Skip to content
Qr







باب 10

جاندار مخلوقات: ان کی خصوصیات کی تفتیش

(Living Creatures: Exploring their Characteristics)



اودھی اور آیوش اپنے والدین کے ساتھ صبح کی سیر کے لیے نکلتے ہیں۔ اودھی کو وہاں کچھ سیپیاں (خول) نظر آتی ہیں اور وہ انھیں اٹھانے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کی والدہ اسے ایسا کرنے سے منع کرتی ہیں اور سمجھاتی ہیں کہ یہ خول کسی جاندار گھونگھے کا گھر ہوسکتا ہےجواصل میں اس کے جسم کا حصّہ ہے۔ اودھی اور آیوش کو اس بات پر حیرانی ہے کہ جس خول میں بالکل بھی حرکت نہیں ہے اس کے اندر کوئی جاندار کیسے ہوسکتا ہے! اسی دن اسکول میں اودھی اور آیوش نے اپنے دستوں سے اس واقعہ کا ذکر کیا۔ کسی خول میں ایک زندہ گھونگھا کیسے ہوسکتا ہے، وہ یہ سمجھنے کے لیے اپنی ٹیچر کے پاس جانےکا فیصلہ کرتے ہیں۔ ٹیچر کلاس میں جاندار اورغیرجاندار چیزوں پر بات چیت شروع کرتی ہے۔

Screenshot 2025-11-06 at 15-06-03 fucu110.pdf

سرگرمی 10.1 : آیئے درج کریں

ہمارے چاروں طرف متعدد چیزیں موجود ہیں۔ اگر آپ اپنی کلاس میں اِدھر اُدھر دیکھیں تو آپ کو بہت سی مثالیں مل سکتی ہیں۔ پنسل جو آپ کے ہاتھ میں ہے، کتاب جسے آپ پڑھ رہے ہیں یا کھڑکی کے نزدیک بیٹھا ہوا کبوتر۔

  • انھیں جدول 10.1 میں درج کیجیےاور اپنی تفہیم کی بنیاد پر ہرایک کوجاندار اورغیرجاندار کے طرزپر شناخت کیجیے اورکالم IIمیں لکھیے۔
  • کالم IIIمیں جاندار اور غیرجاندار کےزمرہ بندی کی وجہ لکھیے۔

جدول 10.1: ہمارے اطراف میں جاندار اور بے جان چیزیں

(I)نام

(II)میرا اندازہ

جاندار/غیرجاندار

(III)دلیل / تبصرہ

(IV)صحیح جواب

(V)صحیح جواب کے لیے دلیل /تبصرہ

پنسل

غیرجاندار

کتاب

کبوتر

جاندار

کار

پودا

دیگر


10.1 کون سی چیز جاندار اجسام کو بے جان اجسام سے الگ کرتی ہے؟

جدول 10.1کو دیکھیے۔ آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ پنسل ایک غیرجاندار اور کبوتر جاندار ہے؟ آپ کے مطابق جاندار اجسام غیرجاندار اجسام سے کس طرح مختلف ہوتے ہیں؟ شناخت شدہ جاندار اجسام میں کون سی چیزیں مشترک ہیں؟

آپ نے حرکت کی شناخت جاندار اجسام کی مشترکہ خصوصیات میں سے ایک کے طور پر کی ہوگی۔ آپ نے سڑک پر کاروں کو دوڑتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کار بھی جاندار ہے؟ ان کاموں کی فہرست بنایئے جنھیں آپ کرسکتے ہیں۔ آپ جاندار چیز کی بہترین مثال ہیں لیکن کار نہیں۔ جب کبھی آپ اپنے اطراف میں مو جود چیزوں کو جاندار اور غیرجاندارزمروں میں تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہوں تو اپنے آپ سے ان کا موازنہ بھی کیجیے۔ کون سی خصوصیات آپ کو کاروں سے ممتاز کرنے میں مدد کرتی ہے؟ مثال کے طور پر کار میں نشوو نما نہیں ہوتی۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ غیرجاندار ہے؟ اب، آپ نے کاروں کی غیر جاندار کے طور پر درجہ بندی کرنے کے لیے کون سی حصوصیات کا استعمال کیا ہے؟ جاندار عضویوں کی لازمی خصوصیات کیا ہیں، اس کی شناخت کے لیے اپنی بحث کو اسی طرح جاری رکھیے۔

وہ عام خصوصیات کون سی ہیں جو کسی جاندار کو غیرجاندار سے بہت زیادہ الگ کرتی ہیں۔ آیئے ان کے بارےمیں جانیں۔

کیا ہم جاندار اور غیرجاندار کے درمیان فرق کرنے کے لیے حرکت کو ایک خصوصیت مان سکتے ہیں؟ اپنے اطراف میں موجود پانچ ایسی چیزوں کی فہرست بنایئے جو خود حرکت کرسکتی ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں یہ سبھی جاندار ہیں صرف اس لیے کہ وہ خود حرکت کرسکتی ہیں؟ البتہ جانوروں کے برعکس پودے ایک مقام سے دوسرے مقام تک نہیں جاتے ہیں۔ کیا آپ انھیں جاندار کہیں گے؟

Screenshot 2025-11-06 at 15-06-10 fucu110.pdf

حالاں کہ پودے ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں جاسکتے لیکن وہ بعض حرکات ضرور ظاہر کرتے ہیں۔ پھولوں کا کھلنا اس کی ایک مثال ہے۔حرکت کی دوسری مثال حشرہ خور پودوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔حشرہ خورپودے اپنی تغذکے لیے کیڑوں پر منحصر ہوتے ہیں۔ڈروسیرا(Drosera)حشرہ خورپودے کی ایک مثال ہے۔ڈروسیرا کی خصوصیت طشتری نما پتیاں ہیں جوبہت سے غیرمساوی بالوں کی طرح کا ابھاررکھتی ہیں،جن کے سِرّے چپچپے ہوتے ہیں۔جب بھی کوئی کیڑا طشت میں داخل ہوتاہے، بال اندر کی جانب مڑتے ہیں اورکیڑے کواپنے چپچپے سرے میں پکڑلیتے ہیں۔ دوسرے حشرہ خوردپودے میں حرکات کے عمل کامشاہدہ کرنے کی کوشش کیجیے۔ بیلیں خود کو اپنے آس پاس کی چیزوں پر لپیٹ لیتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اگرچہ پودے ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں جاتے ہیں لیکن وہ حرکات کو ظاہر کرتے ہیں۔

Screenshot 2025-11-06 at 15-06-16 fucu110.pdf

اپنا موازنہ اپنے بچپن کی تصویرسے کیجیے۔کیا آپ ان کپڑوں کو اب بھی پہن سکتے ہیں جنھیں چار سال پہلے پہنتے تھے؟ نہیں، کیوں کہ آپ بڑے ہوگئے ہیں، اسےنشو ونما (growth) کہتے ہیں۔ پودے اور جانور بھی بڑھتے ہیں۔ کیا ہم نشو ونما کو جانداروں کی خصوصیت مان سکتے ہیں؟


جانداروں کو بڑھنے (نشو ونما) کے لیے غذا (تغذیہ) کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے پانچ جانداروں کی فہرست تیار کیجیے جنھیں نشو ونما کے لیے غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔

اب اس عمل کے بارے میں غور کیجیے جس کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے۔معمولی چلنے ،دوڑنے اورناچنے کے بعد اپنی سانس کی دھڑکن منٹ کے اعتبارسے گنیے ۔ڈاٹا کودرج کیجیے اورمشاہدہ کیجیے۔کیاآپ ہرمعاملے میں سانس لینے کی شرح میں فرق محسوس کرتے ہیں؟کیا آپ نے دوسرے جانوروں مثلاً کتّوں، بلّیوں، گائیوں اوربھینسوں میں سانس لینے کے عمل کا مشاہدہ کیاہے؟ان کے پیٹ کی حرکت کودیکھیے جب وہ آرام کررہے ہوں۔

سانس لینے کے عمل میں،جب ہم سانس لیتے ہیں تو ہوا باہرسے ہمارے اندر داخل ہوتی ہے۔ جب ہم سانس چھوڑتے ہیں توہواہمارے جسم سے باہر جاتی ہے۔سانس لینے کا عمل نظامِ تنفُّس(respiration)کاحصّہ ہے۔کیا پودوں میں بھی تنفس ہوتاہے؟ پتّیوں کے اوپر چھوٹے مسام ہوتے ہیں جنھیں اِسٹومیٹا(stomata)کہتے ہیں۔یہ مسام ہواکواندرلینےاور باہرنکالنےمیں پودوں کی مدد کرتے ہیں۔اپنے اسکول کے کسی سینئر سے گزارش کیجیے کہ وہ آپ کی کلاس میں آکر مائیکرواسکوپ کی مدد سے مسام کودکھائے،سبھی جاندار تنفس کرتے ہیں۔

Screenshot 2025-11-06 at 15-06-24 fucu110.pdf

کیا آپ نے گرمی کے موسم میں قمیض پر سفید دھبوں کا مشاہدہ کیا ہے؟ یہ دھبے پسینے کی وجہ سے بنتے ہیں۔ پسینہ، پانی اور نمک سے بنتا ہے جسے جسم فضلات کی شکل میں باہر نکال دیتا ہے۔ جسم میں بننے والے فضلات کو باہر نکالنے کا عمل اخراج (excretion) کہلاتا ہے۔پیشاب، جانوروں میں فضلے کے اخراج کا ایک اور ماحصل ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ پودوں میں بھی فضلے کا اخراج ہوتا ہے؟آپ نے دیکھاہوگا کہ پودے اضافی معدنیات اورپانی کوچھوٹے قطروں کی صورت میں پتّوں کے ذریعہ خارج کرتے ہیں۔ مثال کے طورپر گھاسیں اورگلاب ۔سبھی جاندار فضلا کوخارج کرتے ہیں۔ قدرتی گوند اور ریزن درحقیقت کچھ پودوں کے اخراجی ماحصل ہیں۔ سبھی جانداروں میں فضلے کے اخراج کا عمل واقع ہوتا ہے۔

آیئے ایک اور خصوصیت پر نظر ڈالیں۔ اگر آپ ننگے پاؤں جارہے ہوں اور آپ کا پیر اچانک (غیرمتوقع طور پر) کسی دھاردار چیز مثلاً کانٹے پر پڑجائے یا آپ گرم چائے کی پیالی کو غیردانستہ طور پر چھولیتے ہیں تو آپ کا رد عمل کیا ہوتا ہے؟ کانٹے پر پاؤں پڑنا یا کسی گرم چیز کو چھونا محرک (stimuli) ہیں۔ ہمارے ماحول کی وہ تبدیلیاں جن کے تئیں ہم رد عمل ظاہر کرتے ہیں محرک کہلاتی ہیں۔کوئی تین محرکات اور ان کے تئیں آپ کے جسم کا فوری رد عمل (response)درج کیجیے۔

Screenshot 2025-11-06 at 15-06-31 fucu110.pdf

کیا پودے بھی محرک کے تئیں رد عمل کا اظہار کرتے ہیں؟ جی ہاں، پودے بھی محرک کے تئیں رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر چھوئی موئی (mimosa) کی پتیاں چھونے پر بند ہوجاتی ہیں۔ کیا آپ نے کبھی یہ مشاہدہ کیا کہ کچھ پودے سورج غروب ہوجانے کے بعد اپنی پتیوں کو سمیٹ لیتے ہیں۔ خاص طور سے آمنے سامنے واقع پودوں کی پتیوں میں ایک ساتھ ملے رہنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ آملہ کے درخت کی حساس پتیاں اس کی ایک مثال ہے۔سبھی جاندار محرک کے تئیں رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ اپنے پڑوس میں کچھ اور ایسے پودے تلاش کیجیے جن کی پتیاں سورج غروب ہوجانے کے بعد سمٹ جاتی ہیں۔

آملہ اور چھوئی موئی کی پتّیاں اس قسم کا رد عمل کیوں ظاہر کرتی ہیں؟ ان کے اس رویہ کے لیے کون سا محرک ذمے دار ہوسکتا ہے؟

کیاآپ نے بلّیوں، کُتّوں یا دیگرجانوروں کے بچے دیکھے ہیں؟ پانچ مختلف جانوروں کے بچوں کی فہرست بنائیے ۔کیا آپ نے کسی غیرجاندار چیزجیسے پنسل، بجلی کا بلب یاکرسی کے بچّے دیکھے ہیں؟

سبھی جاندار اپنی ہی طرح کے بچوں کو جنم دیتے ہیں۔ اپنے جیسے چھوٹے بچوں کو جنم دینے کا عمل تولید (reproduction) کہلاتا ہے۔پودوں میں بھی تولید ہوتی ہے۔ تولید کیوں ضروری ہے؟ یہ زندگی کے تسلسل کے لیے ضروری ہے۔

زندگی کے لیے ضروری تمام ذرائع (جیسے غذا، ہوا، پانی) کی دستیابی کے باوجود اگرکوئی جاندارشے مذکورہ بالا خصوصیات کی حامل نہ رہے تووہ مرد ہ کہلاتی ہے۔

اب تک کی بحث سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ سبھی جانداروں میں کچھ خصوصیات مشترک ہوتی ہے۔مثال کے طورپرسبھی جاندارحرکت کرتے ہیں،کھاتے ہیں، بڑھتے ہیں، تنفس کرتے ہیں، تولید کرتے ہیں، مرتے ہیں، فضلے کا اخراج کرتے ہیں اور محرک کے تئیں رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی خصوصیت کی عدم موجودگی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ غیرجاندار ہیں۔

جاندار چیزوں کی کچھ خصوصیات مثلاً نشو ونما اور محرکات کے تئیں رد عمل کو پودوں میں واضح طور پر دیکھاجاسکتا ہے۔

اب، جب آپ یہ جان چکے ہیں کہ جاندار چیزوں کی شناخت کس طرح کی جاتی ہے تو سرگرمی 10.1 کو مکمل کرنے کے لیے جدول 10.1 کے باقی دونوں کالموں کو پُر کیجیے۔

آپ بیجوں کو کس زمرے میں رکھیں گے، جاندار یا غیر جاندار؟ کیوں؟

اسے سمجھنے کے لیے آیئے چھان بین کریں کہ بیج میں کس طرح کلے پھوٹتے ہیں۔


10.2 بیج میں کلے پھوٹنے کے لیے لازمی شرائط

کیا آپ نے بیجوں میں کلے پھوٹنے (germination)کا مشاہدہ کیا ہے؟ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بیجوں میں کلے پھوٹنے کے لیے کن حالات کی ضرورت ہوتی ہے۔آپ کے خیال میں کون سے حالات بیجوں میں کلے پھوٹنے کو متاثر کرتے ہیں؟آپ اس بات کی جانچ کس طرح کریں گے کہ ان حالات کا اثر کلے پھوٹنے پر پڑتا ہے یا نہیں؟آئیے اسے سرگرمی 10.2 کی مدد سے جانتے ہیں۔


سرگرمی 10.2: آیئے تجربہ انجام دیں

  • باغیچے کی مٹی سے بھرے ہوئے چار مختلف گملے لیجیے۔ ہر گملے میں سیم کے چار بیج بو دیجیے۔ اب ان گملوں کو 15 دن تک مندرجہ ذیل حالات میں رکھیے۔
  • گملا A: مٹی میں پانی مت ڈالیے۔ برتن کو دھوپ میں رکھیے۔
  • Screenshot 2025-11-06 at 15-06-39 fucu110.pdf
  • گملا B: مٹی میں اتنا پانی ڈالیں کہ وہ ہمیشہ مٹی کے اوپر رہے۔ پانی کم ہوجانے کی صورت میں باقاعدگی سے پانی ڈالتے رہیے۔ برتن کو دھوپ میں رکھیے۔
  • گملا C: صرف اتنا پانی ڈالیں کہ مٹی میں نمی برقرار رہے اور گملے کو کسی اندھیری جگہ پر رکھیے۔
  • گملا D: صرف اتنا پانی ڈالیے کہ مٹی میں نمی برقرار رہے اورگملے کو دھوپ میں رکھیے۔
  • ہرایک گملے میں بیجوں کے لیے ہوا،دھوپ اورپانی کی دست یابی کی نشاندہی جدول 10.2میں کیجیے
  • جب بیج اسپروٹ(sprout)کی شکل اختیار کر لے تو اسے کلے پھوٹنے کہتے ہیں۔قیاس لگائیےکہ کیا ہر ایک گملے میں موجود بیجوں میں کلے پھوٹیں گے؟ ہر گملے کے تعلق سے اپنے قیاسات کوجدول 10.2میں درج کیجیے
  • اب گملوں کا باقاعدہ طور پرمشاہدہ7سے10دن تک کیجیے، آیا بیجوں میں کلے پھوٹنے لگے ہیں یا نہیں۔ اپنے مشاہدات کوجدول 10.2 میں درج کیجیے۔
  • اپنے قیاسات کا مشاہدات سے موازنہ کیجیے۔

جدول 10.2: بیجوں میں کلے پھوٹنے پر ماحولیاتی حالات کا اثر

سیم کے بیجوں والا گملا

دستیاب

بیجوں میں کلے پھوٹنا

مشاہدے کی ممکن وجہ

ہوا

دھوپ

پانی

قیاس

مشاہدہ

A: بغیر پانی کے اوردھوپ میں

نہیں

B: پانی کی زیادتی اور دھوپ میں

C: صرف نمی اور اندھیرےمیں

D: صرف نمی اور دھوپ میں

کیا آپ کو لگتا ہے کہ بیجوں میں کلے پھوٹنے کے لیے سورج کی روشنی ضروری ہے۔کیا سبھی گملوں میں بیجوں کو ہوا، پانی اور سورج کی روشنی ملتی ہے؟کیا کوئی گملا ایسا بھی ہے جس میں بیجوں کو ہوا نہ مل رہی ہو۔ اگر ہاں تو کیوں نہیں مل رہی ہے؟ جس گملے میں پانی زیادہ مقدار میں ڈالا جاتا ہے اس میں بیجوں کا کیا ہوا؟ کون سے بیجوں کو ہوا اور پانی دونوں ملتےہیں؟ ان گملوں کی شناخت کیجیے جہاں آپ کو بیجوں میں کلے پھوٹتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

کیا آپ کے مشاہدات آپ کے قیاسوں سے میل کھاتے ہیں؟ اپنے مشاہدات کی ممکنہ وجوہات جدول 10.2 میں درج کیجیے۔ اپنے مشاہدات کی بنیاد پر بیجوں میں کلے پھوٹنے کے لیے موافق حالات کے بارے میں بتایئے۔

بیجوں میں کلے پھوٹنے کے لیے ہوا، پانی اور دھوپ میں سے کیا ضروری ہے؟ ہرگملے میں موجود حالات کا موازنہ کیجیے۔ سیم کے بیجوں میں کلے پھوٹنے کے لیے مناسب مقدار میں ہوا اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کلے پھوٹنے کے لیے بیجوں کو ان حالات کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ان میں سے کسی ایک یا ایک سے زیادہ حالات کی عدم موجودگی بیجوں میں کلے پھوٹنے کو متاثر کرے گی؟

آیئے سمجھنے کی کوشش کریں کہ یہ حالات بیجوں میں کلے پھوٹنے کے عمل میں کس طرح مدد کرتے ہیں۔ سرگرمی 10.2 میں درج ذیل حالات کے اثرات کو دیکھا گیا ہے۔

پانی: بیجوں میں کلے پھوٹنے کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بیجوں کو ان کی نشو ونما کے لیے درکاراعمال انجام دینے کے قابل بناتا ہے۔ بیج کا بیرونی غلاف سیڈ کوٹ (seed coat) کہلاتا ہے۔ پانی سیڈ کوٹ کو نرم کردیتا ہے اورجنین (embryo) کو پودے بننے میں مدد کرتا ہے۔

Screenshot 2025-11-06 at 15-06-47 fucu110.pdf

ہوا اورمٹی: بیجوں میں کلے پھوٹنے کے لیے ہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیج مٹی کے ذرات کے درمیان کی جگہ میں موجود ہوا میں کا استعمال کرتے ہیں۔مزید مٹی کے ذرات کا درمیانی فاصلہ جڑوں کی نشونما کو آسان بناتا ہے۔

روشنی/ تاریک حالات: ہم نے سیکھا کہ سیم کے بیجوں کو کلے پھوٹنے کے لیے روشنی کی ضرورت نہیں ہوتی ۔عام طور پر اکثر بیجوں کو کلے پھوٹنے کے لیے روشنی کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔کلے پھوٹنے کے لیے اکثر بیجوں کو روشنی کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ کلے پھوٹنے کے بعدننھے پودے کو مزید نشو ونما کے لیے سورج کی روشنی درکار ہوتی ہے۔

باب ’محتاط غذا خوری: صحت مند جسم‘ میں آپ نے پڑھا ہے کہ انسانوں کو صحت مند نشو ونما کے لیے متوازن خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح، پودوں کو بھی نشو ونما کے لیے متوازن حالات اورتغذیہ بھی درکار ہوتے ہیں۔ آپ کے خیال میں اور کون سے ایسے حالات ہیں جو بیجوں میں کلے پھوٹنے کو متاثر کرسکتے ہیں؟


کولیس (Coleus) اور گل اطلس (Petunia) جیسے بیجوں میں کلے پھوٹنے کے لیے روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ان بیجوں کو مٹی سے ڈھک دیں تو ان میں کلے پھوٹنے کا عمل رک جاتا ہے۔ گیندا (Calendula) اور زینیا (Zinnia) جیسے کچھ پودوں میں کلے پھوٹنے کے لیے اندھیرے کی ضرورت ہوتی ہے۔ان بیجوں کو مٹی سے اچھی طرح ڈھک دینا چاہیے۔


کیا آپ جانتے ہیں؟

جاندار چیزوں کی وہ کون سی خصوصیات ہیں جن کی بنیاد پر آپ نے پودوں کو سرگرمی 10.1میں جاندار چیزوں کے زمرے میں رکھا تھا؟ کیا سرگرمی 10.2 میں پودے نشوونما کو ظاہر کرتے ہیں؟کیا جانداروں کی کچھ اور ایسی خصوصیات بھی ہیں جنھیں یہ پودے ظاہر کرتے ہیں؟

آیئے، اب کچھ محرکات کے تئیں پودوں کے رد عمل کا مطالعہ کریں۔


اب، وہ دوبارہ غور کیجیے:

آپ بیج کو کس زمرےمیں رکھیں گے، جاندار یا غیر جاندار؟


10.3 پودوں میں نشوونما اورنقل وحرکت

پودے سورج کی روشنی میں کیسا ردّ عمل کرتے ہیں؟کیا وہ روشنی کے تئیں رد عمل کے معاملے میں سورج مکھی سے مختلف ہیں؟ کیا سورج کی روشنی پودوں کے مختلف حصوں کی نشو ونما کی سمت کو متاثر کرتی ہے؟ اگر پودے کو الٹا کرکے رکھا جائے تو اس کی جڑ اور تنا کس سمت میں نشوونما کریں گے؟ ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کے لیے آپ سرگرمی کا خاکہ کس طرح تیار کریں گے؟


سرگرمی 10.3: آیئے خاکہ بنائیں

  • سیم /چنے کے کچھ بیج لیجیے اور انھیں کسی نم (مرطوب)کپڑے یا ٹِشو پیپر پر کلے پھوٹنے کے لیے چھوڑدیجیے۔
  • انھیں اُس وقت تک کلے پھوٹنے کے لیے چھوڑدیجیے جب تک ان میں ایک چھوٹی سی جڑا ور کونپل نکل آئے ۔
  • شیشے کے تین بیکر یا گلاس B،A اور C لیجیے۔
  • شیشے کی تین پلیٹیں لیجیے ۔ایک موٹا سوختہ کاغذ یا ٹشو پیپر کی کئی تہیں موٹے سوتی دھاگے کی مدد سے ہر ایک پلیٹ کے ایک جانب باندھ دیجیے۔
  • بیج سے پھوٹے ہوئے ننھے پودوں کو لیجیے اور سوتی دھاگے کی مدد سے ہر پلیٹ پر ایک ننھا پودا باندھ دیجیے جیسا کہ شکل 10.2 میں دکھایا گیا ہے۔ یہ یقینی بنایئے کہ پودے کو نقصان نہ پہنچے۔
  • اب ہر ایک گلاس پلیٹ کوجس میں ننھا پودا بندھاہواہو بیکر AاوربیکرCمیں رکھیے جیسا کہ شکل 10.2aاور10.2cمیں دکھایاگیاہے۔
  • بیکرBمیں پلیٹ کو اس طرح رکھیے کہ ننھے پودے کا تنا نیچے کی طرف اورجڑیں اوپر کی طرف ہوں جیسا کہ شکل 10.2bمیں دکھایاگیاہے۔
  • Screenshot 2025-11-06 at 15-06-54 fucu110.pdf
  • یہ یقینی بنانے کے لیے کہ ننھےپودے پانی کی سطح پر رہیں ،تینوں گلاسوں میں پانی انڈیلیے۔
  • تمام حالتوں میں سوختہ کاغذ کو پوری طرح پانی میں ڈوبا رہنے دیجیے۔ بھیگا ہوا سوختہ کاغذ مطلوبہ نمی کو چھوٹے پودے میں منتقل کرے گا۔
  • بیکرAاوربیکرBکوسورج کی روشنی میں رکھیے جیسا کہ شکل10.2aاور10.2bمیں دکھایاگیاہے۔
  • شکل 10.2c کے مطابق بیکرCکورکھیے۔ گتّے کے باکس کو اس طرح رکھیے کہ ننھا پوداصرف ایک گول سوراخ سے ہی روشنی حاصل کرے۔
  • جدول 10.3 میں اپنے قیاسات اورمشاہدات کودرج کیجیے۔

جدول 10.3: مختلف حالات میں جڑ اور کونپل کی نشو ونما

بیکر

دھوپ کی سمت

پودے کی سمت

جڑ اور کونپل کی سمت

کونپل /جڑ

قیاسات

مشاہدات

A

تمام سمتیں

سیدھا کھڑا ہوا

کونپل

جڑ

B

تمام سمتیں

الٹا کھڑا ہوا

کونپل

جڑ

C

صرف ایک سمت سے

سیدھا کھڑا ہوا

کونپل

جڑ

آپ کے مشاہدات کے مطابق B،AاورC بیکروں میں جڑ اور کونپل کی نشو ونما کی سمت کیا ہے؟ کیا آپ کے مشاہدات آپ کے متوقع نتائج سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اس سرگرمی سے آپ کیا نتیجہ نکالتے ہیں؟

Screenshot 2025-11-06 at 15-07-01 fucu110.pdf

اس تجربے (جدول 10.3 اور شکل 10.3) سے ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ:

  1. جب پودے کو سیدھاکھڑاکیا جاتاہے توجڑیں نیچے کی طرف اور کونپل اوپر کی طرف بڑھتی ہے۔
  2. اگر پودے کو الٹا کرکے رکھا جائے تو جڑ مڑکر نیچے کی طرف بڑھتی ہے۔ اسی طرح کونپل بھی اوپر کی طرف مڑتی اور بڑھتی ہے۔
  3. اگر دھوپ صرف ایک سمت سے آئے تو کونپلیں روشنی کی سمت میں بڑھتی ہیں جب کہ جڑیں نیچے کی طرف بڑھتی ہیں۔

سرگرمی 10.3انجام دینے کے بعد ہم نے دیکھا ہے کہ پودےکی کونپلیں اور اوپر کی طرف بڑھتی اوردھوپ کی طرف حرکت کو ظاہرکرتی ہیں،لیکن پودے کی جڑیں نیچے کی طرف بڑھتی ہیں۔


سائنس داں کے بارے میں جانیے

سر جگدیش چندر بوس(1857-1957) ایک ہندوستانی سائنس داں تھے جنھوں نے پودوں پر بعض دلچسپ تجربے کیے تھے۔ انھوں نے کرسکو گراف نام کی ایک مشین بنائی تھی جو یہ ریکارڈ کرتی تھی کہ پودے کس طرح حرارت، روشنی، بجلی اور قوتِ ثقل کے تئیں ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں۔ اس مشین سے وہ اس کی پیمائش کرسکتے تھے کہ پودوں کی نشو ونما کتنی تیزی سے ہوتی ہے۔ انھوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ پودے محسوس کرسکتے ہیں اور کسی محرک کے تئیں ردِ عمل ظاہر کرسکتے ہیں۔

Screenshot 2025-11-06 at 15-07-11 fucu110.pdf

10.4 پودے کا دورِ حیات

ہم کلے پھوٹنے کے لیے مطلوب حالات کے بارے میں پڑھ چکے ہیں اور یہ کہ پودے کس طرح محرک کے تئیں رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ آیئے ہم اس کی چھان بین کریں کہ کوئی پودا اپنی پوری زندگی میں کن تبدیلیوں سے گزرتا ہے۔


سرگرمی 10.4 : آیئے چھان بین کریں

  • سیم کا بیج بو کر اُس کی نشو ونما کے لیے موزوں حالات فراہم کیجیے۔ تین ماہ تک مستقل اس کا مشاہدہ کیجیے۔
  • اُس میں جب اور جیسی تبدیلیاں نظر آئیں اُن کے بارے میں جدول 10.4میں اپنے مشاہدات درج کیجیے۔
  • جب کوئی تبدیلی ظاہرہوتواس کی تاریخ درج کیجیے۔ مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب لکھیے —
  • تبدیلی کوظاہرہونے میں کتناوقت لگتاہے؟ جدول 10.4میں ایسی تمام تبدیلیوں کا خاکہ بنایئے جن کا مشاہدہ آپ نے کیا ہے۔
  • پہلا پھول کتنے دنوں کے بعد ظاہر ہوتا ہے؟
  • پھول خشک ہوجانے کے بعد کیا اُس کی جگہ پر آپ کوئی نئی نشو ونما دیکھتے ہیں؟
  • نئی نشو ونما کس طرح کا ڈھانچہ اختیار کرتی ہے؟
  • کیا آپ پھول کی جگہ پھلی(pods)یابیج لگے ہوئے پھل دیکھ سکتے ہیں؟
  • پھل اور بیج بن جانے کے بعد پودے میں کیا ہوتاہے؟

جدول 10.4 : پودے کی نشوونما کےدوران ہونے والی تبدیلیاں

تاریخ

مشاہدے

خاکے

بیج بوئے گئے ہیں

اپنے درج کیے گئےمشاہدات کا مطالعہ کیجیے۔ جدول 10.4 میں سیم کے پودے کی نشو ونما سے متعلق آپ پھل اور بیج بننے کے بعد کن تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں؟کیا مسلسل پانی ڈالتے رہنے کے باوجود پودا پیلا اور خشک ہوجاتا ہے؟سیم کے پودے سے حاصل شدہ بیجوں کوبوئیے۔ دیکھیے کہ بیجوں سے کس طرح سیم کے پودوں کی ایک نئی نسل پیدا ہوتی ہے۔ اپنے مشاہدات کی بنیاد پر جدول 10.4 میں اپنے بنائے گئے خاکوں کا موازنہ شکل 10.4 سے کیجیے۔

بیج نشوونما پاکر چھوٹا پودا بنتا ہے، بڑا ہوکر پھول اور پھل دیتا ہے۔ پھل میں جو یہاں پر پھلی ہے بیج ہوتے ہیں جس سے سیم کے پودے کی ایک نئی نسل پیدا ہوتی ہے۔ بیج سے پودے اورپھرپودے سے واپس بیج تک کے عمل کو پودے کا دورِ حیات کہتے ہیں (شکل 10.4)۔ ایک وقت ایسا آتا ہے جب پودے کی نشوونما کے لیے ضروری انتظامات کے باوجود پودے کی نشونما رک جاتی ہے۔ آخر کار یہ حالت پودے کی موت کا سبب بنتی ہے۔

Screenshot 2025-11-06 at 15-07-19 fucu110.pdf

10.5 حیوانوں کا دور حیات

ہم پودے کے دورِ حیات کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ پودا اپنے دورِ حیات کے دوران کئی تبدیلیوں سے ہوکر گزرتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی اس کا مشاہدہ کیا ہے کہ حیوانات کی نشوونما وقت کے ساتھ کیسے ہوتی ہے؟ان کے بچوں کی تصویر بنائیے اور انھیں نام دیجیے۔

10.5.1 مچھر کا دور حیات

مچھروں کا بھنبھنانا ہم سب کے لیے ایک عام تجربہ ہے۔ مادہ مچھر خون چوسنے والے حشرات ہیں جو ملیریا، ڈینگو اور چکن گنیا جیسی بہت سی بیماریاں پھیلاتے ہیں۔ آپ نے اخبارات، اسکول کے نوٹس بورڈ یا بیداری مہموں میں سیکھا ہوگا کہ مچھروں کی افزائش نسل کو روکا جاسکتا ہے۔ ہمیں یہ صلاح دی جاتی ہے کہ ہم اپنے آس پاس کہیں بھی پانی جمع نہ ہونے دیں۔ ایسا کیوں ہے؟ کیا ٹھہرے ہوئے پانی کا مچھروں کے انڈے دینے کے عمل سے کوئی تعلق ہے؟

اپنے اسکول اور گھرکے اطراف میں ایک حفاظتی آڈٹ (جانچ پڑتال) کیجیے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کیجیے کہ کیا آس پاس کہیں پانی بھرا ہوا ہے۔ (اگر آپ کو دستی تکبیری شیشہ دست یاب ہوجائے تو اسے اپنے ساتھ لے جایئے تاکہ آپ پانی میں موجود بہت چھوٹے عضویوں کو دیکھ سکیں)۔ جن جگہوں پر پانی جمع ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے وہ ڈیزرٹ کولر کے اندر یا اس کے آس پاس کی جگہ، گملوں کے اردگرد یا کھلے ہوئے برتن ہیں۔ آپ کو اس پانی میں دو مختلف قسم کے کیچوے جیسے عضویے نظر آسکتے ہیں (شکل 10.5)۔ یہ لاروا اور پیوپا ہیں جو مچھروں کی زندگی کے دو مراحل ہیں۔ اگر آپ کو لاروا اور پیوپا نظر آتے ہیں تو اپنے ٹیچرکو بتائیں۔ مچھروں کی افزائش نسل کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کے بارے میں اپنے استاد اور ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کیجیے۔ آپ کو لاروا اور پیوپا کی شکلوں میں کیا فرق نظر آتا ہے؟

Screenshot 2025-11-06 at 15-07-30 fucu110.pdf

آبی ذخیروں میں نظر آنے والے مچھر کے لاروا اور پیوپا بار بار پانی کی سطح پر آتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ مچھر کے لارروا اور پیوپا پانی میں رہتے ہیں اور انھیں سانس لینے کے لیے ہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ سانس لینے کے لیے پانی کی سطح پر آتے ہیں۔


مچھر کے دورحیات میں خلل کیسے پیدا کیا جاسکتا ہے؟


مٹی کا تیل پانی کی سطح پر پتلی پرت بناتا ہے۔ یہ پرت پانی کو ہوا سے الگ کردیتی ہے نتیجتاً لاروا اور پیوپا کو سانس لینے کے لیے آکسیجن مہیا نہیں ہوپاتی ہے اور وہ مرجاتے ہیں۔


میں نے اپنی والدہ کو ٹھہرے ہوئے پانی پر مٹی کے تیل کا چھڑکاؤ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ وہ ایسا کیوں کرتی ہیں؟

Screenshot 2025-11-06 at 15-07-41 fucu110.pdf

سرگرمی 10.5: آیئے تجزیہ کریں

ایک دلچسپ معمے کو حل کرتے ہیں۔

آپ یہ کس طرح متعین کریں گے کہ دونوں (یعنی لاروا اور پیوپا) میں سے کون سا مرحلہ انڈے کے مرحلے کے فوراً بعد آتا ہے؟

فرض کیجیے کہ آپ کو کسی پوکھر کے پانی سے بھرا ہوا برتن دیا گیا ہے جس میں لاروا اور پیوپا موجود ہیں۔ مرحلوں کی درست ترتیب کو جاننے کے لیے سرگرمی کا خاکہ تیار کیجیے۔

آپ اپنی سرگرمی کو تخلیق دینے کے لیے اودھی کے بنائے گئےمندرجہ ذیل خاکےکی مدد لے سکتے ہیں:

اقدام1: میرے پاس پانی سے بھرا ایک برتن ہے جس میں مچھروں کے دونوں مرحلے یعنی لاروا اور پیوپا موجود ہیں۔

اقدام2: میں اسی پانی پر مشتمل دو علاحدہ برتنوں میں سے ایک میں 5-4 لاروا اور دوسرے میں 5-4 پیوپا شامل کروں گی۔

اقدام 3: جب تک انھیں اگلے مرحلے میں تبدیل ہوتے ہوئے نہیں دیکھ لیتا میں روزانہ ان کا مشاہدہ کروں گی۔

اقدام 4: اگر لاروا پیوپا میں تبدیل ہوجاتے ہیں تو اس کا مطلب ہوگا کہ لاروا مرحلہ پیوپا سے پہلے آتا ہے۔

اقدام5: میں دونوں برتنوں کو دیکھتی رہوں گی کہ کس برتن میں مچھرنمودارہوگا۔

یہ مشاہدات نشوونما کی درست ترتیب بتانے میں میری مدد کریں گے۔

اب، فرض کیجیے کہ آپ کو کسی پوکھر کے پانی سے بھرا ہوا برتن دیا گیا ہے جس میں لاروا اور پیوپا موجود ہیں۔ انھیں برتن سے علاحدہ کیے بغیر یہ متعین کرنے کے لیے کہ دونوں میں سے کون سا مرحلہ اگلے مرحلے کی راہ ہموار کرتا ہے، آپ سرگرمی کا خاکہ کس طرح تیار کریں گے؟

Screenshot 2025-11-06 at 15-07-51 fucu110.pdf

آیئے مچھر کے دورحیات کے ان مراحل کا مزید مطالعہ کریں۔

مچھر اپنے دورحیات میں چار مرحلوں سے گزرتے ہیں۔ یہ مرحلے انڈا، لاروا (پہل روپ)، پیوپا اور بالغ مچھر ہیں (شکل 10.6)

پیوپا سے نکلنے والا بالغ مچھر کچھ دیر پانی کی سطح پر آرام کرتاہے اور پھر اڑجاتا ہے۔ بالغ مچھر 10 سے 15 دن تک زندہ رہ سکتا ہے۔

ہم دیکھ چکے ہیں کہ ایک مچھر اپنی زندگی انڈے کے طور پر شروع کرتا ہے (مرحلہI)، نمو پاکر لاروا (پہل روپ) کی شکل اختیار کرلیتا ہے (مرحلہII)۔ لاروا کی نمو پیوپا کے طور پر ہوتی ہے (مرحلہIII) اور پیوپا کی نمو بالغ مچھر کے طور پر ہوتی ہے (مرحلہIV) بالغ مادہ مچھر پانی میں یا پانی کے نزدیک انڈے دیتی ہے اور یہ دور حیات جاری رہتا ہے۔

مختلف مرحلوں پر مچھر کی ظاہری بناوٹ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ مچھر کے دورحیات کے مختلف مرحلوں کے دوران جسمانی شکل اور ساخت میں نمایاں تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ انڈے کی شکل لاروا سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ لاروا، پیوپا سے اور پیوپا بالغ مچھر سے بہت زیادہ مختلف نظر آتا ہے۔ کیا یہ تصور کرنا آسان ہے کہ ایک مچھر، پیوپا سے نکلتا ہے؟


ریشم کا کیڑا بھی زندگی کے چار مرحلوں سے گزرتا ہے۔ انڈا، لاروا (پہل روپ)، پیوپا اور بالغ۔ انڈے سے لاروا نکلتے ہیں اور اپنے سائز کو بڑھاتے ہیں۔ پیوپا میں تبدیل ہونے سے پہلے لاروے دھاگے جیسی شے چھوڑتی ہیں جسے وہ اپنے چاروں طرف لپیٹ لیتے ہیں۔ یہ وہ ریشے ہیں جنھیں ریشمی کیڑے بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں کھادی ولیج انڈسٹریز کمیشن (KVIC) نے ریشم کی پیداوار کے لیے متعدد مراکز قائم کیے ہیں۔


کیا آپ جانتے ہیں؟

10.5.2 مینڈک کا دورِ حیات


10.6 : آیئے تجزیہ کریں

اودھی اور آیوش آج پوری آستین کی قمیض اور پورے پائنچوں کی پینٹ پہنے ہوئے ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے رک رک کر بارش ہو رہی ہے وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک سرگرمی کے لیے کہیں جارہے ہیں۔ اپنے سائنس ٹیچر کی رہنمائی میں کچھ دور چلنے کے بعد وہ ایک اتھلے تالاب پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہ تالاب درختوں اور اونچی گھاس سے گھرا ہوا ہے۔ ٹیچر نے انھیں متبنہ کیا کہ وہ ہر چیز کو بغیر کسی خلل کے فاصلے سے دیکھیں۔ آپ بھی برسات کے موسم میں کسی تسہیل کار کے ساتھ ایک چھوٹے آبی ذخیرے پر جاسکتے ہیں اور مناسب حفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اس کی کھوج بین کرسکتے ہیں۔

آپ کو تالاب کے کنارے کی طرف پانی کی سطح پر ایک سفید جیلی جیسی چیز نظر آسکتی ہے۔(شکل 10.7)، یہ جیلی جیسی شے پانی کے اندر یا اس کے آس پاس اگنے والے پودوں سے منسلک بھی ہوسکتی ہے۔ یہ جیلی جیسی شے مینڈک کے انڈوں کا جھُنڈ ہیں، جنھیں اسپان (spawn) کہا جاتا ہے۔

شکل 10.7 میں دکھائے گئے مینڈک کے تمام مراحل کی خصوصیات کا مشاہدہ کیجیے۔ آپ یہ کس طرح متعین کریں گے کہ دیے ہوئے مرحلوں ،E ،D ،C ،B ،A اور F میں سے کون سا مرحلہ سب سے پہلے اور کون سا اس کے بعد آتا ہے؟ کچھ مرحلے اپنی ابتدائی اور آخری شکلوں میں واضح تبدیلیاں ظاہر کرتے ہیں۔ ہر مرحلے کی ظاہر ہونے والی تبدیلیوں کو جدول 10.5 میں درج کیجیے۔

Screenshot 2025-11-06 at 15-07-58 fucu110.pdf

جدول 10.5 میں درج کیے گئے مشاہدات کی بنیاد پر میڈک کے دورِ حیات کا خاکہ کھینچیے ۔ اپنے اس خاکے کا موازنہ شکل 10.8 سے کیجیے۔

جدول 10.5 : مینڈک کی زندگی کے مختلف مراحل میں رونما ہونے والی تبدیلیاں

A

B

C

D

E

F

یہ’C‘ کے مشا بہ ہے لیکن اس کی دوٹانگیں ہیں۔

کچھ مرحلوں کو ایک ساتھ ملادیا گیا ہے؛ مثلاً شکل 10.7میں مرحلہA اورF کو مرحلہI میں یکجا کردیا گیا ہے۔ آپ مینڈک کے دور حیات میں چار مرحلے دیکھیں گے۔انڈے کا مرحلہ یا جنین پر مشتمل انڈوں کے طو رپر نمو پذیر اسپان، ٹیڈپول مرحلہ (ابتدائی مرحلہ جن میں دم ہوتی ہے اور ٹانگیں نہیں ہوتیں نیز تاخیری مرحلہ جس میں پچھلی ٹانگیں نظر آنے لگتی ہیں)، مینڈکچہ مرحلہ اور بالغ مینڈک کا مرحلہ (شکل 10.8)۔

Screenshot 2025-11-06 at 15-08-10 fucu110.pdf

کلاس میں درج ذیل نکات پر گفتگو کیجیے:

  • مینڈک کے انڈے دوسرے انڈوں سے کیسے مختلف ہیں جوآپ نے دیکھے ہیں؟
  • کس مرحلے کی مدت سب سے کم ہے؟
  • دورِ حیات کے مختلف مرحلوں کے دوران کیا مسکن میں کوئی تبدیلی نظر آتی ہے؟
  • ان کی نشوونما کے مختلف مرحلوں کی مخصوص صفات اس تبدیلی میں کس طرح معاون ہیں؟

شکل 10.8 کا مشاہدہ کیجیے۔ آپ دیکھیں گے کہ ٹیڈپول میں ٹانگیں تو بن گئی ہیں لیکن دُم اب بھی موجود ہے۔ یہ دُم تیرنے میں ان کی مدد کرتی ہے۔ ٹیڈپول میں بتدریج نشوونما ہوتی ہے اور یہ چھوٹے مینڈکوں جیسے نظر آنے لگتے ہیں جنھیں مینڈکچے کہا جاتا ہے۔ یہ بھی پانی میں ہی رہتے ہیں لیکن کچھ وقت زمین پر بھی گزارتے ہیں۔ ان میں مسلسل نشوونما ہوتی رہتی ہے اور دُم مکمل طور پر غائب ہوجاتی ہے۔ ان کی ٹانگیں مضبوط ہوجاتی ہیں جس سے انھیں چھلانگ لگا کر نیچے اترنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ مکمل نمو یافتہ بالغ مینڈک بن جاتے ہیں جو پانی اور زمین دونوں جگہ رہتے ہیں۔

Screenshot 2025-11-06 at 15-08-16 fucu110.pdf

پودے (نباتات) اور جانور (حیوانات) جان دار دنیا کا حصہ ہیں۔وہ اپنی زندگی کے سفر کے دوران مختلف قسم کی تبدیلیوں سے گزرتے ہیں۔ ہم نے ایک ننھے سے پودے کو مکمل نمو یافتہ درخت کی شکل اختیار کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ہم نے یہ بھی جانا ہے کہ جانوروں میں کس طرح نشوونما ہوتی ہے اور وہ بچے سے بالغ بن جاتے ہیں۔ ہر جانور کا اپنا مخصوص سفر حیات ہوتا ہےجواُسے منفرد اور خاص بناتاہے۔ ہم نے پیوپا سےنکلنے والے حشرات اور ٹیڈپول سے نکلنے والے مینڈکوں کو دیکھا ہے۔ ایسی تبدیلیاں پودوں اور جانوروں کے زندہ رہنے نیز ان جیسے جانداروں کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے بہت اہم ہیں۔ ہمیں ان کی اور ان کے مسکنوں کی دیکھ بھال کرنی چاہیے ۔ان کی پرورش اور ان کے مسکنوں کی حفاظت کرکے ہم جانداردنیا کے پھیلنے میں اہم حصّہ ادا کرسکتے ہیں۔

Screenshot 2025-11-06 at 15-08-22 fucu110.pdf

خلاصہ

کلیدی نکات

  • ہمارے آس پاس کی چیزوں کو دو اقسام جاندار اور غیرجاندار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
  • سبھی جاندار اجسام حرکت کرتے ہیں، نمو کرتے ہیں، سانس لیتے ہیں، تولید کرتے ہیں، مرتے ہیں، فضلہ خارج کرتے ہیں اور محرک کے تئیں ردعمل کا اظہار کرتے ہیں ۔ان میں سے کسی بھی خصوصیت کی عدم موجودگی شے کےغیرجاندارہونے کوظاہرکرتی ہے۔
  • ہرجاندار اپنی زندگی کے دوران کئی مراحل سے گزرتا ہے۔
  • بیجوں میں کلے پھوٹنے کا عمل، پانی، ہوا اور روشنی /تاریکی کے مناسب حالات کی دست یابی پر منحصر ہوتا ہے۔
  • بیجوں میں کلے پھوٹنے کے دوران جڑیں عام طور سے نیچے کی طرف بڑھتی ہیں جبکہ تنا اوپر کی طرف بڑھتا ہے۔
  • ایک پودے کا دورِحیات بیجوں میں کلے پھوٹنا،مختلف مراحل اور ارتقا پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان میں پھولوں کا کھلنا اور بیجوں کا پیداکرنا شامل ہے۔البتہ ان کے دورِ حیات میں پیدا ہونے والے بیج نئے پودے کی شکل میں پھوٹیں گے اور دورِ حیات جاری رہے گا۔
  • کسی جانور کے دورِ حیات میں پیدائش، نشوونما، تولید اور موت شامل ہیں۔ تولید کا عمل جانداروں کے تسلسل کو برقرار رکھتا ہے۔
  • مچھر،انڈا، لاروا، پیوپا اور بلوغت کے مراحل سے گزرتے ہیں۔ مینڈک کا دورِ حیات، انڈے، ٹیڈپول، مینڈکچہ (froglet)اور بالغ جیسے مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔
  • مچھر اور مینڈک جیسے کچھ جانداروں میں ان کے دورِ حیات کے مختلف مراحل کے دوران اہم تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ ان تبدیلیوں کو ان کے جسم کی شکل ،ساخت اوربساواقات اُن کے مسکن میں دیکھا جاسکتا ہے۔

آیئے اپنی آموزش میں اضافہ کریں

  1. پودوں ا ور جانوروں کے دورِ حیات میں یکسانیت اوراختلاف کی فہرست بنایئے۔
  2. درج ذیل جدول میں کچھ اعداد وشمار دیے گئے ہیں۔ ان اعداد وشمار کا مطالعہ کیجیے اور کالم 2اور3میں دی گئی حالتوں کے لیے مناسب مثالیں تلاش کرنے کی کوشش کیجیے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ کسی مخصوص قسم کی مثال ممکن نہیں ہے تو وجہ بیان کیجیے۔
  3. نمبر شمار

    کیا اس میں نشوونما ہوتی ہے

    کیا یہ تنفس کرتا ہے؟

    مثال

    تبصرہ

    1.

    نہیں

    نہیں

    2.

    نہیں

    ہاں

    3.

    ہاں

    نہیں

    4.

    ہاں

    ہاں

  4. ہم نے سیکھا ہے کہ بیجوں میں کلے پھوٹنے کے لیے مختلف ماحولیاتی حالات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم اس علم کا استعمال اناج اور دالوں کی مناسب ذخیرہ کاری کے لیے کس طرح کرسکتے ہیں؟
  5. آپ نے جان لیا ہے کہ ٹیڈپول میں دُم موجود ہوتی ہے لیکن جیسے ہی یہ مینڈک کی شکل اختیار کرتا ہے دُم غائب ہوجاتی ہے۔ دُم کی موجودگی ٹیڈپول کے لیے کس طرح مفید ہے؟
  6. چرن کا کہنا ہے کہ لکڑی کا لٹھا غیر جاندار ہے کیوں کہ وہ حرکت نہیں کرسکتا۔ چارواس کی مخالفت میں کہتی ہے کہ یہ جاندار ہے کیوں کہ وہ درختوں سے حاصل ہونے والی لکڑی سے بنا ہے۔ کس کی بات درست ہے اور کیوں؟
  7. مچھر اور مینڈک کے دورِحیات کی کون سی خصوصیات یکساں اور کون سی امتیازی ہیں؟
  8. ایک پودے کو اس کی نشونما کے لیے مناسب حالات فراہم کیے جاتے ہیں(شکل 10.9)۔ ایک ہفتے کے بعد گملے کے پودے کی جڑ اور تنے میں آپ جو کچھ دیکھنے کی توقع کرتے ہیں اس کی شکل بنایئے۔ وجہ بھی لکھیے۔
  9. Screenshot 2025-11-06 at 15-08-32 fucu110.pdf
  10. تارا اور وجے نے ایک تجربہ ترتیب دیا جسے آپ شکل 10.10 میں دیکھ سکتے ہیں۔ آپ کے خیال میں وہ کیا جاننا چاہتے ہیں؟ انھیں یہ کیسے معلوم ہوگا کہ وہ صحیح تھے؟
  11. بیجوں میں کلے پھوٹنے پر درجہ حرارت کے اثر کی جانچ کرنے کے لیے تجربہ کا خاکہ تیار کیجیے۔

مزید آموزش

  • کسی مقامی باغیچے یا نرسری کا دورہ کیجیے۔ مختلف پودوں کی نشوونما کے لیے درکار حالات اور وقت کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے باغبان سے گفتگو کیجیے۔
  • کیا ہم پودوں کو ان کے بیجوں میں کلے پھوٹنے سے پہلے اگاسکتے ہیں۔ دریافت کیجیے اور چند مثالیں پیش کیجیے۔
  • گھر، اسکول یا نزدیک کے کسی قریبی باغیچے میں اگائے گئے پانچ پودوں کے دورِحیات کا مشاہدہ کیجیے۔ ان کی نشوونما کے مختلف مراحل کی تصاویر پر مشتمل ایک تصویری کتاب تیار کیجیے۔ پودے کا نام اور ہر مرحلے کی مدت لکھیے۔
  • تتلی یا پتنگے (پروانے) کے دورِ حیات سے متعلق کچھ مراحل کا مشاہدہ کرنے کی کوشش کیجیے۔ کیا یہ مراحل مچھروں کے دورِحیات کی طرح ہی ہیں؟
  • آپ کے خیال میں کیا حشرات کے دورِحیات پر ماحول کا اثر پڑتا ہے؟ان عوامل کی چھان بین اور فہرست تیار کیجیے جو حشرات کے دورحیات کو متاثر کرتے ہیں۔
  • آیئے تخلیق کریں

    نیچے دی گئی نامکمل نظم میں مزید سطروں کا اضافہ کرکے خود اپنی نظم تخلیق کیجیے۔ اس میں مینڈک کے ارتقا کے مختلف مراحل سے متعلق معلومات شامل کیجیے۔ آپ ہر مرحلے کی تصویر بناکر اس میں رنگ بھی بھرسکتے ہیں جیسا کہ آپ کی نظم سے ظاہر ہوتا ہے۔

    سایہ دار گھاس والے دلدل میں،

    مینڈکوں کا ایک جھنڈ رہتا تھا،

    وہ صبح سے شام خوشی میں گیت گاتے،

    دہرے سُر میں ا پنی دھن جاری رکھتے،

    ایک دن بیٹھے ہوئے سرکنڈے کے نزدیک،

    مادہ مینڈک سوچتی ہے کہ افزائش نسل کا وقت آگیا قریب……..

    …………………………………………

    Screenshot 2025-11-06 at 15-08-41 fucu110.pdf