وسائل چھن جاتے ہیں۔
- یہ یقینی بنانے کے لیے کہ ہماری زمین زندگی سے بھر پور رہے، ہمیں پودوں اور جانوروں کو بہتر بقا کی سہولت دے کر حیاتی تنوع کا تحفظ کرنا چاہیے۔
آیئے اپنی آموزش میں اضافہ کریں
- یہاں دو طرح کے بیج دیے گئے ہیں۔ ان پودوں کی جڑوں اور پتیوں کی برگی ترتیب میں آپ کس طرح کے اختلافات پائیں گے؟
- ذیل میں بعض جانوروں کے نام دیئے گئے ہیں۔ مسکن کی بنیاد پر ان کی زمرہ بندی کیجیے۔ ‘A’ کے نشان والی جگہ میں آبی جانوروں کے نام اور ‘B’ کے نشان والی جگہ میں خشکی کے جانوروں کے نام لکھیے۔ حصہ ‘C’ میں دونوں مسکنوں میں رہنے والے جانوروں کے نام لکھیے۔
گھوڑا، ڈولفن، مینڈک، بھیڑ، مگرمچھ، گلہری، وہیل، کیچوا، کبوتر، کچھوا
- منو کی ماں کی ایک کچن گارڈن ہے۔ ایک دن وہ مٹی میں سے مولی کھود رہی تھیں۔ انھوں نے منو کو بتایا کہ مولی ایک قسم کی جڑ ہوتی ہے۔ مولی کا معائنہ کرکے لکھیے کہ یہ کس قسم کی جڑ ہے۔ مولی کے پودے کی پتیوں میں آپ کس طرح کی برگی ترتیب کا مشاہدہ کرتےہیں؟
- ایک پہاڑی بکری اور میدانی بکری کی تصویر پر نظر ڈالیے۔ ان کے درمیان مماثلتوں اور اختلافات کی نشاندہی کیجیے۔ ان اختلافات کے کیا اسباب ہیں؟
- متن کے اندر زیر بحث لائی گئی خصوصیات کے علاوہ کسی خصوصیت کی بنیاد پر، مندرجہ ذیل جانوروں کو دو زمروں میں تقسیم کیجیے۔ گائے، کاکروچ، کبوتر، چمگادڑ، کچھوا، وھیل، مچھلی، ٹڈا، چھپکلی۔
- جیسے جیسے آبادی بڑھ رہی ہے لوگ اور زیادہ آرام دہ زندگی چاہتے ہیں۔انسان اپنی مختلف ضروریات پوری کرنے کے لیے جنگلوں کو کاٹ رہے ہیں۔ اس کا ہمارے ماحول پر کیسے فرق پڑسکتا ہے۔ آپ کے خیال میں ہم اس چیلنج کا سامنا کیسے کرسکتے ہیں؟
- فلو چارٹ کا تجزیہ کیجیے۔‘A’ اور ‘B’کی کیا مثالیں ہوسکتی ہیں؟
- راج اپنے دوست سنجے کے سامنے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ “گڑھل کا پودا ایک جھاڑی ہے۔”اس کی وضاحت کے لیے سنجے کون سے سوالات پوچھ سکتا ہے؟
- ذیل کی جدول میں بعض معلومات دی گئی ہیں۔ اس معلومات کی بنیاد پر ان پودوں کی مثالیں
تلاش کیجیے۔
|
زمرہ |
بیج کی قسم |
جڑ کی قسم |
مثالیں |
|
A |
دو لختی |
نل دار جڑ |
|
|
B |
یک لختی |
ریشہ دار جڑ |
(a) گروپA کے پودوں میں اور کیا یکسانیت ہے؟
(b) گروپB کے پودوں میں اور کیا یکسانیت ہے؟
- نیچے دی گئی تصویر میں بطخ کے نشان زد حصے کا مشاہدہ کیجیے۔ دوسرے پرندوں کے مقابلے میں بطخ کے پیروں میں آپ کو کیا فرق نظر آتا ہے؟ بطخ اس حصے کو استعمال کرکے کون سی سرگرمی انجام دے سکے گی؟
مزید آموزش
- ہندوستان کے حیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے کام کر رہے کسی ایک ہندوستانی سائنس داں یا حیوانات کے ماہر حیاتیات کے بارے میں پڑھیں ۔ ایک مختصر رپورٹ تیا ر کیجیے۔
- ہندوستان میں حیاتی تنوع کے لیے دِوّیا موڈپّا، اوشا لَچنگا، غزالہ شہاب الدین، نندنی ویلہو، ودیا اتھریا، اوما رام کرشن اور دویا کرناڈ کے تعاون کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے۔ ان کے ذریعے کئے گئے کام کی رپورٹ تیار کیجیے۔
- اپنے اسکول میں پودوں اور درختوں کو ان کے مقامی نام سے نشان زد کیجیے۔ اسی کام میں آپ اپنے ٹیچر/ باغبان کی مدد لیجیے۔ انھیں اپنی نوٹ بک میں درج کیجیے۔
- اپنے ٹیچر کی مدد سے، میدانی دورہ (فیلڈ وزٹ)یا فطرت کی سیر کی منصوبہ بندی کیجیے۔ اپنے مشاہدات کو درج کیجیے۔ میدانی دورہ یا فطرت کی سیر کے دوران سبھی طلبا کے مشاہدات اور درج کی گئی معلومات پر مشتمل کلاس کے لیے حیاتی تنوع کا رجسٹر تیار کیجیے۔
- ہندوستان میں ہمارے حیاتی تنوع کی تحفظ کے لیے شروع کیے گئے “پروجیکٹ ٹائیگر”اور اسی طرح کے دیگر منصوبوں کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے۔ اپنی کلاس کے لیے پیش کش تیار کیجیے۔
- اپنی کلاس کو 6-6 طلبا کے گروہ میں تقسیم کیجیے۔ کلاس میں اس بات پر بحث کی شروعات کیجیے کہ آپ اپنے اردگرد حیاتی تنوع کی حفاظت کیسے کرسکتے ہیں۔ ہر ایک گروہ اپنی علاحدہ رپورٹ تیار کرےجس میں گروہ کے اراکین کی طرف سے دی گئی تجاویز شامل ہوں۔
- اپنے خاندان کے افراد یا پڑوس کے بزرگوں سے بات چیت کرکے ان پودوں اور جانوروں کے بارے میں معلوم کیجیے جنھیں وہ اب دیکھتے ہیں لیکن وہ ماضی میں نظر نہیں آتے تھے اور اس کے برعکس – ان پودوں کی تصویریں یکجا کرکےانھیں اسکریپ بک میں چسپاں کیجیے۔ اپنے ٹیچر سے اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیجیے۔