Skip to content
Qr







باب 11

قدرت کے خزانے

(Nature's Treasures)



اسکول کی تعطیلات میں بھومی اور سوریا کو ہمیشہ مزہ آتا ہے۔ وہ اس تعطیل میں اپنی اجّی (دادی) کے پاس گئے ہیں۔ اجّی مغربی گھاٹ میں جنگل کے کنارے ایک گائوں میں رہتی ہیں۔ یہاں ہوا تازہ اور شہر کے مقابلے میں ٹھنڈی ہے۔ وہ خوبصورت پہاڑیوں، جھرنوں او ر دلچسپ پودوں کو دیکھ سکتے ہیں۔

ایک دوپہر کو بھومی اور سوریانے اُس مقام کے بارے میں مزید بتانے کے لیے اجّی سے کہا۔اجّی کہتی ہیں، ’’بچو! کیا تم جانتے ہو کہ اس جگہ پر قدرت کے ایسے کئی خزانے ہیں جو ہماری زندگیوں کو مالامال کرتے ہیں؟ خالص ہوا تازگی بخش ہے اور مٹی اتنی زرخیز ہے کہ اُس پر بہت سے مختلف جانداروں کا گزارا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس جگہ پر دھوپ کی افراط ہے جو کئی طریقوں سے مفید ہے۔ طرح طرح کے درخت جانوروں کو غذا اور سایہ دیتے ہیں جن میں پرندے اور کیڑے مکوڑے شامل ہیں۔کیا آپ قدرت کے اس طرح کے مزید خزانوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟ “

بھومی جواب دیتی ہے ’’اجّی کہتی ہیں ہم پینے اور سبزیاں اُگانے کے لیے پانی استعمال کرتے ہیں۔ ’’ہاں ہمیں اپنی بقا کے لیے اور اپنی زندگی کو مزید آرام دہ بنانے کے لیے ان خزانوں کی ضرورت ہے۔ قدرت کے ان خزانوں کے بغیر زمین پر زندگی کی کسی شکل کاامکان نہیں ہے‘‘۔ہم سب فطرت کا حصہ ہیں۔

Screenshot 2025-11-07 at 09-56-48 fucu111.pdf

اجّی ہمارے ارد گرد ہوا کی اہمیت کی وضاحت کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ یہ ہمارے زندہ رہنے کے لیے کس طرح لازمی ہے۔آئیے ہم ہوا کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں۔


11.1 ہوا

ایک صبح، بھومی اورسوریا ، اجّی کو سانس لینے کی کچھ ورزشیں کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اجّی انھیں اپنے ساتھ شریک ہونے کے لیے کہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’میں گہری سانس لیتی اور باہر چھوڑتی ہوں۔ اس سے صحت مند رہنے کے لیےپھیپھڑوں میں زیادہ تازہ ہوا پہنچانےمیں مدد ملتی ہے۔‘‘ بھومی اور سوریا اجّی کے ساتھ بیٹھ کر گہری سانسیں لینے لگتے ہیں۔

آئیے ہم بھی سانس لینے کی ورزش کریں

Screenshot 2025-11-07 at 09-56-58 fucu111.pdf

سرگرمی11.1: آئیےہم محسوس کریں

  • لمبی سانس لیجیے اور آہستہ سے سانس چھوڑیے۔
  • دوبارہ زیادہ گہری سانس لیجیے۔
  • جتنی دیر ہو سکے اپنی سانس روکے رکھیے اور پھر آہستہ سے سانس چھوڑیے۔
  • آپ اپنی سانس کتنی دیر روک سکتے ہیں؟
  • اپنی سانس روکتے ہوئے آپ کو کیا محسوس ہوتا ہے؟

اس سرگرمی سے ہم یہ جانتے ہیں کہ اپنی سانس زیادہ دیر تک روکے رکھنا مشکل ہے۔ جو ہوا ہم سانس کے ذریعے اندرلیتے ہیں اس میں آکسیجن شامل ہوتی ہے۔ ہمارے جسم کواپنے افعال انجام دینے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب ہم اپنی سانس زیادہ دیر تک روکتے ہیں تو جسم کو اپنے افعال انجام دنیے کے لیے کافی آکسیجن نہیں ملتی۔ اس طرح ہمیں زندہ رہنے کے لیےآکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ہماری طرح زیادہ تر جانداروں کواپنی بقا کے لیے سانس کے ذریعے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔


انتباہ

اگر آپ کو بے آرامی محسوس ہو تو اپنی سانس زیادہ دیر تک نہ روکیے۔


ہم غذا اور پانی کے بغیر چند روز زندہ رہ سکتے ہیں لیکن آکسیجن کے بغیر چند منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتے۔


کیا آپ جانتے ہیں؟

زمین کے اطراف کی ہوا گیسوں کا امتزاج (mixture)ہے۔ کیا آپ بعض ایسی گیسوں کے نام بتا سکتے ہیں جو ہوا میں موجود ہیں ؟اس میں نائٹروجن،آکسیجن، آرگن ،کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گیسیں مختصر مقداروں میں شامل ہیں۔ شکل 11.1 میں فیصد شرح کے اعتبار سے ہوا کی ترکیب دی گئی ہے۔ اس پر غورکیجیےکہ
شکل 11.1 میں 100 مربعے ہیں۔ ان 100 مربعوں میں سے 78 میں نائٹروجن،21 میں آکسیجن اور ایک میں دیگر گیسیں جیسے آرگن، کاربن ڈائی آکسائڈ وغیرہ بھری ہوئی ہیں۔


فیصد شرح 100 حصوں میں سے حصوں کی تعداد ہے۔ اسے % کی علامت سے ظاہر کیا جاتا ہے۔


مزید جانیے!

Screenshot 2025-11-07 at 09-57-08 fucu111.pdf

آپ ہوا کی موجودگی محسوس کرتے ہیں جب درختوں میں پتیاں سرسراتی ہیں، الگنی پر ٹنگے کپڑے لہراتے ہیں یا پنکھے کا سوئچ کھولنے پر کھلی کتاب کے اوراق پھڑ پھڑاتے ہیں۔

چلتی ہوئی ہوا کو باد صبا (wind) کہتے ہیں۔ بعض اوقات ہوا تیز چلتی ہے مثلاً کسی طوفان کے دوران۔ یا ہوا آہستہ آہستہ چلتی ہے جیسےبادِ نسیم۔ آپ نے پھرکی سے کئی بار ضرور کھیلا ہوگا۔ آئیے سرگرمی 11.2 کو انجام دے کر پھرکی بنائیں۔


سرگرمی 11.2: آئیے بنائیں اور سجائیں

  • 15cm x 15cmکا ایک چوکور کا غذ،قینچی، آل پن اور نرم چھڑی لیجیے۔
  • پھرکی بنانے کے لیے شکل 11.2 میں دی گئی ہدایات کو کام میں لائیں۔
Screenshot 2025-11-07 at 09-57-20 fucu111.pdf

پھرکی کو ہاتھ میں پکڑے ہوئے دوڑیے۔ آپ اُس پر پھونک بھی مار سکتے ہیں۔ آپ کیا دیکھتے ہیں؟ کیا پھرکی گھومتی ہے؟ جب آپ اسے ذرا سا پیچھے اور آگے حرکت دیتے ہیں تو پھرکی گھومتی ہے۔ پھرکی کس وجہ سے گھومتی ہے؟ اسے گھمانے والی چیز ہوا ہے۔

پون چکی کے کام کرنے کا طریقہ پھرکی جیسا ہی ہے۔ ہوا پون چکی کے پروں کو گھماتی ہے۔ پون چکیاں آٹا چکیاں چلانے، کنویں سے پانی کھینچنے یا بجلی پیدا کرنے کے کام میں لائی جا سکتی ہیں۔ ہندوستان میں پون چکیوں کے بہت سے مزرعے یا فارم ہیں۔ پون چکی فارم ایسا علاقہ ہے جس میں ایسی پون چکیوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے جو بجلی پیدا کرنے کے لیے ہوا کی توانائی استعمال کرتی ہیں(شکل 11.3)۔

Screenshot 2025-11-07 at 09-57-27 fucu111.pdf

تملناڈو میں مپنڈل ونڈ فارم، راجستھان میں جیسلمیر ونڈ پارک اورمہاراشٹر میں برہمنول ونڈ فارم ہمارے ملک کے صفِ اول کے پون چکی فارم ہیں۔ ہمارے ملک میں مزید پون چکی فارموں کا پتہ لگائیے۔


مزید جانیے!

ہم پڑھ چکے ہیں کہ ہوا ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔ پانی بھی ہمارے لیے قیمتی اور زندگی کے لیے لازمی ہے۔ جب آپ کو پیاس لگی ہوا اور آپ کو پینے کے لیے پانی نہ مل سکے تو آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے؟ آئیے پانی کے بارے میں مزید جانیں۔


11.2 پانی

بھومی اور سوریا گایوں کےلیے حوضیوں میں پانی بھرنے میں اجّی کی مدد کر رہے ہیں۔ وہ پودوں مثلا ًباغیچے میں سبزیاں اور دوائی پودوں میں پانی دینے میں بھی ان کی مدد کرتے ہیں۔ اجّی انہیں پودوں میں پانی دینے کا طریقہ بتاتی ہیں تاکہ ہر قطرہ کام میں ا ٓجائے اور ذرا سا بھی ضائع نہ ہو ۔

کیا آپ اپنی روز مرہ زندگی میں پانی کے کچھ مزید کاموں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں ؟اپنے جوابات خالی بلبلے کے اندر لکھیے۔

Screenshot 2025-11-07 at 09-57-33 fucu111.pdf Screenshot 2025-11-07 at 09-57-39 fucu111.pdf

ہمیں کئی روز مرہ سرگرمیوں کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے جیسے پینا، کھانا پکانا، نہانا، دھونا اور صفائی کرنا۔ فصلیں اگانے اور صنعتی مقاصد کے لیے بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ پانی کہاں سے حاصل کرتے ہیں؟ پانی کے مختلف ذرائع کی ایک فہرست بنائیے۔

سطحِ زمین کا تقریباً دو تہائی حصہ پانی پر مشتمل ہے۔ زیادہ تر پانی سمندروں اور دریاؤں میں پایا جاتا ہے۔ لیکن یہ پانی کھا را یا نمکین ہوتا ہے۔ یہ کھارا پانی گھریلو، زرعی اور صنعتی استعمال کے لیے موزوں نہیں ہوتا۔ ان تمام سرگرمیوں کے لیے ہمیں صاف پانی کی ضرورت ہوتی ہے جو برف کی چادروں یا snow کی شکل میں ملتا ہے۔ برف کی چادروں (ice sheet)میں موجود پانی، برف( snow ) یا زیر زمین پانی تک رسائی مشکل ہے۔تالابوں، ندیوں، جھیلوں اور کنووں میں موجود صاف پانی کی بہت مختصر مقدار ہی آسانی سےقابل رسائی ہے۔پانی بہت قیمتی ہے، اس لیے اجی انھیں احتیاط سے پانی استعمال کرنےکی ہدایت دے رہی ہیں۔

کیا آپ یہ محسوس کرتےہیں کہ پانی کا استعمال ہماری روز مرہ سرگرمیوں میں مناسب طور پر نہیں ہو رہا ہے؟ اور اس کا زیادہ تر حصہ ضائع کیا جا رہا ہے؟ آئیے ہم یہ جانیں کہ پانی کس سرگرمی میں ضائع ہو رہا ہے اور اس کی بربادی کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے۔


سرگرمی 11.3: آئیے ہم پتہ لگائیں

جدول11.1: میں کالم IIاور کالمIII کو پُر کیجیے۔

جدول 11.1: آپ کی روزمرہ سرگرمیوں میں پانی کی بربادی

کالم I

کالم II

کالم III

سرگرمی

پانی کیسے برباد ہوتا ہے؟

پانی کی بربادی میں کمی کےطریقے تجویز کیجیے۔

1. ہاتھ دھونا

2. کپڑوں کی دھلائی

3. برتنوں کی دھلائی

4. نہانا

5. کھانا پکانا

6. باغبانی

7. دانت کی صفائی

جدول سے حاصل کی گئی معلومات سے آپ کیا نتیجہ نکالتے ہیں؟ پانی کی بربادی میں کمی لانے کے لیے آپ اور آپ کے خاندان کے افراد کیا کر سکتے ہیں؟ پانی کی بربادی میں کمی لانے کے کئی طریقے ہیں۔ مثلاً استعمال میں نہ رہنے کے دوران نل کو بند کر دینا اور پانی کے رساؤ کی مرمت کرنا ۔پانی کی باز تشکیل (recycling)اور اس کی ذخیرہ کاری (harvesting) سے بھی پانی کی بچت میں مدد ملتی ہے ۔

ہمارے ملک کو متعدد دریاؤں، جھرنوں اور جھیلوں کی نعمت حاصل ہے۔ کیا آپ نے کبھی پانی کی سطح پر تیرتے ہوئے پلاسٹک کے تھیلےاور ٹیٹرا پیک لفافے وغیرہ دیکھے ہیں۔ ہم کوڑا کرکٹ پھینک کر صاف پانی کے ذرائع کو آلودہ کرتے ہیں۔ جب گھروں اور صنعتوں سے نکلے فضلے ہمارے آبی وسائل میں شامل ہو جاتے ہیں تو پانی آلودہ ہوجاتا ہے۔ اُن دیگر انسانی سرگرمیوں کی شناخت کیجیےجو آبی آلودگی کا سبب بنتی ہیں۔کلاس میں اس پر اپنے دوستوں کے ساتھ بات کریں کہ پانی کی آلودگی کو کم کرنے کے لیے آپ کیا کر سکتے ہیں۔ آلودہ پانی جانداروں کے استعمال کے قابل نہیں ہوتا ۔

صاف پانی کے ذرائع محدود ہونےکی وجہ سے ہندوستان کے کئی حصوں میں پانی کی قلت ہے۔بعض مقامات پر لوگوں کو پینے کا پانی لانے کے لیے کافی دور تک پیدل چلنا پڑتا ہے۔ چونکہ ہرکسی کی پانی تک یکساں رسائی نہیں ہے، اس لیے ہمیں پانی کو محفوظ کرنا اور اسے احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔ ہمیں اسے آلودہ ہونے سے بھی روکنا چاہیے تاکہ پانی انسانوں کے استعمال کے لیے موزوں رہے۔ پانی کو محفوظ رکھنے کے لیے آپ کون سے طریقے سوچ سکتے ہیں؟

Screenshot 2025-11-07 at 09-58-01 fucu111.pdf

ذخیرہ کاری پانی کومحفوظ کرنے کے طریقوں میں سے ایک ہے۔ بارش کے پانی کو اکٹھا کر کے آئندہ استعمال کے لیے بڑی مقداروں میں محفوظ کر لیا جاتا ہے۔اس طریقے سے پانی جمع کرنے کو بارانی پانی کی ذخیرہ کاری کہا جاتا ہے۔( شکل11.4a)۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ بارش کے پانی کی ذخیرہ کاری کئی گھروں، رہائشی سوسائٹیوں یا اسکولوں میں بھی کی جاتی ہے۔ یہ ہندوستان میں پشتوں پرانی روایت ہے۔

مثلاً پانی کی قلت کے حل کے لیے راجستھان میں قدمچہ دار کنوویں (شکل11.4b) ہیں جسے عموما باوڑی(bawdi)کہا جاتا ہے اور گجرات میں پانی کی ذخیرہ کاری کے لیے Vav تعمیر کیے جاتے ہیں۔ان باوڑیوں میں پانی کی ذخیرہ اندوزی کا منفرد نظام ہوتا تھا۔ یہ نہ صرف بارش کے پانی بلکہ قریبی جھیلوں، تالابوں اور ندیوں سےرسنے والے پانی کا بھی ذخیرہ کرتا ہے۔ خندقوں (زمین میں کھودے گئے لمبے سوراخوں )کی دیواریں پتھروں کے ٹکڑوں سے جوڑ دی جاتی ہیں جس سے پانی کے رساؤ میں مدد ملتی ہے۔ کیا آپ اپنے گاؤں میں یا اپنے جاننے والے کسی شخص سے پانی کی ذخیرہ کاری کے روایتی طریقوں کا پتہ لگا سکتے ہیں؟ اس کے بارے میں مزید جاننے کے لیے اپنے اساتذہ اور والدین سے تبادلۂ خیال کریں۔


ہر سال 22 مارچ عالمی یومِ آب( پانی کا دن) منایاجاتا ہے۔ اس کی اہمیت کا پتہ لگائیے۔


کیا آپ جانتے ہیں؟

باب ’پانی کی حالتوں کو جاننے کا سفر‘ میں ہم پانی کی گردش کے بارے میں پڑھ چکے ہیں جس میں سورج پانی کی تبخیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کیا آپ نے اپنی ماں یا دادی کو کچے آم کاٹتے اور سوکھنےکے لیے اُسےکئی روز تیز دھوپ میں رکھتے ہوئے دیکھا ہے؟ آئیے ہم سورج سے حاصل ہونے والی توانائی کے بارے میں مزید چھان بین کریں۔


11.3: سورج سے ملنے والی توانائی

ایک چمکتی دھوپ والے دن بھومی اور سوریا دھوپ میں مرچیں سکھانے میں اجّی کی مدد کر رہے ہیں۔ اجّی کہتی ہیں ’’ہم اسے سکھانے کے لیے سورج کی گرمی سے کام لیتے ہیں۔ تازی مرچی نہ ملنے پر ہم سوکھی مرچ استعمال کر سکتے ہیں۔ میں کچھ مرچیں تمہیں گھر لے جانے کے لیے دے دوں گی ۔کیا تم جانتے ہو کہ سورج زمین پر توانائی کااصل ذریعہ ہے؟تمام پودوں اور جانوروں کا انحصار اسی پر ہے۔‘‘

ہم سورج کی حرارت اور روشنی کا استعمال مختلف مقاصد کے لیے کرتے ہیں۔ کیا آپ بعض مقاصد کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟ بھومی سورج کی حرارت اور روشنی کے فوائد کو دکھانے کے لیے بعض تصویریں بناتی ہیں۔آپ مزید مثالوں کا اضافہ کر کے اس کی مدد کریں؟ تصویریں بنا کر نیچے فراہم کی گئی جگہ میں ان کی
تفصیل لکھیے۔

Screenshot 2025-11-07 at 09-58-08 fucu111.pdf

ایک دوپہر بھومی اور سوریا ، اجّی کے گھر کے پاس کے کھیتوں سے گزر رہے ہیں جہاں وہ ایک گائے کو گھاس چرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ وہ توانائی کے اصل ذریعے کے طور پر سورج کے بارے میں بات کر رہے ہیں ۔ اُن کی گفتگو کو غور سے سن کر جواب دیجیے۔


اس گائے کو دیکھو۔ یہ گھاس چر رہی ہے اور اس سے توانائی حاصل کر رہی ہے ۔


نہیں، میرا خیال ہے کہ یہ گائےسورج سے توانائی حاصل کر رہی ہے۔

Screenshot 2025-11-07 at 09-58-15 fucu111.pdf

گائے دھوپ میں کھڑی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سورج سے توانائی حاصل کر رہی ہے۔


گائے گھاس چر رہی ہے۔ گھاس کو اُگنے کےلیے دھوپ چاہیے۔ تو توانائی کا اصل ذریعہ سورج ہے۔ اس طرح گائے سورج سے توانائی حاصل کرتی ہے۔


آپ کے مطابق کس کا بیان درست ہے اور کیوں؟

دھوپ سے پودوں کو غذا تیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔ سورج بھی زمین پر موجود تمام جانداروں کوگرمی اور روشنی دیتا ہے۔یہ ان کی توانائی کا اصل ذریعہ ہے۔


بہت سے گھروں میں صبح سویرے سور ج کےلیے احسان مندی کے اظہار کےطور پر اُسے پانی چڑھایا
جاتا ہے۔


کیا آپ جانتے ہیں؟

کیا آپ نے چھتوں، سڑکوں ،بجلی کے کھمبوں یا ٹریفک کے سگنلوں پر سولر پینل دیکھے ہیں۔ سولر پینل سورج سے توانائی حاصل کر کے بجلی پیداکرتے ہیں۔ سورج سے ملنے والی توانائی بھی سولر واٹر ہیٹروں کی طرح براہِ راست پانی گرم کرنے کے لیے یا سولر کوکر کی طرح کھانا پکانے میں استعمال کی جا سکتی ہے۔

Screenshot 2025-11-07 at 09-58-23 fucu111.pdf

اگر سورج چند روز نظر نہ آئے تو کیا ہوگا ؟

ہمیں دن کے وقت بھی مصنوعی روشنی پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔

2۔ .....................

3۔ .....................

سورج کے بغیر ہم زمین پر زندگی کا تصور نہیں کرتے۔ سورج زمین پر توانائی کا اصل ذریعہ ہے۔ پودے سورج سے توانائی حاصل کر کے غذا پیدا کرتے ہیں ۔حیوانات پودوں کو کھاتے اور نشوونما پاتے ہیں۔ ہم پودوں اور جانوروں سے غذاحاصل کرتے ہیں۔ اس طرح ہم سب کا انحصار توانائی کے اصل ذریعے سورج پر ہے۔ ہمیں بڑی تعداد میں مختلف پودے اور حیوانات کہاں ملتے ہیں۔ آئیے چھان بین کریں۔


11.4 جنگلات

ایک صبح اجّی، بھومی اور سوریا کو جنگل میں چہل قدمی کے لیے لے جاتی ہیں۔ وہاں انہیں بہت سی اقسام کی بیلیں، جھاڑیاں اور درخت ملتے ہیں۔ اجّی بتاتی ہیں کہ ’’جنگلات مختلف اقسام کے پودوں کی گھنی افزائش والے بڑے علاقے ہوتے ہیں“۔راستے میں وہ کچھ نیلی کائی( کنڑ زبان میں کروندے کا متبادل) اکٹھی کرتی ہیں جو زمین پر گرے ہوئے تھے۔اجّی انہیں بتاتی ہیں ’’وہ ہمارے گاؤں میں درختوں سے پھل نہ توڑنے کی روایت ہے۔ انہیں جانوروں اور پرندوں کے کھانے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔‘‘

Screenshot 2025-11-07 at 09-58-31 fucu111.pdf

اپنے دوستوں سے بات چیت کرکے کم از کم پانچ مصنوعات (products) کی فہرست بنائیے جو ہمیں جنگلات سے حاصل ہوتی ہیں ۔

..........................................................

جنگلات بہت سے جنگلی جانوروں کاگھر ہیں، جن میں پرندے اور کیڑے مکوڑے بھی شامل ہیں ، وہ انہیں بھی غذا اور پناہ گاہ فراہم کرتے ہیں۔ فطرت میں ہر جانور کا انحصار اپنی بقا کے لیے زندگی کی دیگر شکلوں پر ہوتا ہے۔ زندگی کی شکلوں کاتنوع ہر جاندار کے لیے غذا کو یقینی بناتا ہے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ جنگل پر مشتمل علاقہ خصوصاً بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی جیسی انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ کوئی نیا جنگل اُگانے یا ختم ہو چکے جنگلوں کی بحالی میں کئی سال لگتےہیں۔ اس لیے جنگلوں کو دوبارہ اگنے کا کافی وقت دینے کے لیے ہمیں ان کا تحفظ اور ان کا ذمہ دارانہ استعمال کرنا چاہیے۔ تاکہ انھیں باز افزائش کے لیے کافی وقت ملے۔


بڑے جنگلاتی علاقے کو کاٹنے کے کیا نتائج ہیں؟ کوئی پیشکش انجام دیجیے، کوئی کردار ادا کیجیے۔ کوئی کہانی یا نظم لکھیے جو یہ ظاہر کرے کہ اگر ہم اپنے جنگلوں میں درختوں کو کاٹتے رہے تو کیا ہوگا؟

ون مہوتسو ایک ہفتہ بھر کی تقریب ہے جو ماہ جولائی میں پورے ملک میں منائی جاتی ہے۔ یہ ایک جنگلی تہوار ہے جس کے دوران نئے پودے اور درخت لگائے جاتے ہیں اور جنگلات کے تئیں احترام کے لیے بیداری پیدا کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد جنگل پر مشتمل علاقے میں اضافہ ہے۔ آپ اپنی بستی میں ون مہوتسو کا منصوبہ بنا سکتے ہیں۔


Screenshot 2025-11-07 at 09-58-38 fucu111.pdf

قدیم وقتوں سے ہندوستان میں جنگلات کا احترام کرنے، ان کی حفاظت اوران کا تحفظ کرنے کی روایت رہی ہے۔ آپ پہلے ہی ’’جانداروں کی دنیا میں تنوع‘‘ کے باب میں مقدس نخلستان کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ درختوں کی کٹائی روکنے اور اس طرح جنگلات کو بچانے کی کئی کوششیں عام افراد نے کی ہیں۔ ایسی ہی ایک کوشش مشہور چپکو تحریک ہے۔ یہ 1970 کے دہے کے اوائل میں اتراکھنڈ میں شروع ہوئی (جو اس وقت اترپردیش میں تھا)۔ مقامی خواتین نے اس تحریک میں فعال شرکت کی۔ وہ درختوں کو کاٹے جانے سے بچانے کے لیے ان سے لپٹ گئیں۔


کیا آپ جانتے ہیں؟

جنگلوں میں گھومنے کے دوران بھومی اور سوریا محسوس کرتے ہیں کہ زمین پر بہت سی پتیاں بکھری ہوئی ہیں اور مٹی نم لگتی ہے۔ اجّی یہ وضاحت کرتی ہیں کہ ’’پودوں کی جڑیں مٹی کو جکڑے رہتی ہیں اور اسے کٹاؤ سے بچاتی ہیں۔ درختوں سے گرنے والی پتیاں سڑ گل کر مٹی کو بھرپورتغذیائی اجزا فراہم کرتی ہیں۔ اس مٹی کو نئے پودے اور درخت اپنی نشوونما کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ فطرت کے اندر بازتشکیل کی ایک مثال ہے‘‘۔ آئیے زیادہ تفصیل سے مٹی کے بارے میں واقفیت حاصل کریں۔


11.5 مٹی، چٹانیں اور معدنیات

Screenshot 2025-11-07 at 09-58-43 fucu111.pdf

بھومی ، سوریا اور اجّی جنگل سے گھر واپس آتے ہیں۔ بھومی اور سوریا باغیچے میں کچھ سبزیوں کے پودے لگانے کے لیے مٹی تیار کرنے میں اجّی کی مدد کرتے ہیں(شکل 11.5)۔ اجّی اُن سے آہستہ سے مٹی کھودنے اور ڈھیلوں کو توڑنے کے لیے کہتی ہیں۔ آپ ’جاندار اور غیر جاندار: اُن کی خصوصیات کی تفتیش‘ کے باب میں پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ نشوونما کے لیے مٹی کے ذرات کے درمیان خلا نہ صرف کافی آکسیجن بلکہ جڑوں کو آسانی سے بڑھنے کی جگہ بھی بناتا ہے۔ بھومی اور سوریا مٹی میں چھوٹے کنکڑ ،پودوں کی جڑیں اور چند کیچوےبھی دیکھ سکتے تھے۔ کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ کیچوے ایسے قدرتی عامل ہیں جو مٹی کو پلٹنے اور ڈھیلی بنانے کا کام کرتے ہیں؟

اس دوران کہ بھومی اور سوریا اجّی کی مدد کر رہے ہیں۔ آئیے سرگرمی11.4 انجام دے کر ہم خود اپنا
تجربہ کریں ۔


سرگرمی 11.4: آئیے تفتیش کریں


انتباہ

مختلف مقامات کی مٹی کو چھونے کے بعد اپنے ہاتھ اچھی طرح دھونا نہ بھولیے۔ بعض اوقات فضلہ آمیز مٹی میں ہمارے لیے مضر جراثیم ہو سکتے ہیں۔

  • اپنے گھر اور ا سکول کے اطراف کے مختلف علاقوں سے طرح طرح کی مٹی کے نمونے جمع کیجیے ۔
  • اندازہ لگائیے کہ مختلف اقسام کی مٹی میں کون کون سی چیزیں ہو سکتی ہیں۔
  • مٹی کے ہر نمونے کا غور سے مشاہدہ کرکے اُن کے رنگ درج کیجیے۔
  • مٹی کے ہر نمونے کو چھو کر اس کی رنگت کو محسوس کیجیے۔
  • اپنی کھلی آنکھوں سے مٹی کے نمونوں کا مشاہدہ کیجیے ۔اگر آپ کے پاس تکبیری شیشہ ہو تو اس سے مٹی کا معائنہ کیجیے۔
  • اپنے مشاہدات جدول 11.2 میں درج کیجیے۔

جدول 11.2: مٹی کے نمونے

وہ مقام جہاں سے نمونہ لیا گیا

مٹی کے بارے میں میرا کیا قیاس ہے؟

کھلی آنکھ سے مٹی کا مشاہدہ، بشمول رنگ اور بناوٹ

تکبیری شیشے سے مٹی کا مشاہدہ

  • آپ نےجس چیز کا قیاس کیا تھا اور قریب سے دیکھنے پر آپ کے مشاہدے میں جو کچھ آرہا ہے ، کیا ان دونوں باتوں میں کوئی فرق ہے؟
  • کیا مختلف مقامات سے لیے گئے نمونوں کے درمیان کوئی فرق پایا جاتا ہے؟
  • جو کچھ آپ کھلی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور جو کچھ آپ تکبیری شیشے سے دیکھ سکتے ہیں کیا آپ کو دونوں میں سے کسی طرح کا فرق نظر آتا ہے؟

مٹی میں بہت سی چیزیں ہوتی ہیں جیسے ریت، بعض کیڑے مکوڑے اور کینچوے۔ اس میں ایسے عضویے بھی ہو سکتے ہیں جو ہم اپنی کھلی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے۔ پودے اور حیوانات بھی سڑ گل کر مٹی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ مختلف مقامات سے اکٹھاکیے گئے مٹی کے نمونے شاید اس وجہ سے مختلف رنگوں کے ہوں کہ ان کی بناوٹ الگ الگ ہے۔

Screenshot 2025-11-07 at 09-58-49 fucu111.pdf

کیا آپ کواس پر کبھی حیرت ہوئی ہے کہ مٹی کیسے بنتی ہے؟ مٹی لمبی مدت (ہزاروں سال )سورج ،پانی اور جاندار عضویوں کے عمل کے اثر سے چٹانوں کے بکھراؤ اور( ٹوٹ کر الگ ہونے) سے بنتی ہے۔ مٹی کی مختلف قسمیں ہیں۔ ایک قسم کی مٹی بعض پودوں کے لیے تو دوسری قسم کی مٹی عمارتوں کے لیے اینٹ بنانے میں اچھی ہوتی ہے۔جنگلوں میں متنوع قسم کی مٹی ہوتی ہے ۔مٹی ایک قیمتی خزانہ ہے جو حیاتی تنوع میں معاون ہوتی ہے۔

آپ نے اپنےاطراف میں چٹانیں دیکھی ہوں گی۔ چٹانوں کا استعمال مکانوں، عمارتوں، عبادت گاہوں، سڑکوں،باندھوں کی تعمیر اور میز کے تختے بنانے میں ہوتا ہے ۔بعض چٹانیں مثلاً سلیٹ چھت سازی
(شکل 11.6)اور لٹیرائٹ عمارتی سامان مثلاً اینٹوں کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہے (شکل 11.7)۔ بعض اہم چٹانیں گرینائٹ، سینڈ اسٹون اور سنگ مرمر ہیں۔ انسان ہزاروں سال سے کلہاڑیوں جیسے اوزار
(شکل 11.8a) اور تیر کے سرے(شکل11.8b) بنانے کے لیے چٹانوں کا استعمال کرتے رہے ہیں۔

Screenshot 2025-11-07 at 09-58-57 fucu111.pdf Screenshot 2025-11-07 at 09-59-04 fucu111.pdf

چٹانیں کس چیز کی بنی ہوتی ہیں؟ وہ معدنیات سے بنی ہوتی ہیں۔ المونیم ،سونا، تانبہ اور لوہا جیسی اہم دھاتیں کانوں سے نکالی جاتی ہیں۔ معدنیات کا استعمال ہوائی جہازوں ،کاروں، زیورات، افزائش حسن کا سامان ، برقی اور الیکٹرونی آلات بنانے میں ہوتا ہے۔مثلاً بنیادی موبائل فون جو ہم استعمال کرتے ہیں اس میں سونا، چاندی، تانبہ، کوبالٹ وغیرہ جیسی تقریباًً ایک درجن معدنیات ہوتی ہیں ۔

Screenshot 2025-11-07 at 09-59-11 fucu111.pdf

چٹانیں ہماری زندگیوں میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ چٹانوں کے دوبارہ بننے میں ہزاروں سال سے ملین سال لگتے ہیں۔ اس لیے ان کا تحفظ اور ذمہ دارانہ استعمال ضروری ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ چٹان اور معدنیات ایک سے دوسرے مقام تک کیسے منتقل ہوتی ہیں؟ ہمارے کام میں آنے والی زیادہ تر موٹر گاڑیوں میں رکازی ایندھن (fossil fuels) استعمال ہوتے ہیں۔ آئیے رکازی ایندھنوں کے بارے میں مزید چھان بین کریں۔


11.6 رکازی ایندھن

Screenshot 2025-11-07 at 09-59-23 fucu111.pdf

آئیے ہم سرگرمی 11.5 کو انجام دے کر اس کے بارے میں مزید چھان بین کریں ۔


سرگرمی 11.5:آئیے ہم ایک جائزہ انجام دیں

  • اپنے محلے میں موٹر گاڑیوں کا ایک جائزہ انجام دیجیے۔
  • موٹرگاڑیاں کن اقسام کی ہوتی ہیں۔ ان میں کس طرح کے ایندھن استعمال ہوتے ہیں ؟
  • اپنی جمع کی گئی معلومات جدول 11.3 میں درج کیجیے ۔

جدول11.3: موٹر گاڑیوں اور استعمال کیے جانے والے ایندھنوں کی اقسام

موٹر گاڑی کی قسم

استعمال کیے گئے ایندھن کی قسم

عموماً استعمال کیے جانے والے دو اہم ایندھن کون سے ہیں؟پٹرول اور ڈیزل موٹر گاڑیوں میں استعمال ہونے والے دوعام ترین ایندھن ہیں۔ پیٹرول، ڈیزل اور کیروسین پیٹرولیم سے حاصل ہوتے ہیں۔ پیٹرولیم اور اس کے ساتھ ساتھ قدرتی گیس اور کوئلہ عام طور پر رکازی ایندھن کہلاتے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر زمین کے اندر گہرائی میں دبے ہوئے پیٹرولیم، قدرتی گیس اور کوئلے میں تبدیل ہو جانے والے خورد عضویوں اور پودوں سے بنتے ہیں۔ ان ایندھنوں کے بننے میں کئی ملین سال لگتے ہیں۔

قدرتی گیس کھانا پکانے اور بجلی بنانے کے کام آتی ہے۔ آج یہ کمپرلیسڈ نیچرل گیس کی شکل میں موٹر گاڑیاں چلانے میں بھی استعمال ہو رہی ہے۔ یہ پیٹرول اور ڈیزل کے مقابلے میں زیادہ صاف ایندھن ہے۔ کوئلے کا استعمال خاص طور پر بجلی پیدا کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہ ہندوستان کے کئی حصوں میں بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔کوئلہ پیدا کرنے والی بڑی ریاستوں کی شناخت کرکے ہندوستان کے سیاسی نقشے پر ان کی نشاندہی کیجیے۔


ماضی میں کوئلہ ،لکڑی اور اُپلےکھانا پکانے کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔ اب کم آلودگی والی قدرتی گیس اور سیال پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) بتدریج ان گھریلو ایندھنوں کی جگہ لے رہی ہیں۔


کیا آپ جانتے ہیں؟

Screenshot 2025-11-07 at 09-59-30 fucu111.pdf

رکازی ایندھن محدود مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اگر ہم انہیں اسی طرح استعمال کرتے رہیں تور کازی
ایند ھن جلد ہی ختم ہو جائیں گے۔ ایسی صورتِ حال سے بچنے کے لیے ہمیں متبادل توانائی کے ذرائع دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔ رکازی ایندھن کے جلنے سے دھواں اور کاربن ڈائی آکسائڈگیس پیدا ہوتے ہیں جس سے ہوا آلودہ ہوتی ہے۔ ذریعہ آمد و رفت اور گھر یلو ایندھنوں کے طور پر رکازی ایندھنوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر فضائی آلودگی پیدا ہوئی ہے۔

آئیے ر کازی ایندھن کے تحفظ میں اپنی ذمہ داری نبھائیں—

  • قریبی مقامات تک پیدل یا سائیکل چلا کر جانا۔
  • سرکاری ذرائع نقل و حمل استعمال کرنا۔

    کچھ مزید طریقے تجویز کریں۔


11.7 قدرتی وسائل: قابل تجدید اور غیر قابل تجدید

قدرت کے خزانے ہماری ضروریات کو پوراکرتے ہیں۔ وہ زمین پر زندگی کی تمام شکلوں کو زندہ رکھنے کے لیے لازمی ہیں۔ مثلاً،ہم سورج سے حرارت اور روشنی ،ندیوں سے پانی، اور پودوں اور حیوانات سے غذا حاصل کرتے ہیں۔یہ وسائل جو ہم فطرت سے حاصل کرتے ہیں،قد رتی وسائل کہلاتے ہیں۔ اپنی آسانی کے لیے کئی مفید چیزیں بنانے میں بھی ہم قدرتی وسائل کاا ستعمال کرتے ہیں۔مثلاً بجلی کے بلب، فرنیچر، سولر پینلز ، بائیسکل وغیر ہ ہماری زندگی کو آرام دہ بناتے ہیں۔انسانوں کی تخلیق کردہ تمام وسائل کوانسان ساختہ وسائل کہا جاتا ہے۔

آپ مختلف قدرتی وسائل کے بارے میں پڑھ چکے ہیں، جیسےہوا،پانی،شمسی تو انائی ، جنگلات،مٹی، چٹانیں، معدنیات اور رکازی ایندھن۔ ان قدرتی وسائل میں سے بعض وقت گزرنے کے ساتھ قدرتی تبدیلیوں کی وجہ سے نئی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر آپ کو یاد ہو تو اجّی نے بھومی اور سوریا کو بتایا تھا کہ آپ صرف ایسی نِلّی کائی اکٹھا کرسکتے ہیں جو زمین پر گری ہوئی ہو۔ اس سے یہ یقینی ہو جاتا ہے کہ دیگر حیوانوں اور پرندوں کے لیے کافی غذاہوگی۔ جانوروں اور پرندوں کے فضلوں میں شامل بیجوں سے نئے درخت اگ سکیں گے اگرچہ ان نئے درختوں سے ہمیں پھل ملنے سےپہلے کچھ سال لگیں گے۔ اس طرح معقول مدت کے اندر تجدید ، تبدیل اور بحال شدہ و سائل کو قابل تجدید وسائل کہا جاتا ہے۔ ہوا، جنگل اور پانی قابل تجدید قدرتی وسائل کی بعض مثالیں ہیں۔ فطرت ان کی تجدید کرتی ہے۔ ہمیں اپنے قدرتی وسائل کو سنبھال کر استعمال کرنا چاہیے۔

دوسری طرف رکازی ایندھن بننے میں کئی ملین سال لگتے ہیں۔وہ محدود مقدار میں پائے جاتے ہیں اور ایک بار استعمال کیے جانے پر ختم ہو جاتے ہیں۔ انھیں معقول مدت کے اندر نہ پیدا اور نہ ہی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ انھیں غیر قابل تجدید وسائل کہا جاتا ہے۔ اس طرح کے وسائل کی مثالیں معدنیات، چٹانیں، کوئلہ، پیٹر ولیم اور قدرتی گیس ہیں۔


11.8 ہمارے کام آنے والے وسائل

اجّی کے گھر پر پُر لطف تعطیلات گزار کربھومی اور سوریا کا گھر واپس جانے کا اب وقت ہو گیا ہے۔ ان کی ماں (اماں) انھیں لے جانے کے لیے آئی ہیں۔ بھومی اور سور یانے ماں کو سبزیوں کے وہ پودے دکھائے جو باغیچے میں اگنے لگے ہیں اور وہ سوکھی مرچیں بھی جو اجّی نے انھیں گھر لے جانے کے لیے دی ہیں۔

شہر پہنچنے پر وہ دیکھ سکتے تھے کہ افق کارنگ اور ہوا کی خوشبو بدلے ہوئے ہیں۔ یہاں درخت گنے چنے ہی ہیں۔ ہوا میں خوشبو اتنی اچھی نہیں تھی جتنی اجّی کے گھر میں تھی۔وہ موٹر گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں کو بھی سونگھ سکتے تھے۔ ہوا آلودہ تھی۔ اماں کہتی ہیں، ’’ہاں، جب ہم اپنی موٹر گاڑیوں میں رکازی ایندھن استعمال کرتے ہیں تو دھواں پیدا ہوتا ہے۔ اب ایسی موٹر گاڑیاں آگئی ہیں جن میں آلودگی کم ہوتی ہے مثلا بجلی کی موٹر گاڑیاں جن سے کوئی آلودگی پیدا نہیں ہوتی۔ اس لیے لوگ متبادلات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔

کیا آپ فضائی آلودگی میں تخفیف کے متبادلات درج کر سکتے ہیں؟

........................................................

........................................................

آئیےہم اپنی روز مرہ زندگی میں کئی قدرتی وسائل استعمال کرتے ہیں۔ سرگرمی 11.6 انجام دی کر اپنے استعمال میں آنے والے بعض وسائل کی نشان دہی کریں۔


سرگرمی 11.6: آئیے ہم استعمال کیے گئے قدرتی وسائل کی فہرست بنائیں

اُن سرگرمیوں کی ایک فہرست بنائیں جو آپ روز مرہ زندگی میں انجام دیتے ہیں اور اُن قدرتی وسائل کے نام لکھیں جن کا استعمال سرگرمی کے دوران براہِ راست یا بالواسطہ طور پر کیا گیا۔ جدول 11.4 میں بعض آئٹمز پہلے سے بھرے ہوئے ہیں۔ اُن کی رہنمائی میں آپ باقی آئٹمز کو بھر سکتے ہیں۔

جدول 11.4: استعمال میں آنے والے قدرتی وسائل

سرگرمی

قدرتی وسائل

نہانا

پانی

مٹی کے کھلونے بنانا

ایندھن کی لکڑی چننا

پتنگیں بنانا

ناشتہ کرنا

آپ نے کتنے قدرتی وسائل درج کیے ؟ اپنی فہرست کا موازنہ اپنے دوست کی فہرست سےکیجیے۔

آپ اور آپ کے دوستوں نے ایسے کئی قدرتی وسائل کی فہرست بنائی ہے جو ہم روزانہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ وسائل ہوا، پانی، مٹی ، پودوں اور جانوروں سے حاصل ہونے والی غذا ہیں۔ ہم یہ وسائل قدرت سے حاصل کرتے ہیں اور اپنے استعمال کے لیے قدرتی وسائل کی مدد سے چیز یں بھی بناتے ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنے قدرتی وسائل کا تحفظ کرنا اور ضائع کیے بغیر ذمہ داری سے اُن کا استعمال کرنا چاہیے ۔ ہم ماحول کو ضرر پہنچائے بغیرمستقبل کے لیے بچت کرتے ہوئے وہ سب کچھ استعمال کرتے رہیں جن کی ہمیں ضرورت ہے ۔

’’زمین ہر شخص کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بہت کچھ دیتی ہے لیکن یہ ہر شخص کی لالچ کے لیے کافی نہیں ہے۔‘‘

ایم کے گاندھی

Screenshot 2025-11-07 at 09-59-39 fucu111.pdf

خلاصہ

کلیدی نکات

  • ہماری بقا کے لیے ضروری بیشتر وسائل فطرت سے حاصل ہوتے ہیں۔
  • فطرت سے حاصل ہونے والے وسائل کو قدرتی وسائل کہتے ہیں۔
  • بعض اہم قدرتی وسائل سورج کی توانائی ، ہوا، پانی، مٹی، معدنیات، رکازی ایندھن اور جنگلات ہیں۔
  • اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے انسان کے بنائے گئے وسائل انسان ساختہ وسائل کہلاتے ہیں۔
  • قدرتی وسائل کو قابل تجدید اور غیر قابل تجدید وسائل میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
  • مقول مدت کے اندر قدرتی سلسلہ ٔعمل کے تحت تجدید شدہ، دوبارہ وضع شدہ اور بحال شدہ وسائل کو قابل تجدید وسائل کہتے ہیں۔
  • معقول مدت کے اندر قدرتی اعمال کے زیر اثر تبدیل نہ ہونے والےمحدود مقدار کے وسائل کو جو دوبارہ وضع نہ کیے جا سکیں غیر قابل تجدید وسائل کہتے ہیں۔
  • بشمول انسان تمام جانداروں کی بقا کا انحصار قدرتی وسائل پر ہے۔ اس لیے ان کا استعمال احتیاط سے
    کرنا چاہیے۔

آیئے اپنی آموزش میں اضافہ کریں

  1. شکل 11.9 میں قدرتی وسائل سے متعلق اشیا دکھائی گئی ہیں۔ انھیں اُن کے الجھے ہوئے ناموں سے ملائیں۔ ایک اور جدول بناکر ان وسائل کے نام لکھیے۔ ان وسائل کی زمرہ بندی قابل تجدید اور غیر قابل تجدید وسائل کے طور پر کیجیے۔

چیز

الجھے ہوئے نام

ن چ ٹ ا

ن گ ج ل

و ا ہ

ا ن ی پ

2. بتائیے کہ مندرجہ ذیل بیانات صحیح ()ہیں یا غلط ()۔اگر غلط () ہیں تو انھیں درست کیجیے۔

(i) فطرت کے پاس انسانی ضروریات کی تکمیل کے تمام وسائل ہیں۔ ( )

(ii) مشینیں فطرت میں پائے جانے والے وسائل ہیں۔ ( )

(iii) قدرتی گیس ایک غیر قابل تجدید وسیلہ ہے۔ ( )

(iv) ہوا ایک قابل تجدید وسیلہ ہے۔ ( )

3. موزوں ترین متبادل کی مدد سے خالی جگہ پُر کیجیے۔

(i) اسکوٹر یا موٹر سائیکل میں عام طور پر استعمال ہونے والا ایندھن ہے۔

(a) کیروسین

(b) پیٹرول

(c) ڈیزل

(d) ایل پی جی

(ii) قابل تجدید وسیلے کی ایک مثال ہے۔

(a) کوئلہ

(b) پانی

(c) قدرتی گیس

(d) پیٹرول

4. مندرجہ ذیل کی زمرہ بندی قابل تجدید اور غیر قابل تجدید وسائل کے طور پر کیجیے۔کوئلہ ، قدرتی گیس، جنگلات، اور معدنیات۔

5. ہم یہ کیوں کہتے ہیں کہ پیٹر ولیم ایک غیر قابل تجدید وسیلہ ہے؟

6. جنگلات کو دوبارہ اُگانا مشکل ہوتا ہے۔ اس بیان کا جواز پیش کیجیے۔

7. ایسی پانچ روزمرہ سرگرمیوں کی فہرست بنائیے جن میں آپ قدرتی وسائل کی بچت کر سکتے ہوں یا ان کے استعمال میں کمی لاسکتے ہوں۔

8. ایسی چار سرگرمیاں درج کیجیے جو ہواکی موجودگی کی وجہ سے ممکن ہیں۔

9. آپ اپنے علاقے کےہریالی والے خطّے کو بڑھانے میں کیسے تعاون دے سکتے ہیں ؟ کیے جانے والے اقدامات کی ایک فہرست بنائیں۔

10.دی گئی تصویر میں ہم دیکھتے ہیں کہ کھانا پکایا جا رہا ہے۔ مندرجہ ذیل سوالا لوں کے جواب دیجیے۔

(i) کھانا پکانے کے لیے کس قسم کی توانائی استعمال کی جارہی ہے ؟

(ii) کھانا پکانے کے لیے اس طرح کی توانائی استعمال کرنے کے ایک فائدے اور ایک نقصان کا نام لکھیے۔

11. بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کا مٹی کے معیار پر اثر پڑتا ہے۔ ا س بیان کا جواز پیش کیجیے۔

Screenshot 2025-11-07 at 09-59-56 fucu111.pdf

12. ایسے دو طریقوں کی وضاحت کیجیے جن سے انسانی سرگرمیاں ہوا کو آلودہ کرتی ہیں۔ ایسا کوئی اقدام تجویز کیجیے جس سے ہم ہوا کی آلودگی میں کمی لاسکیں۔

13. ایک خاندان بجلی پیدا کرنے کی خاطر سولر پینل کھانا پکانے کے لیے گیس اسٹیوواور کنویں سے پانی نکالنے کے لیے ونڈمل استعمال کرتا ہے۔ اگر ایک ہفتہ کے لیے سورج نہ نکلے تو کیا ہوگا؟

14. دی گئی اصطلاحوں کے استعمال سے خالی جگہوں کو پر کیجیے۔

(رکازی ایندھن، جنگلات، ہوا، پٹرولیم، کوئلہ، پانی اور غیر قابلِ تجدید وسائل )

Screenshot 2025-11-07 at 10-00-04 fucu111.pdf

15.کارخانوں اور مکانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کی غرض سے درختوں کی مانگ بڑھ رہی ہے۔

نتیجہ کے طور پر درخت گر رہے ہیں۔کیا یہ صحیح ہے؟ تبادلہ خیال کریں اور مختصر رپورٹ تیار کریں۔

16.ایک منصوبہ بنائیے جس میں آپ کے اسکول میں کم پانی استعمال ہو۔اس منصوبہ کو عمل میں لانے کے لیے آپ کون سے اقدامات کریں گے اور یہ ماحول کے لیے کس طرح مددگار ثابت ہوگا؟

مزید آموزش

  • بارش کے پانی کی ذخیرہ کاری ہندوستان میں صدیوں پرانی روایت ہے۔ بارش کےپانی کی ذخیرہ کاری کے بعض قدیم طریقوں کا پتہ لگائیے جو آپ کی ریاست یاملک کے دیگر حصوں میں استعمال کیے جار ہے ہوں۔
  • اپنے بزرگوں یا معاشرے کے افراد کے ساتھ تبادلہ ٔ خیال کر کے انسانی صحت پر فضائی آلودگی کے ذرائع کی چھان بین کیجیے۔ اپنے نتائج کی بنیاد پر ایسے دو عملی اقدامات تجویز کیجیے جو آپ کا اسکول یا معاشرہ فضائی آلودگی میں تخفیف کے لیے کر سکتے ہوں۔
  • اُن اہم معدنیات یا چٹانوں کا پتہ لگایئے جو آپ کے گفاؤں، قصبے اور شہر میں مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔ ان کے نام اور فوائد درج کیجیے۔
  • آپ ایک ماحولیاتی کلب کے مانیٹر ہیں۔ اپنے استاد کی مدد سے اپنے اسکول میں شجر کاری کی مہم کی تنظیم کیجیے۔اس سرگرمی کو منظم کرنے کے اقدامات درج کیجیے۔ لگائے گئے درختوں کے ناموں اور اُن کی اہمیت درج کرتے ہوئے ایک صفحے کی رپورٹ تیار کیجیے۔