Skip to content
Qr







باب 3

محتاط غذا خوری: صحت مند جسم کی راہ

(Mindful Eating: A Path to a Healthy Body)


कोऽरुक्? कोऽरुक्? कोऽरुक्? हितभक मितभक ऋतभक
(सुभाषित)

کون صحت مند ہے؟ کون صحت مند ہے ؟ کون صحت مند ہے ؟ وہ جو موسم ، وقت اور مقام کے لحاظ سے مناسب مقدار میں صحت بخش غذا کھاتا ہے۔ مانشاه قبل

(دانشورانه قول)

میدو اور مشٹی روزانہ اسکول کے نوٹس بورڈ پر ‘آج کا خیال’ ضرور پڑھتے ہیں۔ آج کا خیال ’’انّین جاتانی جیونتی‘‘، انھیں تجسُّس میں ڈال دیتا ہے۔ مشٹی، میدو سے کہتی ہے کہ یہ سنسکرت کا مقولہ ہے جس کا مطلب ہے ’غذا جاندار چیزوں کو زندگی عطا کرتی ہے۔‘

آئیے اس مقولے کے مفہوم کو تفصیل کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں۔

Screenshot 2025-10-30 172123

3.1 ہم کیا کھاتے ہیں؟

سرگرمی 3.1: آئیے درج کریں

ہم سب روزانہ کھانا کھاتے ہیں۔ غذا ہماری روزمرہ زندگی کا ایک لازمی جزو ہے۔ آپ نے ایک ہفتہ تک روزانہ جو غذائیں کھائی ہیں ان سے متعلق اپنے مشاہدات کو جدول 3.1 میں درج کیجیے۔

جدول 3.1: کھائی گئی غذائی اشیا کا ہفتہ وار چارٹ

دن

غذائی اشیا

پیر

منگل

بدھ

جمعرات

جمعہ

سنیچر

اتوار

جدول3.1 میں شامل کی گئی معلومات کی مدد سے آپ اپنی غذا کے بارے میں کیا مشاہدے کرتے ہیں؟ کیا آپ طعام کے دوران ہر مرتبہ ایک ہی قسم کا کھانا کھاتے ہیں یا آپ کی پسند تبدیل ہوتی رہتی ہے؟ اپنی فہرست کا موازنہ اپنے دوستوں کی فہرست کے ساتھ کیجیے۔ جو غذا آپ اور آپ کے دوست کھاتے ہیں اس میں مماثلت اور فرق تلاش کیجیے۔ آپ نے کیاپایا؟اپنے نتیجے کوکاپی میں درج کیجیے۔ آپ نے دیکھا ہوگاکہ آپ اور آپ کے دوستوں کی غذا میں کافی فرق ہے۔

کیا آپ کو لگتا ہے کہ غذا میں اس قسم کا تنوع ہمارے ملک کی سبھی ریاستو ں میں پایا جاتا ہے؟

3.1.1 مختلف علاقوں کی غذائیں

سرگرمی 3.2: آئیے چھان بین کریں

  • ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں کھائے جانے والے روایتی کھانوں اور اگائی جانے والی فصلوں کے اقسام معلوم کیجیے۔ان معلومات کو جمع کرنے کے لیے آپ اپنی لائبریری میں رکھی ہوئی کتابوں کی بھی مدد لے سکتے ہیں، انٹرنیٹ پر تلاش کر سکتے ہیں اور اپنے دوستوں، اہل خانہ اور پڑوسیوں سے بات چیت کر سکتے ہیں۔
  • جدول 3.2 میں جمع کی گئی معلومات میں مزید ریاستوں کا اضافہ کیجیے۔ کچھ مثالیں دی گئی ہیں۔

جدول 3.2: ہندوستان کی مختلف ریاستوں کی روایتی غذائیں

ریاست

مقامی طور پر اگائی جانے والی فصلیں

کھائی جانے والی روایتی غذائی اشیا

مشروبات

پنجاب

مکا،گیہوں،چنامٹر، دالیں

مکا کی روٹی،سرسوں کا ساگ،چھولےبھٹورے،پراٹھا، حلوہ،کھیر

لسّی، چھاچھ، دودھ، چائے

کرناٹک

چاول، راگی، ارد، ناریل

اڈلی، ڈوسا، سامبھر، ناریل کی چٹنی، راگی مڈڈے، پلیا، رسم، چاول

چھاچھ، کافی، چائے

منی پور

چاول، بانس، سویابین

چاول، ارومبا(چٹنی)، اُٹّی (پیلے مٹر اور ہری پیاز کا شوربہ) سنگجھ، کانگوٹی

کالی چائے

کوئی دیگر

ہمیں ملک کی مختلف ریاستوں میں کھائے جانے والے روایتی کھانوں میں تنوع کیوں نظر آ تا ہے؟

آپ نے جدول 3.2 میں جو معلومات جمع کی ہیں ان کا تجزیہ کیجیے۔ کیا ایسی غذائی اشیا بھی ہیں جو بہت سی ریاستوں میں مشترک (عام) ہیں؟ ان غذائی اشیا کی فہرست بنائیے۔ آپ دیکھیں گے کہ کچھ غذائی اشیا بہت سی ریاستوں میں عام ہیں جبکہ کچھ غذائی اشیا ایسی ہیں جو صرف ایک مخصوص ریاست میں ہی کھائی جاتی ہیں۔

آپ روایتی غذائی اشیا اور مقامی طور پر اگائی جانے والی فصلوں کے درمیان کیا تعلق دیکھتے ہیں؟ آپ نے یہ مشاہدہ ضرور کیا ہوگا کہ کسی بھی ریاست کے روایتی کھانے عموماً مقامی طور پر اگائی جانے والی فصلوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ ہندوسان ایک زرعی ملک ہے جہاں مختلف قسم کی مٹی اور آب و ہوا پائی جاتی ہے۔ مٹی کی اقسام اور
آب و ہوا کے حالات کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں الگ الگ اقسام کی فصلیں اگائی جاتی ہیں۔

ہندوستان کے مختلف علاقوں میں کھانے کے طور طریقے اس مخصوص علاقے میں اگائی جانے والی غذائی فصلوں ، ذائقے کی ترجیحات، ثقافت اور روایات کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں۔

3.1.2 وقت کے ساتھ کھانے پکانے کے طور طریقے کس طرح تبدیل ہوئے ہیں؟

آپ جان چکے ہیں کہ مختلف ریاستوں میں لوگوں کے کھانے کی عادات مختلف ہوتی ہیں۔ ہماری غذائی ترجیحات اور کھانا پکانے کے طور طریقے دوسروں سے الگ ہوتے ہیں ۔کیاوقت کے ساتھ غذائی عادت اور کھانا پکانے کے طور طریقوں میں تبدیلی آئی ہیں؟

سرگرمی 3.3: آئیے تبادلۂ خیال کریں اور جانیں

  • چند عمر رسیدہ لوگوں سے ان کی غذائی عادات اور کھانا پکانے کے طور طریقوں کے بارے میں بات چیت کیجیے۔ضروری معلومات جمع کرنے کے لیے ان سے پوچھے جانے والے سوالات کی فہرست بنائیے۔ نمونے کے طورپر کچھ سوالات ذیل میں دیے گئے ہیں —
  • آپ کون سی غذا اب بھی کھاتے ہیں اور اس میں نیا کیا ہے؟
  • وقت کے ساتھ کھانے پکانے کے طریقے کس طرح تبدیل ہوئے ہیں؟
  • Screenshot 2025-10-30 172137
  • ان تبدیلیوں کی وجہ کیا ہے؟
  • تیار کیے گئے سوالات کی بنیاد پر بڑے بزرگوں کے انٹرویولیجیے۔

آپ نے اس انٹرویو سے کیا نتائج اخذ کیے؟ کھانا پکانے کے طریقے جنھیں طباخی کے طریقے (culinary practices) بھی کہاجاتا ہے، وقت کے ساتھ تبدیل ہوئے ہیں۔ طباخی کے روایتی اور جدید طریقوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ پرانے وقت میں زیادہ تر کھانا چولھے پر پکایاجاتا تھا (شکل 3.1a)آج زیادہ تر لوگ کھانے پکانے کے لیے جدید قسم کے گیس چولھوں کا استعمال کرتے ہیں (شکل 3.1b) ۔ پرانے وقت میں غذائی اشیا کو پیسنے کے لیے اکثر اوقات پتھر کے سِل بٹے کا استعمال کیا جاتا تھا (شکل 3.1c)۔ اب ہم غذائی اشیا کو آسانی سے پیسنے کےلیے بجلی سے چلنے والے گرائنڈر کا استعمال کرنے لگے ہیں (شکل 3.1d)۔ معلوم کیجیے پکانے اور پیسنے کے دوسرے طریقے کیا ہیں؟ وقت کے ساتھ طباخی کے طریقے کیوں تبدیل ہوگئے ؟ غالباً یہ تبدیلی ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی، نقل و حمل اور ترسیل کے بہتر ذرائع جیسے عوامل کی وجہ سے ہوئی ہے۔

3.2 غذا کے اجزا کیا ہیں؟

میدو اور مشٹی اپنے اسکول میں لگنے والا روایتی ’کھانوں کا میلہ’ دیکھنے گئے۔ میلے کا موضوع تھا’صحت بخش غذا کھائیں اور صحت مند رہیں‘۔

Screenshot 2025-10-30 172144

میلے میں مختلف روایتی غذائوں کے اسٹال لگے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر پوشیتا ایک ماہر تغذیہ ہیں، انھوں نے طلبا کو بتایا کہ تندرستی ہزار نعمت ہے۔ آئیے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اس بیان سے ڈاکٹر پوشیتا کی کیا مراد ہے؟

Screenshot 2025-10-30 172149

کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ نے کھانا نہ کھایا ہو؟ جب آپ کھانا نہیں کھاتے ہیں تو آپ کوکیسا محسوس ہوتا ہے؟

اگر ہم بہت دیر تک کچھ نہیں کھاتے ہیں تو ہمیں بھوک لگنے لگتی ہے اورہم خود کو کم توانا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ آپ کے خیال میں میراتھن میں شرکت کرنے والے لوگ دوڑ کے دوران اور بعد میں گلوکوزکاپانی کیوں پیتے ہیں؟

Screenshot 2025-10-30 172154

گلوکوزفوری طورپر توانا ئی فراہم کرتاہے۔ گلوکوز، کا ربوہائڈریٹ کی ایک مثال ہے۔ کاربوہائیڈریٹ ہماری غذا میں توانائی کے بنیادی ذرائع ہیں۔اناج مثلاً گیہوں،چاول اورمکّا، سبزیاں جیسے آلو،شکرقنداورپھل جیسے کیلے، انناس اورآم وغیرہ کچھ کاربوہائیڈریٹ کے اہم ذرائع ہیں(شکل 3.2)۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ عام شکر بھی کاربوہائڈریٹ کی ایک قسم ہے؟

Screenshot 2025-10-30 172159

آپ کے خیال میں ہم کیوں سردیوں میں اپنی روایتی غذا کے حصے کے طور پر لڈوئوں کو ترجیح دیتے ہیں؟

بیسن/آٹا اور گھی ،لڈو کے اہم اجزائے ترکیبی ہیں، ساتھ ہی ان میں خوردنی گوند، میووں اور بیجوں کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔گھی اور مختلف قسم کے تیلوں کو غذائی جزو کے دوسرے زمرے میں رکھا گیا ہے جسے چکنائی (چربی) کہتے ہیں۔

چربی کے ذرائع پودےنباتات یا حیوانات ہو سکتے ہیں (شکل 3.3) ۔ گریاں جیسےمونگ پھلی، اخروٹ، بادام جیسے میوے اور بیج مثلاً کدّوکے بیج اور سورج مکھی کے بیج ، چربی کے عمدہ ذرائع ہیں۔ چربی ذخیرہ شدہ توانائی کاذریعہ ہے۔

ہاں، میری دادی نے مجھے بتایا تھا کہ گھی اور میووں سے بھرپور لڈو ہمیں گرم رکھنے کے لیے توانائی فراہم کرتے ہیں۔

کابوہائیڈریٹ اور چربی ہمیں مختلف سرگرمیاں انجام دینے کے لیے توانائی فراہم کرتے ہیں۔اسی لیے انھیں توانائی بخش غذائیں (energy-giving foods) کہا جاتا ہے۔ایسی مزید غذائی اشیا کی نشان دہی کیجیے جوکاربوہائڈریٹ اورچربی سے بھرپور ہوں۔

Screenshot 2025-10-30 172209

قطبی بھالو (polar bear) اپنی جلد کےنیچے بہت سی چربی جمع کرلیتے ہیں۔ یہ چربی توانائی کے ذریعےکے طور پر کام آتی ہے جسے وہ مہینوں تک چلنے والے سردی کے موسم میں سونے (سرما خوابی) (hibernation)کے دوران استعمال کرتے ہیں اور غذا کے بغیر زندہ رہتےہیں۔

مزید جانیے!

Screenshot 2025-10-30 172216

پروٹین بھی ہماری غذا کا اہم جز ہے۔ دودھ سے بنی اشیا اور دالیں پروٹین کے اچھے ذرائع ہیں۔ البتہ کھلاڑیوں کو ان اجزا کی زیادہ مقدار میں ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے عضلات کو بڑھا سکیں۔ ہمیں پروٹین نباتات اور حیوانات دونوں سے حاصل ہوتی ہے۔ پروٹین کے بہترین نباتاتی ذرائع دالیں، پھلیاں مٹر اورگریاں وغیرہ ہیں (شکل3.4a) ۔ پروٹین کے حیواناتی ذرائع دودھ، پنیر، انڈا، مچھلی اور گوشت ہیں(شکل3.4b) ۔ پروٹین سے بھرپور غذائیں ہمارے جسم کی نشوونما اور مرمت میں مدد کرتی ہیں۔ اسی لیے ان غذائوں کو جسم افزا غذائیں (body-building foods)کہا جاتا ہے۔ بڑھتے ہوئے بچوں کی بہتر نشوونما کے لیے ان کی خوراک میں پروٹین کی مناسب مقدار بہت ضروری ہے۔

Screenshot 2025-10-30 172224

بچوں کی مستقل نشوونما کے لیے ان کی غذا میں پروٹین وافرمقدار شامل ہونے چاہیے۔ ان میں سے کون سی غذائی اجزا ہماری روز مرہ خوراک کا حصہ ہیں؟

کیا آپ نے کبھی مشروم دیکھے ہیں؟ یہ زیادہ تر تاریک اور مرطوب مقامات پر اگتے ہیں۔مشروم بھی پروٹین کا اچھا ذریعہ ہیں۔

مزید جانیے!

Screenshot 2025-10-30 172229

آپ کے مطابق ہمیں اپنی خوراک میں پھلوں،سبزیوں اور نباتاتی غذائوں کو کیوں شامل کرنا چاہیے؟ آئیے ہم مندرجہ ذیل دو نظیر کو پڑھ کر کچھ مخصوص غذائی اجزا کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

نظیر 1

پرانے زمانے میں طویل بحری سفر کے دوران، ملاح اکثر مسوڑھوں میں سوجن اور ان سے خون بہنے کی تکلیف میں مبتلا ہوجاتے تھے۔ 1746 میں بحری سفر کے دوران اسکاٹ لینڈ کے ایک طبیب (ڈاکٹر) جیمس لینڈ نے یہ مشاہدہ کیا کہ جن ملاحوں نےلیمو ں اور سنترے کھائے ان میں یہ علامات ختم ہوگئیں۔ مسوڑھوں میں سوجن اور ان سے خون بہنا (جریان خون) اسکروی (scurvy)بیماری کی علامات ہیں۔

آپ نظیر 1 کا مطالعہ کرنے کے بعد کیا نتیجہ نکالتے ہیں؟ اسکروی کے علاج میں کس نے مدد کی؟ لیموں اور سنترے اسکروی کے علاج میں مدد کرتے ہیں۔ غذا میں وٹامن C کی قلت کی وجہ سے اسکروی ہوجاتی ہے۔ وٹامن C لیموں اور سنترہ جیسے رسیلے پھلوں میں پایا جاتا ہے۔

نظیر2

1960 میں ہندوستانی سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ ہندوستان کے ہمالیائی خطےاور شمالی میدانی علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں گردن کے سامنے والے حصے (گلے) میں سوجن کی علامات پائی جاتی تھیں۔حکومت ہند کے ضابطوں کے مطابق عام نمک میں آیوڈین ملاکر آیوڈین شدہ نمک بنانے کے اقدامات کیے گئے۔آیوڈین شدہ نمک کے استعمال کے بعد ان ا علامات میں واضح طور پر کمی دیکھی گئی۔ ان علامات کی وجہ اس خطے کی مٹی میں آیوڈین کی خاصی کمی ہے، جس کے نتیجے میں وہاں کی مقامی غذائوں اور پانی میں آیوڈین بہت کم ہوتاہے۔ گردن کے سامنے والے حصے میں سوجن گھینگا(goitre) کی علامت ہے۔

Screenshot 2025-10-30 172234

آپ نے نظیر2 سےکیا نتیجہ اخذ کیا؟

ممکن ہے آپ نے اخبارات یا اشتہارات کے ذریعے آیوڈین والے نمک کے بارے میں جانا ہویا نمک کے پیکٹ پر اس کے متعلق پڑھا ہو۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ آیوڈین والا نمک دراصل عام نمک ہی ہے جس میں مطلوبہ مقدار میں آیوڈین کے نمک کی آمیزش ہوتی ہے۔

نمک سازی اگریانامی قبائل کا ایک روایتی طریقہ ہے۔ وہ کَچھ کے رَن اور گجرات کے دیگر حصوں میں نمک سازی کرتےہیں۔ وہ نمک سازی کے آٹھ مہینے تک ریگستان کی شدید گرمی میں رہتے ہیں اورسمندر کے پانی سے نمک نکالنے کے لیے سخت محنت کرتے ہیں۔

مزید جانیے!

Screenshot 2025-10-30 172239

آپ ان غذائی اجزا کے بارے میں مزید معلومات کس طرح حاصل کریں گے جو مختلف بیماریوں سے ہمارے جسم کی حفاظت کرتے ہیں؟

سرگرمی 3.4: آئیےایک سروےکرتےہیں

  • مختلف غذائی اجزا کے کام اور ان کے ذرائع کے بارے میں چھان بین کرنے کے لیے شکل 3.5کےچارٹ دیکھیے۔ وٹامنز اورمعدنیات کے مزید ذرائع جانیے۔علاوہ ازیں ان غذائی اجزا کی قلت کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کی علامات کو بھی سمجھیے۔
  • اپنے پڑوس میں جائیے اور لوگوں سے ملاقات کرکےان افراد کی شناخت کیجیے جن کے اندر چارٹ میں مذکور علامات موجود ہیں۔ (طلبا ٹیچر کی رہنمائی میں اسی قسم کے تفتیشی پروجیکٹ پر کام کر سکتے ہیں)
  • ان علامات کو ان کی خوراک کے ساتھ مربوط کیجیے اور قلتی امرا ض /عارضوں کی شناخت کیجیے۔
  • نظر آنے والےعلامات کے ممکنہ اسباب اور ان میں بہتری کے لیے خوراک کی تبدیلیوں کوتجویز کیجیے ۔
  • انھیں مزید مشورے کے لیے کسی ڈاکٹر کے پاس جانے کی صلاح دیجیے۔

غذائی اجزا

(وٹامن /معدنیات)



کام



کچھ ذرائع

قلت کی وجہ سے ہونے والا مرض / عارضہ



علامات

وٹامن A

ہماری آنکھوں اور جلد کو صحت مند رکھتا ہے

پپیتا، گاجر، آم، دودھ

بینائی کا کم ہوجانا

کمزور بینائی، اندھیرے میں بینائی سے محروم ہوجانا (رتوندھی) بعض اوقات مکمل طور پر بینائی سے محروم ہوجانا

وٹامنB1

دل کو تندرست رکھتا ہے اورجسم کو مختلف کام انجام دینے میں مدد کرتا ہے۔

پھلیاں،گریاں،ثابت اناج، بیج ،دودھ کی بنی اشیا

بیری بیری

سوجن، ہاتھ اورپائوں میں جلن،سانس لینے میں دقت

وٹامن C

بیماریوں سے لڑنے میں ہمارے جسم کی مدد کرتا ہے

آملہ، امرود، ہری مرچ،سنترہ، لیموں

اسکروی

مسوڑھوں سے خون بہنا، زخموں کا تاخیر سےبھرنا

وٹامن D

ہڈیوں اور دانتوں کی صحت کے لیے کیلشیم کے انجذاب میں ہمارےجسم کی مدد کرتاہے

سورج کی روشنی (دھوپ)، دودھ،مکھن، انڈے ، مچھلی

ریکیٹس

ہڈیوں کا ملائم اور خم دار ہوجانا

کیلشیم

ہمارے دانتوں اور ہڈیوں کوصحت مند رکھتا ہے

دودھ/سویا دودھ، دہی، چیز، پنیر

ہڈیوں اور دانتوں کا ٹوٹنا

کمزورہڈیاں،دانتوں میں سڑن

آیوڈین

جسمانی اور ذہنی سرگرمی کے لیے معاون ہے

سمندر ی غذا ،سنگھاڑا،

آیوڈین والا نمک

گھینگا

گردن کے سامنے والے حصے میں سوجن

لوہا

خون کا اہم جز ہے

ہرے پتوں والی سبزیاں، چقندر، انار

خون کی کمی(انیمیا)

کمزوری، سانس پھولنا

شکل 3.5 : وٹامنز اورمعدنیات کا چارٹ، ان کا کام ،کچھ ذرائع، متعلقہ بیماریاں/ عارضے اورعلامات

جدول3.5 میں آپ یہ دیکھ چکے ہیں کہ وٹامن( C،B1،Aاور D)اور معدنیات (کیلشیم، آیوڈین اورفولاد) غذائی اجزا کے ایسے دو گروپ ہیں جو مختلف قسم کی بیماریوں سے ہمارےجسم کی حفاظت کرتے ہیں۔ لیکن کوئی شخص وٹامن اور معدنیات کی قلت کی وجہ سے ہونے والے امراض/ عارضوں پر کس طرح قابوپا سکتا ہے؟

Screenshot 2025-10-30 172247

وہ غذائی اجزا جوتوانائی فراہم کرتے ہیں، جسم کی نشوونما اور مرمت میں مدد کرتے ہیں، بیماریوں سے ہمارے جسم کی حفاظت کرتے ہیں اور جسم کے دیگر افعال کو درست حالت میں برقرار رکھتے ہیں مغذیات (nutrients) کہلاتے ہیں۔ہماری غذا کے اہم مغذّیات کاربوہائیڈریٹ، پروٹین، چربی/چکنائی وماٹن اور معدنیات ہیں۔

وٹامن اور معدنیات کو حفاظتی مغذیات بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مغذیات ہمارے جسم کی بیماریوں سے حفاظت کرتے ہیں اور ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔ آپ کے والدین آپ کوباقاعدگی سے دودھ پینے، ہری سبزیاں، پھل اور ثابت اناج کھانے کا مشورہ دیتے رہتے ہیں۔ یہ غذائی اشیا وٹامنوں (شکل 3.5) اور معدنیات سے بھرپور ہوتی ہیں۔ حالاں کہ ہمیں وٹامن اور معدنیات کی بہت معمولی مقدار درکار ہوتی ہے لیکن یہ ہمارے جسم کی صحت کے لیے ضروری ہیں۔

آپ کو کچی/ خام اور پکی ہوئی سبزیوں میں کیا تبدیلیاں نظر آتی ہیں؟کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ پکنے کے بعد بعض اوقات سبزیاں اپنی چمک کھو دیتی ہیں یا نرم اور کم خستہ ہوجاتی ہیں؟ یہ تبدیلیاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ کچھ مغذّیات مثلاًوٹامن Cکھانا پکانے کے دوران بہت زیادہ حرارت کی وجہ سےضائع ہوجاتے ہیں۔ کیا یہ عقل مندی نہیں ہے کہ ہم اپنی خوراک میں کچھ پھلوں اور کچی سبزیوں کو بھی شامل کریں؟ پھلوں او ر سبزیوں کو کاٹنے اور چھیلنے کے بعد دھونے کی وجہ سے بھی کچھ وٹامن ضائع ہو سکتے ہیں۔ لہذا اس بات کی پرزور سفارش کی جاتی ہے کہ سبھی پھلوں اورسبزیوں کو کھانے سے پہلے اچھی طرح سے دھونا چاہیے۔

کیا سبھی مغذّیات ہمیں پودوں اور جانوروں سے حاصل ہوتےہیں۔


نہیں ! میدو،نمک جیسے مغذیات کو سمندر کے پانی یا چٹانوں سے حاصل کیا جاسکتاہے


علاوہ ازیں دھوپ میں ہمارےجسم میں وٹامن Dقدرتی طور پر پیدا ہو سکتا ہے۔

Screenshot 2025-10-30 172255

پھل اور سبزیاں غذائی ریشوں سے بھرپور ہوتی ہیں۔ آئیے دیکھیں کہ غذائی ریشے ہمارے لیے کس طرح مفید ہیں۔

لازمی مغذّیات کے علاوہ ہمارے جسم کو غذائی ریشوں اور پانی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ غذائی ریشے جنھیں رفیج (roughage) بھی کہاجاتا ہے، ہمارے جسم کو کسی بھی قسم کا مغذی فراہم نہیں کرتےہیں۔ مگر یہ غذاکا لا زمی جزو ہیں۔ یہ غیر ہضم غذا سے چھٹکارا پانے میں ہمارے جسم کی مدد کرتا ہے اور فضلہ کے آسان اخراج کو یقینی بناتا ہے۔ رفیج ہماری غذاکا ایسا جزو ہے جو پودوں سے حاصل ہوتا ہے ۔ ہرے پتوں والی سبزیاں، تازہ پھل، ثابت اناج، دالیں اور گریاں رفیج کے عمدہ ذرائع ہیں۔مقامی سطح پر اگائی گئی اورپودوں سے حاصل کی گئی غذا کا استعمال نہ صرف ہمارے جسم کے لیے بلکہ ہمارے ماحول اورسیارے کے لیے بھی اچھا ہے۔

میری دادی کو اکثر اوقات فضلہ خارج کرنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔ مجھے اب سمجھ میں آیا کہ ڈاکٹر نے انھیں زیادہ ریشوں والی غذائیں کھانے کا مشورہ کیوں دیا تھا۔

پانی بھی ہماری خوراک کا ایک لازمی جزو ہے۔ یہ غذا سے مغذّیات کو جذب کرنے میں ہمارے جسم کی مدد کرتاہے۔ یہ فضلات کوپیسنے اور پیشاب کی شکل میں جسم سے باہر نکالتا ہے۔ ہمیں اپنی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے باقاعدگی سے پانی پیتے رہنا چاہیے۔

سوال: غذا کے وہ کون سے ذرائع ہیں جو ہمارےجسم کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ذرائع کی فہرست بنائیے۔


سائنس داں کے بارے میں جانیے

کولوتھرگوپالن (1918-2019) نے ہندوستان میں تغذیہ سے متعلق تحقیق کی شروعات کی۔انھوں نے 500 سے زیادہ ہندوستانی غذائوں کا ان کی تغذیائی قدروں کے لیے تجزیہ کیا اورہندوستان کے سیا ق میں ایک مناسب خوراک کی سفارش کی۔ وہ یہ مانتے تھے کہ ہندوستان جیسے ملک کے لیے اس کا حل فارمیسی میں نہیں بلکہ فارم میں موجود ہے۔ انھوں نے ہندوستانی آبادی کی تغذیاتی نوعیت کے حوالے سے کیے جانے والے سروے کی قیادت کی جس میں پروٹین، توانائی اور دیگر غذائی اجزا میں وسیع پیمانے پر قلت کی نشاندہی کی گئی۔ اس کے نتیجے میں ہمارے ملک کے سرکاری اور سرکاری امداد یافتہ اسکولوں میں متوازن خوراک کی فراہمی کے لیے مڈ ڈے میل اسکیم، پی ایم پوشن کی شروعات کی گئ۔ اس اسکیم نے ملک بھر میں لاکھوں بچوں کی صحت اور تغذیہ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیاہے۔

Screenshot 2025-10-30 172303

3.3 غذا کے مختلف اجزا کی جانچ کیسے کریں؟

آئیے معلوم کریں کہ مختلف غذائی اشیا میں کون سے مغذیات موجود ہوتے ہیں۔

اسٹارچ (ایک قسم کاکاربوہائیڈریٹ) ،چربی اور پروٹین جیسے کچھ مغذیات کی شناخت بہت سادہ نوعیت کی جانچوں کا استعمال کرکے کی جا سکتی ہے جب کہ دیگر مغذیات کی شناخت صرف ایسی تجربہ گاہ میں کی جا سکتی ہے جو عمدہ قسم کے آلات سے آراستہ ہو۔ آئیے دیکھیں کہ ہم کچھ غذائی اشیا میں اسٹارچ ، چربی اور پروٹین کی موجودگی کی شناخت کس طرح کر سکتے ہیں۔


3.3.1 اسٹارچ کی جانچ


سرگرمی 3.5 : آئیے تفتیش کریں

  • کچھ غذائی اشیاجیسے آلو کا ٹکڑا ، کھیرے کا ٹکڑا،بریڈ،ابلے ہوئے چاول، ابلے ہوئے چنے، پسی ہوئی مونگ پھلی، تیل،مکھن اورناریل پائوڈر کی تھوڑی سی مقدار لیجیے۔ آپ جانچ کے لیے دیگر غذائی اشیا بھی لے سکتے ہیں۔
    Screenshot 2025-10-30 172309

    شکل 3.7 : غدائی اشیا میں اسٹارچ کی موجودگی کی جانچ

  • ان میں سے ہر ایک غذائی شے کوالگ پلیٹ میں رکھیے۔
  • غذائی شے پر ڈراپر کی مدد سے ڈائی لیوٹ آیوڈین محلول کے 3-2 قطرے ڈالیے(شکل3.7)۔
  • مشاہدہ کیجیے کہ کیا غذائی شے کے رنگ میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ کیا یہ نیلا-کالا ہوگیا ہے؟ اپنے مشاہدات کو جدول 3.3 میں درج کیجیے۔

نیلا-کالا رنگ اسٹارچ کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔

3.3.2 چربی کی جانچ

سرگرمی 3.6: آئیے تفتیش کریں

  • ان سبھی غذائی اشیا کی تھوڑی مقدارلیجیے جن کی آپ نے اسٹارچ کی موجودگی کے لیےسرگرمی 3.5 میں جانچ کی ہے۔
  • ہر غذائی شے کو الگ کاغذ پر رکھیے۔
  • غذائی شے کو کاغذ میں لپیٹیں اور دبائیں۔ دھیان رہے کہ کاغذ پھٹنے نہ پائے۔
  • اگر کسی غذائی شے میں تھوڑا بہت پانی ہے تو کاغذ کو خشک ہونے دیں۔

کیا کاغذ پر تیل کاکوئی دھبہ نظر آتا ہے؟ آپ کے خیال میں کاغذ پر تیل کی دھبے کی کیا وجہ ہے؟ اگر غذائی شے میں تیل یا مکھن موجود ہے تو یہ کاغذپر چکنائی کا دھبہ چھوڑتا ہے۔ اب کاغذ کو روشنی کے سامنے پکڑیے۔ کیا آپ کو اس دھبے کے اس پار ہلکی سی روشنی نظر آتی ہے؟ کاغذ کے اوپر تیل کا دھبہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ غذائی شے میں چربی موجود ہے۔ ان میں سے کون کون سی غذائی اشیا میں چربی موجودہے؟

اپنے مشاہدات کو جدول3.3 میں درج کیجیے۔

3.3.3 پروٹین کی جانچ

سرگرمی 3.7 : آئیے تفتیش کریں

اس سرگرمی کوٹیچرانجام دے سکتا ہے۔

  • وہ سبھی غذائی اشیا لیجیے جن کی جانچ آپ نے پچھلی سرگرمی میں کی ہے۔
  • اگر جانچ کی جانے والی غذا ٹھوس ہے تو پہلے کھرل (pestle and mortar)کی مدد سےاس کا پیسٹ یا پائوڈر بنائیے (شکل 3.8)۔
  • احتیاطی تدابیر

    • یہ کیمیائی اشیا نقصان دہ ہوتی ہیں لہذا انھیں استعمال کر تے وقت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ان میں سے کسی بھی کیمیائی شے کو اس وقت تک نہ چھوئیں جب تک کہ آپ کو ایسا کرنے کے لیے نہ کہا جائے۔
    • اگر کوئی کیمیائی چیز آپ کے جسم پرگرجاتی ہے توفوراًاس جگہ کو پانی سے دھوئیں۔
    • ان میں سے کسی بھی شے کو اپنے منہ میں نہ رکھیں یا سونگھنے کی کوشش نہ کریں۔
  • ہر غذائی شے کا 1/2 چمچہ الگ الگ ایک صاف ستھری ٹیسٹ ٹیوب میں لیجیے۔
  • اس میں 3-2 چمچے پانی ملائیے او رٹیسٹ ٹیوب کو اچھی طرح ہلائیے۔
  • ہر ٹیسٹ ٹیوب میں ڈراپر کی مدد سے دو قطرے کا پر سلفیٹ محلول کو ملائیے۔
  • اب دوسرا ڈراپر لیجیے اور کاسٹک سوڈ امحلول کے 10قطرے ملائیے (شکل3.8)۔
  • ٹیسٹ ٹیوب کو اچھی طرح ہلائیے اور کچھ دیر کے لیے رکھ دیجیے۔
Screenshot 2025-10-30 172316

آپ نے کیا مشاہدہ کیا ؟ کیا کچھ ٹیسٹ ٹیوب میں مواد کا رنگ بینگنی ہوگیا ؟ یہ بینگنی رنگ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ غذائی شے میں پروٹین موجود ہے۔ اپنے مشاہدات کو جدول 3.3 میں درج کیجیے۔

آپ جدول 3.3 سے کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟ کون سی غذائی شے ایک سے زیادہ مغذیات کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے؟ کون سی غذائی شے پروٹین اور چربی دونوں کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے؟ مونگ پھلی پروٹین اور چربی دونوں کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو غذا ہم کھاتے ہیں اس میں کئی مغذیات ہو سکتے ہیں۔ کیا کوئی غذائی شے ایسی بھی ہے جس کے اندر ان میں سے کوئی بھی مغذی موجود نہیں ہے؟ ان میں سے کون سی غذائیں آپ روزانہ کھاتے ہیں؟ ایسی کچھ اور غذائوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کیجیے جو اسٹارچ، چربی اور پروٹین کا عمدہ ذریعہ ہیں۔

جدول 3.3 : غذائی اشیا میں موجود مغذّیات کی چھان بین

غذائی شے کا نام

اسٹارچ کی جانچ کے لیے غذائی شے کا رنگ

چربی کی جانچ کے لیے
روغنی دھبہ

پروٹین کی جانچ کے لیے غذائی
شے کا رنگ

اسٹارچ موجود ہے

(ہاں/نہیں)

چربی موجود ہے (ہاں/نہیں)

پروٹین موجود ہے

(ہاں/نہیں)

آیوڈین ٹیسٹ سے پہلے

آیوڈین ٹیسٹ کے بعد

پیشن گوئی (ہاں/نہیں)

مشاہدہ(ہاں/نہیں)

پروٹین کی جانچ سے پہلے

پروٹین کی جانچ کے بعد

آلو

کھیرا

ابلے ہوئے چاول

ابلے ہوئے چنے

مونگ پھلی

بریڈ /روٹی

مکھن

ناریل

دیگر


3.4 متوازن خوراک

کیاہر فرد کو ایک ہی قسم کے تغذیہ کی ضرورت ہوتی ہے؟ کیا آپ اور آپ کےاجداد کو ایک ہی قسم کے یا ایک ہی مقدار میں مغذیات کی ضرورت ہے؟ خوراک میں مغذیات کی قسم اور مقدار، عمر، جنس، جسمانی سرگرمی، حالتِ صحت، طرز زندگی وغیرہ کے اعتبار سے مختلف ہو سکتی ہے۔

سرگرمی3.8: ا ٓئیے معلوم کریں

آپ نے سرگرمی 3.1 میں اپنے کھانوں کا ایک چارٹ تیار کیا ہے۔جانچ کیجیے کہ آپ کی نشوونما کے لیےغذا میں سبھی مغذیات اور دیگر لازمی اجزا موجودد ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں ہیں تو اس بات کی جانچ کیجیے کہ کون سے مغذّیات اور دیگر اجزا کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

ایسی خوراک جس میں سبھی مغذیات، رفیح اور پانی مناسب مقدار میں موجود ہوں، متوازن خوراک (balanced diet)کہلاتی ہے۔ اپنی خوراک کو متوازن خوراک بنانے کے لیے آپ اس میں کیا تبدیلی کریں گے؟

سرگرمی 3.9 : آئیے موازنہ کریں

یہاں دکھائے گئے آلو ویفرس اور بھنے ہوئے چنے کے پیکٹ پر درج تغذیاتی معلومات پر غور کیجیے۔

Screenshot 2025-10-30 172323

تغذیاتی معلومات(پرگرام100)

توانائی

536.0 kcal

(کلو کیلوریز)

چربی

35.0 گرام

کاربوہائڈریٹ

53.0 گرام

پروٹین

7.0 گرام

غذائی ریشہ

4.8 گرام

تغذیاتی معلومات(پرگرام100)

توانائی

355 kcal

(کلو کیلوریز)

چربی

6.26 گرام

کاربوہائڈریٹ

58.58 گرام

پروٹین

18.64 گرام

غذائی ریشہ

16.8 گرام

غذائی اشیا کے پیکٹوں پر درج تغذیاتی معلومات کی بنیاد پر آپ کون سی غذا کا انتخاب کریں گے؟کیوں؟

کچھ غذا ئی اشیا میں شکر اور چربی کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے کیلوری بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں ان میں پروٹین، معدنیات، وٹامن اور غذائی ریشے بہت کم مقدار میں ہوتے ہیں۔ اس قسم کی غذائوں کو جنک فوڈ(junk food) کہا جاتا ہے۔ آلو کے ویفر، کینڈی بار اور کاربن آمیز مشروبات اسی قسم کی غذائی اشیا ہیں۔ ایسی غذائوں کا بار بار استعمال اچھا نہیں ہے کیوں کہ یہ ہمارے جسم کے لیے صحت بخش نہیں ہیں۔ یہ فرد کے وزن (موٹاپا) میں ضرورت سے زیادہ اضافہ کر دیتی ہیں، جس کی وجہ سے اس میں صحت سے متعلق بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔آپ کو ڈاکٹر پوشیتا کا یہ بیان ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ’’تندرستی ہزار نعمت ہے‘‘۔ صحت مند رہنے کے لیے ہمیں اپنے جسم کا خیال رکھنا چاہے۔ متوازن خوراک لینا اور جنک فوڈ سے پرہیز کرنا جسم کو
صحت مند رکھنے میں معاون ہیں۔ خوشگوار اورمطمئن زندگی بسر کرنے کے لیے اچھی صحت بہت ضروری ہے۔

سرگرمی 3.9 میں آپ نے جن دو غذائی اشیا کا مطالعہ کیا ہے ان میں سے کسے ’’جنک فوڈ‘‘ کے زمرےمیں رکھا جا سکتا ہے۔

ڈبہ بند غذائی اشیا کے پیکٹ پر مغذیات کے بارے میں معلومات ضرور درج ہونی چاہیے۔ اس معلومات کے تحت ہرمغذی کی مقدار کو درج کیا جانا چاہیے۔ بعض اوقات غذا کے تغذیاتی معیار کو بہتر بنانے کے لیے پروسیسنگ کے دوران (مقوی بنانا)میں زیادہ مغذیات کو شامل کردیا جاتا ہے ۔آیوڈین والا نمک اور بچوں کی غذائیں مقوی غذا کی مثالیں ہیں۔ ہندوستانی مقتدرہ برائے غذائی تحفظ اور معیارات (FSSAI) وہ سرکاری ادارہ ہے جو ہندوستان میں غذا کے معیار کی ضابطہ بندی کرتا ہے۔

مزید جانیے!


3.5 ملیٹس: تغذیہ بخش اناج

Screenshot 2025-10-30 172330

آپ نے جوار، باجرہ اور راگی کے بارے میں سنا ہوگا(شکل 3.9)۔ یہ ہندوستان کی مقامی فصلیں ہیں (شکل 3.9) ۔ ان کی کاشت مختلف آب و ہوا میں بآسانی کی جا سکتی ہے۔ یہ غذائیت سے بھرپور اناج ہیں اور ملیٹس (millets)کہلاتے ہیں۔ کیاآپ نے کبھی ان ملیٹس سے بنی غذائیں کھائی ہیں؟

ملیٹس چھوٹے سائز کے اناج ہیں اور صدیوں سے ہندوستانی غذا کا اٹوٹ حصہ رہے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے کیوں کہ یہ صحت کے لیے بہت زیادہ مفید ہیں۔ یہ وٹامن، آئرن اور کیلشیم جیسے معدنیات اور غذائی ریشوں کا بہترین
ذریعہ ہیں۔ لہذا انھیں تغذیہ بخش اناج (nutri-cereals) بھی کہا جاتا ہے۔ ہمارے جسم کے افعال کی باقاعدگی کے لیے درکار متوازن خوراک میں ان کا اہم تعاون ہے۔


3.6 غذائی میل: کھیت سے ہماری پلیٹ تک

غذا، کھیت سے ہماری پلیٹ تک کس طرح پہنچتی ہے؟ یہ عمل کن مراحل پر مشتمل ہے؟ وہ کون لوگ ہیں جو اس عمل میں شامل ہیں؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ گیہوں کے دانے میں کلے پھوٹنے سے گیہوں کا آٹا حاصل ہونے تک کتناوقت اورمحنت درکارہوتی ہے؟ جوچپاتی ہم کھاتے ہیں اسے بنانے کے مکمل طریقے کو سمجھنے کے لیے آئیے شکل 3.10 پر غور کریں۔

Screenshot 2025-10-30 172336

پیداکار (پروڈیوسر) سے صارف تک گیہوں کے پیکیٹ /تھیلے یا کسی دوسری غذائی شے کے ذریعے طے کیا گیا کل فاصلہ غذائی میل (food miles)کہلاتاہے۔ غذائی میل کو کم کیا جانا بہت اہم ہے کیوں کہ ایسا کرکے لاگت، اور نقل وحرکت کی وجہ سے ہونے والی آلودگی کو کم کیا جا سکتا ہے، اس سے مقامی کسانوں کو مدد ملتی ہے اور ہماری غذا تازہ اور صحت بخش رہتی ہے۔

بہت سے لوگ اپنی پلیٹوں میں کھانا چھوڑکر اسے ضائع کردیتے ہیں۔غذا کو کھیت سے ہماری پلیٹ تک پہنچانے میں ہمارے کسانوں اور معاشرے کے دیگر افراد کے لگائے گئے وقت اور محنت کو ہمیں ضرور یاد رکھنا چاہے۔ ہمیں صرف اتنا ہی کھانا لینا چاہیے جتنا ہم کھا سکیں اور کھانے کی بربادی کو کم کرنا چاہیے۔اس سے غذا کی بربادی کو کم کیا جا سکے گا۔ کھیت سے پلیٹ تک غذا کے پہنچنے میں شامل مختلف عملوں کو شکل 3.10 میں مرحلہ وار دکھا یا گیا ہے۔

مقامی غذا کھانے سے غذائی میل کو کم کرنے میں کس طرح مدد مل سکتی ہے؟

صحت مند غذا کھائیں، غذا میں لوگوں کو شریک کریں اور اس کا احترام کریں، مقامی کسانوں کو تعاون دیں!

Screenshot 2025-10-30 172345

خلاصہ

کلیدی نکات

  • ہندوستان کے مختلف حصوں میں لوگ مختلف اقسام کی غذائیں کھاتے ہیں جو بہت سے غذائی اجزا پر مشتمل ہوتی ہیں۔
  • ہندوستان کے مختلف علاقوں میں کھانے کے طور طریقے اس مخصوص علاقے میں اگائی جانے والی غذائی فصلوں، ذائقے کی ترجیحات، ثقافت اور روایات وغیرہ کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں۔
  • وقت کے ساتھ طباخی کے طریقوں میں تبدیلی آئی ہے۔ کھانا پکانے کے روایتی اور جدید طریقوں کے درمیان بہت زیادہ فرق ہے۔
  • غذا ہمیں نشوونما، جسم کی مرمت اور کام کرنے کے لیے توانائی فراہم کرتی ہے۔
  • ہمارے غذا کے اہم مغذیات کاربوہائیڈریٹ، چربی، پروٹین وٹامن اور معدنیات ہیں ۔اس کے علاوہ غذامیں پانی اور غذائی ریشے بھی ہوتے ہیں۔
  • کاربوہائیڈریٹ اور چربی توانائی کے بنیادی ذرائع ہیں جبکہ پروٹین جسم کی نشونما میں مدد کرنے والے مغذیات ہیں۔
  • وٹامن اور معدنیات ہمارے جسم کو مضبوط بناتے ہیں ، تعدیوں سے بچاتے ہیں اور ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔
  • متوازن خوراک ہمارے جسم کو صحیح مقدار میں وہ تمام مغذیات فراہم کرتی ہے جن کی جسم کو ضرورت ہے۔ ساتھ ہی یہ مناسب مقدار میں رفیج اور پانی بھی فراہم کرتی ہے ۔
  • ہماری غذا میں لمبے عرصے تک کسی ایک یا ایک سے زیادہ مغذیات کی کمی قلتی امراض/ عارضوں کا سبب ہو سکتی ہے۔
  • جنک فوڈ غیر صحت مند غذائیں ہیں کیونکہ ان میں شکر اور چربی زیادہ مقدار میں ہوتی ہے جبکہ پروٹین معدنیات وٹامن اور غذائی ریشے بہت کم مقدار میں ہوتے ہیں۔
  • ملیٹ کو مغذی اناج کے طور پر جانا جاتا ہے کیونکہ یہ تقریباً وہ سبھی مغذیات فراہم کرتے ہیں جو ہمارے جسم کو معمول کے کام انجام دینے کے لیے درکار ہوتے ہیں۔انھیں مختلف موسمی حالتوں میں بآسانی کاشت کیا جاسکتا ہے۔
  • مقامی سطح پر اگائی گئی اورپودوں سے حاصل کی گئی غذا کا استعمال نہ صرف ہمارے جسم کے لیے بلکہ ہمارے ماحول اورسیارے کے لیے بھی اچھا ہے۔
  • کسی غذائی شے کے ذریعے پیداوار کے مقام سے صارف تک طے کیا گیا فاصلہ غذائی میل (food miles)کہلاتا ہے۔ہمارا مقصد غذائی میل کوکم کرنا ہونا چاہیے۔
  • ہمیں کبھی بھی کھانا برباد نہیں کرنا چاہیے ۔ہمیں صرف اتنی مقدار میں کھانا لینا چاہیے جتنا ہم کھا سکیں ۔

آیئے اپنی آموزش میں اضافہ کریں

  1. اس غذائی شے کا انتخاب کیجیے جو باقی سے الگ ہے، وجہ بھی بیان کیجیے۔

(i) جوار،باجرہ، راگی، چنا

(ii) راجما، مونگ، سویابین، چاول

  1. ہندوستان میں طباخی کے روایتی بالمقابل جدید طریقوں پر بحث کیجیے۔
  2. ایک ٹیچر نے کہا کہ اچھی غذا ،دوا کے طور پر کام کر سکتی ہے۔ روی اس بیان سے بہت زیادہ متاثر ہے اور اپنی ٹیچر سے کچھ سوالات کرنا چاہتا ہے۔ کم از کم ایسے دو سوالوں کی فہرست بنائیے جنہیں وہ پوچھ سکتا ہے ۔
  3. ضروری نہیں کہ تمام لذیذ کھانے صحت بخش ہوں جبکہ تمام تغذیہ بخش غذائیں ہمیشہ لذیذ نہیں ہوتیں ۔ چند مثالوں کے ساتھ اپنے خیالات پیش کیجیے۔
  4. مید وسبزیاں نہیں کھاتا ہے لیکن بسکٹ، نوڈلز اور اور وہائٹ بریڈ بہت مزے سے کھاتاہے۔ اسے اکثر معدے کا درد اور قبض کی شکایت رہتی ہے۔ ان مسائل سے نجات پانے کے لیے اسے اپنی خوراک میں کیا ردو بدل کرناچاہیے؟ اپنے جواب کی وضاحت کیجیے۔
  5. ریشما کو کم روشنی میں چیزوں کو دیکھنے میں دشواری محسوس ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر نے اس کی بینائی کی جانچ کی اور ایک مخصوص وٹامن تجویز کیا۔ ڈاکٹر نے اسے خوراک میں چند غذائی اشیا کو شامل کرنے کی بھی صلاح دی ۔

(i) وہ کون سے قلتی مرض میں مبتلا ہے؟

(ii) اس کی خوراک میں کون سے غذائی جزو کی قلت ہے؟

(iii) اس پریشانی سے نجات کے لیےکچھ ایسی غذائی اشیا تجویز کیجیے جنہیں اسے اپنی خوراک میں شامل کرنا چاہیے (کوئی چار)۔

  1. آپ کو درج ذیل چیزیں فراہم کی گئی ہیں۔

(i) ڈبہ بند پھلوں کا رس

(ii) تازہ پھلوں کا رس

(iii) تازے پھل

آپ ان میں سے کس کو ترجیح دیں گے اور کیوں؟

  1. گورو کے پیر کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔ اس کے ڈاکٹر نے ہڈیوں کو جوڑ کر پلاسٹر چڑھا دیاہے۔ ڈاکٹر نے اسے کیلشیم کی گولی بھی دی ہے۔ اگلی مرتبہ جب وہ ڈاکٹر کے پاس گیا تو ڈاکٹر نے اسے کیلشیم کی گولی کے ساتھ وٹامن D سیرپ بھی دیا ۔ جدول 3.5 کو دیکھیےاور مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب دیجیے۔

(i ڈاکٹر نے گورو کو کیلشیم کی گولیاں کیوں دی ہیں ؟

(ii دوسری بار دکھانے پر ڈاکٹر نے کیلشیم کی گولی کےساتھ وٹامن D سیرپ کیوں دیا؟

(iii ڈاکٹر کے دوائوں کے انتخاب کے حوالے سے آپ کے ذہن میں کیا سوال پیدا ہوتا ہے؟

  1. شکر، کاربوہائیڈریٹ کی ایک مثال ہے۔ شکر کی جانچ آیوڈین محلول سے کی جاتی ہے لیکن یہ نیلا-کالا رنگ ظاہر نہیں کرتی ہے۔ اس کا ممکنہ سبب کیا ہو سکتا ہے؟
  2. رمن کا کہنا ہے کہ “سبھی اسٹارچ ،کاربوہائیڈریٹ ہیں لیکن سبھی کاربوہائیڈریٹ اسٹارچ نہیں ہیں۔” آپ اس بیان سے متفق ہیں یا نہیں؟ آپ اپنے جواب کی جانچ کے لیے سرگرمی کا خاکہ کس طرح تیار کریں گے؟
  3. تجربہ گاہ میں آیوڈین کو استعمال کرتے وقت آیوڈین کے چند قطرے مشٹی کے موزوں پر اور چند قطرے ٹیچر کی ساڑی پرگرگئے۔ ساڑی پر گرے ہوئے آیوڈین کا رنگ نیلا -کالا ہوگیا جب کہ موزوں پر ان کے رنگ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس کی ممکنہ وجہ کیا ہو سکتی ہے؟
  4. ملیٹس کو غذا کے سلسلے میں ایک صحت بخش انتخاب کیوں مانا جاتا ہے۔ کیا صرف ملیٹس کھانے سے جسم کی تمام تغذیاتی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں؟ بحث کیجیے۔
  5. آپ کو ایک محلول دیا گیا۔آپ اس کے آیوڈین محلول ہونے کے امکان کی جانچ کس طرح کریں گے؟

مزید آموزش

  • اگلی مرتبہ کریانے کا سامان خریدنے کے بعدمختلف غذائی اشیا کے پیکٹ کھولنے میں اپنی والدہ کی مدد کیجیے۔ کم از کم تین مقوی غذائی اشیاکی تغذیاتی معلومات کا مطالعہ کیجئے اور تجزیہ کیجیے۔
  • ارونا چل پردیش کا اپاتانی قبیلہ اپنی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نمک بناتا ہے جسے ٹیپیو (tapyo)کہا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ کی مدد سے ان کے نمک بنانے کے طریقے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیجیے۔ تصاویر جمع کیجیے اور انہیں چارٹ پیپر پر چسپاں کیجیے۔ اس نمک کو بنانے کے طریقے اور اس کی افادیت کے بارے میں ایک پیراگراف لکھیے۔
  • سبزیاں یا پھل جنہیں کسان نہیں اگاتے ہیں بلکہ وہ جنگل یا آس پاس کے کھیتوں میں قدرتی طور پر اگتی ہیں، انہیں جنگلی اقسام کہا جاتا ہے۔ روایتی طورپر ہندوستان میں بہت سے قبائلی گروہ، ان جنگلی اقسام پر منحصر رہتے ہیں جوان کی غذا کا ایک حصہ ہیں۔مہاراشٹر کی رن بھاجی (ranbhajis)اور ہماچل پردیش کے خوردنی مشروم کے بارے میں پڑھیے۔ کیا آپ اپنے علاقے کی اس طرح کی کسی جنگلی قسم کے بارے میں جانتے ہیں؟ کلاس میں گفتگو کیجیے۔
  • ایسے جنک فوڈ (junk food)کی فہرست بنائیے جنھیں آپ اکثر کھاتے ہیں۔ اپنے دوستوں سے سے بھی اسی قسم کی فہرست تیار کرنے کے لیے کہیں۔ ان فہرستوں کی بنیاد پر اپنے پرنسپل صاحب/ صاحبہ کو ایک خط لکھیے جس میں ان سے اسکول کے احاطے میں جنک فوڈ پر پابندی لگانے کی درخواست کی گئی ہو ۔
    کچھ صحت بخش متبادل تجویزکیجیے۔
  • عمر، جسمانی سرگرمی اور حالت صحت کی بنیاد پر مختلف افراد کی تغذیاتی ضروریات میں تنوع کے متعلق معلومات حاصل کیجیے ۔ اپنے مشاہدات کودرج کیجیے۔ تبادلۂ خیال اورتجزیہ کیجیے۔
  • ایک بارہ سال کے بچے کو متوازن خوراک فراہم کرنے کے لیے چارٹ تیار کیجیے۔ اس چارٹ میں ایسی غذائی اشیا کو شامل کیا جائے جوسستی اور آپ کے علاقے میں آسانی سے دستیاب ہوں۔
Screenshot 2025-10-30 172356