باب 6
ہمارے ارد گرد کی اشیا
(Materials Around Us)
उपादानं भवेत्तस्या (मूषायाः) मृत्तिका लोहमेव च ।
(रसरत्नसमुच्चय-१०.३)
چیزوں کو پگھلانے والی پیالی بنانے میں استعمال کیے جانے والے اجزا مٹی اور لوہا ہیں۔
(راسارتناساموچھچھایا–10.3)
6.1 ہما رے اطراف کی اشیا کا مشاہدہ
گرمی کی چھٹیوں کے بعد گھولن اور شیتا کو اپنی نئی کلاس میں جاکر بے حد خوشی ہوئی۔وہ اپنے کلاس روم میں داخل ہوکر باتیں کرنے لگیں۔’’ آج تم اسکول میں کیالائی ہو؟‘‘ شیتا پوچھتی ہے۔
کچھ دیر بعد اُن کی سائنس ٹیچر میڈم ودیا کلاس میں داخل ہوتی ہیں اور طلبا کے ساتھ بات چیت کرنے لگتی ہیں۔ وہ انھیں کئی چیزوں کی طرف متوجہ کرتی ہیں جن کا استعمال وہ روز مرہ زندگی میں کرتے ہیں۔ وہ پوچھتی ہیں، ’’وہ ایک دوسرے جیسی یا ایک دوسرے سے مختلف کس طرح ہیں؟ وہ کس شکل اور رنگ کی ہیں؟ جب آپ اُنھیں چھوتے ہیں تو آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے؟ کیا اُن میں سے بعض چیزیں دوسری چیزوں کے مقابلے میں زیادہ بھاری ہیں؟‘‘ یہ تمام چیزیں مواد سے بنتی ہےجیسےکاغذ، لکڑی، کپڑا، شیشہ، دھات، پلاسٹک، مٹی وغیرہ۔
کسی چیز کو بنانے میں استعمال کی جانے والی شے کو ’مواد‘(material) کہتے ہیں۔
سرگرمی 6.1: آیئے شناخت کریں
اُن اشیا کی فہرست بنایئے جو آپ اپنے اطراف میں دیکھتے ہیں اور جدول 6.1 میں اُن موادوں کے نام بھی لکھیے جن سے وہ بنائی گئی ہیں۔
جدول 6.1: مواد کی شناخت کیجیے
|
میں مشاہدہ کرتاہوں |
مواد جن سے وہ بنے ہیں |
روز مرہ مشاہدے کی بنیاد پر ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ چیزیں مختلف قسم کے مواد سے بنی ہوتی ہیں۔
برصغیر ہندمیں پائے جانے والے ظروف سازی کے فن کی تاریخ 7000 سے 8000 سال پہلے کے گنگا کے میدان (لہورا دیو) اور بلوچستان (مہرگڑھ) سے ملتی ہے۔ تقریباً 4000قبل مسیح کے بعد سے سندھ سراوستی کے کئی میدانی علاقوں میں چاک پر بنائے گئے برتنوں، ان کو رنگنے، رنگ برنگی حفاظتی یا آرائشی تہیں (جنھیں ’سلپس‘ کہتے ہیں) لگانے، آرائشی مصوری وغیرہ کے استعمال کو فروغ ملا۔
سندھ-سراوستی تہذیب(1900-2800قبل مسیح) کے دوران ان طریقوں کی مزید ترقی ہوئی جب اقلیدسی نمونوں نیز پانی اور خشکی کے جانوروں کی تصویر کشی کرکے سیاہ رنگ کے ڈیزائنوں میں چمک دار سرخ سطح کو رنگا جانے لگا۔ برتن، پلیٹیں، قابیں اور دیگر چیزیں بنانے کے لیے استعمال کی جانے والی مٹی کو احتیاط سے منتخب کیا، چھانا اور گوندھا جاتا تھا۔ اسے چاک پر چڑھایا جاتا اور اخیر میں بھٹی میں پکایا جاتا تھا۔ (پکائی گئی مٹی کو ٹیرا کوٹا کہتے ہیں)۔ مٹی کے برتن کھانا پکانے سے لے کر غذائی اجناس تیل، گھی وغیرہ کو محفوظ کرنے تک مختلف کاموں میں استعمال کیے جاتے تھے۔ بعض بہت بڑے ذخیرے کے مرتبان اور ظروف سازی کی دیگر اشیا نیشنل میوزیم نئی دہلی میں نمائش پر رکھی گئی ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
آیئے موادوں کی مزید چھان بین کریں۔
6.2 موادوں کی زمرہ بندی کیسے کریں؟
سرگرمی 6.2: آیئے زمرہ بندی کریں
- کسی بھی عام خصوصیت مثلاً شکل، رنگ، سختی، نرمی، چمک، مدھم رنگت اجزا جن کے وہ بنے ہیں، وغیرہ کی بنیاد پر شکل 6.1 میں دکھائی گئی اشیا کی زمرہ بندی کیجیے۔
- سرگرمی 6.2 میں اشیا کی زمرہ بندی کے لیے آپ نے اجزائے ترکیبی کی کس خصوصیت کو کام میں لیا؟
- کیا آپ کے دوست نے یکساں خصوصیات کی بنیاد پر اشیا کی زمرہ بندی کی؟
- آپ نے اس سرگرمی سے کیا سیکھا؟
آپ نے غور کیا ہوگا کہ ایک شے مختلف اجزا سے بنائی جاسکتی ہے اور بعض اجزا کو ایک سے زیادہ چیزیں بنانے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اشیا کو مجموعوں کی شکل میں ترتیب دینے کو درجہ بندی(classification) کہا جاتا ہے۔ اشیا کی درجہ بندی ان میں پائی جانے والی مشترک خصوصیات کی بنیاد پر کی جاسکتی ہیں۔
اسی طرح ہم اجزا کی درجہ بندی بعض خصوصیات کی بنیاد پر کرسکتے ہیں۔
سرگرمی 6.3: آیئے سوچیں
آیئے اس کے بارے میں سوچیں کہ گلاس بنانے کے لیے ہم کون سے مواد استعمال کرسکتے ہیں۔ شکل 6.2 میں دی گئی جگہ میں ان اجزائے ترکیبی کے نام بھریے۔
گلاس بنانے کے لیے ہمیں جن اجزا کی ضرورت ہے وہ ایسی ہونی چاہیے جن میں پانی رک سکے۔
یہ کس بات سے طے ہوتا ہے کہ کوئی ایک چیز بنانے کے لیے کون سے اجزا استعمال کیے جائیں۔ ہم کوئی ایک چیز بنانے کے لیے اجزا کا انتخاب ان کی خصوصیات اور اُس مقصد کی بنیاد پر کرتے ہیں جن کے لیے وہ استعمال
کی جائے گی۔
ہم کسی چیز کے مختلف حصے بنانے کے لیے الگ الگ اجزا کا استعمال کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر قلم مختلف اجزا کا بنا ہوسکتا ہے جیسے پلاسٹک، دھات اور روشنائی۔
سرگرمی 6.4: آیئے چھان بین کریں
شکل 6.3 میں یکساں حجم کی مختلف گیندوں کی تصویر دی گئی ہے لیکن وہ مختلف اجزا کی بنی ہوئی ہیں۔
- ہر گیند کو لے کر اُسے مقررہ اونچائی سے گرائیں۔
- اُس اونچائی کوجدول 6.2 میں درج کریں جس تک وہ ٹپا کھاتی ہے۔
- اُس گیند کی پہچان کیجیے جو سب سے زیادہ اونچائی تک ٹپا کھاتی ہے۔
جدول 6.2: گیندوں کے ٹپا کھانے کی سطح
|
گیند |
ٹپا کھانے کی سطحیں (بلند، متوسط، کم) |
|
ٹینس گیند |
|
|
کرکٹ گیند |
|
|
ہاتھوں کی ورزش کی گیند |
|
|
کوئی دیگر |
کلاس میں اسپورٹس گیندوں کی دیگر خصوصیات پر تبادلۂ خیال کیجیے مثلاً حجم، رنگ، بناوٹ، ٹپا کھانے کی اونچائی اور یہ سمجھیں کہ کسی مخصوص اسپورٹس کے لیے ہرگیند مخصوص اجزا سے کیوں بنائی جاتی ہے۔شکل 6.4 کا مشاہدہ کرکے اشیا کی جتنے مختلف طریقوں سے ممکن ہو زمرہ بندی کیجیے۔
ہوسکتا ہے آپ نے ان اشیا کی زمرہ بندی اُن کی شکلوں،رنگوں یا اجزا کے مطابق کی ہو جن سے وہ بنے ہیں۔
ہم نے یہ دیکھا کہ اجزا کی زمرہ بندی ان کی خصوصیات کی بنیاد پر کی جاسکتی ہے۔
مثال کے طور پر مطبخ میں ہم عموماً چیزوں کو اس طریقے سے اکٹھا رکھتے ہیں کہ ایک ہی طرح کے برتن ایک جگہ پرایک ساتھ رکھے جاتے ہیں۔ جس طرح کوئی کریانہ فروش عموماً تمام اقسام کے مسالے ایک کونے میں اور دالیں اور اناج دوسرے کونے میں رکھتا ہے اور اسی طرح دیگر چیزیں۔ آپ کسی بھی دوا فروش کی دکان پر جاکر معلوم کریں کہ دوائیں کس طرح ترتیب سے رکھی جاتی ہیں۔
6.3 اجزا کی مختلف خصوصیات کیا ہیں؟
آیئے اجزا کی بعض مزید خصوصیات جانیں۔
6.3.1 اجزاکی ظاہری بناوٹ کا مشاہدہ اور اُن کی شناخت کیجیے
اجزا اکثر ایک دوسرے سے مختلف نظر آتے ہیں۔ تازہ کٹی ہوئی غیر پالش شدہ شکل کی لکڑی نمایاں اور لوہے سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ اسی طرح لوہا تانبے یا المونیم سے مختلف نظر آتا ہے۔ تاہم لوہا، تانبہ اور المونیم میں بعض مماثلتیں ہوسکتی ہیں جو انھیں لکڑی سے مختلف بناتی ہیں۔
اب آیئے چھنٹائی کی آزمائش سے گزریں! کاغذ یا گتے، لکڑی، چاک، تانبے کےتار، المونیم فوائل، اسٹیل، کانسہ اور پیتل وغیرہ سے بنی ہوئی کسی چیز کے مختصر ٹکڑے جمع کیجیے۔ ان پر ایک نظر ڈالیے۔ جب ان پر روشنی پڑتی ہے تو کیا ان اجزا میں سے کوئی جزو چمکتا ہے۔ نوٹ بک میں ان کی بناوٹ، رنگ اور کن ہی قابل غورخصوصیات کا مشاہدہ درج کیجیے۔ ظاہری شکل کی بنیاد پر ان کی زمرہ بندی کیجیے۔
جن اجزا کی سطح مخصوص چمک والی ہوتی ہے ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی ظاہری شکل چمک دار (lustrous)ہے۔ چمک والے اس طرح کے اجزا عموماً دھات ہوتے ہیں۔ دھاتوں کی مثالوں میں لوہا، تانبہ، جست، المونیم، سونا وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم ہوا اورنمی کے اثر کی وجہ سے بعض دھاتیں اپنی چمک کھوسکتے ہیں اور مدھم اور غیر چمک دار لگنے لگتی ہیں۔ نتیجتاً ہمیں اکثر ان کی تازہ کٹی ہوئی سطحوں پر ہی چمک دکھائی دیتی ہے۔ غیر چمک دار اجزا وہ ہوتے ہیں جن کی سطح پر چمک نہ ہو۔ غیر چمک دار اجزا کی بعض مثالیں کاغذ، لکڑی، ربر، جوٹ وغیرہ ہیں۔
پرانی کہاوت ہے کہ ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی۔ وہ تمام اجزا جو چمکنے والے ہوں دھات نہیں ہوتے ۔ بعض اجزا کی سطح کو پالش کرکے چمک دار بنایا جاتا ہے جب کہ بعض دیگر پر پلاسٹک، موم یا کسی ایسے اجزا کی پرت چڑھائی جاتی ہے جن سے وہ چمک دار نظر آتے ہیں۔ یہ شاید دھات نہ ہوں۔
6.3.2 کون سے اجزا سخت ہوتے ہیں؟
جب آپ اپنے ہاتھوں سے مختلف اجزا کو دباتے ہیں تو اُن میں سے بعض مثلاً پتھر اتنے سخت ہوتےہیں کہ دبائے نہ جاسکیں جب کہ دیگر، جیسے ربر، آسانی سے دبائے جاسکتے ہیں۔ دھات کی چابی لے کر اس سے لکڑی، المونیم، پتھر کے ٹکڑے، ناخن ، موم بتی، چاک، یا کسی دیگر چیز کی سطح پر کھرچیے۔ کیا بعض اجزا دوسروں کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے کھرچے جاتے ہیں؟ وہ اجزا جو آسانی سے کھرچے یا دبائے جاسکیں، نرم ہوتے ہیں، جب کہ دیگر اجزا جن کا دبایا یا کھرچا جانا مشکل ہو، سخت ہوتے ہیں۔ تاہم یہ خصوصیات تقابلی نوعیت کی ہیں۔ مثال کے طور پر ربر اسپنج سے زیادہ سخت لیکن لوہے کے مقابلے میں زیادہ نرم ہوتاہے۔
سرگرمی 6.5: آیئے مشاہدہ کریں
جدول 6.3 میں دی گئی چیزوں کو اپنے ہاتھ میں پکڑ یے ۔محسوس کیجیے کہ کیا وہ چیزیں سخت ہیں یا نرم اور وہ کن اجزا سے بنی ہیں۔ اپنے مشاہدات جدول6.3 میں درج کیجیے۔
- اپنے مشاہدات کا موازنہ اپنے دوست کے مشاہدات سے کرکے تبادلہ ٔخیال کیجیے۔
جدول 6.3: سخت یا نرم چیزیں اور اُن کے اجزائے ترکیبی
|
اشیا |
سخت/نرم |
اجزا |
|
اینٹ |
سخت |
پکائی ہوئی مٹی |
|
پانی کی بوتل |
||
|
تکیہ |
||
|
گلاس |
||
|
میز |
||
|
سویٹر |
||
|
کوئی دیگر |
آپ جان چکے ہیں کہ اجزا کی مختلف خصوصیات ہوسکتی ہیں۔ جیسے چمک، سختی، نرمی، شکل اور رنگ۔ کیا آپ دیگر خصوصیات کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جو اجزا کو بیان کرتی ہیں؟ آیئے ہم مزید چھان بین کریں۔
6.3.3 ان اجزا کی چھان بین کریں، جن کے آر پار ہم دیکھ سکتے ہیں یانہیں دیکھ سکتے
گھولن، شیتا اور سارا اپنے دوستوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔گھولن ایک دیوار کے پیچھے چھپ جاتی ہے۔ شیتا باغ میں ایک بڑے درخت کے پیچھے چھپتی ہے اور سارا کھردرے شیشے والے دروازے (جس کی سطح دھندلی ہے) کے پیچھے چھپ جاتی ہے۔ شیتا کا بھائی گھر میں شیشے کی کھڑکی سے یہ سارے واقعات دیکھ رہاہے۔
وہ اجزا جن کے آر پار تمام چیزیں دیکھی جاسکیں، شفاف (transparent) کہلاتی ہیں۔ شیشہ، پانی، ہوا، سیلوفین کاغذ وغیرہ شفاف اجزا کی مثالیں ہیں۔
گھولن، شیتا اور سارانے چُھپنے کے لیے ان جگہوں کا انتخاب کیوں کیا؟
کیا آپ کے خیال میں شیتا کا بھائی گھر کی بند لکڑی کی کھڑکیوں سے شیتا اور اُس کے دوستوں کو دیکھ سکتا تھا؟
ایسے کئی اجزا ہیں جن کے آر پار آپ دیکھ نہیں سکتے۔ ان اجزا کو غیر شفاف (opaque) کہا جاتا ہے۔ لکڑی، گنا اور دھاتیں غیرشفاف اجزا کی مثالیں ہیں۔
جن اجزا کے آر پار اشیا کو دیکھا جاسکتا ہے، لیکن واضح طور پرنہیں، انھیں نیم شفاف (translucent) کہتے ہیں۔بٹر پیپر، ٹشو پیپر اور کھردرے شیشے نیم شفاف اجزا کی مثالیں ہیں۔
شکل 6.5 کو دیکھیے۔ گھولن(A)، شیتا (B)، سارا (C) اور شیتا کا بھائی (D) کے استعمال کیے گئے اجزا کو پہچان کر اُن کی نوعیت کا لیبل لگایئے۔
سرگرمی 6.6: آیئے اشیا کی زمرہ بندی کریں
جدول 6.4 میں مندرجہ ذیل اشیا کی زمرہ بندی شفاف، نیم شفاف غیرشفاف کے طور پر کیجیے۔
جدول 6.4: اشیا کی درجہ بندی
|
شفاف |
نیم شفاف |
غیرشفاف |
کیا پانی شفاف ہوتا ہے؟کیا اُسےغیرشفاف بنایا جاسکتا ہے؟
6.3.4 پانی میں کیا چیز حل پذیر ہے، کیا نہیں ہے؟
کھیلنے کے بعد گھولن جب شام کو گھر آیا تو اُسے پسینہ آرہا تھا۔ اُسے تھکن اور پیاس محسوس ہو رہی تھی۔ گھولن کی ماں نے ایک چمچ شکر، ایک چٹکی نمک ایک گلاس پانی میں ملاکر شکنجی (لیمونیڈ) بنائی اور اسے پلا دی۔
گھولن نے دیکھا کہ جب اُس کی ماں چینی اور نمک پانی میں ملا رہی تھی تو کچھ ہی دیر میں نمک اور چینی غائب ہوگئے۔
آیئے اس کی چھان بین کے لیے ایک سرگرمی آزمائیں کہ جب ہم مختلف اجزا کو پانی میں گھولتے ہیں تو وہ کس طرح کام کرتے ہیں!
سرگرمی 6.7: آیئے چھان بین کریں
- کچھ چینی، نمک، چاک پاوڈر، ریت اور لکڑی کا برادہ جمع کیجیے۔
- پانچ گلاس لے کر اُن میں دو تہائی پانی بھر دیجیے۔
- پہلے گلاس میں ایک چائے کے چمچ بھر پانی، دوسرے میں نمک، تیسرے میں چاک پائوڈر، چوتھے میں ریت اور پانچویں میں لکڑی کا برادہ ڈالیے۔
- ہر گلاس میں کیا ہوگا اس کی پیشین گوئی کیجیے۔
- ہر گلاس کی اشیا کو اچھی طرح ملانے کے لیے چمچ کا استعمال کیجیے۔
- چند منٹ انتظار کرکے غور سے دیکھیے کہ کیا ہوتا ہے۔
- اپنے مشاہدے کو جدول 6.5 میں لکھیے۔
جدول 6.5 : پانی میں مختلف اجزا کو گھولنا
|
اشیا |
پیشین گوئی |
مشاہدہ |
|
پانی میں غائب ہوجائے گا / پانی میں غائب نہیں ہوگا |
پانی میں غائب ہوگیا / پانی میں غائب نہیں ہوا |
|
|
چینی |
||
|
نمک |
||
|
چاک پائوڈر |
||
|
ریت |
||
|
لکڑی کا برادہ |
||
|
کوئی دیگر |
شاید آپ نے غور کیا ہوگا کہ بعض اجزا پانی میں مل کر مکمل طور پر غائب ہوجاتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ اجزا پانی میں گھل جاتے ہیں یا وہ پانی میں حل پذیر (soluble) ہیں (شکل6.6a)۔ بعض اجزا پانی میں نہیں گھلتے اور دیر تک ہلانے کے بعد بھی پانی میں غائب نہیں ہوتے۔ ان اجزا کو غیر حل پذیر (insoluble)کہا جاتا ہے (شکل 6.6b)۔پانی ہمارے جسم کے فعل میں اہم کردار ادا کرتا ہے کیوں کہ یہ بڑی تعداد میں اجزا کو حل کرسکتا ہے۔
کیا پانی میں ڈالی گئی ہرشے غائب ہوجاتی ہے؟
اپنا او آر ایس خود بنائیں!
اورل ری ہائڈریشن سولیوشن (ORS) اسہال یا دیگر بیماری کی وجہ سے پانی کی کمی کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ استعمال کے لیے تیارORS پیکٹ بنیادی صحت مراکز اور بازار میں بھی دستیاب ہیں۔ ہر پیکٹ ایک لیٹر پانی میں گھول کر استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر یہ دستیاب نہ ہوں توORS گھر پر 6 چائے کے چمچ کے برابر چینی اور آدھا چمچ عام نمک ایک لیٹر ٹھنڈے یا اُبلے ہوئے پانی میں ملاکر تیار کیا جاسکتا ہے۔
بعض رقیق پانی میں پوری طرح حل ہوجاتے ہیں۔ بعض دوسرےرقیق پانی میں حل نہیں ہوتے اور کچھ وقت تک باہر رکھے رہنے پر ایک الگ پرت بناتے ہیں۔ اسی طرح بعض گیسیں پانی میں حل پذیرہوتی ہیں اور دوسری گیسیں حل پذیر نہیں ہوتیں ،مثلاً پانی میں حل پذیر آکسیجن گیس ۔یہ پانی میں رہنے والے حیوانوں اور پودوں کے لیے بہت ضروری ہے۔
6.3.5 کتنی بھاری یا ہلکی
سرگرمی 6.8: آیئے پیمائش کریں
- آیئے تین یکساں کاغذ کے کپ (یا پیالے) لیجیے۔ ہرکپ کو آدھے حصے تک فراہم کردہ اشیا سے بھریے۔
- ایک میں پانی بھر کر اُس پر‘A’ کے طور پر نشان لگایئے۔ دوسرے میں ریت بھر کر اُس پر ‘B’کے طور پر نشان لگایئے۔ تیسرے میں کنکریاں بھر کر اس پر‘C’ کے طور پر نشان لگایئے۔
- پیشین گوئی کیجیے کہ کون سا کپ نسبتاً زیادہ بھاری اور کون سا نسبتاً ہلکا ہوگا؟
- ترازو کی مدد سے ہر پیالے کا وزن تولیے (شکل 6.7) اور اپنی نوٹ بک میں ریڈنگ درج کیجیے۔
- معلومات کا موازنہ کیجیے اور قیاس لگایئے کہ کون سا نسبتاً زیادہ بھاری یا زیادہ ہلکا ہے۔
سرگرمی 6.8 سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کوئی بھی چیز جو نسبتاً زیادہ بھاری یا زیادہ ہلکی ہو اُس کی پیمائش ایک خصوصیت سے کی جاسکتی ہے جسے کمیت (mass) کہتے ہیں۔
وہ چیز جو نسبتاً زیادہ بھاری ہے اُس کی کمیت زیادہ ہوگی اور جو نسبتاً ہلکی ہے اُس کی کمیت کم ہوگی۔
کمیت کے لیے بعض اوقات لفظ وزن کا استعمال کیا جاتا ہے کیوں کہ اس کا تعین تول کر ہی کیا جاتا ہے ۔آپ بڑی کلاسوں میں کمیت اور وزن اور ان کی مماثلت کے بارے میں جانیں گے۔
6.3.6 جگہ اور حجم
اگلے دن میڈم وِدیا کلاس میں داخل ہوتی ہیں۔ سبھی طلبا اُن کے استقبال کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ وہ بھی جواب میں خیر مقدمی الفاظ بولتے ہوئے کہتی ہیں ’’براہ کرم اپنے بستے اپنی نشستوں پر رکھ کر بیٹھ جایئے۔‘‘ طلبا نہیں بیٹھ سکتے کیوں کہ بستے اُن کی نشستوں پر رکھے ہوئے تھے۔ میڈم ودیا پوچھتی ہیں ’’آپ بیٹھ کیوں نہیں رہے ہیں؟‘‘ پوری کلاس جواب دیتی ہے کہ بیٹھنے کی کوئی جگہ نہیں ہے کیوں کہ بستوں نے جگہ گھیر لی ہے۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے میڈم وِدیا یکساں شکل والے دو گلاس طلبا کو دے کر اُنھیں یہ ہدایت دیتی ہیں کہ وہ اپنی بوتلوں میں سے بچے ہوئے پانی کو متعلقہ گلاس میں انڈیلیں۔ گلاس میں پانی انڈیلنے پر طلبا یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ ایک گلاس آدھا پانی سے بھرا ہوا ہے (تصویر 6.8a) جب کہ دوسرا مکمل طور پر پانی سے بھرا ہوا ہے (تصویر 6.8b)۔
دونوں گلاسوں میں پانی کی سطح مختلف کیوں ہے؟
میڈم ودیا نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں گلاسوں کی گنجائش یکساں ہے۔ پانی کی سطح دونوں حالتوں میں مختلف ہے، جس سے ظاہر ہے کہ ہرگلاس میں پانی کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔
پہلے گلاس میں پانی کم جگہ گھیرتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس برتن میں پانی کی مقدار دوسرے گلاس کے پانی سے کم ہے۔ جتنی جگہ پانی نے گھیر رکھی ہے وہ پانی کے حجم (volume)کو ظاہر کرتی ہے۔
آپ نے مختلف سائزوں کی پینے کے پانی کی بوتلیں دکانوں میں بکتی دیکھی ہوں گی۔ کیا آپ نے اُن پر200mL، 500mL،1L وغیرہ خالص مقدار کے طو رپر لکھا دیکھا ہے؟ یہ الفاظ بوتلوں میں پانی کے حجم کو ظاہر کرتے ہیں۔
اب آپ اشیا کی کئی خصوصیات کے بارے میں جانتے ہیں۔ تاہم تمام اشیا میں یہ تمام خصوصیات
نہیں ہوتیں۔
کیا کچھ ایسی خصوصیات ہیں جو تمام چیزوں یا اجزا میں ظاہرہوتی ہوں؟ اگر ہاں تو وہ کون سی ہوسکتی ہیں؟
6.4 مادّہ کیا ہے؟
کمیت اورحجم ایسی دو خصوصیات ہیں جو تمام چیزوں میں ظاہر ہوتی ہیں۔ کیا ہم کسی چیز کو ،جس میں یہ دو خصوصیات ہوں، ایک عمومی نام دے سکتے ہیں؟
کوئی چیز جو جگہ گھیرے اور کمیت رکھتی ہو اُسے مادّہ (matter) کہا جاتا ہے۔ کمیت مادے کی مقدار بتاتی ہے اور اس کی پیمائش گرام (g) اور کلو گرام (kg) کی اکائیوں میں کی جاتی ہے۔ مادہ جو جگہ گھیرتا ہے وہی اس کا حجم ہے۔حجم کی پیمائش لیٹر (L) اور ملی لیٹر (mL) میں کی جاتی ہے۔
اکائیوں کے بین الاقوامی نظام میں کلو گرام کمیت کی اکائی ہے۔ کلو گرام کو مختصرًا kg لکھا جاتا ہے۔ kاورg کے درمیان خالی جگہ نہیں ہے اور جملے کے خاتمے کے علاوہ اس علامت کے بعد وقفہ نہیں لگایا جاتا۔ عدد اور (ہندسی قدر) اور اکائی کے درمیان ہمیشہ ایک حرف کے برابر خالی جگہ چھوڑیں۔ مثلاً اگر ہمیں 7 کلو گرام کی کمیت ظاہر کرنی ہے تو اسے 7kg لکھا جائے گا نہ کہ 7kgs۔
اسی طرح لیٹر کا مخفف انگریزی کا بڑا حرف Lہے اور ملی لیٹر کا مخفف mLہے۔ mاور L کے درمیان کوئی خالی جگہ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے پاس 500mL ملی لیٹر پانی ہے تو اسے 500mL کےطور پر لکھا جائے گا۔ mچھوٹا ہوگا اور L بڑا۔ SI نظام میں حجم کی اکائی مکعب میٹر ہے اور اس کا مخففm3 مقرر کیا گیا ہے۔ مکعب میٹر کی نشاندہی کرنے کے لیے اس مخفف کے اوپر 3 چڑھا کر لکھ دیا جائے گا۔ مثلاً اگر آپ کے پاس کسی چیز کی مقدار2 مکعب میٹر ہے تو اسے 2m3کے طور پر لکھا جائے گا۔ہمیشہ عدد (ہندسی عدد) اور اکائی کے درمیان ایک حرف کی خالی جگہ چھوڑنی ہے۔1m3 = 1000 L
کیا آپ جانتے ہیں؟
کیا ہمارے اطراف کی تمام اشیا کو مادے کی مختلف مثالیں سمجھا جاسکتا ہے؟ اس پر اپنے دوستوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیجیے۔
مثلاً پانی مادہ ہے ،ریت اور کنکریاں مادہ ہیں اور کپ بھی مادہ ہے۔
مواد مادے کی وہ اقسام ہیں جن کا استعمال اشیا کی تخلیق یا اُنھیں بنانے میں کیا جاتا ہے۔
ہمیں معلوم ہوا کہ مواد مختلف نظر آتے ہیں اور ان کے مزاج الگ الگ ہوتے ہیں۔ ہم نے مواد کی خصوصیات میں مماثلتوں اور فرق کی بنیاد پر اُن کی
زمرہ بندی کی۔
ہمیں زمرہ بندی مفید لگتی ہے کیوں کہ اس سے ہمیں اشیا کی خصوصیات کے مطالعے اور مشاہدے میں مدد
ملتی ہے۔ ہم انسان نہ صرف اشیا بلکہ چٹانوں، پودوں اور جانوروں کی بھی زمرہ بندی کرتے رہتے ہیں۔ ہم جانداروں کی دنیا میں تنوع کے باب میں جانداروں کی دنیا کی زمرہ بندی کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ بالکل جانداروں کی دنیا کی طرح ہی غیر جانداروں کی دنیا کی زمرہ بندی بھی اُن کی خصوصیات کی بنیاد پر جاتی ہے۔
کیا آپ اس بارے میں سوچ سکتے ہیں کہ پلاسٹک کی ایجاد سے انسانوں میں کیا تبدیلی آئی ہے؟ یہ نعمت ہے یازحمت؟
اس پر غور کیجیے!
زمرہ بندی کا ایک ملتا جلتا نظام قدیم ہندوستان میں بھی موجود تھا لیکن وہ ذرا مختلف تھا۔ ’آیوروید‘ ایک ہندوستانی طبی نظام میں بھی اشیا کی زمرہ بندی کا نظام پایا جاتا ہے۔
गु मन्द हिम स्निग्ध श्लक्ष्ण सान्द्र मृदु स्थिराः|
गुणाः ससूक्ष्म विशदा: विंशतिः स विपर्ययाः||
((اشٹنگ ہردے سوتر استھان 1-18))
اس شلوک میں 20 خصوصیات (گُن مقابل خصوصیات کے 10 جوڑے)کی بات کہی گئی ہے جن کا استعمال آیورویدمیں تمام طبیعی مادوں کی وضاحت کے لیے کیا جاتا ہے۔ ان خصوصیات کا استعمال جانداروں کے تمام نظاموں، نباتات، حیوانات اور انسان، ماحولیات اور غذا کے بارے میں وضاحت کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔
یہ خصوصیات ہیں:
- گرو (بھاری) لگھو (وزن میں ہلکی)
- مند (سست) تِکشنا(پھرتیلا، تیز رفتار)
- ہِم (سرد) اُشن(گرم)
- اسنِگدھ (چکنا) روکش(خشک)
- سَلَکشنا (ہموار) کھار(کھردرا)
- ساندر (ٹھوس) دَرَو(رقیق)
- مرِدو (نرم) کٹھِن(سخت)
- اسِتھر (مستحکم) کھال(متحرک، غیر مستحکم)
- سوٗکشم (باریک، مختصر) استھٗول(بڑا، مجموعی)
- وسَاد(غیرچپچپا) پِچھّل(چپچپا)
خلاصہ
کلیدی نکات
- اشیا بہت سے مختلف اقسام کے مواد سے بنائی جاتی ہیں۔ کوئی چیز صرف ایک مواد سے یا مختلف مواد کو ملا کر بنائی جاسکتی ہے۔
- ہم ایک ہی طرح کے کام کرنے والی اشیا بنانے کے لیے مختلف قسم کے مواد استعمال کرسکتے ہیں۔
- اشیا کومجموعوں میں تقسیم کرنے کے عمل کو زمرہ بندی کہتے ہیں۔
- مواد مختلف خصوصیات رکھتے ہیں جو اُن کے استعمال کا تعین کرتے ہیں۔
- مواد کی درجہ بندی ان خصوصیات میں یکسانیت یا فرق کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔
- مواد کی زمرہ بندی ظاہری شکل مثلاً چمک دار اور غیر چمک دار کی بنیاد پر نیز احساس مثلاً سخت یا نرم کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔
- ہم اشیا کے پار کتنا دیکھ سکتےہیں، اس بنیاد پر ان کی درجہ بندی شفاف، نیم شفاف اور غیر شفاف کے طور پر کی جاتی ہے۔
- بعض مواد پانی میں حل پذیر اور دوسرے غیر حل پذیر ہوتے ہیں۔
- جوبھی چیز جگہ گھیرتی ہے اور کمیت رکھتی ہے اُسے مادہ کہتے ہیں۔
- مادہ جو جگہ گھیرتا ہے وہ اس کا حجم کہلاتا ہے۔
- کمیت کسی چیز میں موجود مادے کی مقدار کا تعین کرتی ہے۔
آؤ کھیلیں
- ساتھی تلاش کیجیے
باہم مربوط الفاظ کے درمیان تیر کا نشان لگا کر مندرجہ ذیل الفاظ کو ملایئے۔
لوہا
شفاف تانبہ
ٹھوس بوتل
پلاسٹک چمک دار
لکڑی غیرشفاف
شیشہ
2. بے ترتیب الفاظ میں سے صحیح لفظ منتخب کیجیے
اس باب سے چمک دار، مدھم، حل پذیر، غیر حل پذیر، سخت، نرم، مادہ، کمیت، شفاف، غیرشفاف ،حجم ، نیم شفاف جیسی بارہ اصطلاحات منتخب کی گئی ہیں۔
گرڈ(Grid)
- طلبا کو گرڈ میں دی گئی فہرست میں سے نوالفاظ کا بے ترتیب انداز میں انتخاب کرکے انھیں لکھنا ہے۔
- اُس کے بعدتسہیل کارہر لفظ کی توضیح یا خودلفظ کو(بے ترتیبی سے)پڑھتا ہے۔
- طلبا کو اس پر نشان لگانا ہے کہ کیا کوئی مخصوص لفظ خانے کے اندر موجود ہے۔
- جو بھی سب سے پہلے نوالفاظ پر نشان لگا لیتا ہے وہ آواز لگائے گا ‘ہُرّے!’۔ اگر تمام الفاظ پر درست نشان لگا ہوگا تو وہ طالب علم فاتح ہوگا۔
آیئے اپنی آموزش میں اضافہ کریں
- اپنے مطبخ میں جاکر اس کا مشاہدہ کریں کہ آپ کے والدین نے کس طرح کھانے پینے کا سامان منظم طریقے سے رکھا ہے۔ چھنٹائی کے بہتر طریقے کے طور پر آپ کیا تجویز کریں گے؟ ا پنی نوٹ بک میں لکھیے۔
- الفاظ کی ترتیب بندی کریں (کالمI) اور خصوصیات کو ان کے مفہوم سے ملائیں (کالمII)
|
کا لم I |
کا لم II |
|
(i) ا د م ہ |
(a) اس کے پاس کی چیزوں کو صاف طور پر |
|
(ii) ح ذ ی پ ل ر |
(b) جگہ گھیرتا اور کمیت رکھتا ہے |
|
(iii) ش ا ف ف |
(c) چمک دار سطح |
|
(iv) م چ د ک ا ر |
(d) پانی میں پوری طرح حل ہوجاتا ہے |
- دکانوں اور گھر میں اشیا کو اکٹھا رکھنے کے لیے استعمال کیے جانے والے ڈبے عام طور پر شفاف ہوتے ہیں۔ آپ کے نزدیک اس کے کیا اسباب ہیں؟
- بتایئے کہ نیچے دیے گئے بیانات صحیح ہیں یا غلط، اور غلط بیانات کو درست کیجیے۔
- لکڑی نیم شفاف ہوتی ہے جب کہ شیشہ غیرشفاف ہوتا ہے۔ ( )
- المونیم کے پترے میں چمک ہوتی ہے جب کہ ربر میں چمک نہیں ہوتی۔ ( )
- شکر پانی میں حل ہوجاتی ہے لیکن لکڑی کا برادہ حل نہیں ہوتا۔ ( )
- سیب ایک مادہ ہے کیوں کہ یہ جگہ بالکل نہیں گھیرتا اور کمیت رکھتا ہے۔ ( )
- ہم مختلف موادسے بنی ہوئی کرسیاں دیکھتے ہیں جیسے لکڑی، لوہا، پلاسٹک، بانس، سیمنٹ اور پتھر۔ کرسیوں کے مواد کی بعض ترجیحی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔ کون سے اجزا ان خصوصیات پر پورے اترتے ہیں؟
- سختی(لمبے استعمال کے بعد بھی بیٹھنے پر مڑتی یا ہلتی نہیں ہے)۔
- وزن میں ہلکی ( ایک سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے اُٹھانے میں آسان)
- سردی کے دوران بیٹھنے پر بہت ٹھنڈ نہیں محسوس ہوتی۔
- باقاعدگی سے صاف کی جاسکتی ہے اور لمبے استعمال کے بعد بھی نئی نظر آسکتی ہے۔
6. (i)کھانے کا جھوٹن (ii) ٹوٹے ہوئے شیشے اور(iii) ردی کاغذ جمع کرنے کے لیے آپ کو ڈبوں کی ضرورت ہوتی ہے۔فضلوں کی ان اقسام کے ڈبوں کے لیے آپ کن اجزا /مواد کا انتخاب کریں گے؟اجزا کی کن خصوصیات کے بارے میں آپ کو سوچنے کی ضرورت ہے؟
7. ہوا ہمارے چاروں طرف موجود ہے لیکن ایک دوسرے کو دیکھنے میں ہمارے لیے رکاوٹ نہیں بنتی۔ البتہ اگر لکڑی کا دروازہ درمیان میں آجاتا ہے تو ہم ایک دوسرےکو نہیں دیکھ سکتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہوا..... ہے اور لکڑی کا دروازہ ..... ہے۔ مناسب ترین متبادل کا انتخاب کیجیے۔
(i) شفاف، غیر شفاف (ii) نیم شفاف ، شفاف
(iii) غیر شفاف، نیم شفاف (iv) شفاف، نیم شفاف
8. تصور کیجیے کہ آپ کے پاسx اور2y پر اسرار اشیا ہیں۔ جب آپ x کو دبانے کی کوشش کر تے ہیں تو وہ سخت محسوس ہوتی ہے اور دبائے جانے پر اس کی شکل آسانی سے تبدیل نہیں ہوتی۔ جب آپ دونوں اشیاکو پانی میں ملادیتے ہیں تو صرف شےx پوری طرح حل ہوتی ہے جب کہ شے y میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ x اورy اشیا کیا ہوسکتی ہیں؟ کیا آپ اس کی نشاندہی کرسکتے ہیں کہ x شے سخت ہے یا نرم؟yکے بارےمیں کیا کہا جائے گا؟ اپنی دلیل کی وضاحت کیجیے۔
9. (i) میں کون ہوں؟ مندرجہ ذیل خصوصوصیات کی بنیاد پر مجھے پہچانیے۔
(a) میں چمک دار ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(b) مجھے آسانی سے دبایا جاسکتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(c) میں سخت اور پانی میں حل پذیر ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(d) آپ میرے آر پار واضح طور پر نہیں دیکھ سکتے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(e) میں کمیت اورحجم رکھتا ہوں لیکن آپ مجھے نہیں دیکھ سکتے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ii) ’’میں کون ہوں‘‘ کے عنوان سے خود اپنا سوال تشکیل دیجیے۔
10. آپ کو مندرجہ ذیل موادفراہم کیے گئےہیں: ہلدی، شہد، سرسوں کا تیل، پانی، گلوکوز، گیہوں کا آٹا۔
اشیا کے کوئی دو جوڑے وضع کیجیے اس طر ح کہ ایک مواددوسرے میں حل پذیر ہو۔ مزید ایسے دو جوڑے بھی وضع کیجیے جن میں ایک مواد دوسرے مواد میں غیر حل پذیر رہے۔
مزید آموزش
- اُن مختلف اشیا کے بارے میں معلومات جمع کیجیے جن کی باز تشکیل (recycle)کی جاسکے۔ آپ مختلف وسائل سے مددلے سکتے ہیں۔ مثلاً اخبارات، رسالے، اپنے محلے میں بزرگوں سے بات چیت، انٹرنیٹ وغیرہ۔
- باز تشکیل کنندگان (recyclers) اُن اشیا کی خصوصیات کی بنیاد پر پرانی چیزیں خریدتے ہیں اور اگر چیز ٹوٹی ہوئی ہو تو بھی کوئی پروا نہیں کرتے۔ اپنے قریب کے باز تشکیل کنندہ کے ساتھ ایک جائزہ انجام دیتے ہوئے یہ دریافت کریں کہ گھروں سے اشیا کو خریدنے سے پہلے وہ اشیا کی کن خصوصیات کی جانچ کرتے ہیں۔ وہ کون سی اشیا نہیں خریدتے اورکیوں؟
- اپنے گھر سے 20-30 اشیا جمع کرلیں اور ان اجزا کی خصوصیات کی بنیاد پر جن سے وہ بنی ہیں،مثلاً رنگ، شکل، ظاہری صورت اور دیگر خصوصیات جن کے بارے میں آپ جان چکے ہیں ان کی درجہ بندی کیجیے۔ کیا آپ اُنھیں الگ الگ مجموعوں کی شکل دے سکتے ہیں؟ آپ ان اجزا کی خصوصیات اور اشیا کے فوائد کے درمیان کس طرح کا تعلق دیکھتے ہیں؟
- فاضل مواد کی مدد سے اپنی پسند کی کوئی مفید چیز تیار کر کےاُسے سجایئے۔ اُسے کلاس میں لے جاکر دوستوں سے تبادلہ ٔخیال کریں کہ انھوں نے کیا بنایا ہے اور کون سے مواد/اجزا استعمال کیے ہیں۔ اس کے علاوہ افادیت یا کارکردگی کے پیش نظر بہتری کے پہلوئوں کے بارے میں تعمیری جوابی تاثر دیں۔